کورونا وائرس: اتوار کو دنیا بھر میں متاثرین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ

دنیا میں کورونا کے مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 26 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں اب تک دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ افراد میں اس مرض کی تصدیق جبکہ 5265 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اتوار کو دنیا بھر میں کورونا کے ریکارڈ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, بلوچستان میں 28 نئے مریض، صرف 402 ٹیسٹ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGovt. of Balochistan

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں کورونا وائرس کے 28 نئے کیسز کے اضافے کے بعد مجموعی کیسز کی تعداد 11185 ہو گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی مصدقہ تعداد 126 ہے۔ محکمہ صحت حکومت بلوچستان ترجمان ڈاکٹر وسیم بیگ کے مطابق 12جولائی 2020 کو کورونا کے 402 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 28پازیٹو آئے۔ بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 53660 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن میں سے 42475 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 115869 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک 7598 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  2. بریکنگ, اتوار کے روز دنیا بھر میں کورونا وائرس کیسز میں سب سے بڑا اضافہ ہوا, ریکارڈ 230,370 نئے مریض

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یہ یقیناً ایک افسوس ناک ریکارڈ ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق آج دنیا بھر میں کورونا وائرس سے عالمی وبا کے آغاز کے بعد سے سب سے زیادہ نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دنیا بھر میں ریکارڈ دو لاکھ 30 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے۔ اس سے قبل جمعے کے روز 228102 نئے مریض سامنے آئے تھے۔

    گذشتہ روز امریکہ، برازیل، انڈیا اور جنوبی افریقہ میں متاثرین میں نمایاں اضافہ ہوا۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اموات کی کل تعداد پانچ ہزار رہی۔

  3. ایران کے رہبرِ اعلیٰ لوگوں کے ماسک نہ پہننے کے رویے پر ’شرمندہ‘

    iran

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای نے کچھ خبروں کے مطابق ان افراد کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو ’ماسک پہننے جیسا معمولی کام نہیں کر سکتے‘ انھوں نے کہا کہ وہ اس ان افراد کے رویے پر ’شرمندہ‘ ہیں۔

    ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب انھوں نے تمام شہریوں سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے حوالے سے حکومت کی مدد کریں۔

    ایران میں کورونا وائرس کیسز ایک مرتبہ پھر بڑھنا شروع ہو گئے ہیں۔ اتوار کے روز ملک میں 194 افراد ہلاک ہوئے جبکہ مزید 2186 مریض بھی سامنے آئے۔

    خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق خامنہ ای نے وائرس کے پھیلاؤ میں اس اضافے کو ’مایوس کن‘ قرار دیا۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایران میں کورونا وائرس کے باعث 12600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  4. بریکنگ, امریکی ریاست فلوریڈا میں ریکارڈ 15 ہزار سے زائد نئے مریض

    florida

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاست فلوریڈا میں گدشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 15300 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 45 اموات ہوئی ہیں۔

    یہ اعداد ریاست کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں جن کے مطابق ریاست میں اس سے قبل چار جولائی کو اس وقت کے حساب سے ریکارڈ 11458 متاثرین سامنے آئے تھے۔

    یہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ہی ریاست میں والٹ ڈزنی ورلڈ کھولا گیا تھا۔

  5. ہمارے دماغ اس وبا سے کیسے نمٹ رہے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    سماجی تنہائی، بیروزگاری، اور کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا خوف وہ چند وجوہات ہیں جو عالمی وبا کے دنوں میں ہماری ذہنی صحت کو متاثر کر رہی ہیں۔

  6. پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کورونا سے متاثر

    kashmir

    ،تصویر کا ذریعہSHAH GULAM QADIR

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوگے۔

    انھوں نے ٹیلی فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ وادی نیلم دورے پر تھے تو کیل پہنچنے پر تیز بخار اور کھانسی سے طبعیت سخت خراب ہوگئی جس کے بعد مظفرآباد پہنچ کر کووڈ 19 کا ٹیسٹ کروایا جو مثبت آیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد گھر میں آئسولیٹ ہو گیا ہوں اور اب بھی تیز بخار اور کھانسی ہے۔

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی پارلیمان میں اب تک قانون ساز اسمبلی کے سپیکر کے علاوہ سات ارکانِ اسمبلی کورونا سے متاثر ہوئے ہیں جن میں 6 حکومتی وزیر ہیں۔

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے قانون ساز اسمبلی کے سپیکر شاہ غلام قادر کو ٹیلی فون کر کے ان کی خیریت دریافت کی ہے.

