انڈیا میں ایک دن میں پونے چار لاکھ نئے متاثرین، پاکستان میں مزید 151 ہلاکتیں
پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے نگراں ادارے این سی او سی کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5480 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ وائرس نے مزید 151 افراد کی جان لے لی ہے۔ انڈیا میں بھی وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال بدستور سنگین ہے جبکہ ترکی میں وبا کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات سے پہلا مکمل لاک ڈاؤن لگنے جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
لائیو کوریج
بریکنگ, انڈیا کی ریاست کرناٹک میں دو ہفتوں کے لاک ڈاؤن کا اعلان
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
ریاست کرناٹک کے وزیرِ اعلیٰ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے 14 روز کا لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے۔
دلی حکومت: 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کے لیے ویکسین مفت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا ہے کہ دہلی حکومت نے ریاست میں 18 سال سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو کورونا ویکسین مفت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
سوموار کو ایک ورچوئل پریس کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ان کی یہ کوشش ہو گی کہ یہ ویکسین جلد از جلد اور بڑے پیمانے پر لوگوں کو دی جائے۔ اس کے لیے ریاستی حکومت ایک منصوبہ بنا رہی ہے۔
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کے لیے ریاستی حکومت نے ایک کروڑ 34 لاکھ ویکسینز خریدنے کے منصوبے کو منظوری دی ہے۔
کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ جب ہر ایک کو ویکسین مل جائے گی تو مریض کی حالت کورونا کی وجہ سے سنگین نہیں ہو گی۔
کووڈ 19 کے تیسرے مرحلے کے لیے رجسٹریشن 28 اپریل سے شروع ہورہے ہیں۔ اس مرحلے میں 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے تمام افراد کو یکم مئی سے ٹیکے لگائے جائیں گے۔
کجریوال نے ویکسین کی قیمت کا بھی معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ویکسین کی قیمت ہر جگہ اور سب کے لیے یکساں ہونی چاہیے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انھوں نے کہا کہ ویکسین بنانے والی ایک کمپنی مرکزی حکومت کو 150 روپے میں کورونا ویکسین دے رہی ہے تو ایک دوسری ویکسین بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ وہ ریاستوں کو یہ ویکسین 400 روپے میں دیں گی جبکہ ایک دوسرے صنعت کار نے ریاستوں کو یہ ویکسین 600 روپے میں دینے کی بات کہی ہے۔
انھوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ ریاستوں کے لیے ویکسین کی قیمتوں کو کم کرنے پر غور کریں۔ دوسری جانب کانگریس رہنما اور رکن پارلیمان راہل گاندھی نے ایک ٹویٹ کے ذریعے انڈیا کے تمام لوگوں کو مفت ویکسین دینے کی بات کہی ہے۔
انھوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’بات بہت ہوچکی۔ ملک کے باشندوں کو ویکسین مفت ملنی چاہیے، بات ختم۔ انڈیا کو بی جے پی سسٹم کا شکار مت بناؤ۔‘
’اگر نجی دفاتر 50 فیصد سے زیادہ افراد بلاتے ہیں تو انھیں سیل کر دیا جائے گا‘
،تصویر کا ذریعہSindh Govt
