کورونا وائرس: بلوچستان میں کورونا کے 304 نئے مریض، خیبرپختونخوا میں متاثرین 15 ہزار سے زیادہ

دنیا بھر میں اب تک 72 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ دو ہزار سے زائد افراد اس مرض سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرین اور ہلاکتیں صوبہ پنجاب میں ہیں۔

لائیو کوریج

  1. جنوبی کوریا میں نئے کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی

    کورونا، جنوبی کوریا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم دارالحکومت سیئول میں اس وبا کی دوسری لہر سے متعلق خدشات پائے جاتے ہیں۔

    جنوبی کوریا میں آخری مرحلے میں اب سکولوں کو بھی کھولا جا رہا ہے۔

    خبر رساں ادارے یونہپ کے مطابق ملک میں ایک دن پہلے کے 57 نئے متاثرین کے مقابلے میں گذشتہ دن 38 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    ان 38 متاثرین میں سے 33 میں وائرس کی منتقلی مقامی سطح پر ہوئی۔ یہ سب کے سب جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے رہائشی ہیں۔

    حالیہ دنوں میں سماجی فاصلے سے متعلق اصولوں میں نرمی لانے کے بعد دوبارہ سختی کر دی گئی ہے۔

  2. پی ٹی آئی رکنِ قومی اسمبلی جے پرکاش لوہانہ بھی کورونا وائرس سے متاثر

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہNational Assembly of Pakistan

    پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ قومی اسمبلی جے پرکاش لوہانہ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔

    بی بی سی کی نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق انھوں نے جمعے کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں بھی شرکت کی تھی جس کے بعد انھوں نے ایک عشائیے میں شرکت کی تھی جہاں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی بھی مدعو تھے۔

    اطلاعات ہیں کہ شاہ محمود قریشی کا بھی کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا ہے اور ان کے نتائج آنے کا انتظار ہے۔

    ایم این اے جے پرکاش پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر اقلیتوں کی مخصوص نشست پر منتخب ہوئے تھے۔

  3. سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی میں کورونا وائرس کی تصدیق

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کچھ دیر قبل یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سابق وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی میں کورونا وائرس پایا گیا ہے۔

    اب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب کی جانب سے بی بی سی کو اس بات کی تصدیق کر دی گئی ہے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز اسی جماعت کے رہنماؤں خواجہ سلمان رفیق اور سیف الملوک کھوکھر میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔

    یوں شاہد خاقان عباسی کورونا سے متاثر ہونے والے پاکستانی سیاسی رہنماؤں میں تازہ ترین اضافہ ہیں۔

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  4. کورونا کے علاوہ وہ چار وائرس جن کی کوئی ویکسین نہیں

  5. ایدھی فاؤنڈیشن کے ڈرائیور کورونا کے دوران اپنی ذمہ داریاں کیسے نبھا رہے ہیں؟

    پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے ورکر کورونا وائرس آپریشن میں ہراول دستے کا کام سر انجام دے رہے ہیں۔

    مشتبہ مریضوں کو ہسپتال پہنچانے سے لے کر میت دفنانے تک ہر پُرخطر کام انھوں نے اپنے ذمے اٹھایا ہے۔

    مزید دیکھیے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی اس ویڈیو میں۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  6. این سی او سی کی جانب سے ہنگامی امدادی اداروں کے کردار کی تعریف

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بنائے گئے قومی ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے سرکاری سہولیات کے بہترین استعمال کے لیے ہنگامی امدادی اداروں کے کردار کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق این سی او سی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ سینٹر نے تمام صوبوں سے ہنگامی خدمات کے اداروں کے تمام سربراہوں کی خصوصی ویڈیوکانفرنس کا انعقاد کیا۔

    اس کانفرنس میں چھیپا ایمبولینس کے رمضان چھیپا، ایدھی فاؤنڈیشن کے احمد، میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد کے ڈی جی ڈاکٹرحسن عروج، 1122 پنجاب کے ڈی جی ڈاکٹر رضوان اور بلوچستان، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے نمائندوں نے شرکت کی۔

    نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر نے ہنگامی امدادی اداروں کے سربراہوں کو وسائل کے نظم ونسق کے نظام سے آگاہ کیا جس کے تحت 15 ہزار 479 ہسپتالوں کو مختلف سہولتوں کی آگاہی اور ضروری سامان کی فہرست کی دستیابی کے لیے منسلک کیا گیا ہے۔

    انہیں پاک نگہبان ایپ کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا جس کے ساتھ 1110 ہسپتالوں کو منسلک کیا گیا ہے تاکہ ہنگامی امدادی اداروں کو دستیاب بستروں کے حامل قریب ترین ہسپتالوں تک پہنچنے میں مدد مل سکے۔

