سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 62 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, کورونا وائرس سے بڑھتی اموات اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں پہلے دن ہی بتا دیا تھا: عمران خان

    ik

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/PMO

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس جانے نہیں لگا اور ویکسین آنے تک گزارہ کرنا پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں ممالک اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ کورونا وائرس نے پھیلنا ہے اور ہمیں اس کے ساتھ زندگی گزارنی پڑے گی۔

    انھوں نے کہا کہ جو اس وقت اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اس کے بارے میں میں پہلے دن ہی بتا چکا ہوں۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں اس حوالے سے احتیاطی تدابیر اپنانی پڑیں گی، ورنہ ہمیں علاقے بند کرنے پڑیں گے اور لوگوں کا اپنا نقصان ہو گا۔

  2. بریکنگ, پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا اس سے نچلے طبقے کو تکلیف پہنچی: عمران خان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ بطور وزیرِ اعظم میں دو طرف دیکھ رہا تھا، ایک طرف پیسے والے لوگ تھے جن کا رویہ ہی مختلف تھا لاک ڈاؤن سے متعلق جبکہ دوسری طرف دہاڑی دار، ٹیکسی ڈرائیور اور کچی آبادی میں رہنے والے افراد تھے۔

    وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جو میں چاہتا تھا وہ اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں تھا جو ہو گیا پاکستان میں۔ اور وہ اس لیے ہوا کیونکہ 18ویں ترمیم ہے۔ صوبوں کے پاس اختیارات ہیں اس لیے انھوں نے دباؤ میں میں آ کر فیصلے کیے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر اب میں پیچھے دیکھوں تو میں کاروبار اور دیگر صنعتیں بند نہ کرتا۔

    انھوں نے کہا کہ پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا اس سے نچلے طبقے کو تکلیف پہنچی۔

  3. ’وہان کے ہیرو‘ ڈاکٹر کی پارٹنر نے بچی کو جنم دیا

    ڈاکٹر اور ان کی منگیتر

    ،تصویر کا ذریعہCGTN

    وہان کے اس ڈاکٹر کی منگیتر نے ایک بچی کو جنم دیا ہے جو فروری میں کورونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرتے ہوئے خود وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے تھے۔ ان کی موت پر پورے ملک میں سوگ منایا گیا تھا۔

    انتہائی نگہداشت کے ماہر 29 سالہ ڈاکٹر پینگ ینہوا کی یکم فروری کو شادی ہونے والی تھی لیکن انھوں نے وبا کے پیشِ نظر اسے ملتوی کر دیا تھا۔ ان کی موت 20 فروری کو ہوئی اور انھوں نے اپنے پیچھے ایک چھ ماہ کی حاملہ منگیتر کو چھوڑا تھا۔

    جب ان کی موت ہوئی تو میڈیا نے ان کی شادی کی تصاویر کو شائع کیا تھا۔ چین میں عموماً شادی کی تصاویر شادی سے پہلے بنوا لی جاتی ہیں۔ اخبارات میں لکھا گیا تھا کہ جوڑے کی شادی کے کارڈ ابھی بھی ڈاکٹر کی میز کے دراز میں پڑے ہیں۔

    بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر ان کی بیٹی کی پیدائش کو ایک ’رحمت‘ بھی کہہ رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے باپ کی موت کے ’سانحہ‘ کا بھی ذکر کر رہے ہیں، یعنی کہ ان کی بچی بچوں کے قومی دن پر پیدا ہوئی ہے لیکن وہ کبھی بھی اپنے ’ہیرو باپ‘ کو نہ دیکھ پائے گی۔

    ڈاکٹر اور ان کی منگیتر

    ،تصویر کا ذریعہCGTN

  4. بریکنگ, لاک ڈاؤن وائرس کا علاج نہیں، پھیلاؤ کی رفتار کم کرنے کے لیے ہے: عمران خان

    پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ جب ہم نے 26 کیسز پر لاک ڈاؤن کیا تو وہ ہم نے تمام ڈاکٹروں، چین اور دیگر یورپی ممالک کی صورتحال کے حساب سے کیا۔

    انھوں نے کہا کہ پہلے سے میرے ذہن میں تھا کہ اگر میں نے سخت لاک ڈاؤن لگا دیا تو نچلے طبقے کا کیا بنے گا۔

    انھوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے وائرس کا علاج نہیں ہوتا، بلکہ پھیلاؤ کی رفتار میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

