آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں پانچ ہزار سے زائد نئے متاثرین، 100 اموات

پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک بھر میں 100 اموات ہوئی ہیں جبکہ 5139 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں سے 50 افراد کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

لائیو کوریج

  1. وزیر اعظم ویکسین لگوانے سے پہلے کورونا وائرس سے متاثر ہوئے: اسد عمر

    وفاقی وزیر اور چیئیرمین این سی او سی اسد عمر نے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے جب ویکسین لگوائی تھی تو انھیں کورونا وائرس ہو چکا تھا۔ ان کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پابندیوں کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔

  2. بریکنگ, پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان میں کورونا وائرس کی تشخیص

    پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ اس بات کی تصدیق وزیر اعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کی ہے۔ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے خود کو اپنے گھر میں قرنطینہ کر لیا ہے۔

    خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے دو دن قبل کورونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوائی تھی۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ویکسین کو اینٹی باڈیز پیدا کرنے میں چند ہفتے لگ جاتے ہیں۔

    چین کی طرف سے ملنے والی سائنو فام ویکسین 21 دن بعد دوبارہ بھی لگوانی ہوتی ہے۔ اس وقت پاکستان میں 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد کو کورونا ویکسین لگائی جا رہی ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم عمران اس وائرس سے کیسے متاثر ہوئے ہیں تاہم وزیر اعظم عوامی اجتماعات اور اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے رہے ہیں۔

    وزیر اعظم باہر سے آئے مہمانوں سے بھی ملاقات کرتے رہے۔ وزیر اعظم نے چند دن قبل خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کا دورہ بھی کیا تھا۔

  3. کورونا وائرس پر انتطامی ایکشن کمزور نظر آ رہا ہے: ڈاکٹر فیصل سلطان

    وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی ڈاکٹر فیصل سلطان نے سنیچر کو اسلام آباد میں واقع نینشل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ ہو رہا ہے جبکہ اس پر قابو پانے کے لیے انتظامی ایکشن کمزور دکھ رہا ہے۔

    ان کے مطابق کورونا وائرس کے خلاف جو ایس او پیز ہیں ان پر عملدرآمد کم نظر آ رہا ہے۔

    انھوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ ’احتیاط کریں، یہ موقع بد احتیاطی کا نہیں، کیسز جلدی سے اوپر گئے ہیں اور جا رہے ہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’یہ صورتحال کہیں خدانخواستہ ہمارے ہاتھ سے نکل نہ جائے۔‘

    ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق کورونا کیسز بڑھنے کی وجہ سے ہسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال تکلیف دہ حد تک جا سکتی ہے۔

    انھوں نے درخواست کی کہ ایس او پیز پر مکمل علمدرآمد کو یقینی بنایا جائے اور ہجوم والی جہگوں پر عوام نہ جائیں۔

    ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پاکستان میں وائرس کی نئی قسموں کے پھیلنے سے روکنے کے لیے کچھ سفری پابندیوں کا اطلاق کیا جا رہا ہے۔

  4. پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 3876 نئے کیس، اسلام آباد میں 747 نئے متاثرین

    پاکستان میں جاری کورونا وائرس کی تیسری لہر کے دوران دارالحکومت اسلام آباد بری طرح متاثر ہوا ہے۔

    ملک میں گذشتہ روز 3876 کیسز سامنے آئے ہیں جن میں سے 747 آسلام آباد میں سامنے آئے۔

    ملک میں کیے جانے والے ٹیسٹوں کی مثبت آنے کی شرح بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس وقت یہ شرح 9.47 فیصد تک جا پہنچی ہے۔

  5. امیر ممالک ترقی پزیر ممالک کے خود ویکسین تیار کرنے کے منصوبوں کو ‘روک‘ رہے ہیں

    بی بی سی کو حاصل ہونے والی عالمی ادارہِ صحت ڈبلیو ایچ او کی چند دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ امیر ممالک جن میں امریکہ، برطانیہ، اور یورپی یونین شامل ہیں، غریب ممالک کی جانب سے کورونا وائرس ویکسین کی خود تیاری کی تجاویز کو بلاک کر رہے ہیں۔

