نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اس وقت پاکستان کے مختلف ہسپتالوں میں 322 کورونا متاثرین انتہائی نگہداشت یونٹس میں زیر علاج ہیں اور مصنوعی تنفس فراہم کرنے کے لیے انھیں وینٹیلیٹرز پر منتقل کیا گیا ہے۔
کمانڈ سینٹر کے مطابق پاکستان کے چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 1198 وینٹیلیٹرز موجود ہیں۔
پنجاب میں کورونا متاثرین کے لیے مختص کیے گئے بیڈز کی مجموعی تعداد 9276 ہے جن میں سے 3500 بیڈز پر آکسیجن کی سہولت دستیاب ہے۔
صوبے بھر کے ہسپتالوں میں 387 وینٹیلٹرز میسر ہیں جبکہ 159 مریض وینٹیلیٹر پر منتقل کیے گئے ہیں۔
سندھ میں کورونا مریضوں کے لیے دستیاب بیڈز کی کُل تعداد 8094 ہیں جن میں سے صرف 548 بیڈز کے ساتھ آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ صوبے بھر کے ہسپتالوں میں مجموعی طور پر دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 304 ہے اور اس وقت انتہائی نگہداشت میں داخل 83 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں۔
اسلام آباد میں فی الوقت 10 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں جبکہ یہاں دستیاب وینٹیلیٹرز کی کُل تعداد 94 ہے جبکہ کورونا متاثرین کے لیے مجموعی طور پر 520 بیڈز مختص کیے گئے ہیں جن میں سے 262 پر آکسیجن کی سہولت دستیاب ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کورونا متاثرین کے لیے مختص بیڈز کی مجموعی تعداد 379 ہے جبکہ صرف 68 ایسے بیڈز ہیں جن کے ساتھ آکسیجن سلینڈر کی سہولت موجود ہے۔ جبکہ اس خطے کے ہسپتالوں میں کُل 43 وینٹیلیٹرز ہیں تاہم فی الحال کوئی مریض وینٹیلیٹر پر موجود نہیں ہے۔
صوبہ بلوچستان میں کورونا متاثرین کے لیے کُل 2148 بیڈز مختص ہیں جن میں سے 68 پر آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ صوبے بھر میں فی الحال کوئی مریض وینٹیلیٹر پر موجود نہیں ہے تاہم یہاں دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 29 ہے۔
گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کے لیے دستیاب بیڈز کی مجموعی تعداد 151 ہے جن میں سے 43 بستروں پر آکسیجن کی سہولت میسر ہے۔ یہاں بھی کوئی مریض وینٹیلیٹر پر نہیں ہے اور دستیاب وینٹیلیٹرز کی تعداد 28 ہے۔