آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

لائیو کوریج

  1. خیبر پختونخوا: زیادہ متاثرہ شہروں کے سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد عملہ کام کرے گا

    وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کو صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس ہوا ہے جس میں ’کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں آئے روز اضافے پر تشویش کا اظہار‘ کیا گیا ہے۔ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے زیادہ متاثرہ شہروں کے لیے چند اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں:

    • کل سے شادی ہالز کے اندر شادی کی تقریبات پر پابندی عائد ہوگی
    • صوبے کے کل 16 اضلاع میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے جن میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
    • کسی بھی ضلع میں کورونا کے مثبت کیسز پانچ فیصد ہونے کی صورت میں وہاں تعلیمی اداروں کو بند کیا جائے گا
    • سول سکریٹریٹ میں ملاقاتیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے
    • سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد عملہ کام کرے گا
    • صوبائی وزرا کو اختیار ہوگا کہ وہ حالات کے مطابق اپنے دفاتر میں عملے کو مزید کم کریں
    • رمضان تک چھٹی کے دن بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند رہے گا

    صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاوہ صوبے کے 16 زیادہ متاثرہ شہروں میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، باجوڑ، چارسدہ، بونیر ،مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کوہاٹ شامل ہیں۔

  2. ’حفیظ شیخ کا کورونا ٹیسٹ مثبت‘

    پاکستان کے سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

    گذشتہ روز انھیں وزارت خزانہ کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا اور ان کی جگہ لینے والے نئے وزیر خزانہ حماد اظہر نے اس کی تصدیق کی ہے کہ حفیظ شیخ کا کووڈ 19 کا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    ٹوئٹر پر حماد اظہر کا کہنا تھا کہ ’میں ان کی جلد صحتیابی اور اچھی صحت کے لیے دعا گو ہوں۔‘

  3. امریکہ میں ’آنے والے وقتوں میں بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے‘

    امریکہ میں ایک سینیئر سائنسدان نے متنبہ کیا ہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین اور ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلے بڑھ رہے ہیں جس سے ’آنے والے وقتوں میں بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔‘

    پیر کو صدر جو بائیڈن نے ایک بار پھر تمام افراد سے گھر سے باہر ماسک پہننے کا مطالبہ کیا ہے۔ انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ اپریل کے وسط تک امریکہ میں 90 فیصد بالغ افراد کو ویکسین لگا دی جائے گی۔

    امریکہ میں گذشتہ ہفتے کے دوران روزانہ قریب 60 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    وبائی امراض کی روک تھام کے ادارے سی ڈی سی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر روشیل ویلنسکی نے کہا ہے کہ ’مجھے بار بار یہ محسوس ہو رہا ہے کہ آنے والے وقتوں میں بہت زیادہ نقصان ہوسکتا ہے۔۔۔ ہمیں پُرامید رہنا چاہیے لیکن اس وقت میں کافی خوفزدہ ہوں۔‘

  4. ہم سب تک ویکسین کیسے پہنچے گی؟

  5. پاکستان میں اموات کے اعتبار سے پنجاب مسلسل سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ

    پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز سے اب تک کووڈ 19 سے 663200 متاثرین اور 14356 اموات کی تصدیق ہوئی ہے۔

    مجموعی طور پر سب سے زیادہ اموات 6319 صوبہ پنجاب میں ہوئی ہیں۔ 29 مارچ کو یہاں کورونا میں مبتلا 73 لوگ دم توڑ گئے جن میں سے 66 ہسپتال میں اور سات گھروں میں زیر علاج تھے۔

    دوسری طرف کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین 265158 صوبہ سندھ میں ہیں۔

  6. ’پشاور میں ماسک نہ پہننے والوں کے خلاف کارروائی ہوسکتی ہے‘

    صوبہ خیبر پختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور میں کورونا کیسز میں مسلسل اضافے کے پیش نظر شہریوں کو گھروں سے نکلتے وقت سیفٹی ماسک پہننے کی ہدایت دی گئی ہے۔

    ڈپٹی کمشنر آفس پشاور کے بیان کے مطابق ’ماسک کے بغیر بازاروں میں گھومنے پر دفعہ 144 کے تحت پابندی عائد کی گئی ہے۔ پابندی ایک ماہ کے لیے لگائی گئی ہے۔

    ’بغیر ماسک گھومنے پر دفعہ 188 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘

  7. مستقبل کی عالمی وباؤں پر بین الاقوامی تعاون کے معاہدے کا مطالبہ

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن ان 20 عالمی رہنماؤں میں شامل ہوگئے ہیں جنھوں نے مستقبل میں عالمی وباؤں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک مشترکہ معاہدے پر زور دیا ہے۔

