دوستوں کو افطار پارٹی دینے پر خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کے خلاف مقدمہ

،تصویر کا ذریعہSOCIAL MEDIA
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کو کورونا وبا کے دوران دوستوں کے لیے افظار پارٹی مہنگی پڑ گئی ۔ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے وزیر صحت ، نجی ریسٹورٹ کے مالک اور مینیجر کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔
یہ ایف آئی آر اسسٹنٹ کمشنر متنی عادل ایوب کی مدعیت میں کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے پر تھانہ سر بند میں درج کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا پرکل رات یہ خبر وائرل ہوئی کہ حجرہ ریسٹورنٹ کورونا ایس او پیز کی وجہ سے بند تھا لیکن صوبائی وزیر نے دوستوں کے لیے ریسٹفورنٹ کھول کر افطاری دی۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس مختصر عبارت میں یہ لکھا گیا تھا کہ ضلعی انتظامیہ صرف غریبوں کی دکانوں کو بند کرانے اور جرمانے عائد کرنے پر لگی ہوئی ہے اب ان کے خلاف کون ایکشن لے گا۔
اس کے بعد ضلعی انتطامیہ متحرک ہوئی اور رات دیر سے یہ ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس بارے میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بیان بھی جاری ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ قانون سے بالا تر کوئی نہیں جو بھی حکومتی احکامات کی خلاف ورزی کرے گا ان کے خلااف کارروائی ہوگی۔
ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے سارا ملبہ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔
عوام ہزار بار احتیاط کرے گی لیکن ایسی تصاور دیکھ کر عوام کو شک ہوتا ہے کہ اگر یہ جان لیوا ہے تو کیا ان لوگوں کو جان کی فکر نہیں ہے۔
سوشل میڈیا پر یہ خبروائرل ہوئی تو اس وقت وہ تصاور بھی جاری ہوئیں جس میں صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا اور ان کے ساتھ افطاری کے لیے بیٹھے ہیں۔
پاکستان میں جب سے کورونا وائرس کی وبا آئی ہے صوبائی وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا خود بار بار ذرائع ابلاغ اور عوامی مقامات پر کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط برتنے کی تلقین کرتے رہے ہیں اور اس بارے میں سوشل میڈیا پر بھی بڑے متحرک نظر آتے ہیں۔ روزانہ صبح سویرے ٹویٹر پر وہ کورونا وائرس کے اعداد وشمار جاری کرتے ہیں اور یہ بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وائرس پھیل رہا ہے اور اس سے محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔









