خیبر پختونخوا: زیادہ متاثرہ شہروں کے سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد عملہ کام کرے گا
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کو صوبائی ٹاسک فورس برائے انسداد کورونا کا اجلاس ہوا ہے جس میں ’کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں آئے روز اضافے پر تشویش کا اظہار‘ کیا گیا ہے۔ وبا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے زیادہ متاثرہ شہروں کے لیے چند اہم فیصلے بھی کیے گئے ہیں:
- کل سے شادی ہالز کے اندر شادی کی تقریبات پر پابندی عائد ہوگی
- صوبے کے کل 16 اضلاع میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح بہت زیادہ ہے جن میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
- کسی بھی ضلع میں کورونا کے مثبت کیسز پانچ فیصد ہونے کی صورت میں وہاں تعلیمی اداروں کو بند کیا جائے گا
- سول سکریٹریٹ میں ملاقاتیوں پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ہے
- سرکاری دفاتر میں صرف 50 فیصد عملہ کام کرے گا
- صوبائی وزرا کو اختیار ہوگا کہ وہ حالات کے مطابق اپنے دفاتر میں عملے کو مزید کم کریں
- رمضان تک چھٹی کے دن بین الصوبائی ٹرانسپورٹ بند رہے گا
صوبائی دارالحکومت پشاور کے علاوہ صوبے کے 16 زیادہ متاثرہ شہروں میں اپر دیر، لوئر دیر، سوات، شانگلہ، مالاکنڈ، باجوڑ، چارسدہ، بونیر ،مردان، صوابی، خیبر، نوشہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور کوہاٹ شامل ہیں۔