دلی میں 400 ہلاکتیں، پاکستانی پنجاب میں 78 ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں مسلسل دوسرے روز بھی ہلاکتوں کی تعداد 400 سے زیادہ ہو گئی ہے جبکہ جے پور گولڈن ہپستال نے کہا ہے کہ اس کے پاس فقط تین گھنٹوں کی آکسیجن سپلائی رہ گئی ہے۔ ادھر پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مزید 78 ہزار افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, چین میں کورونا کی بی 1617 قسم کی موجودگی کی تصدیق، ہائی الرٹ جاری

    چین نے دعویٰ کیا ہے کہ کورونا کی بی 1617 قسم وہاں بھی سامنے آئی ہے۔

    چینی حکام کا کہنا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے افراد میں کورونا کی یہ قسم سامنے آنے کے بعد ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    کورونا کی یہ قسم سب سے پہلے انڈیا میں سامنے آئی تھی۔

    تاہم سائنس دان اب بھی اس پر بحث کر رہے ہیں کہ کیا انڈیا میں وائرس کی اس قسم کی وجہ سے کورونا کی دوسری لہر کے دوران زیادہ خطرناک ثابت ہوئی۔

    چین میں بیماریوں کی روک تھام کے مرکز کے سربراہ وو زنیو نے پریس کانفرنس میں اس کی تصدیق تو کی ہے تاہم یہ نہیں بتایا کہ کتنے افراد کورونا کی اس قسم کا شکار ہوئے ہیں۔

  2. کورونا وائرس کی نئی انڈین قسم: کیا ویکسینز اس کے خلاف مؤثر ہوں گی؟

    corona

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    رواں برس ریاست مہاراشٹرا میں جنوری سے مارچ کے دوران 361 نمونوں میں سے 220 نمونوں میں انڈین قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔

    دوسری جانب صحت کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ایک عالمی ادارے جی آئی ایس اے آئی ڈی کے مطابق یہ قسم اب تک دنیا کے 21 ممالک میں شناخت ہو چکی ہے۔

    خدشہ ہے کہ بین الاقوامی مسافروں کی وجہ سے وائرس کی یہ قسم برطانیہ پہنچی ہے جہاں 21 فروری کے بعد سے اب تک کم از کم 103 متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جو کورونا کی انڈین قسم سے متاثر ہوئے ہیں۔

  3. خیبرپختونخوا میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 11 فیصد سے بڑھ چکی ہے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے محکمہ صحت کے مطابق 28 اپریل تک صوبہ بھر میں کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح گیارہ فیصد سے بڑھ چکی ہے۔

    حکام کے مطابق پشاور میں چودہ روز کے دوران یہ شرح 25 فیصد، دیر لوئر میں 28 فیصد جبکہ مردان میں تیس فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

    ضلع کوائی پالس میں دو مریضوں کے ساتھ یہ شرح صفر رہی ہے۔

    اس وقت صوبہ بھر میں فعال مریضوں کی تعداد 12141ہے۔ مجموعی طور پر صوبہ بھر میں 117557 افراد متاثر ہوئے ہیں۔ جس میں 102142 صحت یاب ہوچکے ہیں۔

    صوبہ خیبر پختوںخواہ میں کورونا مریضوں کے لیے مجموعی طو رپر انتہائی نگہداشت کے 295 بستر دستیاب ہیں۔ جس میں وقت 176 استعمال ہورہے ہیں۔

    مجموعی طور پر صوبہ بھر میں 344 وینٹیلیڑز دستیاب ہیں۔ جس میں 90 استعمال ہورہے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ معمولی خطرے کے شکار مریضوں کے لیے 1411 بستر موجود ہیں۔

    جس میں سے 1044 استعمال ہورہے ہیں۔ کورونا مریضوں کے لیے 1577 بستر دستیاب ہیں جس میں سے 635 استعمال ہورہے ہیں۔

