انڈیا میں ایک دن میں پونے چار لاکھ نئے متاثرین، پاکستان میں مزید 151 ہلاکتیں

پاکستان میں کورونا وائرس کی صورتحال کے نگراں ادارے این سی او سی کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5480 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ جبکہ وائرس نے مزید 151 افراد کی جان لے لی ہے۔ انڈیا میں بھی وائرس کے پھیلاؤ کی صورتحال بدستور سنگین ہے جبکہ ترکی میں وبا کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ جمعرات سے پہلا مکمل لاک ڈاؤن لگنے جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, ترکی میں پہلے مکمل لاک ڈاؤن کی تیاریاں

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ترکی میں گلیوں اور شاپنگ سینٹرز میں رش ہے۔ اکثر افراد استنبول کے مرکزی بس ٹرمینل کی جانب جا رہے ہیں تاکہ شہر سے باہر نکل سکیں جبکہ دیگر افراد شراب پر لگنے والی ممکنہ پابندی کے پیشِ نظر شراب کو سٹاک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    ترکی میں آج کل ایسا ماحول ہے کیونکہ ملک میں وبا کے بعد سے پہلی مرتبہ جمعرات سے پہلا مکمل لاک ڈاؤن لگنے جا رہا ہے تاکہ کورونا وائرس انفیکشنز میں اضافے کو روکا جا سکے۔

    واٹس گروپس پر اس وقت یہ بحث کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں یہاں زندگی کیسی ہو سکتی ہے۔

    گذشتہ برس اس ماہ کے دوران عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ترکی کی تعریف کی گئی تھی کہ اس نے آغاز میں ہی اقدامات کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکا۔

    تاہم ایک برس بعد اب یہ ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں اور یہاں انفیکشنز کی شرح یورپ میں سب سے زیادہ ہے۔

  2. روس اور چین کی انڈیا کو امداد کی یقین دہانی

    russia

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی صدر ولادیمیر پوتن نے کووڈ کی وبا کا سامنا کرنے والے انڈیا کو ہر طرح کی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    بدھ کے روز، انڈین وزیر اعظم نریندر مودی اور روسی صدر کے درمیان فون پر گفتگو ہوئی۔

    روس کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ روس انڈیا کو ہنگامی انسانی امداد بھیج رہا ہے جن میں آکسیجن پیدا کرنے والے 20 یونٹ، 75 وینٹیلیٹر، 150 میڈیکل مانیٹر اور دو لاکھ ادویات کے پیک سمیت 22 ٹن ضروری سامان شامل ہیں۔

    روس کی سپوتنک وی ویکسین اب انڈیا میں بھی تیار کی جائے گی اور مئی سے انڈین کمپنیاں سپوتنک وی ویکسین کی 85 کروڑ خوراکیں تیار کریں گی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    دوسری جانب، نئی دہلی میں چینی سفارتخانے نے بھی کہا ہے کہ چین انڈیا کی مدد کے لیے تیار ہے۔

    انڈیا میں چین کے سفیر نے ٹویٹ کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں انڈیا سے تقریباً 25 ہزار آکسیجن یونٹس کی مانگ آئی ہے اور سامان کی فراہمی کے لیے کارگو طیارے تیار ہیں۔

  3. کورونا وائرس کے باعث پاکستان میں مزید ایک سو اکاون ہلاکتیں

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر کے مطابق پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 5480 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    سنٹر کے مطابق وبا نے مزید 151 افراد کی جان لے لی ہے۔

    24 گھنٹوں میں 57013 افراد کے ٹیسٹ لیے گئے جن میں مثبت آنے کی صرح 9.61 فیصد رہی۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. بریکنگ, انڈیا میں یومیہ متاثرین کی تعداد میں تین لاکھ اسی ہزار کے قریب کا اضافہ

    انڈیا میں حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں مزید 379164 افراد کا اضافہ ہو گیا ہے۔

    گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں کیے گئے ٹیٹسوں میں کووڈ 19 کے مثبت آنے کی شرح 18.2 فیصد رہی۔

    اسی اثنا میں مزید 3646 افراد وائرس کی وجہ سے جان کی بازی ہار گئے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. کورونا: مہاراشٹرا میں ایک ہی دن میں ایک ہزار کے قریب افراد ہلاک

