ایران کے صدر حسن روحانی نے اتوار کو تمام تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔ ایران میں ایک بار پھر کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
تاہم ایرانی صدر نے یہ واضح کیا ہے کہ معاشی سرگرمیاں رواں دواں رہیں گے۔ ان کا کہنا کہ ایران معیشت کو بند کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران کی معیشت پہلے ہی سے شدید دباؤ اور ملک میں معاشی سرگرمیاں زبوں حالی کا شکار ہیں۔
حسن روحانی کے ٹیلی وژن انٹرویو کے فوراً بعد ہی دارالحکومت تہران میں پولیس نے شادی ہالوں اور تعزیتی اجلاسوں پر پابندی عائد کر دی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مقامات تا حکم ثانی بند رہیں گے۔
ایران نے اپریل کے وسط سے لاک ڈاؤن میں نرمی لانا شروع کردی تھی۔ ایران میں حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اتوار کو ایران میں 188 افراد اس وائرس کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ ملک میں کورونا وائرس کی وجہ سے کل 12،635 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔
گذشتہ 24 گھنٹوں میں ایران میں 2،397 نئے متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے۔ اس وقت ایران میں کل متاثرین کی تعداد 255ً117 ہے۔
سنیچر کو ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا تھا کہ 'ایران بھر میں تمام تقریبات کو سختی سے روکنے کی ضرورت ہے، چاہے یہ خوشی کی تقریبات ہوں یا غم کی، یہ تقریبات اور سیمینار کا وقت نہیں ہے۔‘
ایران میں یونیورسٹی تک کے امتحانات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ ایران کی حکومت کے خیال میں ایسی تقریبات کی وجہ سے کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایران میں کورونا وائرس ٹاسک فورس کے ایک مشیر نے خبردار کیا ہے کہ اگر اصول و ضوابط کا سختی سے خیال نہ رکھا گیا تو ایران میں 50 ہزار سے 60 ہزار تک لوگ اس وائرس سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