    سب سے متاثرہ ضلع پشاور ہے جہاں پر اس وقت 28 اپریل تک چودرہ روزہ کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح 25 فیصد، سات روز کے دوران یہ شرح بیس فیصد رہی ہے۔

    محکمہ صحت کے مطابق کورونا کی تیسری لہر کے دوران مردان ڈویثرن کا شمار خیبر پختونخواہ میں انتہائی متاثرہ ڈویژن میں ہوتا ہے۔

    اس وقت 28 اپریل تک مردان ضلع میں چودہ روزہ کورونا پازئیٹو مریضوں کی شرح تیس فیصد جبکہ سات روزہ 22 فیصد ہے۔

    دیر لوہر میں چودہ روزہ کورونا پازئیٹو مریضوں کی شرح 28 فیصد جبکہ سات روزہ شرح 24 فیصد ہے۔

    نوشہرہ میں چودہ روزہ کورونا پازیٹو مریضوں کی شرح انیس فیصد جبکہ سات روزہ شرح سولہ فیصد رہی ہے۔

    چارسدہ میں یہ شرح سترہ اور چودہ فیصد رہی ہے۔ دیر اپر میں یہ چودہ اور سات روزہ شرح سولہ فیصد رہی ہے۔

    مالاکنڈ میں یہ شرح سترہ اور پندرہ فیصد ہے۔

    صوبہ خیبر پختونخواہ کے باقی اضلاع میں یہ شرح ایک سے لے کر پندرہ فیصد تک رہی ہے۔ جس میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں ایک فیصد۔ ٹانک، لکی مروت، کوھستان لوہر میں دو فیصد، کوہستان اپر میں تین فیصد جبکہ ضلع کوائی پالس میں یہ شرح صفر رہی ہے جہاں پر صرف دو مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

  4. چین کا انڈیا کو مدد اور ہمدردی کا پیغام

    china india

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں چین کے سفیر سن ویڈانگ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے انڈیا کے وزیراعظم کو پیغام میں ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ چینی صدر کا کہنا ہے کہ کورونا کو دنیا استحکام اور تعاون کی بدولت ہی شکست دے سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ `چین وبا سے لڑنے کے لیے انڈیا سےتعاون مستحکم کرنے کے لیے، سپورٹ اورمدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ مجھے یقین ہے کہ انڈین حکومت کی لیڈر شپ میں انڈین لوگ کورونا پر یقیناً قابو پا لے گی۔ `

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. ویسکین کو ہیلتھ ورکرز کے بجائے رشتہ داروں کو لگانے پر ہسپتال کے افسران نوکری سے فارغ

    IRAN

    ،تصویر کا ذریعہISNA

    ایرانی میڈیا کے مطابق ملک کے دارالحکومت تہران میں دو ہسپتالوں 15 خرداد اور مودارس کے ڈائریکٹرز کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے کیونکہ انھوں نے اپنے پاس دستیاب ویکسین کا غلط استعمال کیا ہے۔

    بی بی سی فارسی سروس کے مطابق مذکورہ ویکسین کا کوٹہ میڈیکل سٹاف کے لیے مختص تھا تاہم ان دونوں ہسپتالوں کے افسران نے اسے اپنے دوستوں کو رشتہ داروں کو لگایا۔

    وزیر صحت سعید نماکی نے یہ اطلاع ملتے ہی دونوں ہسپتالوں کے مینیجرز کو ان کے عہدوں سے فارغ کردیا۔

  6. یہ جنگ ہے لڑائی نہیں: انڈین ہائی کورٹ

    corona

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دلی کی ہائی کورٹ نے جمعے کو کوویڈ 19 کی صورتحال کے حوالے سے ایک سماعت کے دوران کہا ہے کہ ہسپتالوں میں مریضوں کے لیے بستروں اور آکسیجن کی کمی ریاست کی مکمل ناکامی ہے۔