    انڈیا کی ریاست مہاراشٹر میں کورونا وائرس سے متعلق یومیہ اعداد و شمار کےمطابق بدھ کے روز مزید 63309 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی۔

    وائرس کی وجہ سے ریاست میں ایک دن میں کم از کم 985 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس یاست میں متاثرین کی مجموعی تعداد 454 لاکھ 73 ہزار سے زآید ہو چکی ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  6. گلگلت بلتستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ

    Corona virus

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    گلگت بلتستان محکمہ صحت کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا پازئیٹو مریضوں کی شرح میں یک دم اضافہ ہوا ہے۔

    28 اپریل بدھ سے پہلے یہ شرح تقریباً اڑھائی فیصد تھی جبکہ بدھ کے روز یہ شرح چھ فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔ محکمہ صحت کے مطابق گلگت بلتستان کے چودہ میں سے دس اضلاع میں اس وقت کورونا کے پازئیٹو مریض موجود ہیں۔

    جس میں مجموعی طور پر 141 مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں جبکہ کورونا مریضوں کے لیے 212 بستر دستیاب ہیں۔ اس وقت گلگت بلتستان میں کوئی بھی مریض وینٹیلیڑ اور انتہائی شدید حالت میں نہیں ہے۔

    یاد رہے کہ گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر 5296 لوگ متاثر ہوئے تھے، جس میں سے 5049 صحت یاب ہوچکے ہیں۔اس خطے میں اس وائرس سے مجموعی ہلاکتیں 106 ہوئی ہیں۔ اموات کا تناسب دو فیصد جبکہ صحت یابی کا تناسب پچانوے فیصد ہے۔

    GB

    ،تصویر کا ذریعہ@ASSISTANTCOMM16

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان امتیاز علی تاج کا کہنا تھا کہ حکومت مریضوں کی شرح میں اضافہ کو تشویش کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ اس وقت پورے گلگت بلتستان میں شام چھ بجے سے صبح تک کا لاک ڈاؤن ہے۔

    اس دوران صرف میڈیکل سٹوروں ہی کو کھلا رہنے کی اجازت ہے جبکہ ریسٹورنٹ کی انڈر ڈور یا آوٹ ڈور ڈائنگ بھی بند کر دی گئی ہے۔

    امتیاز علی تاج کے مطابق گلگت بلتستان میں آنے والے سیاحوں کے لیے کورونا نیگٹو سرٖٹیفیکٹ یا مکمل ویکسیشن کا سرٹیفکیٹ لازمی ہے۔

    اس کے بغیر سیاحوں کو گلگت بلتستان کی حدود میں داخلے کی اجازت نہیں ملے گی۔

    گلگت بلتستان میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع گلگت ہے، جہاں اب تک سب سے زیادہ مریض چالیس ہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت گلگت میں 63 مریض زیر علاج ہیں۔ اسسٹنٹ کمشنر گلگت کیپٹن ریٹائرڈ اسامہ مجید چیمہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گلگت میں سختی سے ایس او پی پر عمل در آمد کروایا جارہا ہے۔

    مختلف مجسٹریٹس کی مختلف مقامات پر تعنیاتی کی گئی ہے جنھیں پیرا ملڑی فورسز کی مدد حاصل ہے۔

  7. لاک ڈاؤن کے دوران ممبئی شہر کے مناظر

    lock down

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کا شہر ممبئی دو ہفتوں سے لاک ڈاؤن میں ہے۔ مہاراشٹرا ریاست جس کا ممبئی بھی ایک شہر ہے اس وقت سب سے زیادہ کورونا وائرس سے متاثر ہے۔

    lock down

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ممبئی کی لاک ڈاؤن کی تصاویر دیکھ کر گذشتہ برس جیسے مناظر آنکھوں کے سامنے آ جاتے ہیں جب دنیا کے کئی ممالک میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا تھا۔

    lock down

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    مگر یہ تصاویر اس حقیقت کو آشکارا کرتی ہیں کہ اس وقت بھی انڈیا اس طرح کی صورتحال سے ہی گزر رہا ہے۔