    متعدد ترقی پزیر ممالک نے کورونا وائرس کی ویکسین بنانے کی اپنی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے ڈبلیو ایچ او سے مدد مانگی ہے تاہم ترقی یافتہ ممالک انٹرنیشنل لا کی ایک ایسی شق کا سہارا لے رہے ہیں جس کے تحت غریب ممالک ویکسین خود تیار نہیں کر سکیں گے۔

    ڈبلیو ایچ او کی اس سلسلے میں قرارداد کے پیچھے مذاکراتی دستاویز بی بی سی کو حاصل ہوا ہے جو اس بات کی تائید کرتا ہے۔

  6. پنجاب میں ویکسین کا سٹاک ختم ہونے کی خبر ’بے بنیاد، من گھڑت ہے‘

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کا کہنا ہے کہ کورونا ویکسینیشن سینٹرز میں ویکسین ختم ہونے کی خبر ’بے بنیاد، من گھڑت اور خیالات پر مبنی ہے۔ صوبے بھر میں ویکسین کا کافی سٹاک موجود ہے۔‘

    ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ ’شیڈول میں تمام شہروں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کو ویکسین لگانا سٹاک کی کافی تعداد کی موجودگی کا ثبوت ہے۔‘

    ’اتوار کے روز سینٹرز کو صفائی اور ڈس انفیکشن کے لیے بند رکھا جائے گا۔‘

    انھوں نے مزید بتایا ہے کہ دو دن سینٹرز کو بند رکھنے کی خبر بھی مکمل طور پر من گھڑت ہے۔

  7. پیرس میں لاک ڈاؤن کی تیاریاں، فرانس میں تیسری لہر کا خدشہ

    فرانس میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور اس کے دارالحکومت پیرس میں ایک ماہ کے لیے لاک ڈاؤن کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔

    جمعے کی رات سے پیرس میں نئی سختیوں کا اطلاق ہوگا اور اس سے فرانس کے 16 علاقوں میں دو کروڑ 10 لاکھ افراد کی زندگیوں پر اثر پڑے گا۔

    ملک کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ گذشتہ لاک ڈاؤن جیسا سخت نہیں ہوگا اور لوگوں کو گھروں سے باہر ورزش کرنے کی اجازت ہوگی۔

    فرانس میں گذشتہ روز کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے 35 ہزار نئے متاثرین کی تصدیق ہوئی ہے۔

    پیرس میں صورتحال زیادہ تشویش ناک ہے کیونکہ یہاں 1200 افراد انتہائی نگہداشت کے یونٹس میں زیر علاج ہیں۔ وزیر صحت کے مطابق یہ تعداد دوسری لہر کے عروج کے اعتبار سے بھی زیادہ ہے۔

  8. برطانیہ میں ویکسین کی کمی میں انڈیا، امریکہ کا کیا کردار ہے؟, ریئلیٹی چیک ٹیم، بی بی سی نیوز

    انڈیا کا شمار دنیا کے بڑے کورونا وائرس ویکسین بنانے والے ممالک میں ہوتا ہے اور یہاں کا سب سے بڑا ویکسین ساز ادارہ، سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا اس وقت ایسٹرازینیکا اور نوواویکس ویکسینز بنا رہا ہے۔

    تاہم سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا نے خبردار کیا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باعث برطانیہ اور نیپال کے ویکسین کے آرڈر پورے کرنے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔

    دراصل امریکہ میں اس وقت ڈیفینس پروڈکشن ایکٹ کا اطلاق ہے جس کے تحت تمام انڈسٹریز کو اپنی پیداوار امریکی عوام کے لیے وقف کرنا ہوتی ہے۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے گذشتہ برس اسی قانون کے تحت حفاظتی لباس یا پی پی ای کی برآمد پر پابندی لگا دی تھی اور اب صدر بائیڈن کی حکومت نے ویکسین کے لیے درکار خام مال کی برآمدات کو روک رکھا ہے۔