  7. بریکنگ, صوبہ خیبر پختونخوا میں 408 نئے مریض، مزید 12 ہلاکتیں

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مزید 408 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جبکہ 12 افراد ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اب تک وائرس کے باعث کل 30486 افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ 1099 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    صوبے میں صحتیاب افراد کی تعداد 21158 ہو چکی ہے۔

  8. بریکنگ, پاکستان میں متاثرین ڈھائی لاکھ سے تجاوز کر گئے, پاکستان میں متاثرین: 250,569 اموات: 5,245 صحتیاب: 156,789

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد ڈھائی لاکھ سے بڑھ گئی ہے۔ اس وقت پاکستان دنیا بھر میں متاثرین کے اعتبار سے 12ویں نمبر پر ہے۔

    تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت ملک میں متاثرین کی تعداد 250569 ہے جبکہ اموات 5245 ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے بعد متاثرہ ممالک کی فہرست میں سپین اور ایران کا نام آتا ہے۔ سپین میں متاثرین کی تعداد 253908 ہے جبکہ اموات 28403 ہیں۔ دوسری جانب ایران میں متاثرین 257303 ہیں جبکہ اموات 12829 ہیں۔

    اب تک پاکستان میں اس وائرس سے 156789 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

  9. سندھ میں 29 جون کے بعد سے اموات میں سب سے بڑا اضافہ

    سندھ

    ،تصویر کا ذریعہcovid.gov.pk

    پاکستان کا صوبہ سندھ اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے تاہم یہاں اموات میں بھی بتدریج اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    18 اور 19 جون کو صوبے میں بالترتیب 48 اور 49 اموات ہوئیں تاہم 29 جون کو یہاں ریکارڈ 55 اموات ہوئیں۔

    اس کے بعد سے اب تک صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں اموات کی تعداد میں سب سے بڑا اضافہ ہوا ہے۔

    اس کے علاوہ گذشتہ روز صوبے میں انفیکشن ریٹ 18 فیصد رہا۔

  10. وبا کے دور میں مریضوں اور ڈاکٹروں کا رویہ کیا ہونا چاہیے

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کی وجہ سے تقریبا تمام ہسپتالوں پر بہت زیادہ بوجھ بڑھا گیا ہے ایسے میں ہسپتالوں میں موجود ڈاکٹرز اور نرسز کو مریضوں کا کس طرح خیال رکھنا چاہیے اور مریضوں کے لواحقین کو ڈاکٹرز اور نرسز کے ساتھ کس طرح کا رویہ رکھنا چاہیے۔

    بتا رہی ہیں ڈاکٹر تمکنت منصور اپنے اس وی لاگ میں

  11. بریکنگ, کورونا وائرس: سندھ میں مزید 48 افراد ہلاک، 1713 نئے مریض

    corona

    پاکستان کے صوبے سندھ کے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 48 مریض ہلاک ہوئے جس کے بعد صوبے میں وائرس کے سبب ہلاکتوں کی تعداد 1795 ہوگئی ہے۔

    صوبے میں کورونا وآئرس کے متاثرین میں شرح اموات 1.7 فیصد بنتی ہے۔

    ان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 10276 ٹیسٹ کیے گئے جس سے 1713 نئے کورونا وائرس کے کیسز سامنے آئے۔