صوبہ سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ اگر سندھ کی صورتحال کا پورے ملک سے موازنہ کریں تو ہمارا انفیکشن ریٹ اس وقت سب سے کم پانچ فیصد کے لگ بھگ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’یہ اعداد و شمار دیکھتے ہوئے تو لگتا ہے کہ شاید معاملات کنٹرول میں ہیں تاہم ایسا نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ 31 مارچ کو ہونے والی قومی رابطہ کمیٹی میں ہم نے بین الاصوبائی ٹرانسپورٹ بند کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جسے تسلیم نہیں کیا گیا۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران تین گنا مریضوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سکول، کالج اور یونیورسٹیاں ہم بند کر رہے ہیں، ریستوران ابھی بھی بند ہیں اور پہلے بھی بند ہیں لیکن آؤٹ ڈور ڈائننگ بند ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جیلوں میں ملاقاتیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اگر کوئی نجی دفتر 50 فیصد سے زیادہ افراد بلاتا ہے تو اس سیل کر دیا جائے گا۔‘
انھوں نے کہا کہ جو ایس او پیز کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اسے ہم پورا موقع دے رہے ہیں کاروبار کرنے کا۔
’آج سے تین دن بعد شہروں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا کہ آئندہ ہونے والی قومی رابطہ کمیٹی میٹنگ میں بین الاقوامی پروازیں بند کرنے کی اپیل کریں گے اور ہم شہروں اور صوبوں کے درمیان ٹرانسپورٹ بھی بند کرنے کی درخواست کریں گے۔
’امتحانوں سے ڈر نہیں لگتا، کورونا سے ڈر لگتا ہے‘
مدراس ہائی کورٹ: انڈیا میں کورونا کی دوسری لہر کا ذمہ دار صرف الیکشن کمیشن ہے
،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا کی ریاست تمل ناڈو کے شہر چینئی میں مدراس ہائی کورٹ نے ایک کیس کی سماعت کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا ذمہ دار الیکشن کمیشن آف انڈیا کو قرار دیا ہے۔
چیف جسٹس سنجب بینرجی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ’صرف آپ ہی کا ادارہ کووڈ 19 کی دوسری لہر کا ذمہ دار ہے۔۔۔ الیکشن کمیشن کے اہلکاروں پر شاید قتل کے مقدمے درج کیے جانے چاہیے۔‘
انتخابات کے دوران کورونا سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر کی خلاف ورزی کے معاملے پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’اب صورتحال بقا اور بچاؤ کی ہے۔ باقی ہر چیز اس کے بعد آتی ہے۔‘
مدراس ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن سے دریافت کیا کہ ’انتخابی ریلیوں کے دوران کیا آپ کسی دوسرے سیارے پر تھے؟‘
’انڈیا میں آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے سے زیادہ آسان ٹویٹس کو ہٹانا ہے‘
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا بھر میں ہزاروں افراد نے حکومت کی جانب سے ٹوئٹر سے ایسی ٹویٹس ہٹانے کے حکم پر غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس میں کورونا وائرس سے نمٹنے پر حکومتی اقدامات کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
ٹوئٹر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ اس نے انڈیا میں کچھ مواد کے دیکھے جانے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انڈیا میں کورونا کیسز میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ہسپتالوں کو آکسیجن کی کمی کا سامنا ہے۔
ایک ٹوئٹر صارف نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’آکسیجن کی فراہمی کو یقینی بنانے سے زیادہ آسان ٹوئیٹس کو ہٹانا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
واضح رہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں انڈیا میں کورونا کے نئے تین لاکھ 52 ہزار 991 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ اسی مدت میں مزید 2812 افراد کی موت ہو گئی ہے۔
عالمی سطح پر حکومت کے احکامات کے اعدادوشمار پر نظر رکھنے والے پلیٹ فارم لومن پر ٹوئٹر نے کہا ہے کہ انڈین حکومت نے بعض ٹوئیٹس کو سینسر کرنے کے ایمرجنسی احکامات دیے۔