    دنیا بھر کے اخباروں میں بورس جانسن کے علاوہ فرانس کے صدر میکخواں اور جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے بھی کہا ہے کہ دوسری عالمی جنگ کے بعد کووڈ 19 نے ایک بڑا بحران پیدا کر دیا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ کورونا کے بعد کوئی نئی عالمی وبا کبھی بھر آسکتی ہے۔ ’اس عالمی وبا سے ثابت ہوا ہے کہ جب تک سب لوگ محفوظ نہیں تب تک کوئی بھی محفوظ نہیں۔‘

    ڈیلی ٹیلیگرام اور دیگر اخبارات میں شائع اس تحریر میں عالمی رہنماؤں نے کہا ہے کہ دوسری عالمی وبا کی طرح انھیں بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی معاہدہ کرنا ہوگا تاکہ بین الاقوامی سطح پر تعاون بڑھایا جاسکے۔

  8. پاکستان میں کورونا کی ’تیسری لہر‘ کے دوران ریکارڈ یومیہ اموات

    پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 29 مارچ کو کورونا وائرس کے 4048 نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ 100 اموات ہوئی ہیں۔

    ان 100 میں سے 92 اموات ہسپتال میں جبکہ آٹھ ہسپتال سے باہر پیش آئی ہیں۔ ایسے 33 لوگ بھی دم توڑ گئے ہیں جو وینٹی لیٹر پر تھے۔

    کورونا کی تیسری لہر کے دوران یہ کووڈ سے اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ کورونا سے سب سے زیادہ ہلاکتیں صوبہ پنجاب اور اس کے بعد خیبر پختونخوا میں ہوئی ہیں۔

    گذشتہ سال پہلی لہر کے دوران 19 جون کو کورونا سے 153 اموات ہوئی تھیں جبکہ دوسری لہر کے دوران 23 دسمبر کو کووڈ 19 میں مبتلا 111 لوگ دم توڑ گئے تھے۔ یہ کووڈ کی پہلی اور دوسری لہر کے دوران سب سے زیادہ اموات والے دن تھے۔

  9. وزیرِ دفاع پرویز خٹک میں بھی کورونا کی تشخیص

    اب سے کچھ دیر قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اب وفاقی وزیرِ دفاع اور سابق وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے اطلاع دی ہے کہ اُن کا بھی کووڈ ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔

    اُنھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ہم سب کو اس تیسری لہر کو بہت سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

  10. صدرِ پاکستان عارف علوی کورونا سے متاثر

    پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اطلاع دی ہے کہ وہ بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوگئے ہیں۔

    ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اُنھوں نے بتایا کہ انھیں ویکسین کی پہلی خوراک دی جا چکی تھی مگر اگلے ہفتے کے لیے طے شدہ دوسری خوراک ملنے کے بعد ہی اُن میں اینٹی باڈیز بننی تھیں۔

    اُنھوں نے عوام سے کہا کہ وہ وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاط کریں۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان اور اُن کی اہلیہ خاتونِ اول بشریٰ بی بی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

  11. انڈیا: ایک دن میں کورونا کے 68 ہزار نئے متاثرین

    انڈیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 68 ہزار سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد وہاں مرض سے فی الوقت متاثرہ افراد کی تعداد پانچ لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔

    انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر اس وقت ملک کی سب سے زیادہ متاثر ریاست ہے اور وہاں پر لاک ڈاؤن پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ انڈیا میں یہ اکتوبر 2020 کے بعد سے اب تک سامنے آنے والی متاثرین کی سب سے بڑی یومیہ تعداد ہے۔

    گذشتہ ایک ہفتے کے دوران ملک میں ایک لاکھ 78 ہزار نئے متاثرین سامنے آئے جو کہ گذشتہ سال مارچ میں کووڈ کی وبا کے آغاز سے اب تک کی سب سے بڑی ہفتہ وار تعداد ہے۔

  12. او لیول امتحانات 10 مئی سے شروع ہوں گے، وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود

    وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود کا کہنا ہے کہ او لیول امتحانات 10 مئی سے شروع ہوں گے۔

    انھوں نے سی ای او کیمرج کا خط شئیر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کرسٹین اوزڈن کا خط موصول ہوا تھا جس میں درخواست کی گئی تھی کہ او لیول، آئی جی سی ایس ای امتحان کو 15 مئی کی بجائے 10 مئی کو شروع کرنے کی اجازت دی جائے۔

    لہذا صوبوں، اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہم نے اس پر اتفاق کیا ہے اور اب او لیول، آئی جی سی ایس ای امتحانات 10 مئی سے شروع ہوں گے۔

