بلوچستان کے مکران ڈویژن میں کیچ سے کورونا کے زیادہ کیسز رپورٹ ہونے کے بعد اب یہ کیسز کے حوالے سے تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی رپورٹس کے مطابق کیچ سے اب تک سامنے آنے والے کیسز کی تعداد 236 ہے۔
بلوچستان سے مجموعی طور پر 11128 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔
کوئٹہ 8378 کیسز کے ساتھ ساتھ پہلے اور جعفرآباد 328 کیسز کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے اکثر اضلاع سے گذشتہ ڈیڑھ سے دو ہفتے کے دوران کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا یا انتہائی کم رپورٹ ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹس سے یہ معلوم نہیں ہو رہا کہ آیا ان اضلاع سے ٹیسٹ کے لیے کوئی سیمپل لیا گیا یا نہیں۔
خیال رہے کہ بلوچستان میں ٹیسٹ کی سہولت صرف کوئٹہ اور خضدار میں دستیاب ہے۔
دوردراز کے علاقوں کے لوگوں کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ ان دو علاقوں میں ٹیسٹ کے لیے سیمپل دینے کے لیے آئیں۔
جبکہ دوسری جانب بلوچستان میں پہلے کے مقابلے میں ڈیڑھ سے دو ہفتے کے دوران ٹیسٹ کی تعداد میں بھی بہت زیادہ کمی آئی ہے جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جولائی کے پہلے دس دنوں میں بمشکل چار ہزار ٹیسٹ کیے گئے جبکہ چار ماہ کے دوران بلوچستان میں کورونا کے مجموعی طور پر 52935 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جو کہ مجموعی آبادی کا ایک فیصد بھی نہیں بلکہ 0.41 فیصد کے لگ بھگ ہیں۔
ٹیسٹ کم ہونے کے باعث پہلے کے مقابلے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی بھی انتہائی کم تعداد رپورٹ ہو رہی ہے۔
تاہم حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا ہے کہ پہلے کے مقابلے میں احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد میں بھی بہتری آئی ہے جس کے نتیجے میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد میں کمی آئی ہے۔
محکمہ صحت کی رپورٹس کے مطابق صحتیاب ہونے والے افراد کی شرح میں بھی بہتری آئی ہے۔ ان رپورٹس کے مطابق پہلے کے مقابلے میں اب صحتیاب ہونے والوں کی شرح 64 فیصد ہو گئی ہے۔