  5. ایوان بالا اور ایوان زیریں کے بجٹ اجلاسوں میں احتیاطی تدابیر کو اختیار کیا جائے: صدر مملکت

    ریڈیو

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاسوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ بات پیر کے روز پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے دورے کے دوران کہی۔

  6. کورونا وائرس: جانوروں سے انسانوں میں منتقلی کی گمشدہ کڑیاں شاید کبھی نہ مل سکیں

    virus

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک 'درمیانی میزبان' جانور کے واسطے سے کورونا وائرس چمگادڑ سے انسان میں آیا ہے۔

    اگرچہ عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ تحقیق وائرس کے قدرتی پیدائش کی جانب اشارہ کرتی ہے، مگر بعض سائنسدان کہتے ہیں کہ شاید یہ کبھی معلوم نہ ہو سکے کہ یہ پہلے انسان کو کیسے لگا تھا۔

    یہ واضح نہیں کہ آیا یہ میزبان جانور ووہان میں جنگلی جانوروں کی مارکیٹ میں فروخت کیا گیا تھا۔ مگر جنگلی حیات کے کاروبار کو اس وبا کے ممکنہ ذریعے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ یہ کاروبار مختلف انواع کے درمیان امراض کے انتقال کا ذریعہ ہے، اور جس سے پچھلی وبائیں بھی پھیلی ہیں اور اس عالمی وبا کا ذمہ دار بھی سمجھا جا رہا ہے۔

  7. ’اگر ہدایات پر عمل نہ کیا تو وائرس کی دوسری طاقتور لہر آ سکتی ہے‘

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر ہدایات پر عمل نہ کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری مضبوط لہر آ سکتی ہے۔

    ایران نے اعلان کیا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران پیر کو کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ اموات ہوئیں۔

    وزارتِ صحت کے مطابق پیر کو کل 2 ہزار 979 نئے مریض سامنے آئے اور اس طرح ایران میں وائرس کے متاثرین کی کل تعداد 1 لاکھ 54 ہزار 445 ہو گئی ہے۔ پیر کو ہونے والی 81 اموات کے بعد مرنے والوں کی کل تعداد 7 ہزار 878 ہو گئی ہے۔

    وزیرِ صحت سیعد نمکی نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ’لوگ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس ختم ہو گیا ہے۔ یہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی اور کسی وقت بھی یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر واپس آ سکتی ہے۔‘

    ’اگر ہمارے لوگ صحت کی پروٹوکول کا احترام کرنے میں ناکام رہے تو ہمیں بہت برے حالات کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔‘

    اپریل کے آغاز سے ہی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ کاروبار، سکولوں اور مساجد کو دوبارہ کھولا جائے۔

    لیکن نمکی بتاتے ہیں کہ اب مغربی صوبے کرمان شاہ اور جوبی مشرقی صوبوں سستان۔بلوچستان اور ہرموزگان میں انفیکشن بڑھ گئی ہے۔

    انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام سرکاری التجاؤں پر توجہ نہیں دے رہے کہ شادیوں اور جنازوں میں شرکت نہ کریں۔

  8. معذور بچے نے ہسپتال کے لیے 46 ہزار پاؤنڈ اکٹھے کیے

    ٹوبیاس ویلر

    جب لاک ڈاؤن شروع ہوا تھا تو نو سالہ ٹوبیاس ویلیر، جنھیں سیریبرل پیلسی یا دماغی فالج ہے، روزانہ ایک فریم کی مدد سے 50 میٹر چلتے تھے۔

    لیکن اب انھوں نے کیپٹن سر ٹام مور سے متاثر ہو کر شیفیلڈ میں اپنے گھر کے سامنے 70 دنوں میں 26 اعشاریہ 2 میل پیدل چل لیا ہے۔

    انھوں نے یہ چیلنج اپنے تالیاں بجاتے ہوئے حمایتیوں کے سامنے مکمل کرتے ہوئے کہا: ’مجھے یقین نہیں آ رہا کہ میں نے میراتھن مکمل کر لی ہے۔ یہ زبردست ہے۔‘

    ان کی والدہ رتھ گاربٹ کہتی ہیں کہ ’وہ اپنے چھوٹے بچے کے لیے فخر سے پھولے نہیں سما رہیں۔‘

    ٹوبیاس کو ان کے حمایتی کیپٹن ٹوبیاس بھی کہتے ہیں۔ انھوں نے کورونا وائرس کے اس دور میں مقامی بچوں کے ہسپتال اور ایک معذور بچوں کے سکول کے لیے 46 ہزار پاؤنڈ چندہ اکٹھا کیا ہے۔

  9. کسی بھی وقت احتجاجآ کام چھوڑ سکتے ہیں: ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن خیبر پختونخوا

    آئسولیشن

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیبر پختونخوا کی ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے مطابق حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں آج پھر کورونا وائرس او پی ڈی میں عملے پر حملہ ہوا۔

    ینگ ڈاکٹرز اسوسی ایشن کے ترجمان کے مطابق یہ چوتھا واقع ہے لیکن سی سی پی او پشاور اور مقامی پولیس سٹیشن کی طرف سے کوئی سکیورٹی نہیں فراہم کی جا رہی۔

    ان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اور ہسپتال سیکیورٹی، عملہ کی حفاظت کی بجائے خاموش تماشائی بنی رہتی ہے یا پھر موقع سے فرار ہو جاتی ہے جس کے بعد ان کے اپنے نمائندوں کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے وہاں آنا پڑتا ہے۔

    ادھر حیات آباد میڈیکل کمپلیکس انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہسپتال میں ڈاکٹروں پر مریضوں کی جانب سے تشدد کے واقعات کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کا بہت سنجیدہ نوٹس لیا ہے۔

    انتظامیہ کے مطابق ڈاکٹروں، نرسوں، سمیت صحت کی دیکھ بھال کی خدمت کے لئے پیرامیڈکس اور دیگر معاون عملہ کےلئے پالیسی اپنائی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی ہو۔

    یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ کسی ہسپتال کے کورونا وارڈ میں ڈاکٹروں اور طبی عملے پر حملہ کیا گیا ہو، اس سے قبل پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے متعدد ہسپتالوں میں اس طرح کے واقعات سامنے آ چکے ہیں۔

    ینگ ڈاکٹرز اسسوسی ایشن پشاور کے مطابق حکومت کو بار بار اس مسئلے کو حل کرنے اور ’سیکیورٹی اینڈ ہراسمنٹ ایکٹ‘ کی شکل میں سخت قانون سازی کرنے کی درخواست کی لیکن کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ینگ ڈاکٹرز سخت اقدامات اٹھانے اور قلم چھوڑ احتجاج کی طرف جا سکتی ہے۔

    ’ہم پر ڈاکٹرز کی طرف سے کافی دباؤ ہے۔ کسی بھی وقت احتجاجآ کام چھوڑ سکتے ہیں اور اگر ایسا ہوا تو تمام تر ذمہ داری سی سی پی او پشاور کی نا اہلی، مقامی پولیس سٹیشن اور حکومت پر عائد ہو گی۔

  10. ہمارے گھر سے کام کرنے سے شہر کس طرح بدل سکتے ہیں

    ماسکو کی ٹویرسکایا سٹریٹ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ،تصویر کا کیپشنماسکو کی ٹویرسکایا سٹریٹ ویران پڑی ہے

    گذشتہ چند ماہ سے ہمارے گھر ہمارے دفتر بن گئے ہیں، اور ابھی بھی باقاعدہ طور پر دفتر جانا ایک دور کی بات لگتی ہے۔

    اہم ٹیک کمپنیاں کہہ رہی ہیں کہ وہ اپنے عملے کے مستقل بنیادوں پر گھر سے کام کرنے کے متعلق سوچ سکتی ہیں۔ ملازمین کو بھی پتہ چل گیا ہے کہ گھر سے کام کرنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ کچھ حالات میں قابلِ ترجیح بھی۔ نئے طریقے سے کام کرنے کی تبدیلی شاید پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔

    اس طرح کی تبدیلی کے ہماری زندگیوں پر گہرے اثرات نمایاں ہوئے ہیں اور اسی طرح ہمارے قصبوں اور شہروں کی زندگیوں پر: انگلینڈ اور ویلز کے دفاتر کی تقریباً ایک چوتھائی تعداد صرف مرکزی لندن میں واقع ہے۔

  11. کورونا کے بحران کی وجہ سے بلوچستان کے ترقیاتی منصوبے رُک گئے, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    بلوچستان

