ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ وائرس جو عام نزلہ زکام کا باعث بنتا ہے، انسانی جسم میں کورونا وائرس کو شکست دے سکتا ہے۔
عام طور پر جسم میں مختلف وائرس کی آپسی لڑائی بھی چلتی رہتی ہے اور جو یہ جنگ جیت جاتا ہے پھر وہی وائرس جسم میں انفیکشن کا سبب بن جاتا ہے۔
گلاسکو یونیورسٹی کے سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر اس میں کورونا وائرس کا مقابلہ نزلہ زکام کا سبب بننے والے رائنو وائرس سے ہو تو پھر کووڈ کی ہار ہوتی ہے۔
سائنسی ماہرین کے مطابق اس کا کم وقت کے لیے ہی فائدہ ثابت ہو سکتا ہے مگر رائنو وائرس اتنا عام پھیلا ہوا ہے کہ یہ ابھی بھی کورونا وائرس کو شکست دے سکتا ہے۔
اگر ایک بار کوئی وائرس انسانی جسم میں داخل ہو جائے تو یہ دوسرے وائرس کے داخلے کا بھی سبب بن جاتا ہے یا پھر یہ دوسرے وائرس کو شکست دے کر اپنا اثر دکھاتا ہے۔
انفلوئنزا سب سے زیادہ ’خود غرض‘ وائرس سمجھا جاتا ہے اور زیادہ تر خود ہی جسم کو انفیکٹ کر دیتا ہے جبکہ ایڈونو کی طرز کے وائرس دوسروں کے لیے بھی جگہ پیدا کرتے ہیں۔
گلاسکو یونیورسٹی کے سینٹر فار وائرس ریسرچ کے سائنسدانوں نے عام نزلہ زکام کا سبب بننے والے رائنو وائرس کو کورونا وائرس سے انفیکٹ کیا۔
جب رائنو وائرس اور کورونا وائرس (Sars-CoV-2) کو ایک ہی وقت میں ریلیز کیا تو اس تجربے کے دوران سائنسدانوں نے دیکھا کہ رائنو وائرس نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔
جب کورونا وائرس کو اپنا کام دکھانے کے لیے 24 گھنٹے دیے گئے تو اس کے بعد بھی رائنو وائرس نے کورونا وائرس کو شکست دے دی۔
ڈاکٹر پابلو مورشیا نے بی بی سی نیوز کو بتایا کہ کورونا وائرس کو انفیکشن کا موقع ہی نہیں ملتا، رائنو وائرس اس پر حاوی آ جاتا ہے۔
ان کے مطابق یہ بہت مسرت کی بات ہے کہ اگر آپ کے جسم میں رائنو وائرس کی تعداد زیادہ ہے تو یہ نئے کورونا وائرس کو کچھ کرنے سے روک دیتا ہے۔
اس طرح کے اثرات پہلے بھی مشاہدے میں آئے ہیں۔ رائنو وائرس کی بڑی تعداد 2009 میں سوائن فلو کی وبا کو یورپ کے کچھ حصوں میں پھیلنے میں تاخیر کا سبب بنی۔
مزید تجربات سے یہ بات ثابت سامنے آئی کہ رائنو وائرس ایسا مدافعتی نظام پیدا کرتا ہے جو کورونا وائرس کو مزید پھیلنے سے روکتا ہے۔