بہر حال ٹوئٹر نے یہ نہیں بتایا کہ اس نے کس قسم کے مواد کو ہٹایا ہے لیکن میڈیا رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی بنگال کے ایک سیاست داں کا ٹویٹ ہٹایا گیا ہے جس میں انھوں نے کووڈ سے ہونے والی اموات کے لیے براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی کو ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
اس کے علاوہ ایک اداکار کے بھی ٹویٹ کو ہٹایا گیا ہے جنھوں نے ملک میں وائرس کی تباہ کاریوں کے درمیان مسٹر مودی کو سیاسی ریلیاں کرنے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ٹوئٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جب انھیں 'جائز قانونی درخواست' ملی تو انھوں نے اس پر غور کیا اور انڈیا نے اس معاملے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کا حوالہ پیش کیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
ٹوئٹر نے کہا کہ ’اگر یہ کسی مخصوص خطے کے قانون کے خلاف ہے اور ٹوئٹر کے اصول کے خلاف نہیں ہے تو وہ اسے اس مخصوص خطے سے ہٹا دیتا ہے۔‘
ایک سرکاری اہلکار نے کہا کہ جس مواد کو ہٹایا گیا ہے وہ گمراہ کن تھے اور اس سے خوف و ہراس پھیل سکتا تھا جبکہ ایک ٹوئٹر صارف امل چندر نے لکھا ہے کہ ’سارا انڈیا خوفزدہ ہے، شہری ایمرجنسی امداد کی تلاش میں ہیں اور لائف سپورٹ میں تعاون کر رہے ہیں اور حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں تو حکومت ہند زندگیاں بچانے کے بجائے سوشل میڈیا پر سینسرشپ عائد کر رہی ہے۔ قابل مذمت۔'
کاجول سرینیواسن نامی ایک صارف نے سینسرشپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک تصویر پوسٹ کی اور لکھا کہ 'سسٹم نے نیا ماسک لانچ کیا ہے۔' اور یہ ماسک نہیں بلکہ منھ پر ٹیپ لگی ہوئی تصویر ہے۔
ایک صارف نے ٹوئٹر کے حوالے سے لکھا ہے کہ حکومت نے 52 ایسے ٹویٹس کو ہٹادیا ہے جس نے وبائی امراض کو ہینڈل کرنے کے لیے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
انڈیا: آکسیجن کی کمی دور کرنے کے لیے مودی حکومت کیا کر رہی ہے؟, شکیل اختر، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا میں آکسیجن کی شدید قلت کے درمیان ماہرین نے حکومت کے سامنے کورونا کی صورتحال کا جو ممکنہ خاکہ پیش کیا ہے اس کے مطابق ملک میں اس لہر کا عروج آنا ابھی باقی ہے اور مئی کے وسط میں کورونا کے یومیہ مریضوں کی تعداد ’پانچ لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔‘
کورونا وبا کی صورتحال کا یہ تخمینہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دلی، مہاراشٹر، اتر پردیش اور کئی دیگر ریاستوں کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی قلت سے اموات کی خبریں مل رہی ہیں۔
ملک کے بیشتر ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اور نئے مریضوں کو داخل کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ اس مشکل صورتحال میں آکسیجن کی کمی ایک نئے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کورونا کے مریضوں میں کم از کم دس فیصد مریض ایسے ہوتے ہیں جنھیں آکسیجن کے سپورٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔
اس وقت انڈیا میں ساڑھے تین لاکھ افراد کورونا سے روزانہ متاثر ہو رہے ہیں۔ روزانہ اموات کی تعداد تین ہزار تک پہنچنے کے قریب ہے۔
تو ایسی صورتحال میں آکسیجن کی مانگ پوری کرنے میں کیا مشکلات ہیں اور ان کو حل کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کیا کر رہی ہے؟
انڈیا میں آکسیجن سپلائی کی مشکلات کیا ہیں؟
مرکزی وزارت صحت کے سیکریٹری راجیش بھوشن نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ملک میں اس وقت روزانہ 7500 میٹرک ٹن آکسیجن تیار کی جا رہی ہے۔ اس میں سے 6600 میٹرک ٹن آکسیجن طبی استعمال کے لیے ریاستوں کو دی جا رہی ہے۔ بیشتر کمپنیاں نجی زمرے کی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ’ہم نے ہدایت جاری کی ہے کہ کچھ اہم صنعتوں کو ہی آکسیجن فراہم کی جائے تاکہ طبی مقاصد کے لیے آکسیجن کی فراہمی میں اضافہ کیا جا سکے۔‘
سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آکسیجن سبھی ریاستوں میں نہیں بنتی۔ دلی جیسی ریاست کو آکسیجن ایک ہزار کلومیٹر یا اس سے زیادہ دوری سے منگوانا پڑتی ہے۔ بنگال، مہاراشٹر، اڑیسہ، اتر پردیش، گجرات اور آندھرا پردیش آکسیجن بنانے والی اہم ریاستیں ہیں۔
،تصویر کا ذریعہReuters
آکسیجن ایک خاص طرح کے کرائیو جینک ٹینکر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچائی جاتی ہے۔ آکسیجن کی مانگ بڑھنے کے ساتھ ملک میں اس طرح کے ٹینکروں کی خاصی کمی محسوس کی گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے آکسیجن ایک ریاست سے دوسری ریاست تک اور پھر پلانٹ سے ہسپتال کے بستر تک پہنچنے میں تین سے پانج دن لگتے تھے۔
اب یہ دورانیہ بڑھ کر چھ سے آٹھ دن ہوگیا ہے۔
چھوٹے چھوٹے سپلائرز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس بڑے سائز کے مخصو ص جمبو اور ڈیورا سیلنڈر کی کمی ہے جس کے سبب وہ سپلائی کا تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ سبھی ہسپتالوں میں آکسیجن کا ذخیرہ کرنے کے لیے سٹوریج نہیں۔ دیہی علاقوں میں آکسیجن کی سپلائی کی صورتحال اور بھی پیچیدہ ہے۔
آکسیجن کی سپلائی کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟
آکسیجن کی بڑھتی ہوئی مانگ کے پیش نظر حکومت نے 50 ہزار میٹرک ٹن آکسیجن درآمد کرنے کے لیے ٹینڈر جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مرکزی حکومت نے ملک کے بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن کے 162 پریشر سوئنگ پلانٹ لگانے کی منظوری دی ہے۔ حکومت نے ریلوے کے ذریعے سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں اور شہروں تک آکسیجن جلد پہنچانے کے لیے ری فلنگ مراکز سے ایک ساتھ کئی ٹینکر بھیجنے کا قدم اٹھایا ہے۔
کئی ملکوں سے ہنگامی طور پر مخصوص ٹینکرز خریدے جا رہے ہیں۔ انڈیا کی فضائیہ نے بھی ٹینکروں کو پیداوار کے قریب ترین مقام تک پہنچانا شروع کیا ہے۔ انڈیا کی فوج نے جرمنی سے 23 موبائل آکسیجن جنریشن پلانٹس خریدے ہیں۔ ٹاٹا گروپ بھی دیگر ممالک سے ٹینکر منگوا رہا ہے۔
برطانیہ، چین، امریکہ، پاکستان اور جرمنی سمیت کئی ملکوں نے انڈیا کو مدد کی پیشکش کی ہے۔
لیکن جس تیزی سے کورونا پھیل رہا ہے، انڈیا کو آکسیجن کی پیداوار کی مقدار میں جلد زبردست اضافہ کرنا ہو گا۔ ساتھ ہی پورے ملک میں اس کی بروقت سپلائی کے نظام کو منظم اور مربوط کرنا ہوگا۔
بریکنگ, پاکستان میں 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد ویکسینیشن کے لیے اندراج کروا سکیں گے
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ آج کی این سی او سی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے 40 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو ویکسین لگوانے کے لیے اندراج کروا سکیں گے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ اب سے 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے واک ان ویکسینیشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ کی عمر 40 سال سے زیادہ ہے تو آپ خود بھی اندارج کروائیں اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔
بریکنگ, سندھ میں تعلیمی ادارے بند، سرکاری دفاتر میں حاضری 20 فیصد تک کرنے کا فیصلہ
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان کے صوبہ سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال کے ہیشِ نظر سندھ حکومت کے تمام دفاتر میں حاضری 20 فیصد تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ تمام تعلیمی ادارے بھی بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