    سیرم انسٹی ٹیوٹ کے مطابق انھیں ویکسین کی تیاری میں استعمال ہونے والے خصوصی بیگز اور فلٹرز کی کمی کا سامنا ہے۔

  9. پاکستان: ٹیسٹوں کے مثبت آنے کی شرح 8 فیصد سے تجاوز کر گئی

    جمعرات کی شام پاکستان میں ٹیسٹوں کے مثبت آنے کی شرح مجموعی طور پر 8.5 فیصد تک جا پہنچی ہے جو کہ 2021 کی بلند ترین سطح ہے۔

    این سی او سی کے مطابق ملک کے تمام بڑے شہروں میں یہ شرح پانچ فیصد سے بڑھ چکی ہے۔

  10. آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ویکسین محفوظ اور موثر ہے: یورپی نگراں ایجنسی

    یورپی یونین کی ادویات کا نگران ادارہ ایک جائزے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ آکسفورڈ ایسٹرازینیکا کووڈ 19 ویکسین ’محفوظ اور موثر ہے۔‘

    یورپی میڈیسنز ایجنسی (ای ایم اے) نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز اس وقت کیا تھا جب یورپی یونین کے 13 ممالک نے اس خدشے کے پیش نظر ویکسین کا استعمال معطل کر دیا تھا کہ اس کا انسانی جسم میں خون جمنے سے تعلق ہے۔

    اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس ویکسین کا خون جمنے کاخطرہ بڑھانے سے ’کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

    اس بیان کے بعد اٹلی نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعے سے ویکسین کی خوراکیں دینے کا آغاز کرے گا۔

    اب یہ یورپی یونین کے انفرادی ممالک پر منحصر ہے کہ وہ کب ایسٹرازینیکا ویکسین کے استعمال کا آغاز کرتے ہیں۔

  11. وزیر اعظم عمران خان نے کورونا ویکسین لگوا لی

    وزیر اعظم عمران خان نے کورونا ویکسین لگوا لی ہے۔

    اس موقع پر وزیر اعظم نے قوم سے اپیل کی کہ کورونا کی تیسری لہر کے پیش نظر ایس اوپیز پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

    ملک بھر میں کورونا ویکسین لگانے کی مہم جاری ہے پہلے مرحلے میں ساٹھ سال سے زائد عمر کے افراد اور فرنٹ لائن ورکرز کو کورونا ویکسین فراہم کی جا رہی ہے۔

    چین سے پانچ لاکھ خوراکوں پر مبنی ایک اور کھیپ آ چکی ہے جو صوبوں کو فراہم کی جائے گی۔

  12. اسد عمر: ایس او پیز پر عملدرآمد نہ ہوا تو سخت پابندیاں لگائیں گے

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر نے کہا ہے کہ کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے اور ہسپتالوں میں داخلوں اور انتہائی نگہداشت میں موجود لوگوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

    اُنھوں نے ٹوئٹر پر اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایس او پیز پر عملدرآمد کی صورتحال بہتر نہ ہوئی تو وہ سرگرمیوں پر سخت تر پابندیاں لگانے پر مجبور ہوجائیں گے۔

    اُنھوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ کورونا کی نئی قسم زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور زیادہ ہلاکت خیز ہے۔

  13. پاکستان میں نجی شعبے کے ذریعے ویکسین کی درآمد شروع

    پاکستان میں نجی شعبے کی جانب سے روسی ویکسین سپٹ نِک کی درآمد شروع کر دی گئی ہے اور اس کی پہلی کھیپ گذشتہ روز کراچی پہنچ چکی ہے۔

    ملک میں اس سے قبل حکومتی ذرائع سے صرف چینی ویکسین سائنوفارم موجود تھی۔

    پاکستان میں ادویات کے نگراں ادارے ڈریپ کی جانب سے اب تک تین ویکسینز کی منظوری دی جا چکی ہے جن میں سائنو فارم، ایسٹرا زینکا اور سپٹ نِک شامل ہیں۔