    ہائی کورٹ نے حکومت میں کسی کا نام لیے بغیر حالیہ صورتحال کو ایک جنگ قرار دیا ہے۔

    عدالت نے کہا کہ یہ جنگ ہے لڑائی نہیں ہے۔

    ڈویژن بینچ کے جسٹس ویپن سنگھی اور جسٹس ریکھا پالی نے یہ تسلیم کیا کہ صحت کا پورا نظام ناکام ہو چکا ہے۔

    بینج نے کہا کہ کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ یہ وائرس ہم پر اس طرح حملہ کرے گا۔

    عدالت نے کہا کہ ہسپتالوں میں آکسیجن اور بستروں کی کمی کی وجہ سے مریضوں کو داخل نہیں کیا جا رہا کیونکہ انھیں یہاں کوئی سہولت نہیں مل پا رہی اور ڈاکٹر رو رہے ہیں ان کا مورال کم ہو رہا ہے۔

  7. عالمی وبا کے دوران ایمازون کے منافعوں میں تین گنا اضافہ ہوا

    ایمازون

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایمازون عالمی وبا کے دوران ہمارے گھر پر رہ کر آن لائن شاپنگ کرنے کی عادات سے خوب فائدہ اٹھا رہا ہے، اور اس کے منافعوں پر تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

    ویڈیو سٹریمنگ سے لے کر اشیا خوردونوش گھر پر ڈیلیوری تک تمام ہی عادات سے ایمازون کو فائدہ ہوا ہے اور کمپنی کا کہنا ہے کہ انھیں امید ہے آئند چند ماہ تک ایسا ہی رہے گا۔

    ایک تجزیہ نگار نے اسے ایمازون کے لیے ’سنہرا دور‘ قرار دیا۔ یہ دورانیہ صرف ایمازون کے لیے ہی فائدہ مند نہیں رہا بلکہ ایپل، گوگل، مائیکروسافٹ اور فیس بک بھی اس دوران اپنے منافع کے بارے میں رپورٹ کرتے رہے ہیں۔

  8. دلی میں اموات میں اضافہ، شمشان گھاٹوں میں جگہ کم پڑنے لگی

    dehli

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں اموات میں روز بروز اضافے کے باعث وہاں موجود شمشان گھاٹوں میں جگہ کم پڑتی جا رہی ہے اور حکام سے اس حوالے سے مزید جگہ ڈھونڈنے کے بارے میں التجا کی جا رہی ہے۔

    دلی میں گذشتہ روز 400 افراد کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہوئے جو ایک ریکارڈ ہے جبکہ ملک میں اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    جہاں دنیا بھر کے ممالک انڈیا کو امداد فراہم کر رہے ہیں وہاں اب بھی ہسپتالوں پر شدید بوجھ ہے اور آکسیجن کی قلت تاحال موجود ہے اور لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے پیاروں کے لیے آئی سی یو بیڈز مانگ رہے ہیں۔

    شمشان گھاٹوں کی کمی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ انڈیا میں کووڈ کے مریضوں کے لیے الیحدہ شمشان گھاٹ مختص کیے گئے تھے جن میں اب کمی واقعہ ہو گئی ہے۔

  9. بریکنگ, پاکستان میں کورونا وائرس کی جنوبی افریقی اور برازیلی اقسام کی موجودگی کی تصدیق

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کے صوبہ سندھ کی وزیرِ صحت عذرا پیچوہو نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی کی آغا خان یونیورسٹی میں لیے گئے نمونوں میں وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی اقسام کی نشاندہی کی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’کل آغا خان یونیورسٹی میں 13 نمونوں کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں 10 میں وائرس کی برطانوی قسم، دو میں جنوبی افریقی جبکہ ایک میں برازیلی قسم کی تصدیق ہوئی ہے۔‘

    ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ ایک تشویش ناک بات ہے اور یہ صحت کے نظام پر بہت زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے کیونکہ وائرس کی برطانوی قسم بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور اس کی 60 فیصد پھیلاؤ کی شرح اور اس کے باعث شرح اموات تقریباً 68 فیصد ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی اقسام کے باعث اموات کی شرح بھی زیادہ ہے اور ان پر ویکسین کا اثر بھی کچھ خاص نہیں ہے، یعنی ویکسینیشن کے باوجود اگر آپ کو وائرس کی برازیلی اور جنوبی افریقی قسم متاثر کرتی ہے تو آپ بہت زیادہ بیمار ہو سکتے ہیں۔‘

    انھوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں پر منعقد ہونے والی محفلوں میں شرکت کرنے سے اجتناب کریں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر اس دفعہ عید کی شاپنگ نہیں کی تو کوئی بڑی بات نہیں ہو گی۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ لوگ مارکیٹوں میں جوق در جوق بغیر ماسک کے گھوم رہے ہیں۔‘

  10. دلی میں ویکسینیشن کا عمل تاخیر کا شکار

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ تیسرے مرحلے کی کورونا ویکسینیشن ہفتے سے شروع نہیں ہو گی۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہفتہ کو ویکسینیشن مراکز کے سامنے لائن نہ لگائیں۔ اپنے بیان میں انھوں نے کہا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک یہ ویکسین موصول نہیں ہوئی ہے، ہم کمپنیوں سے مستقل رابطے میں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمیں کل یا اتوار تک یہ ویکسین مل جائے گی۔‘

    انھوں نے کہا کہ کمپنی نے ہمیں یقین دہانی کرائی ہے کہ کل یا پرسوں تک ہمیں تین لاکھ کوویشیلڈ ویکسین کی پہلی کھیپ مل جائے گی۔

  11. بیرونِ ملک پھنسے آسٹریلوی باشندے اپنی ہی حکومت سے نالاں کیوں؟, فرانسز ماؤ، بی بی سی نیوز سڈنی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہMandeep Sharma

    آسٹریلوی باشندے مندیپ شرما کے خیال میں ان کی اپنی ہی حکومت نے انھیں تنہا چھوڑ دیا گیا ہے۔

    وہ ان نو ہزار آسٹریلوی باشندوں میں سے ہیں جو انڈیا میں پھنسے ہیں اور اب ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے کیونکہ آسٹریلیا اس ہفتے انڈیا سے آنے والی تمام پروازوں پر مئی کے وسط تک پابندی عائد کر دی ہے۔

    مندیپ شرما کی اہلیہ اور دو بیٹیاں کینیڈا میں موجود ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ ان کی جدائی مزید طویل ہو سکتی ہے۔ انھیں انڈیا میں کووڈ 19 سے متاثر ہونےکا خدشہ بھی ہے۔

    آسٹریلوی حکومت کی جانب سے پروازوں پر پابندی عائد کرنا وہ تازہ ترین سخت فیصلہ ہے جس کے ذریعے حکومت ملک سے وائرس کو باہر رکھنا چاہتی ہے۔ اس وقت آسٹریلیا میں مثبت کیسز کی شرح تقریباً صفر ہے اور آسٹریلیا میں دوسرے ممالک کی نسبت انتہائی کم اموات ہوئی ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ سرحدوں پر کڑے اقدامات اور قرنطینہ کی سہولیات ہیں۔

    تاہم ان پالیسیوں کے باعث اکثر آسٹریلوی باشندے بیرونِ ملک پھنس کر رہ گئے ہیں۔ تاہم انڈیا سے آنے والی پروازوں پر پابندی پہلا ایسا اقدام ہے جس کے ذریعے اس نے اپنے ہی شہریوں کا ملک میں داخلہ بند کر دیا ہے۔

    اس حوالے سے اب آسٹریلیا میں اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے آواز اٹھائی جا رہی ہے۔

  12. ’مشکل وقت میں جاپان انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جاپان نے جمعے کے روز کہا ہے کہ وہ انڈیا کو آکسیجن جنیریٹرز اور وینٹیلیٹر فراہم کرے گا۔

    انڈیا میں جاپان کے سفیر ساتوشی سوزوکی نے ٹویٹ کیا کہ ’اس انتہائی مشکل وقت میں جاپان انڈیا کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