  8. پی آئی اے کے مزید طیارے ویکسین لینے چین روانہ

    کورونا ویکسین

    پی آئی اے کے مزید تین خصوصی طیارے کورونا ویکسین لینے کے لیے چین روانہ ہو گئے۔

    ترجمان کے مطابق تین بوئنگ 777 طیارے دس لاکھ ویکسین لے کر کل صبح اسلام آباد پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔ ترجمان کے مطابق پی ائی اے کے طیارے حکومت پاکستان اور وزارت صحت کے ایما پر فرائض سرانجام دیں گے۔

    پہلا جہاز کل صبح 30۔8 بجے، دوسرا دوپہر 30۔12 بجے اور تیسرا کل رات 12 بجے پہنچے گا۔ پی آئی اے کے قوی ہیکل طیاروں کے استعمال کا مقصد کورونا وبا کے مقابلے کے لیے ویکسین کی ترسیل کو تیز کرنا ہے۔

  9. 50 سال سے کم عمر افراد کو رجسٹریشن عمل مکمل ہونے پر ویکسین لگائی جائے گی

    ویکسین

    اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز پچاس سال سے کم عمر افراد کو ویکسین نہیں لگ سکی۔

    اس بارے میں جب ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر زعیم ضیا سے پوچھا گیا تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’آج ملک بھر میں صرف چالیس سے انچاس سال کے افراد کی رجسٹریشن کا عمل شروع ہونا تھا جو کہ جاری ہے۔

    لیکن ویکسین ابھی لوگوں کو نہیں لگائی جائے گی جب تک رجسٹریشن کا عمل مکمل نہیں ہوجائے۔

    انھوں نے کہا کہ اکثر افراد کے خیال میں جس روز ویکسین کے لیے رجسٹریشن ہوتی ہے اسی روز ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔

    رجسٹریشن کے بعد تقریباً ایک ہفتے کا وقت درکار ہوتا ہے، جس کے دوران تمام رجسٹرڈ شدہ افراد کو حکومت کی جانب سے ایک کوڈ بھیجا جاتا ہے، جس کے بعد وہ نزدیکی ویکسینیشن سینٹر یا پھر ہسپتال میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ جہاں تک پچاس سال سے زائد افراد کا تعلق ہے تو وہ کسی بھی ویکسینیشن سینٹر میں جا کر ویکسین لگوا سکتے ہیں۔ ان افراد کے لیے واک اِن سروس جاری ہے۔

  10. ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر پشاور میں 180 افراد گرفتار، 76 دکانیں سیل

    پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے مختلف علاقوں سے کورونا وائرس سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 180 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

    شہر میں کورونا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر 76 دکانیں بھی سیل کر دی ہیں۔

    ڈپٹی کمشنر پشاور کیپٹن ریٹائرڈ خالد محمود نے واضح کیا ہے کہ کورونا وائرس سے متعلق ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کارروائیاں جاری رہیں گی۔

  11. 85 برس کے مریض نے ایک نوجوان کی زندگی بچانے کے لیے ہسپتال کا بیڈ خالی کر دیا

    انڈیا میں کورونا وائرس سے متاثر 85 برس کے ایک مریض نے جان کی پروا کیے بغیر ایک نوجوان مریض کے لیے ہسپتال کا بیڈ خالی کر دیا جس سے خود معمر مریض کی موت واقع ہو گئی۔

    انڈیا ٹوڈے کی ایک رپورٹ کے مطابق جب کورونا وائرس کے مریض نارائن دبالکر نے ایک خاتون کو اپنے 40 برس کے خاوند کے ہسپتال میں داخلے کے لیے انتظامیہ کی منت سماجت کرتے دیکھا تو اس نے ریاست مہاراشٹرا کے شہر ناگپور کی ایک ہسپتال میں اپنا بیڈ خالی کیا اور خود ہسپتال سے گھر واپس آ گئے۔

    اس معمر شخص نے مرنے سے قبل ہسپتال کے عملے کو بتایا کہ وہ اب 85 برس کے ہیں اور میں نے جتنی زندگی گزارنی تھی وہ گزار لی ہے لہذا اس وقت ایک نوجوان شخص کی زندگی بچانا زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اور اس شخص نے عملے سے یہ درخواست بھی کی میرا بیڈ کورونا وائرس سے متاثرہ اس نوجوان کو دے دیا جائے۔ کورونا وائرس سے متاثرہ ریٹائرڈ ماہر شماریات کی ہسپتال چھوڑنے کے تین دن بعد گھر میں موت واقع ہو گئی۔