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وجہ سے اضافی اخراجات اور آمدنی میں کمی کے باعث بلوچستان حکومت رواں مالی سال کے دوران 995 جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم فراہم نہیں کرسکے گی بلکہ ان کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں رقم مختص کی جائے گی۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق یہ بات وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کو بتائی گئی۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ رواں مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں شامل 2448 منصوبوں میں سے 1453 منصوبے رواں مالی سال میں مکمل کر لیے جائیں گے جبکہ 995 جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے آئندہ مالی سال میں فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے بتایا کہ اب تک حکومت نے چھ ارب روپے کورونا بجٹ کے لیے جاری کیے ہیں جن میں صحت کی سہولیات کی اضافی فراہمی کے علاوہ لوگوں کو راشن بھی فراہم کیا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ مالی مشکلات ہیں۔ بلوچستان کے ریونیو میں بھی کمی آئی ہے۔

    اس سال کورونا کی وجہ سے حکومت بلوچستان نے بعض شعبوں میں ٹیکسوں میں بھی چھوٹ دی ہے۔ اس وجہ سے اب تک ڈھائی ارب روپے کم جمع ہوئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی وجہ سے وفاقی حکومت کے بھی ٹیکس میں کمی آئی ہے۔ لیکن این ایف سی کے تحت ملنے والے وسائل سے بلوچستان کو نقصان نہیں ہوگا کیونکہ قابل تقسیم محاصل میں سے بلوچستان کا جو حصہ ہے اس کو ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں تحفظ حاصل ہے۔

    اس تحفظ کے تحت اگر وفاقی حکومت ٹیکس جمع کرنے کا سو فیصد ہدف حاصل نہ بھی کرسکے تو اس کا اثر بلوچستان پر نہیں پڑے گا بلکہ بلوچستان کو قابل تقسیم محاصل سے اس کا پورا حصہ ملے گا۔

  12. ’ورک فرام ہوم‘ کی وجہ سے سام سنگ کی میمری چِپ کی مانگ بڑھ گئی

    سام سنگ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے کہا ہے کہ وہ اپنی این اے این ڈی فلیش میمری چِپ کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں کیونکہ عالمی وبا کے دوران لوگوں کی جانب سے گھر سے کام کرنے کی وجہ سے اس کی مانگ پہلے سے کافی زیادہ بڑھ گئی ہے۔

    سام سنگ دنیا میں سب سے زیادہ میمری چِپ بناتا ہے۔ اس کا ہدف سال کے دوسرے حصے میں اپنی پیداوار بڑھانا ہے۔ اس کا پلانٹ جنوبی کوریا کے دارالحکومت سویل سے دو گھنٹے کی مصافت پر ہے۔

    سام سنگ کا کہنا ہے کہ اضافی صلاحیت سے سمارٹ فون اور دوسری ڈیوائسز پر فائیو جی استعمال کرنے میں بھی مدد ملے گی۔

    یورپ اور دیگر ممالک میں فائیو جی کا بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے میں کورونا کے بحران کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔

  13. لاک ڈاؤن کے دنوں میں بالکونی پر فوٹوگرافی

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس اور لاک ڈاون کی وجہ سے پوری دنیا میں جہاں لوگوں کی زندگیاں متاثر ہو رہی ہیں وہی بہت سارے لوگ ان حالات کا منفرد طریقے سے استعمال کرنا سیکھ رہے ہیں۔

    عریش زبیر عام دنوں میں فیشن اور کارپوریٹ فوٹوگرافی کرتے ہیں مگر ان دنوں وہ 'دور سے پورٹریٹ' لے رہے ہیں جہاں وہ لوگوں سے دور سے ہی ملتے ہیں اور سڑک سے ہی ان کی تصویریں لیتے ہیں۔

    دیکھیے ہمارے ساتھی موسیٰ یاوری کی اس ویڈیو میں کہ وہ یہ سب کس طرح کر رہے ہیں۔۔۔

  14. بلوچستان: ’لوگ کورونا سے ہلاکتوں کو چھپا رہے ہیں‘, محمد کاظم، نامہ نگار، کوئٹہ

    بلوچستان: ’لوگ کورونا سے ہلاکتوں کو چھپا رہے ہیں‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    بلوچستان کے محکمہ صحت نے یہ انکشاف کیا ہے کہ بلوچستان میں لوگ کورونا سے ہلاکتوں کو چھپا رہے ہیں۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کی جانب سے کورونا سے متعلق روزانہ کی بنیاد پر جو رپورٹ جاری کی جاتی ہے اس میں تین چار روز سے اس بات پر تشویش پر مبنی ایک پیرا شامل ہے کہ جو لوگ بلوچستان میں کورونا سے یا کورونا کے شبے میں ہلاک ہو رہے ہیں ان کی صحیح تعداد رپورٹ موجود نہیں۔