    دو روز قبل جاپانی وزیر اعظم اور نریندر مودی کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ہوا تھا اور اس گفتگو کے بعد ہی جاپان نے اس مدد کا اعلان کیا ہے۔

  13. امریکہ سے امداد کی پہلی کھیپ نئی دہلی پہنچ گئی

    US

    انڈیا میں کورونا بحران کے پیش نظر، امریکی حکومت نے مدد کا اعلان کیا تھا۔ جس کے بعد امریکی فضائیہ کے طیارے سے سامان کی پہلی کھیپ جمعے کی صبح نئی دہلی پہنچی۔

    خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق اس طرح کے مزید طیارے اگلے ہفتے آئیں گے۔

    امریکہ کی جانب سے آکسیجن کی فراہمی میں مدد کرنے والے ساز و سامان کے علاوہ، ٹیسٹ اور ویکسین سے متعلق معاون مواد بھیجا جا رہا ہے۔

  14. بریکنگ, ضلع لیہہ میں جمعہ تا پیر 56 گھنٹوں کا کرفیو لگانے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لداخ انتظامیہ نے ہفتے کے آخر میں ضلع لیہہ میں 56 گھنٹے کا کورونا کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    یہ کرفیو جمعہ کی رات 9 بجے سے شروع ہوگا اور پیر کی صبح 5 بجے تک لاگو ہو گا۔

    لداخ میں کورونا کے 1682 فعال کیسز ہیں جبکہ اب تک اس وائرس کی وجہ سے 139 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  15. یورپ کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انڈیا جیسے حالات کہیں بھی ہو سکتے ہیں: عالمی ادارہ صحت

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    عالمی ادارہ صحت نے یورپی ممالک کو متنبہ کیا ہے کہ کووڈ 19 کی وجہ سے عائد پابندیوں میں نرمی انڈیا جیسی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

    خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عالمی ادارہ صحت برائے یورپ کے سربراہ ہانس کلوگ نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ ’جب بیماری سے بچنے کے لیے ضروری اقدامات میں نرمی لائی جاتی ہے تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک جگہ پر جمع ہونا شروع کر دیتی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر زیادہ متعدی بیماری ہو تو اس کی مختلف اشکال ظاہر ہونے لگتی ہیں اور ابھی ویکسینیشن کی شرح بہت کم ہے اور ایسے حالات میں یہ کسی بھی ملک میں کورونا طوفان لا سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا ’یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ انڈیا جیسے حالات کہیں بھی ہوسکتے ہیں۔‘

    حالیہ دنوں میں انڈیا میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ مختلف وجوہات کی بنا پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد ایک جگہ پر جمع ہوئی ہے۔

    ماہرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں کورونا وائرس کی قسم B.1.617 دوسری مہلک لہر کے لیے ذمہ دار ہے۔

    اگرچہ عالمی ادارہ صحت نے ابھی تک اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ یہ دیگر اقسام کی نسبت زیادہ متعدی ہے یا نہیں لیکن یہ مہلک ضرور ہے۔

    ہانس کلوگ نے کہا کہ یورپی ممالک کو یہ بات ذہن میں رکھنے کی ضرورت ہے کہ ’اس وائرس کی شکل کو تبدیل کرنے میں نجی اور اجتماعی صحت اور سماجی فاصلے کا خیال رکھنے جیسے اقدامات بڑے عوامل ہو سکتے ہیں۔‘

  16. بریکنگ, حکومت کا چھ ہزار ٹن آکسیجن اور پانچ ہزار آکسیجن سیلنڈر درآمد کرنے کا فیصلہ

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے ملک میں کورونا وائرس کی مجموعی صورتحال اور آکسیجن پیداوار سے متعلق تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت کووڈ کے وہ مریض جو آکسیجن پر ہیں ان کی تعداد 5360 تک پہنچ چکی ہے جو گذشتہ ماہ جون سے 57 فیصد زیادہ ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’اللہ کا شکر ہے کہ ’ہم اس بحران کا اب تک مقابلہ کرنے میں اس لیے کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ ہم نے آکسیجن کی پیداوار میں بتدریج اضافہ کیا تھا۔

