سندھ کے وزیر برائے کچی آبادی غلام مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئے
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 62 لاکھ سے زائد ہے جبکہ ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ افراد اس بیماری کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ہیں۔ سندھ کے صوبائی وزیر کچی آبادی مرتضیٰ بلوچ کورونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد انتقال کر گئے ہیں۔
لائیو کوریج
بریکنگ, برطانیہ: نسلی اقلیتوں میں کووڈ۔19 اموات کی رپورٹ جاری
ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ برطانیہ میں سیاہ فام، ایشیائی اور نسلی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں کووڈ۔19 سے اموات کے امکانات دوسروں سے زیادہ ہیں۔
پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی رپورٹ جس میں معاشرے کے مختلف طبقوں میں کووڈ۔19 کے خطرات میں فرق اور اس کے نتائج بتائیں گئے ہیں جاری کی گئی ہے۔
صوبوں سے این سی سی فیصلوں پر عملدرآمد کے منصوبے طلب
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرِ صدارت آج نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) کا اجلاس ہوا جس میں انھوں نے صوبائی چیف سیکریٹریز کو ہدایت کی کہ وہ قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے وزرائے اعلیٰ کی جانب سے بنائے گئے منصوبے پیش کریں۔
آج کے اجلاس میں وفاقی وزیر نے قومی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں پر عملدرآمد، سیاحتی سرگرمیاں دوبارہ کھولنے اور کورونا وائرس سے متعلق حکومت ضوابط کے حوالے سے بھی جائزہ لیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پیرس میں کیفیز اور بار تو کھل گئے، کیا لوگ بھی واپس آئیں گے؟, ہیو سکوفیلڈ، بی بی سی نیوز،پیرس
،تصویر کا ذریعہEPA
یہ افراتفری کا ویک اینڈ تھا جس میں لوگوں کو اپنی جگہوں کو دوبارہ کاروبار کے لیے تیار کرنے تھا۔ انھوں نے مارچ میں اتنی تیزی میں اپنے کاروبار بند کیے تھے کہ کئی ایک کے لیے پہلا کام تو خراب بیئر کو نکال پھینکنا ہو گا۔ کچھ اپنی جگہوں پر ڈیکس لگا رہے ہیں تاکہ انھیں ٹیرس کہا جا سکا۔
اب وہ کھل گئے ہیں (چاہے باہر ہی سہی)، پیرس کے کیفے اور بارز کے مالکان میں امید اور خوف ساتھ ساتھ ہے۔
امید یہ ہے کہ لوگ اپنی پرانی زندگیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے بیتاب ہوں گے اور ان کی جیبیں اس کیش سے بھری ہوں گی جو انھوں نے استعمال نہیں کیا۔ اور وہ اپنی پرانی پسندیدہ جگہوں پر بہت زیادہ تعداد میں آئیں گے۔
خوف یہ ہے کہ کووڈ۔19 کی موجودہ پریشانی شاید انھیں روک نہ لے۔ کیا لوگ پھر بھی باہر آئیں گے اگر بیرے انھیں ماسک پہن کر سرو کریں، یا ان کی حوصلہ شکنی کی جائے کہ وہ دوسرے گاہکوں سے بات نہ کریں۔
خوش قسمتی سے پہلے دن سورج گرم اور آسمان صاف ہے۔ یہاں کم از کم امید کی ایک کرن تو موجود ہے۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس ختم، پریس کانفرنس کچھ دیر میں متوقع
،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
اب سے کچھ دیر قبل ہم نے آپ کو آگاہ کیا تھا کہ اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت جاری ہے۔
اب اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ یہ اجلاس ختم ہو چکا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کابینہ اجلاس میں ملکی سیاسی، معاشی اور کورونا کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور کابینہ اراکین کو کورونا کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ وزیرِ اطلاعات شبلی فراز کچھ دیر بعد پریس کانفرنس میں کابینہ کے فیصلوں سے تفصیلی طور پر آگاہ کریں گے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پاکستان میں ڈاکٹروں سمیت طبی عملے کے 1904 افراد متاثر، کم از کم 30 ہلاک