    انھوں نے بتایا کہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے مزید 1519 مریض صحت یاب ہوگئے اور اس طرح صحت یاب ہونے والے مریضوں کی تعداد 60958 ہوگئی ہے، اس طرح صحت یابی کی شرح تناسب 58 فیصد ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبے بھر میں کورونا وائرس کے ابتک 574767 نمونے ٹیسٹ ہوچکے ہیں، جس میں 105533 متاثرہ مریض سامنے آئے ہیں، جو مجموعی طور پر شرح تناسب 18 فیصد بنتی ہے۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ اس وقت 42780 مریض زیرعلاج ہیں، جن میں گھروں میں 41179، آئسولیشن سینٹرز میں 400 اور 1201 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ زیرعلاج 743 مریضوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے اور اس وقت 112 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کے تمام اضلاع میں 715 نئے کیسز سامنے آئے۔

  12. وہ ممالک جو کورونا وائرس کی دوسری لہر کی لپیٹ میں ہیں

    کورونا
  13. بریکنگ, سکاٹ لینڈ اور ویلز میں کوئی نئی ہلاکت نہیں

    Uk

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    آج چوتھے روز بھی سکاٹ لینڈ میں کورونا وائرس کے سبب کوئی نئی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔ اب تک سکاٹ لینڈ میں مجموعی ہلاکتیں 2490 ہیں۔ تاہم نئے کیسز کی تعداد تین ہفتوں کی بار بلند ترین سطح پر ہیں۔

    تازہ ترین اعداد کے مطابق 19 نئے کیسز ریکارڈ گیے گئے۔ اس سے پہلے 21 جون کو 26 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ سنیچر کو سات نئے کیسز سامنے آئے۔

    فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے ٹویٹ کیا کہ اس اضافے کا بغور جائزہ لیا جائے گا اور یہ ایک یا دہانی ہے کہ وائرس ابھی گیا نہیں۔

    ویلز میں بھی کووڈ 19 کے سبب کوئی نئی ہلاک سامنے نہیں آئی اور یہاں کل تعداد 1541 ہے۔

    کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں 16 افراد کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 15962 ہو گئی ہے۔

  14. برطانیہ میں مقامی کلب کرکٹ کی واپسی!

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہPA

    برطانیہ میں اس ہفتے کے اختتام پر کلب کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے جس پر کورونا وائرس کے باعث گذشتہ چند ماہ سے پابندی عائد کی گئی تھی۔

    سنیچر کے روز مقامی کلبز کی جانب سے لگائی گئی تصاویر میں کرکٹ میچ منعقد ہوتے دیکھے جا سکتے ہیں۔

    نئے قوانین کے مطابق میچ کھیلنے والے افراد کو باقاعدگی سے ہاتھوں اور گیند کو سیناٹائز کرنے کے لیے وقفہ دیا جاتا ہے۔

    کھیلوں کا سامان شیئر کرنے کی ممانعت ہوتی ہے اور کھلاڑیوں کو گیند چمکانے کے لیے تھوک استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوتی۔

    cricket

    ،تصویر کا ذریعہPA

    کرکٹ

    ،تصویر کا ذریعہPA

    ان تمام پابندیوں کے باوجود کینٹ کمیونٹی کرکٹ ڈائریکٹر اینڈی گرفتھس کا کہنا ہے کہ اب تک کے نتائج مثبت آئے ہیں۔

    انھوں نے بی بی سی سپورٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کرکٹ صرف ایک کھیل ہی نہیں ہے بلکہ اس کے ساتھ جو ایک سماجی پہلو منسلک ہے وہ بھی ضروری ہے۔

    ’وہ دو گھنٹے جب آپ فیلڈ پر نہیں ہوتے وہ بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے وہ کہ جب آپ گراؤنڈ میں ہوتے ہیں۔‘

    cricket

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انھوں نے کہا کہ ’آپ اپنے ساتھی کھلاڑیوں سے بات چیت کرتے ہیں، وہ لوگ جو میچ دیکھنے آتے ہیں ان سے بات کرتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں آپ پچھلے چار ماہ نہیں کر پائے۔ اس بات چیت کے ذریعے لوگوں کی ذہنی صحت بہتر ہوتی ہے۔‘