  13. مرتضیٰ وہاب : ’جب وزیراعظم اور وفاقی وزرا ماسک نہیں پہن رہے تو عام آدمی کیا کرے گا‘, وزیرِ اعظم عمران خان کے ویڈیو پیغام پر مرتضیٰ وہاب کا ردِعمل

    کورونا وائرس کے حوالے سے وزیرِ اعظم عمران خان کے حالیہ ویڈیو پیغام پر ردِعمل دیتے ہوئے سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ ’جب وزیراعظم اور وفاقی وزرا ماسک نہیں پہن رہے تو ایسے میں آپ عام آدمی سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟‘

    ان کا کہنا تھا کہ ’13 مہینے بعد خان صاحب نے اچھا پیغام دیا ہے، شہری اس بات کو سمجھیں کہ کپتان کو جب تکلیف ہوئی تو وہ خود کہہ رہے ہیں کہ یہ وائرس خطرناک ہے۔‘

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان حال ہی میں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز انھوں نے اس حوالے سے اپنے ویڈیو پیغام میں ایس او پیز پر عمل درآمد کرنے اور ماسک پہننے کی تاکید کی۔

    عمران خان کا کہنا تھا ’میں نے پورا ایک سال احتیاط کی، نہ کبھی کسی شادی پر گیا نہ کسی ریستوران میں کھانا کھانے گیا، سماجی فاصلہ بھی رکھا اور زیادہ تر ماسک پہنے ہوئے تھا اور اسی لیے کورونا وائرس کی پہلی دو لہروں کے درمیان میں بچا رہا۔‘

    ’لیکن سینیٹ کے الیکشن میں میرے سے احتیاط نہیں کی گئی اور میں وائرس سے متاثر ہو گیا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی تیسری لہر خطرناک ہے۔ پاکستان لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہو سکتا لہذا پوری کوشش کریں کہ ایس او پیز پر عملدرآمد خاص طور پر ماسک کا استعمال یقینی بنائیں۔

  14. بریکنگ, پنجاب: لاہور سمیت زیادہ متاثرہ اضلاع میں جزوی لاک ڈاؤن کا فیصلہ

    پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اعلان کیا ہے کہ کورونا وائرس سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں مندرجہ ذیل فیصلے کیے گئے ہیں:

    • لاہور سمیت ایسے اضلاع جہاں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح 12 فیصد سے زیادہ ہے، وہاں یکم اپریل سے جزوی لاک ڈاؤن لگایا جائے گا
    • شادی کی تقاریب اور سماجی اجتماعات پر پابندی ہوگی
    • پبلک ٹرانسپورٹ (میٹرو، سپیڈو بس اور اورنج لائن) کو بند رکھا جائے گا تاہم پرائیویٹ ٹرانسپورٹ کی اجازت ہوگی
    • ریستورانوں میں اِن ڈور اور آؤٹ ڈور ڈائننگ پر پابندی ہوگی
    • پارکس بند رکھے جائیں گے
    • ہفتے میں دو روز تک دکانیں اور مارکیٹیں بند رہیں گی
    • کمرشل اور کاروباری سرگرمیوں کی صرف شام چھ بجے تک اجازت ہوگی
    • تعلیمی ادارے بند رہیں گے
  15. اسلام آباد میں مثبت کیسز کی شرح ’ریکارڈ بلندی پر‘

    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گذشتہ روز مثبت کیسز کی شرح 16.2 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے آغاز سے اب تک سب سے زیادہ ہے۔

    اسلام آباد کے ضلعی ہیلتھ آفیسر کے مطابق گذشتہ روز 5259 ٹیسٹ کیے گئے تھے جن میں سے 856 افراد کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    خیال رہے کہ ضلعی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ شہر میں یکم اپریل سے شادی اور دیگر تمام تقاریب پر پابندی رہے گی۔

  16. پاکستان میں 4525 نئے یومیہ متاثرین، 41 اموات

    پاکستان کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز ملک بھر میں 40,369 کورونا ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 4525 افراد کے نتائج مثبت آئے۔

    اسی دوران پاکستان میں عالمی وبا سے 41 اموات ہوئیں۔

    28 مارچ کو پاکستان میں مثبت کیسز کی شرح 11.2 فیصد تھی۔

  17. پاکستان کے وہ شہر جہاں شادی اور دیگر تقاریب پر مکمل پابندی کا فیصلہ ہوا ہے

    پاکستان میں کورونا کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی نے ان شہروں کی فہرست جاری کی ہے جہاں یومیہ مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔

    ان میں اسلام آباد، بہاولپور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، لاہور، منڈی بہاوٴالدین، ملتان، اوکاڑہ، رحیم یار خان، راولپنڈی، گجرات، شیخوپورہ، سرگودھا، سیالکوٹ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پشاور، سوات، نوشہرہ، لوئر دیر، مالاکنٹ، صوابی، چارسدہ، ہری پور، مظفرآباد، میرپور اور کوٹلی شامل ہیں۔