  14. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں مثبت کیسز کی تعداد تین ماہ کی بلند ترین سطح پر

    پاکستان میں اس وقت کورونا وائرس وبا کی تیسری لہر جاری ہے۔ گذشتہ چوبیس گھنٹوں میں ملک میں 3495 نئے کیس سامنے آئے ہیں جو کہ چھ دسمبر کے بعد ملک میں ایک دن میں سب سے زیادہ کیسز ہیں۔

    اس کے علاوہ گذشتہ 24 گھنٹوں میں ملک میں کیے گئے ٹیسٹوں کے مثبت آنے کی شرح 7.88 فیصد رہی جو کہ اس سال کی بلند ترین سطح ہے۔

  15. لیکن کیا مضر اثرات کا مطلب ہے کہ میں زیادہ محفوظ ہوں؟

    پروفیسر پولارڈ کہتے ہیں کہ اس ویکسین سی سبھی کو ایک جیسا تحفظ ملتا ہے۔

    یعنی اگر کسی کی طبیعت پر اس کا زیادہ اثر ہوا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ زیادہ محفوظ ہے۔

    پہلے مرحلے میں فائر الارم کی مانند کیمیائی مادے خارج ہوتے ہیں اور دوسرے میں جسم یہ سیکھ لیتا ہے کہ اس وائرس سے بچاؤ کے لیے اینٹی باڈیز کیسے بنتی ہیں۔

    پروفیسر ریلے کہتے ہیں کہ یہ ابتدائی اننیٹ فیز یعنی اینٹی باڈیز بنانے کا مرحلہ مختلف لوگوں میں مختلف ہوتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ انسان کی مضبوطی اور اس پت پڑنے والے مضر اثرات کو۔

  16. کچھ لوگوں پر کورونا ویکسین زیاد مضر اثرات کیوں مرتب کرتی ہے؟

    یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ کورونا ویکسین کے باعث کچھ لوگوں کو زیادہ اور کچھ پر کم مضر اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

    یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو کچھ بھی محسوس نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ برا محسوس کرتے ہیں لیکن کام پر جانے کے قابل ہوتے ہیں لیکن کچھ بستر کے ہو کر رہ جاتے ہیں۔

    آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا کی آزمائش سے منسلک پروفیسر اینڈریو پال کہتے ہیں کہ ’آپ کی عمر جتنی زیادہ ہو گی آپ پر مضر اثرات اتنے ہی کم مرتب ہوں گے اور 70 برس سے بڑی عمر کے لوگوں پر تقریباً اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔‘

    ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ یہ ایک ہی عمر کے دو لوگوں پر بالکل الگ طریقے سے اثر ڈالے۔

    ایسا کیوں ہے اس کے بارے میں پروفیسر ریلے کا کہنا ہے کہ یہ ہمارے مدافعتی نظام میں پائے جانے والے جینیاتی تنوع کی باعث ہوتا ہے۔

    اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر آپ کو پہلے کورونا ہو چکا ہے تو بعد میں جب ویکسین لگے گی تو آپ کا مدافعتی نظام زیادہ سخت ردعمل دے گا۔

  17. تو کیا ویکسین کی دوسری خوراک بھی اتنی ہی تکلیف دہ ہو سکتی ہے؟

    یہ قدرتی عمل ہے کہ اگر آپ کو پہلی بار ویکسین سے مضر اثرات کا سامنا کرنا پڑا تو ایسا دوسری بار بھی ہو سکتا ہے۔

    پروفیسر پولارڈ جنھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے ویکسین ٹرائلز کی سربراہی کی تھی کہتے ہیں کہ دوسری ڈوز پہلی کی نسبت کم مؤثر ہوتی ہے۔

    تاہم وہ اس بات سے خبردار کرتے ہیں کہ فائزر کی دوسری ڈوز سے شاید پہلی کی نسبت زیادہ مضر اثرات مرتب ہوں۔