  7. قرنطینے سے متعلق برطانیہ کے نئے ضوابط کیا ہیں؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نئے ضوابط کے تحت برطانوی شہریوں سمیت جو کوئی بھی باہر سے برطانیہ آئے گا اسے 14 دن قرنطینے میں گزارنے ہوں گے۔ تاہم آج سے نافذ ہونے والے ان ضوابط سے آئر لینڈ اور ملحقہ علاقوں کے لوگ مستثنیٰ ہیں۔

    نئے ضوابط کے مطابق:

    جو مسافر جہاز، سمندری راستے یا ٹرین سے آئیں گے، ان سے کہا جائے گا کہ وہ اپنا ایڈریس دیں کہ وہ کس جگہ پر جا کر قرنطینے میں وقت گزاریں گے۔

    اگر مسافر کوئی پتا نہ بتا سکے تو ایسی صورت میں حکومت ایسے مسافروں کے لیے قرنطینے کا انتظام کرے گی مگر اس کا خرچہ خود مسافروں کو برداشت کرنا ہوگا۔

    ضوابط پر عملدرآمد ہو بھی رہا ہے یا نہیں اس حوالے سے نگرانی کا ایک نظام موجود رہے گا۔

    وہ لوگ جو قرنطینے میں ہیں وہ کام پر یا سکول اور عوامی مقام پر نہیں جا سکتے اور نہ ہی وہ ملاقات کے لیے کسی کو مدعو کر سکتے ہیں۔

    خلاف ورزی کی صورت میں ان پر ایک ہزار پاؤنڈز تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی قرنطینے میں 14 دن پورے نہ کر سکے تو سکاٹ لینڈ میں یہ جرمانہ کم ہے۔

    البتہ ضروری خدمات انجام دینے والوں اور میڈیکل پروفیشنلز کو استثنیٰ حاصل ہے۔

    سفر کی صنعت سے وابستہ کاروباری لوگ ان ضوابط پر تنقید کر رہے ہیں کہ 14 دن کے قرنطینے جیسی شرائط سیاحوں کو خائف کر دیں گی اور پھر سفر کی صنعت سے وابستہ لوگ بے روزگار ہو سکتے ہیں۔

    وہ عارضی مسافر جو برطانیہ اترنے کے بعد ایئرپورٹ سے نکلے بغیر فوری طور پر دوسرے کسی ملک جا رہے ہیں پر ان ضوابط کا اطلاق نہیں ہوگا۔

  8. کورونا وائرس: کیا اس سال آم بھی کھانے کو نہ ملیں گے؟

    پاکستان میں آم کی آمد سب سے پہلے صوبہ سندھ میں ہوتی ہے۔ رواں سال کورونا وائرس اور ملکی و عالمی لاک ڈاؤن کی وجہ سے دنیا بھر میں خوراک کی رسد متاثر ہوئی ہے۔

    ایسے میں پاکستان سے آم کی برآمد اور عوام تک اس پھل کی دستیابی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ٹنڈو جام سے ریاض سہیل اور محمد نبیل کی رپورٹ دیکھیے۔

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  9. ہماری لائیو کوریج میں خوش آمدید

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس سے متعلق ہماری لائیو کوریج میں خوش آمدید۔ دنیا بھرمیں ہمارے نمائندوں کی ٹیم کے ساتھ ہم اس کوریج کے ذریعے آپ کو اہم پیش رفت سے باخبر رکھیں گے۔

    اہم پیش رفت کی تفصیلات

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کے تمام مریض صحت یاب ہو چکے ہیں یعنی اس وقت نیوزی لینڈ میں اس وائرس سے متاثرہ کوئی بھی شخص موجود نہیں ہے۔

    آج سے برطانیہ آنے والوں کے لیے 14 دن قرنطینہ میں گزارنے ضروری ہوں گے۔ آئرلینڈ کے شہری اور ضروری خدمات بہم پہنچانے والے ان ضوابط سے مستثنیٰ ہیں۔

    تاہم بہت سے یورپی ممالک قرنطینہ جیسی شرائط کے بغیر ہی اپنی سرحدیں کھول رہے ہیں۔

    امریکی ریاست نیویارک پیر سے کھل رہی ہے۔ آج یہ امید کی جا رہی ہے کہ نیویارک میں ہزاروں لوگ واپس کام پر آئیں گے۔

    پولینڈ میں ایک کوئلے کی کان میں سینکڑوں متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    اٹلی یورپ کے ان ممالک میں شامل ہے جو کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، وہاں یومیہ اموات کم ہو کر 53 ہو گئی ہیں مگر متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے جہاں گذشتہ روز 9000 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