،تصویر کا ذریعہEPA
دنیا بھر میں کووڈ 19 کے خلاف برسر پیکار فرنٹ لائن پر موجود طبی عملہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور بڑی تعداد میں ڈاکٹرز، نرسیں اور دیگر عملہ اس وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔
پاکستان میں بھی کورونا وائرس سے اب تک 1904 ڈاکٹرز اور عملے کے دیگر افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں سے کم از کم 30 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ چار کی حالت تشویشناک ہے۔
اس وائرس سے وہ ڈاکٹر بھی متاثر ہوئے ہیں جو اپنے نجی کلینکس پر مریضوں کا معائنہ کرتے ہیں اور وہ طبی عملہ بھی جو ہسپتالوں میں قائم کورونا کملپکس یا وارڈز میں مریضوں کے علاج کے لیے موجود رہتے ہیں۔
اٹلی اپنے قومی دن کی تقاریب کو کورونا وائرس کی وبا کے پیشِ نظر سادگی سے منا رہا ہے۔
قومی دن 1946 میں جمہوریہ اٹلی کے اعلان کے حوالے سے منایا جاتا ہے اور اس میں عام طور پر پیریڈ منعقد کی جاتی ہے۔ اس سال چھوٹی تقریب کا انعقاد کیا گیا ہے۔
منگل کی صبح، اٹلی کی فریچے ٹرائی کلر ایکروبیٹک کی نمائش کرنے والی ٹیم نے روم کے اوپر فلائی پاسٹ کیا۔
اٹلی کے صدر اور وزیرِ اعظم نے دارالحکومت میں ہونے والی اس تقریب میں حصہ لیا اور نامعلوم سپاہیوں کے مزار پر پھول چڑھائے۔ تقریب میں سبھی افراد نے ماسک پہنے ہوئے تھے۔
صدر سرجیو میٹیریلا نے اپنے پیغام میں کہا کہ ملک نے انتہائی غیر معمولی مشکلات کا سامنا کیا ہے جس کے لیے اب بھی اتحاد، ذمہ داری اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔
انھوں نے کہا کہ اٹلی میں اس کے اثرات بہت دیر تک رہیں گے۔
اٹلی میں کورونا وائرس سے اب تک 33 ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔
،تصویر کا ذریعہAFP
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا ذریعہReuters
کورونا وائرس کی صورتحال پر وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری
،تصویر کا ذریعہGovt of Pakistan
کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے جس کی صدارت وزیرِ اعظم عمران خان کر رہے ہیں۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق اس اجلاس میں کورونا وائرس کے ساتھ ساتھ ملک کی مجموعی اقتصادی صورتحال کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ ملک کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کے حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
شنگھائی سے پاکستانیوں کو لے کر ایک اور پرواز روانہ
چین کے شہر شنگھائی سے پاکستانیوں کو لے کر آج ایک اور خصوصی پرواز پاکستان کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔ یاد رہے کہ سنیچر کو وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان میں اب تک 55 سے 60 ممالک سے 33 ہزار پاکستانی واپس لائے جا چکے ہیں۔
انھوں نے بتایا تھا کہ یکم جون سے 10 جون کے درمیان مزید 20 ہزار پاکستانی واپس لائیں جائیں گے اور یہ کہ یہ تعداد یومیہ دو ہزار بنتی ہے جو پہلے کے مقابلے میں دو گنا ہے۔
انھوں نے کہا کہ سب سے زیادہ لوگ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے لائے جائیں گے جہاں سے بالترتیب 8000 اور 4000 لوگ واپس لائے جائیں گے۔
معید یوسف نے کہا کہ پاکستانی حکومت کی ترجیح ان ممالک پر ہے کیونکہ یہاں پاکستانی مزدور بڑی تعداد میں آباد ہیں جو تنخواہوں کے بغیر بمشکل ہی گزارا کر سکتے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
قومی اسمبلی اجلاس میں کورونا وائرس پر بحث کرائی جائے: اپوزیشن لیڈر کا خط