  18. کورونا ویکسین لگانے کے بعد تکلیف کیوں ہوتی ہے؟

    بی بی سی ورلڈ سروس میں نامہ گار برائے صحت جیمز گیلیگر کو جب آکسفورڈ ایسٹرا زینیکا ویکسین لگی تو وہ تین دن تک تو بستر سے بھی بہت مشکل سے نکل پاتے تھے۔ ان کا میگرین اور الٹیوں سے برا حال تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ انھیں سردی بھی لگ رہی تھی، جسم میں درد بھی تھا اور تھکاوٹ بھی محسوس ہو رہی تھی۔

    کورونا ویکسین دراصل ایک 'چال' کی مانند ہے جو ہمارے جسمانی نظام کو اس سوچ میں ڈال دیتی ہے کہ یہ کورونا وائرس سے لڑ رہا ہے اور یہ انفیکشن کے ردعمل میں ہمارے قدرتی مدافعتی نظام پر انحصار کرتا ہے۔ سب سے پہلے جہاں بازو میں ٹیکہ لگتا ہے وہاں جیسے ہی مدافعتی نظام متحرک ہوتا ہے سوجن ہو جاتی ہے۔

    ایڈن برگ یونیورسٹی میں بیماریوں اور مدافعتی نظام سے منسلک پروفیسر ایلینور ریلائے کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل فائر الارم کی طرح کام کرتا ہے۔ جسم میں کیمیائی مادوں کا جیسے ایک سیلاب امڈ آتا ہے اور یہ اس بات کا انتباہ ہوتا ہے کہ کچھ گڑ بڑ ہو گئی ہے۔

    ایلینور ریلائے کے مطابق یہ جسم میں سوزش ہونے کی بعد پیدا ہونے والا ردعمل ہوتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ مدافعتی ردعمل کو متحرک کرتا ہے اور پھر یہ متاثرہ بازو کی گرد بافتوں کی جانب مدافعتی خلیوں کو بھجواتا ہے تاکہ پتا چل سکے کہ ہوا کیا ہے؟ ان کیمیکلز کی وجہ ہم عارضی طور پر بیمار محسوس کرتے ہیں۔

  19. این سی او سی: پنجاب میں وائرس سے ایک دن میں 40 ہلاکتیں

    پاکستان میں حکام کا کہنا ہے گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 61 افراد ہلاک ہوئے۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کی جانب سے بدھ کی صبح جاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں کل فعال کورونا کیسز کی تعداد 22792 ہے۔

    24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ ہلاکتیں پنجاب میں ہوئیں جو کہ 40 ہیں۔

    ملک کے 631 ہسپتالوں میں کورونا میں مبتلا مریضوں کا علاج کیا جا رہا ہے اور زیر علاج مریضوں کی تعداد 2487 ہے۔

    گذشتہ روز ملک بھر میں کل 38799 ٹیسٹ کیے گئے۔

    کورونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد 575867 بتائی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ 263 افراد اس وقت وینٹی لیٹر پر ہیں۔

  20. بحرینی شہزادے نے ویکیسن کی دو ہزار خوراکیں بغیر اجازت ایوریسٹ پہنچا دیں

    نیپال میں ادویات کے نگران ادارے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ایک بحرینی شہزادہ بغیر اجازت ایسٹرازینیکا ویکسین کی 2000 خوارکیں لے کر دنیا کے بلند ترین مقام، ماؤن ایوریسٹ تک کیسے پہنچا۔

    شہزادہ محمد حماد محمد الخلیفہ پیر کے روز نیپال پہنچے اور بحرین کے سفارتخانے کے مطابق وہ یہ ویکسین نیپال کے گورکھا ضلعے کے باسیوں کو عطیہ کرنا چاہتے تھے۔

    شہزادہ حماد قرنطینہ کا وقت گزار کر ایوریسٹ بھی سر کرنا چاہتے تھے۔

    اگرچہ نیپال میں بغیر اجازت ادویات لانا جرم ہے تاہم شہزادے کا دورہ اور ویکسین کی آمد کوئی راز نہیں تھا اور انھوں نے ملک آمد کے موقعے پر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر بھی پوسٹ کیا تھا۔