عام خیال یہی ہے کہ برطانیہ میں کیسز میں کمی ہر کسی کے لیے ایک اچھی خبر ہے تاہم ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن کے لیے یہ خبر بری ہے، اور وہ ہے ویکسین بنانے کی کوششیں کرنے والے سائنسدان۔
پروفیسر روبن شیٹوک جو لندن کے امپیریئل کالج میں ویکسین پر تحقیق کی سربراہی کر رہے ہیں نے اتوار کے روز اس بات کو تسلیم کیا کہ ستمبر میں ویکسین کی دستیابی کے امکان اب انتہائی کم ہیں۔
پروفیسر سارہ گلبرٹ جو برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی میں ویکسین پر تجربات کر رہی ہیں نے گذشتہ ماہ برطانیہ کے ایوانِ بالا کی سائنس اور ٹیکنالوجی کمیٹی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پھیلاؤ کی کم شرح بھی ویکسین بنانے کے عمل کی رفتار کم کر رہی ہے۔
اس حوالے سے مسئلہ یہ ہے کہ متعدد رضاکاروں کو وائرس سے متاثر کیا جاتا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ کیا ویکسین انھیں محفوظ رکھ پاتی ہے یا نہیں۔
اگر ان کے کسی وائرس سے متاثرہ شخص کے قریب ہونے کے امکانات کم ہوں تو اس بات کا پتا چلانا بھی بہت مشکل ہو گا کہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔
پروفیسر گلبرٹ نے کمیٹی کو بتایا کہ ’اب ہم ایک بڑے پیمانے پر سیفٹی امیونوجینسیٹی تحقیق تو کر رہے ہیں لیکن اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ ہم اس کے ذریعے یہ پتا چلائیں کہ ویکسین کتنی مؤثر ہے۔
دنیا بھر میں اس وقت 200 گروپ ویکسین تیار کرنے کی دوڑ میں شامل ہیں اور ان میں سے 18 میں انسانوں پر کلینکل ٹرائل کیے جا رہے ہیں۔
زیادہ تر ماہرین کا ماننا ہے کہ بین الاقوامی کوششوں سے ویکسین تیار تو ہو جائے گی لیکن اگلے برس کے وسط سے پہلے نہیں۔
اگر ایسا ہو جائے تو یہ ایک بڑی سائنسی کامیابی ہو گی لیکن اس بات کی کوئی ضمانت نہیں ہے۔