    کووڈ 19 سے زیادہ متاثرہ شہر ہونے کی وجہ سے یہاں پانچ اپریل سے عید تک انڈور اور آؤٹ ڈور شادی کی تقاریب اور سماجی اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میں اس پابندی کا اطلاق یکم اپریل سے ہوگا۔

  18. انتظامیہ کا اسلام آباد کے چند علاقوں میں نو اپریل تک لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا فیصلہ

    اسلام آباد میں کورونا کیسز میں اضافے کے پیشِ نظر انتظامیہ نے شہر کے مختلف علاقوں میں نو اپریل تک لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    جن علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا جائے گا ان میں بحريہ ٹاؤن فيز 2 اور 3، سوہان گارڈن بلاک-B، ڈی ایچ اے-ٹو (سيکٹر B اور E)، کورنگ ٹاؤن، پاکستان ٹاؤن فيس 1، نيشنل پوليس فاؤنڈيشن بلاک A اور پی ڈبليو ڈی بلاک C شامل ہیں۔

    جن علاقوں میں لاک ڈاؤن لگایا جا رہا ہے وہاں تمام دکانیں، شاپنگ مالز، ریستوران اور آفسز بند رہیں گے اور ہر طرح کے عوامی اجتماع پر پابندی ہو گی۔

    ان علاقوں میں صرف اشیا خردونوش کی دکانوں اور میڈیکل سٹورز کو کھلے رہنے کی اجازت ہو گی اور یہ دکانیں بھی صبح نو سے شام سات بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت ہو گی۔ تاہم میڈیکل سٹورز 24 گھنٹے کھلے رہیں گے۔

    ان تمام علاقوں میں آج دوپہر بارہ بجے سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جاۓ گا۔ نوٹیفیکیشن نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام علاقوں میں لاک ڈاؤن نو اپریل تک نافذ رہے گا۔

  19. کورونا: پاکستان کے متاثرہ شہروں میں شادی کی تقاریب پر پابندی کا فیصلہ

    پاکستان میں کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم این سی او سی نے اپنے 28 مارچ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ کووڈ 19 سے زیادہ متاثرہ شہروں میں تمام انڈور اور آؤٹ ڈور شادی کی تقاریب اور دیگر اجتماعات پر پانچ اپریل سے پابندی ہوگی۔

    این سی او سی کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’تاہم صوبے صورتحال کے پیش نظر اس کا فیصلہ قبل از وقت بھی کر سکتے ہیں۔‘

    ’تمام اجتماعات پر فوری طور پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ ان میں سماجی، ثقافتی، سیاسی، کھیل سے متعلق اور دیگر تقاریب شامل ہیں۔‘

    29 مارچ سے صوبوں میں لاک ڈاؤن کا دائرہ وسیع ہونے کے بعد این سی او سی نقشوں کی مدد سے متاثرہ علاقوں کے حوالے سے اپ ڈیٹ کرے گا۔

    ان فیصلوں کا اطلاق ان شہروں میں ہوگا جہاں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح آٹھ فیصد یا اس سے زیادہ ہے۔ اس میں تین روز تک یومیہ متاثرین کی اوسط کو دیکھا جائے گا۔

    ان میں لاہور، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی، پشاور، سوات، مردان، کوہاٹ، سیالکوٹ، گجرات، گوجرانوالہ اور دیگر شہر شامل ہیں۔

    دریں اثنا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انتظامیہ نے یکم اپریل سے شادی اور دیگر اجتماعات پر پابندی نافذ کر دی ہے۔

  20. ’پانچ اپریل سے شادیوں پر مکمل پابندی کی تجویز‘

    وزیر اعلیٰ پنجاب کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان نے پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ پنجاب میں کورونا وائرس کے بڑھتے متاثرین کے پیش نظر ایس سی او سی نے مزید سختیوں کی تجاویز دی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ماسک نہ پہننے والوں کو چھ ماہ قید کی سزا دی جائے جبکہ پانچ اپریل سے عید تک شادیوں پر مکمل پابندی نافذ کی جائے۔ تجاویز میں کہا گیا ہے کہ ’رمضان میں شاپنگ مالز سے متعلق پنجاب حکومت ترجیحات طے کرے۔۔۔ اہم ترین تجویز یہ ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بین الصوبائی سفر میں زیادہ سیٹیں خالی رکھی جائیں۔‘

    ’رمضان اور عید کے دنوں میں انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کو محدود کرنے کے لیے ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز کی مدد و تعاون درکار ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے پیر کو اس حوالے سے حتمی فیصلے کیے جائیں گے۔