    انھوں نے بتایا کہ گذشتہ برس پاکستان کے پاس آکسیجن پیدا کرنے کی کل صلاحیت یومیہ 487 ٹن تھی جسے بڑھا کر 798 ٹن کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ حکومت نے گذشتہ سال 19 ہزار 200 آکسیجن سیلنڈر درآمد کیے تھے جس کے باعث وفاقی حکومت 2811 آکسیجن بیڈز پاکستان بھر میں فراہم کر سکی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اس صلاحیت میں اضافے کے پیشِ نظر حکومت آنے والے دنوں میں چھ ہزار ٹن آکسیجن، پانچ ہزار سیلنڈرز اور 20 کرائوجینک ٹینک بھی درآمد کرے گی۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے اور اگلے چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور اس دوران عوام کو تمام قواعد و ضوابط کا خیال رکھنا ہو گا۔

  17. پاکستان میں آکسیجن سیلنڈرز کتنے اور کیوں مہنگے ہوئے ہیں؟

    oxygen

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں کورونا وبا کی تیسری لہر میں شدت آنے کے بعد ملک میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ بڑھتے مریضوں کے پیش نظر صحت کا نظام دباؤ کا شکار ہے اور حکومت کسی بھی بدترین صورتحال سے نمٹنے کے لیے وینٹیلیٹرز اور آکسیجن کی دستیابی کو یقینی بنانے کے اقدامات کر رہی ہے۔

    چند روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ ملک میں مریضوں کے لیے آکسیجن کا استعمال 90 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

    وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے سامنے آنے والے خدشات کے پس منظر میں پاکستان میں آکسیجن گیس اور آکسیجن سیلنڈروں کی قیمتوں میں اضافے اور ان کی قلت کی خبریں سامنے آئی ہیں۔

  18. وزیرِ اعظم مودی نے کورونا کی دوسری لہر کے دوران پہلا کابینہ اجلاس طلب کر لیا

    modi

    ،تصویر کا ذریعہAll India Radio

    وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک میں بڑھتے ہوئے کورونا بحران کا جائزہ لینے کے لیے جمعہ کو کابینہ کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

    یہ میٹنگ صبح 11 بجے سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کی جائے گی۔ یہ پہلا موقع ہو گا جب ملک میں کورونا انفیکشن کی دوسری لہر آنے کے بعد وزیر اعظم اپنی کابینہ سے مشاورت کر رہے ہیں۔

    جمعرات کے روز وزیر اعظم مودی نے کورونا کے انتظام سے متعلق آرمی چیف جنرل ایم ایم ناروانے سے ملاقات کی۔ اس دوران آرمی چیف نے کووڈ 19 کی صورتحال میں مدد کے لیے فوج کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات پر وزیر اعظم سے تبادلہ خیال کیا۔

    وزیر اعظم آفس سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ فوج کے طبی عملے کو مختلف ریاستوں کی مدد کے لیے دستیاب کر دیا گیا ہے۔

    انھوں نے وزیر اعظم کو یہ بھی بتایا کہ ’ملک کے بیشتر حصوں میں فوج عارضی اسپتال بنا رہی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے بتایا کہ آرمی ہسپتال عام لوگوں کے لیے بھی دستیاب ہیں اور عام لوگ ان کے قریب واقع آرمی ہسپتال جا سکتے ہیں۔

    ’اسی کے ساتھ فوج کے لوگ دوسرے ممالک سے آکسیجن کو اس کے مخصوص مقام پر پہنچانے میں بھی مدد فراہم کر رہے ہیں۔‘

  19. بین الاقوامی مدد حکومت کی نااہلی اور غلط ترجیحات کی طرف اشارہ ہے: سونیا گاندھی

    sonia gandhi

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے کورونا کی بگڑتی صورتحال پر وزیرِ اعظم نریندر مودی اور ان کی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