  15. ہوا میں معلق ہونے کے ’ایک گھنٹے تک‘ وائرس آپ کو متاثر کر سکتا ہے

    corona

    برطانیہ میں امپیریئل کالج آف لندن میں انفلوئینزا وائرولوجی کی چیئروومن پروفیسر وینڈی بارکلے کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس ہوا میں معلق ہونے کے ایک گھنٹے تک آپ کو متاثر کر سکتا ہے۔

    رواں ہفتے کے آغاز میں عالمی ادارہ صحت نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ’شواہد سامنے آ رہے ہیں‘ کہ وائرس ہوا میں معلق رہ سکتا ہے۔

    پروفیسر بارکلے نے بی بی سی کے اینڈریو مار شو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ پہلی مرتبہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت نے تسلیم کیا ہے کہ ہوا میں معلق رہتے ہوئے بھی وائرس کا پھیلاؤ ممکن ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ’ظاہر ہے کہ اس کے پھیلاؤ کے دیگر ذرائع بھی ہیں لیکن عالمی ادارہ صحت کے اس بیان کا مطلب ہے کہ کچھ موقعوں پر فضا کے ذریعے بھی وائرس آپ کو متاثر کر سکتا ہے۔

    پروفیسر بارکلے کے مطابق وائرس ہوا میں معلق بھی رہ سکتا ہے اور متاثرہ شخص سے کچھ دور تک فضا میں سفر بھی کر سکتا ہے۔ لیبارٹری میں کی جانے والی تحقیق کے مطابق یہ فضا میں معلق ہونے کے ایک گھنٹے تک یہ کسی شخص کو متاثر کر سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کمرہ ہوا دار ہونا وائرس کے پھیلاؤ کو روک سکتا ہے جبکہ ایئر کنڈیشننگ سسٹمز وائرس کے پھیلاؤ میں مدد کر سکتے ہیں۔

  16. کورونا کے دنوں میں ورچوئل شادی

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کے باعث شادی کی بڑی تقاریب اور اجتماعات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

    اس وجہ سے کئی جوڑوں کے شادی کرنے کے منصوبے اب ملتوی ہو گئے ہیں لیکن حسان غزالی اور ان کی منگیتر لورنا رسل نے ایک منفرد انداز میں اپنی شادی کا اہتمام کیا۔

    انھوں نے اپنی شادی میں مہمانوں کو ورچوئل دعوت دی اور شادی کی پوری تقریب فیس بک پر نشر کی۔

    ان کی کہانی مزید جانیے وقاص انور کی اس ویڈیو میں۔

  17. بلوچستان: ہوٹلوں کو ایس او پیز کے تحت لاک ڈاؤن سے رعایت دینے کا مطالبہ

    بلوچستان

    بلوچستان کے تاجر رہنماﺅں نے ہوٹلوں اور ریستورانوں کے اندر لوگوں کو بیٹھنے کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف 14 اور 15 جولائی کو احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے۔

    کوئٹہ میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں انجمن تاجران بلوچستان کے صدر رحیم آغا اور تاجر رہنما اللہ داد ترین نے کہا کہ کورونا وائرس کے سبب نافذ لاک ڈاؤن کے دوران دیگر تمام شعبوں میں رعایتیں دی گئیں لیکن ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ابھی تک گاہکوں کو بٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سے ہوٹل اور ریسٹورینٹ مالکان شدید مالی مشکلات سے دوچار ہوگئے ہیں جبکہ سینکڑوں ملازمین اپنے روزگار سے محروم ہورہے ہیں۔

    انھوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک ایس او پیز کے تحت ریسٹورنٹس میں گاہکوں کو بیھٹنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس وقت تاجروں کے احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    انہوں نے کہا کہ عید کے قریب آنے کے باعث دکانوں اور مارکیٹوں کے کھولنے کے اوقات میں توسیع کرکے اسے رات دس بجے تک بڑھایا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ رسیٹورنٹس مالکان سمیت تاجر برادری کو پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور پر تنگ کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب پولیس نے بغیر مجسٹریٹ کے دکانوں اور ریسٹورنٹس کو سیل کرنا شروع کردیا ہے جبکہ تاجروں کو گرفتار کرکے ہتھکڑیاں لگا کر عدالت میں پیش کیاجاتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم تاجروں کی عزت نفس کو مجروح ہونے نہیں دین گے۔

