انڈیا میں ایک دن میں پونے چار لاکھ نئے متاثرین، پاکستان میں مزید 151 ہلاکتیں
پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے نگراں ادارے این سی او سی کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5480 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ وائرس نے مزید 151 افراد کی جان لے لی ہے۔ انڈیا میں بھی وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال بدستور سنگین ہے جبکہ ترکی میں وبا کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات سے پہلا مکمل لاک ڈاؤن لگنے جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
لائیو کوریج
کورونا وائرس: ’ویکسین کی ایک ہی خوراک سے وائرس منتقلی کا امکان نصف ہو جاتا ہے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
ایک تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کورونا وائرس ویکسین کی ایک ہی خوراک سے وائرس منتقلی کا امکان تقریباً نصف ہو جاتا ہے۔
پبلک پیلتھ انگلینڈ کے مطابق ایسے لوگ جنھیں فائزر یا ایسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی خوراک دی گئی تھی۔۔۔ اور جو ویکسین لگنے کے تین ہفتے بعد انفکشن سے متاثر ہوئے۔۔۔ ان میں 38 سے 49 فیصد سے وائرس منتقلی کا امکان کم تھا۔
انگلینڈ کے سیکرٹری ہیلتھ میٹ ہین کاک نے اس مطالعے کے نتائج کو ’شاندار خبر‘ قرار دیا ہے۔
پبلک پیلتھ انگلینڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مطالعے میں کووڈ 19 کے خلاف تحفظ ویکسینیشن کے 14 دن بعد دیکھا گیا۔
پبلک پیلتھ انگلینڈ کی امیونائزیشن سربراہ ڈاکٹر میری رمزے کہتی ہیں ’نارمل زندگی کی جانب واپسی کے لیے ویکسین ہمیں مدد کر رہی ہیں۔ ویکسین نہ صرف بیماری کی شدت کو کم کرتی ہے اور ہر روز سینکڑوں اموات کو روکتی ہے بلکہ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سے کووڈ 19 کے دوسروں میں منتقل ہونے کے امکان کو کم کرنے پر بھی اضافی اثر پڑتا ہے۔‘
تاہم انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لوگ احتیاطی تدابیر پر عمل جاری رکھیں۔
عمران خان اور بل گیٹس کا کووڈ 19، پولیو اور موسمیاتی تبدیلی پر تبادلہ خیال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے شریک بانی بل گیٹس کے درمیان کووڈ 19، پولیو کے خاتمے اور موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان اور بل گیٹس نے ٹیلی فون پر ہونے والی اس گفتگو میں پاکستان میں کووڈ 19، پولیو اور دیگر ایسی بیماریاں جن سے ویکسین کے ذریعے بچاؤ ممکن ہے، کو فوری طور پر روکنے کی اہمیت پر اتفاق کیا۔
عمران خان نے کووڈ 19 کی ویکسین تک مساوی رسائی کو فروغ دینے کے لیے گیٹس فاؤنڈیشن کی بھرپور وکالت کی تعریف کرتے ہوئے کم آمدن والے ملکوں میں ویکسین کی مساوی اور بروقت فراہمی کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کی یقین دہانی بھی کرائی کہ کہ پولیو کا خاتمہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور کووڈ 19 کے چیلنج کے باوجود ملک بھر میں انسداد پولیو مہم کو تیز کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
کورونا ویکیسن کے اثرات میں سر درد اور بازو میں سوجن عام علامات ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی ایک تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کووڈ 19 کی ویکسین لگوانے کے بعد اس کے عام اثرات میں بازو پر ٹیکے کی جگہ پر تکلیف یا اکڑاؤ ہونا یا دوسرے الفاظ میں بازو میں جلن و سوزش ہونا شامل ہیں۔
چار میں سے صرف ایک فرد میں اس کے دیگر سائیڈ ایفیکٹس ظاہر ہوتے ہیں جن میں بخار، سردرد، متلی ہونا یا تھکاوٹ ہونا شامل ہیں لیکن یہ تمام اثرات صرف ایک دن تک ہی رہتے ہیں۔
اس تحقیق کے سربراہ سائنسدان، لندن کے کنگز کالج کے پروفیسر ٹم سپیکٹر کا کہنا ہے کہ یہ نتائج لوگوں کو دوبارہ یہ یقین دہانی کروائیں گے کہ یہ اثرات معمولی اور کچھ عرصے کے لیے ہوتے ہیں۔
تاہم انھوں نے ویکسین کے دیگر اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس کے مخلتف عمر اور جنس میں مختلف اثرات سامنے آتے ہیں۔