    سونیا گاندھی کا انگریزی اخبار دی ہندو میں دیے گئے انٹرویو میں کہنا تھا کہ ہمیں اس قومی بحران کے دوران سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’لوگوں کو سننے کی ضرورت ہے جب کہ یہ حکومت ایسا رویہ دکھا رہی ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔

    سونیا گاندھی نے کہا ’اس حکومت نے پہلے ہی کورونا کے ساتھ جنگ ​​میں فتح کا اعلان کیا تھا۔ کورونا کے بارے میں پارلیمانی کمیٹیوں کی سفارشات کو نظرانداز کردیا تھا، اور فروری کے آغاز میں انڈیا اور بیرون ملک سے ماہرین صحت کورونا کی صورتحال سے متعلق متنبہ کر رہے تھے لیکن حکومت اس بات پر فخر کرتی رہی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کپ ’جن اجتماعات کے ذریعے کورونا انفیکشن تیزی سے پھیل سکتا ہے انھیں منعقد کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ حکومت نے یہ تک نہیں سوچا کہ اس کا اثر کیا ہو گا۔‘

    سونیا گاندھی نے کہا کہ وزیر اعظم سیاسی فوائد کے لئے ویکسین کی پالیسی کا بے رحمی سے استعمال کرتے رہے اور بی جے پی کے زیر اقتدار گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش میں کورونا کے اعداد و شمار کم ہوتے دکھائے جا رہے ہیں۔

    سونیا گاندھی نے کہا کہ بین الاقوامی مدد خوش آئند ہے لیکن یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ وزیر اعظم کو خوش کرنے میں بھی اس طرح کی مدد کا استعمال کیا جا رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’مودی حکومت کی ترجیحات غلط ہیں۔ ایک طرف وسٹا وسٹا کے منصوبے کو آگے بڑھایا جارہا ہے تو دوسری طرف ملک کو بیرون ملک سے مدد حاصل کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔‘

    سونیا گاندھی کا مزید کہنا تھا کہ میں عالمی برادری کا شکرگزار ہوں کہ وہ جس طرح کی مدد فراہم کر رہے ہیں لیکن یہ افسوسناک لگتا ہے جب یہ بین الاقوامی مدد وزیر اعظم کو خوش کرنے میں استعمال ہوتی ہے۔

    ’جبکہ سچائی یہ ہے کہ بین الاقوامی مدد حکومت کی نااہلی، حساسیت اور غلط ترجیحات کی طرف اشارہ ہیں۔‘

  20. برازیل میں اموات چار لاکھ سے تجاوز کر گئیں، ویکسینیشن کا عمل تاحال سست روی کا شکار

    برازیل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    براعظم جنوبی امریکہ کے ملک برازیل میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی کل اموات کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

    برازیل دنیا بھر کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو ایک عرصے تک وائرس کا گڑھ بنے رہے اور اب ملک میں ہونے والی اموات امریکہ کے بعد سب سے زیادہ ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں نے دوران ملک میں 3001 اموات ہوئیں اور اس ماہ کے آغاز میں یہ تعداد چار ہزار بھی عبور کر چکی ہے۔

    ملک میں دو ہفتوں کی اوسط اموات تو اب بھی خاصی زیادہ ہیں لیکن ان میں بتدریج کمی بھی دیکھنے میں آئی ہے۔

    ادھر کانگریس نے حکومت کی جانب سے کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کے لیے انکوائری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    برازیل کے صدر بولسونارو کو اس وقت مختلف حلقوں سے شدید تنقید کا سامنا ہے کیونکہ وہ ماسک نہ پہننے، لاک ڈاؤن نہ لگانے اور غیر مصدقہ ادویات کا دفاع کرنے جیسے فیصلے کرتے رہے ہیں۔

    وبا کے پھیلاؤ میں وائرس کی نئی قسم کا بھی ہاتھ ہے اور ملک میں اجتماعی اقدامات کا فقدان بھی۔