    سعودی وزارت صحت کے مطابق سعودی عرب میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

  10. انڈین ریاست مہاراشٹر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد چین سے بڑھ گئی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہHuw Evans Picture Agency

    انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 85 ہزار 975 ہو گئی ہے جو کہ چین کے 884 ہزار 774 متاثرین سے تجاوز کر گئی ہے۔

    اس کی بڑی وجہ تو مہاراشٹر ریاست کا دارالحکومت ممبئی ہے، جہاں اب کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 48 ہزار 774 ہو گئی ہے۔

    انڈیا کا معاشی گڑھ دنیا کا سب سے زیادہ گنجان آباد شہر بھی ہے۔ اس وائرس نے ممبئی کے طبی انفراسٹرکچر کو بھی کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ شہر کے ہسپتال چند ہفتوں میں مریضوں سے بھر گئے۔

    مہاراشٹرا میں اس وائرس سے 2969 اموات ہوئیں جو انڈیا میں کسی بھی ریاست میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں سب سے زیادہ ہیں۔

    اس وقت ڈھائی لاکھ کورونا وائرس متاثرین کے ساتھ انڈیا دنیا کے پانچویں نمبر کا سب سے بڑا ملک بن گیا ہے جہاں اتنی بڑی تعداد میں اس وائرس کے متاثرین موجود ہیں۔

  11. بریکنگ, پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4728 نئے متاثرین، 65 ہلاکتیں, 1382 زیر علاج مریضوں کی حالت تشویشناک

    کورونا

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 4728 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد ایک لاکھ تین ہزار 696 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے ملک میں کورونا کے باعث 65 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    حال ہی میں جاری ہونے والے اعداد و شمار میں وفاقی دار الحکومت اسلام آباد کے اعداد و شمار بھی شامل ہیں جس کے مطابق وہاں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 350 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ تین ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز 22 ہزار 650 ٹیسٹ کیے گئے جبکہ اب تک کُل سات لاکھ پانچ ہزار 833 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    سرکاری اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ کووِڈ کے علاج کی سہولیات رکھنے والے ملک کے 775 ہسپتالوں میں 5253 مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 1382 کی حالت تشویش ناک ہے۔

  12. نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس کو شکست کیسے دی؟

    کورونا، نیوزی لینڈ،

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    اس وقت نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس کا کوئی بھی مریض نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیوزی لینڈ نے اس وائرس کو مکمل شکست دے دی ہے یا پھر یوں کہہ لیجیے کہ اس وائرس کو پنپنے کا موقع ہی نہیں دیا۔

    آخر نیوزی لینڈ نے ایسے کیسے کر لیا؟

    پہلی بات تو یہ ہے کہ نیوزی لینڈ نے ایک دم مکمل لاک ڈاؤن کر دیا اور اپنی سرحدیں 19 مارچ کو ہی بند کردیں۔ یہ اقدامات ایک ایسے وقت پر اٹھائے گئے جب نیوزی لینڈ میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 30 سے بھی کم تھی۔

    سات دن بعد اس لاک ڈاؤن میں مزید سختی کر دی گئی اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا کہہ دیا گیا۔

    سخت لاک ڈاؤن کے پانچ ہفتوں کے بعد 'ٹیک اوے‘ فوڈ شاپ اور کچھ دیگر کاروبار کھول دیے گئے۔

    اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اپریل کے اختتام تک کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد صفر ہو گئی، جس کے بعد نیوزی لینڈ مزید پابندیاں ہٹانے کے قابل ہو گیا۔

    اگرچہ بظاہر لگتا ہے کہ یہ وائرس اب نیوزی لینڈ سے ختم ہو گیا ہے لیکن نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا آرڈرن نے خبردار کیا ہے کہ طویل عرصے کے لیے ملک کی سرحدیں بند رہیں گی۔

  13. پنجاب میں مختلف کاروباروں کے اوقات میں ترمیم

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے اعلان کیا ہے کہ صوبائی کابینہ کی سفارشات کی روشنی میں مختلف کاروباروں کے اوقات کار میں ترمیم کر دی گئئ ہے۔

    نئے نوٹیفیکیشن کے مطابق بیکریاں اور دودھ دہی کی دوکانیں ہفتہ بھر 24 گھنٹے کھلی رہ سکیں گی۔ جبکہ مرغی اور گوشت کی دکانیں صبح 9 سے شام 7 بجے تک ہفتے بھر کھلی رہ سکیں گی۔