    انھوں نے شادی ہالوں کو فوری طور پر کھولنے اور لاک ڈاون تاجروں کے خلاف عائد مقدمات ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

  18. برطانیہ میں کیسز میں کمی ویکسین بنانے والے سائنسدانوں کے لیے بری خبر کیوں ہے؟, رچرڈ واری، اسسٹنٹ ایڈیٹر بی بی سی ہیلتھ

    vaccine

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    عام خیال یہی ہے کہ برطانیہ میں کیسز میں کمی ہر کسی کے لیے ایک اچھی خبر ہے تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے لیے یہ خبر بری ہے، اور وہ ہے ویکسین بنانے کی کوششیں کرنے والے سائنسدان۔

    پروفیسر روبن شیٹوک جو لندن کے امپیریئل کالج میں ویکسین پر تحقیق کی سربراہی کر رہے ہیں نے اتوار کے روز اس بات کو تسلیم کیا کہ ستمبر میں ویکسین کی دستیابی کے امکان اب انتہائی کم ہیں۔

    پروفیسر سارہ گلبرٹ جو برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین پر تجربات کر رہی ہیں نے گذشتہ ماہ برطانیہ کے ایوانِ بالا کی سائنس اور ٹیکنالوجی کمیٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پھیلاؤ کی کم شرح بھی ویکسین بنانے کے عمل کی رفتار کم کر رہی ہے۔

    اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ متعدد رضاکاروں کو وائرس سے متاثر کیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا ویکسین انھیں محفوظ رکھ پاتی ہے یا نہیں۔

    اگر ان کے کسی وائرس سے متاثرہ شخص کے قریب ہونے کے امکانات کم ہوں تو اس بات کا پتا چلانا بھی بہت مشکل ہو گا کہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔

    پروفیسر گلبرٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ’اب ہم ایک بڑے پیمانے پر سیفٹی امیونوجینسیٹی تحقیق تو کر رہے ہیں لیکن اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ہم اس کے ذریعے یہ پتا چلائیں کہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔

    دنیا بھر میں اس وقت 200 گروپ ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور ان میں سے 18 میں انسانوں پر کلینکل ٹرائل کیے جا رہے ہیں۔

    زیادہ تر ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی کوششوں سے ویکسین تیار تو ہو جائے گی لیکن اگلے برس کے وسط سے پہلے نہیں۔

    اگر ایسا ہو جائے تو یہ ایک بڑی سائنسی کامیابی ہو گی لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔

  19. بریکنگ, امریکہ میں کورونا وائرس کا ایک اور ریکارڈ

    USA

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بالآخر دباؤ کے سامنے ہار مانتے ہوئے عوام کے سامنے آتے ہوئے سنیچر کو ماسک پہن لیا۔ ان کے ڈیموکریٹک مخالف جو بائڈن نے ان پر ماسک نہ پہننے پر تنقد کی تھی۔ اور صدر پر اس مسئلہ پر سیاست کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انھوں نے چار ماہ ضائع کیے‘۔

    امریکہ کی دیگر صورتحال

    • امریکہ میں کووڈ 19 کے 66528 نئے کیسز سامنے آئے جو کہ ایک روز میں متاثرین کی تعداد کا نیا ریکارڈ ہے۔
    • ریاست لوزیانہ میں کیسز اس قدر بڑھ گئے ہیں کہ اب چار دیورای کے اندر بھی لوگوں سے ماسک پہننے کو کہا جا رہا ہے ۔ گورنر جان بیل ایڈورڈ نے بارز کو بند کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
    • فلوریڈا میں والٹ ڈزنی ورلڈ کو کھول دیا گیا ہے اگرچہ وہاں کووڈ 19 کے کیسز میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
    • جیزز کرائسٹ چرچ کے پادریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ عوام میں جاتے ہوئے ماسک پہنیں۔
    • جان ہاپکنز یونیورسٹی کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 32 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ 35 ہزار افراد اس کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