پانچ ہزار افراد پر مشتمل ایک سروے کے مطابق گذشتہ برس کے آخر سے کورونا کی ویکسین پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے اور 80 فیصد سے زیادہ اسے کورونا کے خلاف مؤثر اور محفوظ سمجھتے ہیں۔جبکہ گذشتہ برس کے اختتام پر 70 فیصد افراد ایسا سمجھتے تھے۔
بریکنگ, انڈیا: گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تین لاکھ 60 ہزار افراد متاثر، کل اموات دو لاکھ سے تجاوز کر گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا میں کورونا وبا کی دوسری لہر میں شدت خوفناک ہوتی جا رہی ہیں اورملک میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ایک بار پھر کورونا کے 3 لاکھ 60 ہزار نئے مریض سامنے آئے ہیں۔
پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران 3293 افراد کورونا سے ہلاک ہوئے ہیں۔ انڈیا میں اب تک 1.79 کروڑ افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ملک میں کورونا سے مرنے والے لوگوں کی مجموعی تعداد بھی دو لاکھ سے تجاوز کرگئی ہے۔
انڈیا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے جس میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کی کورونا کے باعث اموات ہوئی ہیں۔ امریکہ ، برازیل اور میکسیکو میں دو لاکھ سے زیادہ افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انڈیا میں ہونے والی اموات کی تعداد کے درست اعداد و شمار سامنے نہیں آرہے ہیں۔
’مہمانوں کی تعداد کا علم نہیں تھا، قانونی چارہ جوئی کے لیے تیار ہوں‘
پاکستان میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگائی گئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا ویکسینیشن کا عمل جاری ہے اور گذشتہ روز ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک دن میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد کو کورونا سے بچاؤ کی ویکیسن لگائی گئی ہے۔
پاکستان میں کورونا صورتحال کے نگران ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے سربراہ اور وفاقی وزیر اسد عمر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلی مرتبہ یومیہ ویکیسنیشن کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ گذشتہ روز ملک میں ایک دن میں 117852 افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کا ویکسین لگوانے کے لیے رجسٹریشن کروانا خوش آئند ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 40 سال سے زائد افراد کی ویکسین لگوانے کے لیے رجسٹریشن کروانے کی حوصلہ افزائی کریں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پنجاب میں کورونا سے ریکارڈ یومیہ 127 ہلاکتیں، 2676 نئے مریض

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان میں کورونا وائرس کی تیسری لہر میں شدت آنے کے بعد سے پنجاب اور خیبر پختونخوا سب سے زیادہ متاثرہ صوبے ہیں۔
پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں کورونا کے باعث یومیہ 127 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو وبا کےآغاز سے اب تک سب سے زیادہ ہیں۔ جبکہ 2676 نئے مریضوں میں وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔
پنجاب میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 296,144 جبکہ صوبے میں اموات کی کل تعداد 8224 ہوچکی ہے۔
پاکستان میں 40 برس اور زائد عمر کے افراد کی ویکسین رجسٹریشن کا آغاز
پاکستان نے بدھ کے روز سے ملک میں 40 برس اور اس سے زائد عمر کے افراد کی کورونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ جبکہ 50 سال یا اس سے زائد افراد کسی بھی قریبی ویکسینیشن سینٹر میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 40 سے 50 سال کی عمر کے افراد ویکسینیشن کے لیے خود کو رجسٹر کروانے کے لیے 1166 پر اپنی شناختی کارڈ کا نمبر لکھ کر بھیجیں اور ہدایات کا انتظار کریں۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