صوبہ سندھ میں 29 اپریل سے شہروں کے درمیان پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند رہے گی۔
انڈیا کے لیے مشکل گھڑی میں پوری دنیا سے مدد پہنچنے لگی
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا کی وبا کی دوسری مہلک لہر کا سامنا کرنے والے انڈیا کے ہسپتالوں کو آکسیجن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
تباہی کے دہانے پر موجود صحت کے نظام کی حالت کو دیکھتے ہوئے ریاستی حکومتیں مرکزی حکومت سے مدد کی درخواست کر رہی ہیں۔ اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ جیسی متعدد ریاستوں سے آکسیجن کی فراہمی کے لیے دیگر ریاستوں تک خصوصی ٹرینوں کا انتظام کیا گیا ہے۔
ان حالات کے درمیان، بہت سارے ممالک نے انڈیا کو مدد کی پیش کش کی ہے اور وہ آکسیجن اور ضروری طبی سازوسامان کو جتنی جلدی ممکن ہو انڈیا بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
سری لنکا میں موجود چینی سفارتخانے نے کہا ہے کہ وبا کے اس مشکل وقت میں چین انڈیا کے ساتھ ہے۔ سفارتخانے کو بتایا گیا ہے کہ آکسیجن کے 800 سلینڈر ہانگ کانگ سے دہلی بھیج دیے گئے ہیں اور آنے والے سات دنوں میں مزید 10 ہزار آکسیجن سلینڈر انڈیا بھیجے جا رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکخواں نے اتوار کے روز کہا ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں وبائی مرض کا مقابلہ کرتے ہوئے آکسیجن وینٹیلیٹر انڈیا بھیجیں گے۔
اس سے قبل، یورپی کمیشن نے کہا تھا کہ انڈیا کی مدد کی درخواست موصول ہونے کے بعد وہ ضروری دوائیں اور طبی سامان انڈیا کو جلد سے جلد بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے۔
یہاں برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ ان کی حکومت انڈیا کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے اور برطانیہ کورونا سے لڑنے کے لیے 600 سے زیادہ آکسیجن کونسنٹریٹرز سمیت 600 طبی آلات بھیج رہا ہے۔
اس طرح سے دوائیوں اور طبی سامان کی کل نو کنٹینرز کو انڈیا بھیجا جارہا ہے، جس کی پہلی کھیپ منگل کو دہلی پہنچے گی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ کوویشیلڈ ویکسین کی تیاری کے لیے ضروری خام مال انڈیا کو فراہم کرے گا تاکہ ویکسین کی تیاری کو تیز کیا جا سکے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ انڈیا کی مدد کے لیے پرعزم ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ سات دہائیوں سے دونوں ممالک صحت کے شعبے میں ایک دوسرے کے اتحادی رہے ہیں اور جیسے کورونا وبا کے ابتدائی دور میں انڈیا نے امریکہ کو طبی امداد فراہم کی تھی اسی طرح اب جب کہ انڈیا کو اس کی ضرورت ہے امریکہ مدد کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
ادھر سنگاپور کی جانب سے بھی امداد کی مد میں طبی سامان انڈیا پہنچا دیا گیا ہے۔
سنگاپور اور ہانگ کانگ کے درمیان 26 مئی سے سفر کے لیے قرنطینہ کی شرط کا خاتمہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
سنگاپور اور ہانگ کانگ کے درمیان اب سفر کرنے کے لیے قرنطینہ کی شرط کا خاتمہ کر دیا گیا اور اس فیصلے کا اطلاق 26 مئی سے کیا جائے گا۔
یہ ٹریول ببل اس سے قبل نومبر میں ختم کرنے کے حوالے سے بات چیت جاری تھی تاہم ہانگ کانگ میں کورونا وائرس کیسز میں اچانک اضافے کے بعد اس شرط کو برقرار رکھا گیا تھا۔
اگر ایسا ہو جاتا ہے تو یہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان قرنطینہ کے بغیر فضائی سفر کی دوسری مثال بن جائے گی۔
پاکستان میں اے لیول کے امتحانات کا ’سخت قواعد و ضوابط‘ میں آغاز
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