    رپورٹ کے مطابق گھروں میں کورونا سے ہلاک ہونے والے بعض افراد کے خاندان ان کی میت کے حوالے سے ہسپتال یا ہیلتھ ایمرجنسی ٹیم 1122 سے رابطہ کرنے کے بجائے ان کی اموات کو فطری موت قرار دیتے ہیں۔

    چونکہ کورونا سے ہلاک ہونے والوں کی سرکاری فہرست میں صرف ان لوگوں کے نام شامل کیے جارہے ہیں جن کی موت کی وجہ ہسپتال کورونا قرار دے اس لیے ایسی اموات اس فہرست میں شامل ہونے سے رہ جاتے ہیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں کورونا کے مقامی منتقلی کے متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے اور اس سے بچاﺅ کے پروٹوکول کو نہ اپنانے کی وجہ سے اموات بڑھ رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق دو ہفتوں کے دوران کیمونٹی سے حاصل کردہ معلومات کی بنیاد پر 36 ہلاکتیں ایسی تھیں جن کی ممکنہ وجہ کووڈ 19 تھا۔

  15. بریکنگ, سندھ: گذشتہ ایک روز میں مزید 1402 متاثرین، 22 اموات, صوبے میں کل متاثرین کی تعداد 29 ہزار سے تجاوز کر گئی

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا سے مزید 1402 نئے متاثرین، 22 اموات اور 785 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

    اس طرح اب تک سندھ میں کل متاثرین کی تعداد 29,647 ہوچکی ہے۔

    اب تک صوبے میں کووڈ 19 سے 503 اموات پیش آئی ہیں جبکہ 14,590 افراد صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    سندھ: گذشتہ ایک روز میں مزید 1402 متاثرین، 22 اموات

    وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق:

    • اس وقت 342 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے
    • گذشتہ 24 گھنٹوں میں 6289 ٹیسٹ کیے گئے
    • 14 ہزار 554 مریض زیرعلاج ہیں
    • 13346 مریض گھروں میں زیرعلاج ہیں
    • 113 مریض آئسولیشن مراکز میں زیرعلاج ہیں
    • 1095 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں
    • کورونا کے 71 مریض وینٹیلیٹرز پر ہیں
  16. پاکستان میں طبی عملے کے 2193 افراد کورونا سے متاثر, محمد زبیر خان، صحافی

    وزارت صحت

    ،تصویر کا ذریعہg

    پاکستان میں وزارت صحت کے مطابق ملک بھر میں کورونا سے متاثرہ طبی عملے کی تعداد 2193 ہوچکی ہے جن میں سے 196 کو ہسپتالوں میں داخل کرنے کی ضرورت پڑی ہے۔

    صرف سات وینٹیلیٹر پر موجود ہیں جبکہ مجموعی طور پر 23 ہلاک ہوئے ہیں۔

    متاثر ہونے والے طبی عملے میں 1232 ڈاکٹر، 333 نرسنگ سٹاف اور 628 پیرا میڈیک سٹاف شامل ہے۔

    وزارت صحت کے مطابق کورونا سے سب سے زیادہ متاثر طبی عملہ صوبہ خیبر پختونخوا میں ہے جہاں یہ تعداد 637 ہے۔ اس میں 296 ڈاکٹر، 112 نرسنگ سٹاف جبکہ پیرا میڈیک سٹاف میں 229 افراد شامل ہیں۔ پانچ ہلاک ہوئے ہیں۔

    اس کے بعد سندھ متاثرہ صوبہ ہے جس میں متاثر ہونے والے طبی عملے کی تعداد 645 ہے۔ دوسری طرف پنجاب میں یہ تعداد چار سو ہے۔

  17. انڈیا: ٹرین سروس کی بحالی سے ہجوم بڑھنے لگے

    انڈیا: لوگوں کے ہجوم

    پیر سے انڈیا میں ریل سروس مزید کھول دی گئی ہے اور اس کے بعد اطلاعات کے مطابق اکثر ریلوے سٹیشنز پر لوگوں کا ہجوم دیکھا گیا ہے جس سے وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

    طویل لاک ڈاؤن کے بعد آج توقعات کے مطابق ایک لاکھ 45 ہزارافراد ٹرین سے سفر کریں گے۔

    ٹرینوں کی تعداد 30 سے بڑھا کر 200 کر دی گئی ہے تاکہ لوگ ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کر سکیں۔