انڈیا میں کورونا وائرس کا بحران کیسا دکھائی دیتا ہے؟
چین کی انڈیا امدادی سمٹ میں انڈیا کو ہی مدعو نہیں کیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین نے انڈیا سمیت جنوبی ایشیائی ممالک میں کورونا وبا کے پھیلاؤ کی صورتحال کے بارے میں جنوبی اشیائی ممالک کے اجلاس میں کہا ہے کہ چین کورونا کی وبا پر قابو پانے کے لیے جنوبی ایشیائی ممالک کو ویکسین فراہم کرے گا۔
چین کے وزیر خارجہ وانگی یی نے منگل کو کورونا وبا پر قابو پانے کے لیے جنوبی ایشین ممالک کو چینی ویکسین دینے کی تجویز پیش کی۔ انھوں نے کہا کہ چین انڈیا کی بھی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔
چینی وزیر خارجہ چوتھے کثیرالجہتی مکالمے سے خطاب کر رہے تھے ، جس میں پاکستان، افغانستان ، بنگلہ دیش ، چین ، نیپال اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ بھی شامل تھے۔ چین نے یہ اقدام جنوبی ایشیا میں کورونا وبا کے دوران اٹھایا ہے لیکن اس اجلاس میں اس نے انڈیا ، بھوٹان اور مالدیپ کو شرکت کے لیے دعوت نہیں دی تھی۔ اس سے قبل بھی چین نے نیپال ، افغانستان ، پاکستان اور سری لنکا کے وزرائے خارجہ سے ملاقات کی تھی۔
چین کے وزیر خارجہ وانگ یی نے انڈیا میں کوروناکی دوسری لہر کے دوران تباہی پر اظہار ہمدردی اور مدد کی پیش کش بھی کی ہے۔ وانگ یی نے کہا کہ ’چین ضرورت کے مطابق کسی بھی وقت انڈیا کی عوام کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہم بنگلہ دیش ، پاکستان ، سری لنکا ، نیپال اور افغانستان کی کورونا کے خلاف لڑائی میں مدد کر رہے ہیں۔ ہم ٹھوس انداز میں جنوبی ایشیا میں ویکسین کی فراہمی چاہتے ہیں۔‘
وانگ یی نے کہا کہ جو لوگ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے میں شامل ہیں ، ان ممالک میں غربت کو کم کرنے کے لیے تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان: بڑے شہروں میں دو ہفتوں سے لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا منصوبہ منسوخ

،تصویر کا ذریعہNCOC
پاکستان میں کورونا وائرس کی بگڑتی صورتحال اور ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے پیش نظر این سی او سی نے ملک کے متعدد شہروں میں 2 یا 3 مئی سے دو ہفتوں کے مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اسے منسوخ کر دیا گیا ہے۔
اس مجوزہ لاک ڈاؤن میں اسلام آباد، راولپنڈی، لاھور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، بہاولپور، ملتان، حیدرآباد، پشاور، دیر لوئر ، مردان، نوشہرہ، مالاکنڈ، چارسدہ، سوات، صوابی، مظفرآباد، سدھنوتی، پنچ، باغ کے اضلاع میں 2 یا 3 مئی سے دو ھفتوں کا مکمل لاک ڈاون نافذ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہNCOC
بریکنگ, پاکستان میں پہلی مرتبہ یومیہ ہلاکتیں دو سو سے تجاوز کر گئیں
پاکستان میں نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 201 ہے۔ جو اب تک پاکستان میں سب سے زیادہ یومیہ ہلاکتیں ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 49101 افراد کے کورونا ٹیسٹ لیے گئے جن میں سے 5292 لوگوں میں کورونا کی تصدیق ہوئی۔
اس وقت پاکستان میں کورونا مثبت آنے کی شرح 10.7 فیصد ہے۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
’ہمیں ہسپتال کے بستر کی تلاش میں 200 افراد کو فون کرنا پڑے‘
بریکنگ, انڈیا: ریاست کرناٹک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے بعد کرفیو نافذ
انڈیا کی ریاست کرناٹک میں کورونا انفیکشن کے کیسز میں تیزی سے اضافے کے بعد ، ریاستی حکومت نے وہاں 14 دن کے کرفیو کا اعلان کیا ہے۔
کرفیو کا اطلاق 27 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق صبح چھ بجے سے ہوگا۔
X پوسٹ نظرانداز کریںX کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, انڈیا میں کووڈ 19 کی متاثرہ تعداد میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ

،تصویر کا ذریعہAFP
