پاکستان میں ویکسینیشن مہم جاری ہے جس میں سب سے پہلے چین سے درآمد شدہ سائنو فارم ویکسین معمر افراد اور طبی عملے کو لگائی جا رہی ہے۔ اس دوران عام لوگوں کے ساتھ ساتھ کئی معروف شخصیات نے بھی ویکسین لگوائی ہے یا اپنے والدین کے ساتھ اس مہم میں حصہ لیا ہے۔
صدر مملکت عارف علوی بھی گذشتہ روز اسلام آباد کے ایک مرکز میں ویکسین لگوانے کے لیے پہنچے۔ ان کے مطابق انھوں نے اپنی باری کا انتظار کیا اور اسی طریقۂ کار کے ذریعے ویکسین لگوائی جو پورے ملک میں اپنایا جا رہا ہے۔
لیکن لمز یونیورسٹی کی پروفیسر سلمی زمان نے ٹوئٹر پر بتایا کہ ’صدر مملکت سے پہلے میرے والدین کو ویکسین لگائی گئی۔‘
وہ اپنے اچھے تجربے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’ویکسین کی منصفانہ تقسیم کے نظام پر حکومت کو سراہا جانا چاہیے۔‘
ان کی پوسٹ پر ایک صارف نے دریافت کیا کہ ’وزیر اعظم عمران خان بھی تو معمر ہیں اور ویکسین لگوا سکتے ہیں، پھر انھوں نے اب تک ایسا کیوں نہیں کیا؟‘
دریں اثنا بہت سے صارفین حکومتِ پنجاب کی جانب سے ویکسین کے لیے قائم مراکز سے مطمئن نظر آئے۔
زیب النسا برکی کہتی ہیں کہ ان کے والدین نے ایکسپو سینٹر لاہور میں ویکسین لگوائی اور اس میں صرف 35 منٹ لگے۔
’مہربانی فرما کر اپنے والدین کو ویکسین لگوائیں۔ میرا یقین کریں آپ کو سانس لینے میں آسانی ہوگی۔‘
پاکستان میں صحت کے مشیر ڈاکٹر فیصل سلطان بھی اسی طرح اپنے والدین کو ویکسین لگوانے کے لیے ایکسپو سینٹر پہنچے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ بہت آسان مرحلہ ہے اور معمر لوگ صرف اپنا شناختی کارڈ نمبر 1166 پر بھیج کر کورونا سے حفاظت سے ٹیکے لگوا سکتے ہیں۔
اداکارہ ثمینہ پیرزادہ نے بھی گذشتہ روز اپنی ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی ہے۔
انھوں نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ’شاباش پاکستان۔‘
مصنف زاہد حسین نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ویکسینیشن کے لیے کیے گئے انتظامات کی تعریف کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دنوں یہاں ہنگامی صورتحال تھی جس پر اب قابو پا لیا گیا ہے۔
نیوز اینکر مہر بخاری نے لکھا ہے کہ ’میں نے اپنے والدین کو ویکسین لگوائی ہے۔ لاہور میں انتظامات اچھے کیے گئے ہیں تاہم یہاں آنے والے لوگوں میں کافی بےچینی پائی جاتی ہے۔‘
کرکٹر ثنا میر کہتی ہیں کہ لاہور میں ان کے والدین کو پیشہ ورانہ طریقہ کے ساتھ ویکسین دی گئی جس سے وہ کافی متاثر ہوئی ہیں۔
حسین نامی ایک صارف کا تجربہ بھی اچھا رہا۔ انھوں نے ویکسین کے لیے آئے اپنے والدین کی تصاویر شیئر کی ہیں جن میں ان کے والد نے چہرے پر برطانوی فٹبال کلب آرسنل کا ماسک پہنا ہوا ہے۔
’والدہ کے لیے ویکسین چاہیے لیکن نااہلی سے خوفزدہ ہوں‘
مگر اس دوران کئی لوگوں کا تجربہ اتنا اچھا نہیں رہا۔
ایک صارف نوفل نقوی نے ٹوئٹر پر بتایا ہے کہ وہ اپنے 82 سالہ والد کو لے کر کراچی کے جناح پوسٹ گریجیویٹ ہسپتال گئے تھے جہاں اسی روز سینکڑوں دیگر معمر افراد کو بلایا گیا تھا۔
’ہم سب عمارت کے اندر تھے جہاں وائرس آسانی سے پھیل سکتا ہے۔ لوگ ایک میز کے گرد جمع تھے اور کوئی قطار نہیں بنائی گئی تھی۔‘
وہ کہتے ہیں کہ انھیں اپنے والد کے ہمراہ پہلی منزل پر جانا پڑا جو کینسر سے متاثرہ ہیں اور ان کا ایک گردہ ہے۔ ’ان سے بھی زیادہ معمر افراد تھے جو صحت کے اعتبار سے زیادہ مشکلات سے دوچار تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ والد کو ویکسین دیے جانے تک کا مرحلہ کافی مشکل رہا اور کئی صارفین نے ان کی ٹویٹ سے اتفاق کیا جنھیں ایسے ہی تجربے سے گزرنا پڑا تھا۔
اسی طرح احسن نامی صارف نے بتایا کہ کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں سندھ حکومت کی جانب سے قائم کردہ ویکسینیشن سینٹر میں معمر افراد کو دھوپ میں بٹھایا گیا، یہاں کوئی سماجی فاصلہ نہیں تھا اور افراتفری کا عالم تھا۔
ان کے ٹویٹ کے جواب میں صباحت نامی صارف نے لکھا کہ وہ اپنی والدہ کے لیے جلد از جلد ویکسین کا انتظام کرنا چاہتی ہیں لیکن وہ اس ’نااہلی سے بہت خوفزدہ‘ ہیں۔