    ٹائمز آف انڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ہسپتال کے ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ وارڈ میں رش زیادہ ہونے کی وجہ سے نوجوان مریض کو داخل کرنا ممکن نہ ہوتا مگر معمر مریض نے نوجوان کے لیے یہ رستہ آسان کیا اور خود موت کو گلے لگے لگا لیا۔

    اہلکار کے مطابق یہ تو ڈاکٹر کی صوابدید ہوتی ہے کہ کس کو بیڈ دینا ہے اور کس کو نہیں مگر معمر شخص کی طرف سے بستر خالی کرنے سے ایک مریض کی جگہ ضرور بن گئی تو جو وصیت کے مطابق اس نوجوان مریض کو دے دی گئی

  12. انڈیا: ننانوے سالہ خاتون سو سال پرانی مشین پر ماسک سینے لگیں, سریندر مان، بی بی سی نیوز، بھٹنڈا

    کورونا

    گُردیو کور دھلیوال نے اپنی سلائی مشین دوبارہ چلانی شروع کر دی ہے۔

    ننانوے سالہ خاتون ایک مرتبہ پھر کووڈ ماسکس بنا رہی ہیں جو اُنھوں نے گذشتہ سال انڈیا میں کووڈ کی پہلی لہر کے دوران بھی بنائے تھے۔

    اُنھوں نے مجھے بتایا کہ 'میں اپنی آخری سانس تک ماسک سیئوں گی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ کووڈ کے دوران یہی معاشرے کی حقیقی خدمت ہے۔'

    وہ یہ ماسک سنگاپور میں بنی 100 سال پرانی سلائی مشین پر سیتی ہیں جسے اُن کے سسرال نے تحفے میں دیا تھا۔ وہ روز علی الصبح اٹھتی ہیں اور اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو فون کرتی ہیں کہ ماسک تقسیم کریں۔ وہ لوگوں پر ماسک پہننے کے لیے زور دیتی ہیں تاکہ اس وائرس کو شکست دی جا سکے۔

    اُن کی آبائی ریاست پنجاب میں کورونا کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور وہاں گھر سے باہر ماسک پہننا لازمی ہے۔

    گُردیو کور کی خدمات گذشتہ سال بی بی سی پنجابی پر سامنے آنے کے بعد پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ کیپٹن امریندر سنگھ نے بھی اُن کی تعریف کی تھی۔

  13. انڈیا میں مریضوں کی منتقلی کے لیے نجی طیاروں کی طلب میں اضافہ, اشیتھا ناگیش، بی بی سی نیوز، لندن

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا میں نجی جیٹ کمپنیوں کے بارے میں اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ لوگ اُن سے انڈیا چھوڑ کر دبئی جانے کے لیے طیاروں کی درخواست کر رہے ہیں۔

    مگر انڈیا کی چارٹرڈ طیاروں کی ایک کمپنی کے سربراہ نے مجھے بتایا ہے کہ زیادہ تر درخواستیں اُن لوگوں کی جانب سے آئی ہیں جو کووڈ سے متاثرہ اپنے پیاروں کو اُن شہروں میں لے جانا چاہتے ہیں جہاں ہسپتالوں میں بستر موجود ہوں۔

    ایئر چارٹر سروس کے ممبئی آفس کے سربراہ آشیش وستراڈ نے بتایا: 'متحدہ عرب امارات جانے کی درخواستیں ایک دن کے بعد ختم ہوگئی۔'

    وہ کہتے ہیں کہ 'اس وقت زیادہ تر درخواستیں ہمیں اُن لوگوں کی موصول ہو رہی ہیں جو اپنے کووڈ سے متاثرہ مریضوں کو ملک کے ایک شہر سے دوسرے ہسپتال منتقل کرنا چاہتے ہیں۔

    یہ بنیادی طور پر مریضوں کے خاندان ہیں جو اپنے پیاروں کو ہسپتال داخل کروانا چاہتے ہیں۔'

    اُنھوں نے کہا کہ کمپنی لوگوں کی مدد کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے مگر فی الوقت ان کے طیارے کووڈ سے متاثرہ لوگوں کو منتقل کرنے کی سہولیات سے آراستہ نہیں ہیں۔

  14. مہاراشٹر میں فی الحال 18 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین نہیں لگائی جائے گی

    انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ یکم مئی سے 18 سال سے زائد عمر کے لوگوں کو ویکسین لگانے کا پروگرام ملتوی کر رہی ہے، کیونکہ ویکسین کی خوراکوں کی کمی ہے۔

    روئٹرز نے ریاستی وزیرِ صحت راجیش توپے کے حوالے سے بتایا کہ ریاست میں لاک ڈاؤن اقدامات میں دو ہفتوں کی مزید توسیع کرتے ہوئے شاید اسے مئی کے وسط تک بڑھا دیا جائے۔

    مہاراشٹر انڈیا کی سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے اور یہاں پر آکسیجن کی شدید کمی ہے جو تشویشناک حالت میں موجود مریضوں کے علاج لیے ضروری ہے۔

    کورونا
  15. کورونا وائرس: انڈیا میں حالات اس قدر خراب کیوں ہوئے؟, یوگیتا لیمائے، بی بی سی نیوز، انڈیا

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کئی ہسپتالوں کو کووڈ کی پہلی لہر کے دوران مشکلات کا سامنا رہا مگر پہلی لہر میں حالات موجودہ لہر کے مقابلے میں کہیں کم خراب تھے۔

    اور جب پہلی لہر کمزور پڑی تو مرکزی اور ریاستی حکومتوں نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا۔ مذہبی اجتماعات اور انتخابی جلسوں کی اجازت دے دی گئی۔

    قومی قیادت نے تو کورونا وائرس پر فتح پانے کا اعلان ہی کر ڈالا۔ مارچ میں جب ملک کے کچھ اضلاع میں متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی تھی تب وزیرِ صحت ہرش وردھن نے کہا کہ ملک 'کورونا وائرس کی وبا کے آخری مرحلے میں ہے۔'

    اس طرح کے پیغامات سے لوگوں نے کورونا پروٹوکولز کی پاسداری کرنی چھوڑ دی۔ ماہرینِ وبائی امراض کا کہنا ہے کہ شدید بربادی پھیلانے والی وائرس کی نئی اقسام کا جینیاتی تجزیہ نہیں کیا گیا ہے۔

    طبی سہولیات کو اگلی لہر سے نمٹنے میں مدد دینے کے لیے تیار نہیں کیا گیا حالانکہ یہ واضح تھا کہ دنیا کے کئی ممالک نے دوسری اور زیادہ ہلاکت خیز لہر کا سامنا کیا ہے۔

    درحقیقت ملک کے کئی حصوں میں پہلی لہر کے دوران بنائے گئے عارضی ہسپتال ختم کر دیے گئے اور آکسیجن اور ادویات کا ذخیرہ بھی نہیں کیا گیا۔

    وبا کے آغاز سے اس بات کا خدشہ تھا کہ انڈیا کو اس سے شدید نقصان ہوگا کیونکہ اس نے صحتِ عامہ کے انفراسٹرکچر میں زیادہ سرمایہ کاری نہیں کی ہے۔

    پر اگر ملک نے خود کو اس ناگزیر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار کیا ہوتا تو کئی جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔

  16. کورونا: پنجاب میں آٹھ فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں پابندیاں سخت کرنے کا فیصلہ

    Usman Buzdar

    ،تصویر کا ذریعہDGPR Punjab

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ کورونا کی آٹھ فیصد سے زائد شرح والے شہروں میں پابندیاں سخت کرنےکا فیصلہ کیا ہے اور ایس او پیز پر سختی سے عمل کروایا جائے گا۔

    بدھ کو صوبے میں کوروناکی صورتحال کاجائزہ لینے پر صوبائی ایپکس کمیٹی کےخصوصی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا پر قابو پانے کے لیے تمام تر وسائل بروئےکار لا رہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ این سی او سی کی طرز پر پنجاب کی کورونا کمیٹی تشکیل دی جا چکی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے کر فیصلے کریں گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہیہ ایپکس کمیٹی صوبے میں آکسیجن کی قیمت اور سپلائی کی بھی نگرانی کرے گی۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کورونا کمیٹی صوبے بھر میں نجی ہسپتالوں کی جانب سے کورونا کےمریضوں کے علاج کے عوض لیے گئے معاوضےکو بھی دیکھا جائے گا تاکہ کورونا کے مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

    وزیر اعلیٰ بزدار کا کہنا تھا کہ صوبے میں ہیلتھ آفیسرز کو پہلے بھی خصوصی الاؤنس دیا گیا تھا اب بھی دیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ عوام کو پابندیوں کے ساتھ ساتھ ویکسین کی سہولت بھی فراہم کر رہے ہیں اور صوبے نے ڈیڑھ کروڑ کی ویکسین خریدنے کی منظوری دی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں اب تک دس لاکھ سے زائد افراد کی ویکسینیشن کی جا چکی ہے، اور وہ ایس او پیز پرعمل کرانے کے لیے فوج اور رینجرز کے تعاون کے لیے مشکور ہیں۔

  17. اینتھونی فاؤچی:’انڈیا میں بننے والی ’کوویکسن‘ کووڈ 19 کی نئی مہلک قسم کے خلاف مؤثر‘

    ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) کے مطابق وائٹ ہاؤس کے میڈیکل ایڈوائزر اور وبائی امراض کے ماہر ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی انڈیا میں بننے والی ویکسین ’کوویکسن‘ کووڈ 19 کی نئی مہلک قسم کے خلاف مؤثر ہے۔

    پی ٹی آئی کے مطابق ڈاکٹر فاؤچی نے کہا ہے کہ ’ہم روزانہ کی بنیاد پر اعدادوشمارکو دیکھ رہے ہیں اور تازہ ترین ڈیٹا سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ’کوویکسن‘ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔ یہ وائرس کی نئی قسم بی ون 617 کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوئی ہے۔

    منگل کے روز امریکی جریدے نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں بھی کہا گیا ہے کہ کوویکسن قوت مدافعت کو بڑھانے اور اینٹی باڈیز بنانے میں مدد کرتی ہے۔ کوویکسن کو بھارت بائیوٹیک نے نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ویرولوجی اور انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔

    رواں سال 3 جنوری کو ہنگامی بنیادوں پر کوویکسن کے استعمال کی اجازت دی گئی تھی کیونکہ کہا گیا تھا کہ اس ویکسین کے ٹرائلز کے نتائج کے مطابق یہ 78 فیصد مؤثررہی۔

    ڈاکٹر فاؤچی نے یہ بھی کہا ہے کہ ’ہم انڈیا کو ویکسین کی تیاری کے لیے خام مال بھیج رہے ہیں تاکہ زیادہ ویکسین بنائی جا سکے۔ ہمارے خیال میں یہ بہت اہم مدد ہے۔‘

    ویکسین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

  18. روس میں کورونا کے یومیہ متاثرین اور اموات میں کمی

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے نئے کیسز اور یومیہ اموات میں کمی دیکھی گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ 19 کے 7848 نئے کیس (جو گذشتہ روز 8053 تھے) جبکہ 387 اموات(جو گذشتہ روز 392 تھی) ریکارڈ کی گئیں۔

    سب سے زیادہ نئے متاثرین ماسکو میں سامنے آئے جہاں یہ تعداد 1840 تھی جبکہ سینٹ پیٹربرگ میں 723 نئے کیس ریکارڈ کیے گئے۔

    واضح رہے کہ وبا کے آغاز سے اب تک روس میں 4,787,273 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 109,367 افراد اس وائرس کے ہاتھوں اپنی جانیں گنوا بیٹھے ہیں۔

  19. دلی کے ہسپتالوں میں آکسیجن کی شدید قلت

    انڈیا کے دارالحکومت دلی کے ہسپتالوں کا عالم یہ ہے کہ ڈاکٹرز سوشل میڈیا پر آکسیجن کی فراہمی کی درخواست کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔

    دلی کے متعدد بڑے ہسپتالوں میں ایک طرف جہاں کورونا مریضوں کے داخلے میں بے پناہ اضافہ دیکھا گیا ہے وہیں آکسیجن کی شدید قلت کے باعث بہت سے لوگ جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

    حکومت کا کہنا ہے کہ وہ آکسیجن کی دستیابی کے لیے اقدامات کر رہی ہے مگر کیا اس کی فراہمی تک مریضوں کے لیے بہت دیر تو نہیں ہوجائے گی؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  20. ’ہم باز آنے والی قوم نہیں۔۔۔ انڈیا سے بھی کوئی سبق نہیں سیکھا‘