    دکانوں کو تمام ایس او پیز پر عمل کرنا لازم ہوگا۔

    سیکرٹری پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر کے جاری کردہ اس نوٹیفیکیشن کا اطلاق فی الفور ہو گا اور تا حکم ثانی نافذ رہے گا۔

  14. کورونا وائرس: کووِڈ 19 کے علاج کے لیے ویکسین کب تک بن جائے گی؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگرچہ دنیا بھر میں دو لاکھ سے زیادہ لوگ کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں مگر ابھی تک ایسی کوئی دوا سامنے نہیں آئی ہے جو اس بیماری کا علاج کرنے میں ڈاکٹروں کی مدد کر سکے۔

    تو فی الحال ہم کورونا وائرس کے علاج کی دوا کی تیاری سے کتنا دور ہیں؟

  15. پاکستان میں اب تک کی تازہ ترین صورتحال!

    کورونا وائرس

    پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4403 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 62 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    اس طرح متاثرین کی کل تعداد 103346 ہو چکی ہے جبکہ ملک میں اب تک 2064 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    اب تک اس بیماری سے 34233 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  16. خود ساختہ تنہائی کیسے اختیار کی جائے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    اگر آپ کو شبہ ہے کہ آپ کورونا وائرس کا شکار ہیں، یا آپ کسی ایسے شخص سے رابطے میں رہے ہیں جسے کورونا وائرس ہو چکا ہے، یا کسی ایسی جگہ ہو کر آئے ہیں جہاں اس وائرس کے بہت سارے کیسز موجود ہیں، تو خود کو سب سے الگ تھلگ کر لیں۔

    لیکن اس خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے اور اس کا درست طریقہ کیا ہے؟ خود ساختہ تنہائی کے بارے میں یاد رکھنے والی پانچ اہم باتیں جانیے ہماری ساتھی ثمرہ فاطمہ کی اس ڈیجیٹل ویٹیو میں۔

  17. کورونا وائرس: برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں تاخیر سے ’متعدد جانیں ضائع ہوئیں‘

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    برطانیہ میں کورونا وائرس کے حوالے سے حکومت کے مشیر اور سائنسدان پروفیسر جان ایڈمنڈز نے کہا ہے کہ کاش برطانیہ پہلے لاک ڈاؤن کر دیتا کیونکہ اس تاخیر کے باعث ’متعدد جانیں ضائع ہوئیں‘۔

    تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت فیصلہ سازوں کے پاس جو اعداد و شمار موجود تھے ان کے مطابق فیصلہ کرنا ’انتہائی مشکل‘ تھا۔

    ادھر سیکریٹری صحت میٹ ہینکاک کا کہنا ہے کہ حکومت نے ’صحیح وقت پر صحیح فیصلے کیے۔‘

    یہ بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ میں مزید 77 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جو 24 مارچ کے بعد سے اموات کی سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔

  18. آپ کورونا وائرس سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں؟

    کورونا

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کا تیزی سے پھیلاؤ جاری ہے اور گذشتہ روز پاکستان میں اس کے باعث ایک لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

    سب کے ذہنوں میں یہ سوال ہے کہ یہ وبا آخر ختم کب ہو گی لیکن جب تک یہ وبا ہمارے درمیان ہے، اس سے محفوظ رہنا یقیناً ممکن ہے۔

  19. بریکنگ, کورونا وائرس: پنجاب میں 1813 نئے مریض، مزید 32 اموات

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    پاکستان کا صوبہ پنجاب اموات اور متاثرین کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہاں نئے مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوا ہے

    گذشتہ روز کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث پنجاب میں 1813 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 32 افراد ہلاک بھی ہوئے۔

    اب تک صوبے میں متاثرین کی کل تعداد 38903 جبکہ اموات 715 ہو چکی ہیں۔ اب تک 8109 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    اب تک صوبے میں طبی عملے کے 721 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

    صوبے میں سب سے زیادہ متاثرہ ضلع لاہور ہے جہاں 19206 افراد اب تک اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور 268 ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    یہاں اب تک 290074 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

  20. پولینڈ میں کوئلے کی کان سے کورونا وائرس کیسے پھیلا؟

    g

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پولینڈ میں اتوار کے روز کورونا وائرس کے مزید 575 مریضوں کی تصدیق ہوئی جبکہ ملک میں کووڈ 19 متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    متاثرین کی تعداد میں اضافے کا سبب کوئلے کی ایک کان بتائی جا رہی ہے۔ ایک دن قبل، سنیچر کو بھی ریکارڈ 576 مریضوں کی تصدیق کی گئی تھی۔

    اتوار کے روز پولینڈ میں اس وائرس سے مزید چار افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 1157 ہو گئی ہے۔

    پولینڈ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 26،561 ہے۔