پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 28 اپریل تک صوبہ بھر میں کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح گیارہ فیصد سے بڑھ چکی ہے۔
حکام کے مطابق پشاور میں چودہ روز کے دوران یہ شرح 25 فیصد، دیر لوئر میں 28 فیصد جبکہ مردان میں تیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
ضلع کوائی پالس میں دو مریضوں کے ساتھ یہ شرح صفر رہی ہے۔
اس وقت صوبہ بھر میں فعال مریضوں کی تعداد 12141ہے۔ مجموعی طور پر صوبہ بھر میں 117557 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جس میں 102142 صحت یاب ہوچکے ہیں۔
صوبہ خیبر پختوںخواہ میں کورونا مریضوں کے لیے مجموعی طو رپر انتہائی نگہداشت کے 295 بستر دستیاب ہیں۔ جس میں وقت 176 استعمال ہورہے ہیں۔
مجموعی طور پر صوبہ بھر میں 344 وینٹیلیڑز دستیاب ہیں۔ جس میں 90 استعمال ہورہے ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ معمولی خطرے کے شکار مریضوں کے لیے 1411 بستر موجود ہیں۔
جس میں سے 1044 استعمال ہورہے ہیں۔ کورونا مریضوں کے لیے 1577 بستر دستیاب ہیں جس میں سے 635 استعمال ہورہے ہیں۔
سب سے متاثرہ ضلع پشاور ہے جہاں پر اس وقت 28 اپریل تک چودرہ روزہ کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح 25 فیصد، سات روز کے دوران یہ شرح بیس فیصد رہی ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے دوران مردان ڈویثرن کا شمار خیبر پختونخواہ میں انتہائی متاثرہ ڈویژن میں ہوتا ہے۔
اس وقت 28 اپریل تک مردان ضلع میں چودہ روزہ کورونا پازئیٹو مریضوں کی شرح تیس فیصد جبکہ سات روزہ 22 فیصد ہے۔
دیر لوہر میں چودہ روزہ کورونا پازئیٹو مریضوں کی شرح 28 فیصد جبکہ سات روزہ شرح 24 فیصد ہے۔
نوشہرہ میں چودہ روزہ کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح انیس فیصد جبکہ سات روزہ شرح سولہ فیصد رہی ہے۔
چارسدہ میں یہ شرح سترہ اور چودہ فیصد رہی ہے۔
دیر اپر میں یہ چودہ اور سات روزہ شرح سولہ فیصد رہی ہے۔
مالاکنڈ میں یہ شرح سترہ اور پندرہ فیصد ہے۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے باقی اضلاع میں یہ شرح ایک سے لے کر پندرہ فیصد تک رہی ہے۔ جس میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایک فیصد۔ ٹانک، لکی مروت، کوھستان لوہر میں دو فیصد، کوہستان اپر میں تین فیصد جبکہ ضلع کوائی پالس میں یہ شرح صفر رہی ہے جہاں پر صرف دو مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