    وزارت داخلہ نے احکامات جاری کیے ہیں کہ ممسافروں کی سکریننگ کی جائے اور ریلوے سٹیشنز اور ٹرین کے اندر سماجی فاصلے کی احتیاطی تدبیر پر عمل کیا جائے۔

    تاہم بڑے ہجوم جمع ہونے کی وجہ سے سماجی فاصلہ اور صفائی رکھنا ایک مشکل کام بنتا جا رہا ہے۔

    انڈیا میں ٹرین کے سفر کا ایک بڑا نیٹ ورک موجود ہے جس کے تحت روز دو کروڑ 50 لاکھ لوگ نقل و حرکت کرتے ہیں۔

  18. پنجاب: مارکیٹوں، بازاروں میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت

    ریڈیو پاکستان کے مطابق پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار نے کوروناوائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر متعلقہ حکام کو مارکیٹوں اور بازاروں میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔

    انھوں نے پیر کو لاہور سے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ احتیاطی تدابیر پر عملدرآمد کی مؤثر نگرانی کی جانی چاہیے۔

    انہوں نے عوام کو کورونا وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے حکومت کی احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے پر زور دیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ ’حکومت نے عوام کی معاشی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے کاروبار کرنے کی اجازت دی۔‘

    پنجاب: مارکیٹوں اور بازاروں میں احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@CMPunjabPK

    پنجاب میں اہم فیصلے

    صوبہ بھر میں منہ اور ناک ڈھانپنے کی پابندی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا فیصلہ

    انتظامیہ، پولیس اور ٹریفک وارڈن وارننگ دیں گے اگر لوگ منہ اور ناک ڈھانپے بغیر باہر نکلیں گے

    لاہور میں جناح اور میو ہسپتال میں پلازما تھیراپی کے لیے ڈونرز کی فہرستوں کی تیاری

    تشویشناک حالت میں مریضوں کو پلازما دیا جائے گا

    کابینہ کمیٹی نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت ایک ہزار لیڈی ڈاکٹرز کے انٹریوز کی اجازت دے دی

    ایس او پیز کے مطابق پارکس، ریستوران اور مختلف اداروں کو کھولنے کے لیے پنجاب حکومت وفاق کو سفارشات پیش کرے گی۔

  19. ماسکو: لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی گئی

    e

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    روس کے دارالحکومت میں آج نو ہفتوں کے بعد لوگ اپنے اپارٹمنٹس کے باہر چہل قدمی کر سکیں گے۔

    ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے صدر ولادیمیر پوتن کو بتایا ہے کہ وہ دارالحکومت میں لاک ڈاؤن قوانین میں نرمی کریں گے، خریداری کے مراکز کھولیں گے اور لوگوں کو گھر سے نکلنے کی زیادہ آزادی فراہم کریں گے۔

    اس سے قبل ماسکو کے رہائشیوں کو صرف کھانا خریدنے، کتے واک پر لیجانے یا اجازت نامے کے ساتھ ملازمتوں تک جانے کی اجازت تھی۔

    پیر سے کار ڈیلرشپ، ڈرائی کلینر، جوتا مرمت کی دکانیں، کتابوں اور لانڈری کی دکانیں بھی کھلنے کے لیے تیار ہیں۔

    رہائشیوں کو اب مقررہ دنوں میں ان کے پتے کے حساب سے ہفتے میں تین بار سیر کے لیے جانے کی اجازت ہے۔ اس کے علاوہ وہ شام 5 سے 9 کے درمیان باہر کھیل بھی سکتے ہیں۔

    تاہم ماسکو میں ابھی بھی متعدد نئے انفیکشن سامنے آ رہے ہیں۔ اتوار کے روز 2590 سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوئی۔

    روس میں کورونا وائرس کے 400،000 سے زیادہ مریضوں اور 4693 سے زیادہ ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

  20. انگلینڈ: 10 ہفتوں بعد بچوں کی سکولوں میں واپسی

    BBC

    انگلینڈ میں لاک ڈاون اقدامات میں نرمیاں کی جا رہی ہیں اور آج سے پرائمری سکول مزید بچوں کا خیرمقدم کر رہے ہیں۔

    پہلی سے چھٹی جماعتوں کے بچے تقریباً 10 ہفتوں کے بعد سکول لوٹ رہے ہیں تاہم کچھ علاقوں میں ابھی بھی سکول بند ہیں۔

    آئیے آپ کو بچوں کی سکول واپسی کے کچھ مناظر دکھاتے ہیں۔

    BBC
    BBC
    BBC
    BBC
    BBC