انڈیا میں کووڈ 19 کی متاثرہ تعداد میں ایک بار پھر ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں متاثرین کی تعداد میں 362757 کا اضافہ ہوا ہے۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 3285 افراد وائرس کے ہاتھوں جان کی بازی ہار گئے۔
ملک کے دارالحکومت دہلی میں کورونا بحران تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دارالحکومت دہلی میں کورونا کے 24،149 نئے کیس سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ 381 متاثرہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
علاج کے بعد ٹھیک ہونے والے افراد کی تعداد 17،862 ہے۔
دارالحکومت میں آج 73811 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے۔ دہلی میں کووڈ 19 کے ٹیسٹوں کی مثبت شرح 32.72 فیصد ہے۔
بریکنگ, پنجاب میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ، دو دن بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر بھی پابندی عائد رہے گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے احکامات کے مطابق کورونا وائرس کی تیسری لہر میں بڑھتے ہوئے کیسز کے پیش نظر لاک ڈاؤن کے نفاذ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبے میں لاک ڈاؤن سے متعلق سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔ پنجاب میں 17 مئی تک لاک ڈاؤن نافذ العمل رہے گا۔
اس لاک ڈاؤن کے دوران صوبہ بھر میں شام چھ بجے سے صبح سحری تک تمام سرگرمیوں پر مکمل پابندی ہو گی۔ صوبے بھر میں ہفتہ اور اتوار کو مکمل تعطیل ہو گی جبکہ تمام کاوروبار اور سرگرمیاں بند رہیں گی۔
تاہم پٹرول پمپ، میڈیکل سٹورز، ویکسینیشن سینٹر، گوشت اور سبزی کی دوکانوں کو اس نوٹیفیکیشن سے استشنیٰ حاصل ہو گا۔
لاک ڈور کے دوران انڈورشادیوں اور دیگر تقریبات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔
سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب کے وہ اضلاع جن میں کورونا وائرس پازٹیوٹی کی شرح آٹھ سے زیادہ ہے وہاں تمام انڈور اور آوٹ ڈور شادی کی تقریبات، ریسٹورینٹس اور مزارات پرمکمل پابندی عائد ہوگی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان اضلاع میں بہاولپور، بھکر، ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد، گوجرانوالہ، جھنگ، قصور، خانیوال، لاہور، ملتان، منڈی بہاؤالدین، اوکاڑہ، راولپنڈی، رحیم یار خان، سیالکوٹ، سرگودھا، شیخوپورہ اور وہاڑی شامل ہیں۔
ٹرین سروس کل گنجائش کے70 فیصد مسافروں کے ساتھ جاری رہے گی جبکہ تمام سرکاری و نجی دفاتر کا 50 فیصد عملہ گھر سے کام کرنے کا پابند ہو گا۔
صوبہ بھر کے تمام سرکاری اور نجی دفاتر کے اوقات صبح نو سے دوپہر دو بجے تک محدود ہوں گے۔
ہفتہ اور اتوار ( بعض اظلاع میں جمعہ اور ہفتہ ) تمام سرگرمیاں بند رہیں گی۔
سارہ اسلم کے مطابق پنجاب بھر کے ریسٹورنٹس میں انڈور کھانے پر مکمل پابندی ہوگی اور تمام تفریحی پارکس بند رہیں گے جبکہ واکنگ /جوگنگ ٹریکس کھلے رہیں گے۔
صوبہ بھر میں تمام جِم اور سینما ہالز مکمل طور پر بند رہیں گے جبکہ ہر قسم کے کھیل، ثقافتی تہواراور اجتماعات پر مکمل پابندی عائد ہو گی۔
شہر کے اندر چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ 50 فیصد گنجائش کے ساتھ جاری رہے گی جبکہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ ہفتے میں دو دن (ہفتہ اور اتوار) مکل طور پر بند رہے گی۔
ایران کا تفتان سرحد عام آمدورفت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ، تجارت جاری رہے گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی حکام نے بدھ سے تفتان کے ذریعے آمد و رفت کے لیے سرحد بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
اس فیصلے سے تفتان میں متعین پاکستانی حکام کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ تفتان لیویز فورس کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق امیگریشن بند ہونے کے باوجود ٹرانزٹ گیٹ کے راستے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں جاری رہیں گی، جس کے دوران ایرانی ڈرائیورز کو تفتان سرحد سے آنے جانے کی اجازت ہوگی.