پاکستان میں ایک طرف کورونا وائرس کے نئے مریضوں اور اموات میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے تو دوسری جانب سے ملک میں اے لیولز کے امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق آج سے شروع ہو گئے ہیں۔
پاکستان میں ان امتحانات کو ملتوی کرنے کے حوالے سے حالیہ کچھ مہینوں کے دوران احتجاج، عدالت میں درخواستیں اور سوشل میڈیا پر بحث بھی چھڑی رہی ہے تاہم وزیرِ تعلیم شفقت محمود ان امتحانات کے شیڈول کے مطابق انعقاد پر مصر رہے ہیں۔
اس حوالے سے سماجی کارکنان کے علاوہ وزیرِ اعلیٰ جام کمال بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں اور ان امتحانات کو ملتوی کرنے سے متعلق ایک ٹویٹ بھی کر چکے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
بریکنگ, انڈیا میں کورونا کے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نئے مریض، 2812 اموات
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں گذشتہ گھنٹوں کے دوران ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 2812 افراد اس وائرس سے ہلاک بھی ہوئے ہیں۔
اب تک ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ایک کروڑ 73 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ اس کی وجہ سے ہونے والی اموات کی تعداد ایک لاکھ 95 ہزار سے زیادہ ہو گئی ہیں۔
چھتیس گڑھ: انڈیا کی وہ ریاست جو دیگر ریاستوں میں آکسیجن کی قلت پوری کر رہی ہے
،تصویر کا ذریعہSagar Fakiri
کورونا انفیکشن کی وجہ سے جہاں انڈیا بھر میں آکسیجن سلنڈروں کی قلت واقع ہو رہی وہاں چھتیس گڑھ کئی ریاستوں میں آکسیجن کی فراہمی کا ایک اہم مرکز بن کر ابھرا ہے۔
رائے پور سے بی بی سی ہندی کے نمائندے الوک پرکاش کے مطابق چھتیس گڑھ ہر روز نہ صرف ریاست کے ہسپتالوں بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی آکسیجن کی فراہمی کر رہا ہے۔
ریاستی وزیر اعلیٰ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چھتیس گڑھ آکسیجن تیار کرنے والی ریاست ہے۔ مدھیہ پردیش، مہاراشٹر، اوڈیشہ اور بہت ساری دیگر ریاستوں کو آکسیجن کی بلا تعطل فراہمی جاری ہے۔
’چھتیس گڑھ میں فی الحال 386.92 میٹرک ٹن آکسیجن روزانہ پیدا ہوتی ہے۔ اس میں سے صرف چھتیس گڑھ میں 160 میٹرک ٹن ہی استعمال ہو رہا ہے۔ بقیہ آکسیجن دوسری ریاستوں کو بلا تعطل بھیجی جا رہی ہے۔‘
وہ تصاویر جو انڈیا میں کورونا بحران کی شدت کو بیان کرتی ہیں
مغربی بنگال انتخابات: نریندر مودی کی عوام سے کورونا ضوابط کی پابندی کرنے کی گزارش
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں ساتویں مرحلے کے لیے پیر کو پانچ اضلاع میں کل 34 اسمبلی نشستوں کے لیے ووٹنگ جاری ہے اور وزیرِ نریندر مودی نے عوام سے قواعد و ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے ووٹنگ میں حصہ لینے کی درخواست کی ہے۔
یہاں کل آٹھ مرحلوں میں پولنگ ہو رہی ہیں۔ نتائج کا اعلان دو مئی کو کیا جائے گا۔
پچھلے کچھ دنوں میں، ریاست میں کورونا انفیکشن کے واقعات کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اسی وجہ سے، سخت پابندیوں کے درمیان یہاں ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔
ساتویں مرحلے میں کل 36 اسمبلی نشستوں کے لیے پولنگ ہونا تھی، لیکن مرشد آباد کے شمشیر گنج اور جنگگی پور حلقوں میں متحدہ محاذ کے امیدواروں کی ہلاکت کے بعد ان دونوں سیٹوں پر ووٹنگ ملتوی کردی گئی ہے۔ ان دونوں سیٹوں پر ووٹنگ اب 16 مئی کو ہو گی۔
بی بی سی اردو کے لائیو پیج میں خوش آمدید
بی بی سی اردو کے کورونا وائرس کی خبروں سے متعلق خصوصی لائیو پیج میں خوش آمدید۔
اس لائیو پیج پر آپ پاکستان سمیت دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال سے آگاہ ہو سکتے ہیں۔
کورونا ٹیلی تھون: وزیر اعظم کی احساس ٹرانسمیشن میں مولانا طارق جمیل اور جاوید میانداد کے بیانات پر سوشل میڈیا پر بحث