پنجاب میں آکسیجن سیلنڈرز اور ایمرجنسی آلات کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ہدایات پر صوبے میں آکسیجن سیلنڈرز اور ایمرجنسی آلات کی ذخیرہ اندوزی اور منافع خوروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر سارہ اسلم کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق آکسیجن سلنڈرز، آکسیجن میٹرز، آکسیجن ریگولیٹر، نیزل کینولا اور دیگر ایمرجنسی آلات کی ذخیرہ اندوزی کرنا قانوناً جرم ہو گا۔
سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ایمرجنسی آلات پر منافع کمانے والوں اور ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف قانونی طور پر کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر تمام اسپتالوں میں کورونا کے مریضوں کے لیے ایمرجنسی آلات کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے گئے ہیں۔
سیکریٹری محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر ان احکامات کا اطلاق اگلے دو مہینے تک رہےگا۔
ایران اور چین سے آکسیجن درآمد کرنے سے متعلق بات چیت جاری ہے: فواد چوہدری

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے منگل کو میڈیا بریفنگ میں بتایا ہے کہ چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے سے متعلق بات چیت چل رہی ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے اگر آکسیجن کی کیپیسٹی ڈبل نہ کی ہوتی تو اس وقت صورتحال مختلف ہوتی۔ ضرورت پڑی تو ایران سے بھی آکسیجن لیں گے۔ ہم چین اور ایران سے اس وجہ سے لیں گے کہ یہ ائیرلفٹ نہیں ہو سکتی یہ سڑک سے یا سمندری جہاز کے ذریعے ہی آ سکتی ہے۔
ان کے مطابق اگر کورونا وائرس کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو پھر اس کی ضرورت پڑے گی۔
ان کے مطابق عید کی پانچ چھٹیاں دے جائیں گے تا کہ لوگ گاؤں وغیرہ جائیں جہاں کورونا کی شرح کم ہے۔ فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی سربراہی میں ہوئے این سی او سی کے گذشتہ اجلاس آرمی چیف اور دیگر اسٹیک ہولڈرز شریک تھے، جس میں وزیراعظم کی طرف سے ہدایت کی گئی تھی کہ ہمیں مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے تو پھر ہمیں پوری تیاری کرنی پڑے گی تا کہ ضروری اشیا کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
ان کے مطابق کوشش کریں گے کہ لاک ڈاؤن نہ لگانا پڑے۔
’عوام ویکسین لگوانے سے نہ گھبرائیں‘
فواد چوہدری نے کہا ہے کہ 20 لاکھ سے زیادہ لوگ پاکستان میں ویکسین لگوا چکے ہیں۔ انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویکسین لگوائیں۔ ان کے مطابق دنیا میں ایک ارب لوگ یہ ویکسین لگوا چکے ہیں جس سے پتا چلتا ہے کہ یہ محفوظ ہے۔
فواد چوہدری کے مطابق اس وقت 37 لاکھ خوراکیں دستیاب ہیں۔

،تصویر کا ذریعہEPA
’بروقت اقدامات نہ اٹھاتے تو حالت انڈیا کی طرح ہوتی‘
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وینٹی لیٹرز سےمتعلق شاید شبلی فراز کو ابھی تک پریزینٹیشن مکمل نہیں ملی، تمام سرٹیفیکیشن کے ذریعے ہی وینٹی لیٹر کا کام چلتا ہے، شبلی فراز کو کمپنیوں سے وینٹی لیٹر سےمتعلق پریزینٹیشن لینی چاہیے۔
فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اس وقت پانچ ہزار متاثرین تشویش ناک حالت میں ہیں۔
اس سے پہلے پیک 3400 تھی یعنی 3400 مریض انتہائی نگہداشت میں گئے تھے اب پانچ ہزار لوگ گئے ہیں۔ اگر ہم ایک سال پہلے وہ اقدامات نہ کیے ہوتے جو اس حکومت نے کیے ہیں تو ہماری حالت بھی تقریباً انڈیا کی طرح ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ ہم اس ایک سال میں دوران سات ہزار بیڈز کا اضافہ کیا، جس میں آکسیجن اور وینٹی لیٹربیڈز بھی شامل ہیں، اگر یہ نہیں ہوتا ہماری حالت انڈیا کی طرح ہوتی، ہم نے ایک سال میں اپنی صلاحیت دوگنا کی۔
اگر ایسا نہ کرتے تو آج آکسیجن کی حالت بھی ہمارے ہاتھ سے نکل چکی ہوتی۔

،تصویر کا ذریعہAbdullah
آکسیجن کی پیداوار کے حوالے سے فواد چوہدری نے کہا کہ گذشتہ برس جون میں 484 میٹرک ٹن روزانہ بنا رہے تھے اور اس وقت 792 میٹرک ٹن بنا رہے ہیں اور 308 میٹرک ٹن کا اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے ابھی آکسیجن کا بحران پیدا نہیں ہوا۔
ان کے مطابق صحت کے شعبے میں 500 میٹرک ٹن آکسیجن جارہی ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس وقت تشویش ناک حالت کے مریضوں کی ضروریات کے لیے کافی ہے لیکن ہم 90 فیصد تک پہنچ گئے ہیں اور ہمارے تین آپشنز ہیں، ایک صنعت سے لے کر صحت کے شعبے کو دیں گے پھر چین اور ایران سے آکسیجن درآمد کرنے کی بات چیت چل رہی ہے۔
’صوبائی وزیر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے‘
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم نے خیبرپختونخوا میں اپنے وزیر تیمور جھگڑا کے خلاف ایف آئی آر کرا دی ہے۔ ان کے مطابق یہ 20 سے 22 کروڑ عوام کا ملک ہے یہاں ہر کام ڈنڈا لے کر نہیں کرواسکتے، خود بھی تو عقل کرنی چاہیے، یہ اپنی زندگیوں کا معاملہ ہے۔