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان مسلم لیگ نون کے صدر اور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو خط میں تجویز دی ہے کہ اس ہفتے پانچ جون سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی اجلاس میں قومی اہمیت کے امور زیرغور لائے جائیں۔
اپوزیشن لیڈر کے مطابق ہر روز قومی اہمیت کا ایک مسئلہ زیرغور لانے کے لیے ایجنڈا ترتیب دیا جائے۔
شہباز شریف نے تجویز پیش کی ہے کہ قومی اسمبلی اجلاس کے پہلے دن ملک میں کورونا کی صورتحال، پھیلاؤ اور تدارک کے لیے حکومتی اقدامات زیربحث لائے جائیں۔
شہبازشریف نے سپیکر کو تجویز دی ہے کہ ایوان کے تقدس اور بامقصد گفتگو کے لیے 120 منٹ اپوزیشن ارکان کو دیں۔
وزیر، حکومت اور کابینہ کی نمائندگی کرتے ہوئے بحث سمیٹیں، اس طرح اپوزیشن ارکان کو عوامی مسائل ایوان میں بلند کرنے اور حکومت کو اپنا جواب دینے کا موقع ملے گا۔
شہباز شریف نے تجویز دی ہے کہ یہ کارروائی صدارتی خطاب پر زیر التوا بحث کے حصے کے طورپر کرائی جائے۔
خط کے مطابق اگر سپیکرچاہیں تو تحریک التوا کے ذریعے قواعد معطل کر کے بھی یہ بحث کرا سکتے ہیں۔ شہبازشریف نے اپنے خط میں سپیکر اسد قیصر کی کورونا وائرس سے جلد اور مکمل صحت یابی کے لیے بھی دعا کی ہے۔
یاسمین راشد: ’متاثرین کی جتنی تعداد ہم سجھ رہے تھے، وہ ابھی بھی سامنے نہیں آ رہی‘
پنجاب کی صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب میں لاہور کورونا وائرس کا ایپی سنٹر بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ متاثرین کی تعداد لاہور میں ہے۔
یاسمین راشد کے مطابق اس وقت لاہور میں کورونا وائرس سے متاثر 119 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ راولپنڈی میں ایسے مریضوں کی تعداد 113 ہے جبکہ پنجاب بھر میں ایسے مریضوں کی کل تعداد 251 بنتی ہے۔
صوبائی وزیر صحت نے لاہور میں بڑھتے متاثرین سے متعلق ماہرین کی ایک سمری پر وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد کورونا وائرس کے مقابلے کے لیے ایک آئیڈیا لگانا تھا کہ کل کتنے لوگ ایسے ہو سکتے ہیں جواس وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق سمارٹ سیمپلنگ کے لیے ہمیں کیبنیٹ کمیٹی کی جانب سے کہا گیا تھا، کمیٹی بنائی گئی جس میں بین القوامی یونیورسٹیز سے بھی ایکسپرٹ شامل کیئے گئے۔ اٹھائیس اپریل کو انھیں کہا کہ ہمی سیمپلنگ کر کے مستقبل کا بتائیں متاثرین کی تعداد کہاں تک پہنچے گی۔
صوبائی وزیر کے مطابق اس سمری کی تیاری پر چھ کروڑ خرچ ہوئے۔
ان کے مطابق اس گروپ کو سیمپلنگ کرنے کا کہا گیا تھا۔ ان کے مطابق ماہرین نے پورے پنجاب میں 35 ہزار جبکہ لاہور میں 21732 سیپمل حاصل کیے۔ لاہور میں کل متاثرین کی تعاد 5 اعشاریہ 18 فیصد بنتی تھی۔ ان کے مطابق اس ریسرچ کی روشنی میں حکومت نے لاہور کو مزید مضبوط کردیا۔
ان کے مطابق کورونا وائرس متاثرین کی جتنی تعداد ہم سجھ رہے تھے، وہ ابھی بھی سامنے نہیں آ رہی ہے۔
ہمارے پاس اسکے جو نتائج سامنے آئے اس کے مطابق لاہور میں پانچ عشاریہ ایک آٹھ فیصد انفیکٹیوٹی آئی۔ انفیکٹیویٹی کا مطلب یہ ہے کہ ہم کتنے افراد انفیکٹڈ ہیں۔
اس ڈیٹا سے اندازہ ہوا کہ شاید اتنے لوگوں کو وائرس لگا۔
یہ ایک سائینٹیفک ڈیٹا تھا جس کے ذریعے ہم نے اندازہ لگانا تھا کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اس وقت ہمارے پاس ستر فیصد جگہ ہے لیکن ہمیشہ برے کے لیے پلان کیا جاتا ہے۔
یاسمین راشد کے مطابق حکومت نے ہر ہسپتال میں جگہ رکھی ہوئی ہے۔ ہسپتالوں میں قلیل طبی سہولتوں سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں اور بیڈز اور وینٹی لیٹرز کی کمی سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔
صوبائی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ اب ہسپتالوں میں صرف تشویشناک مریض ہی رکھے جا رہے ہیں۔
یاسمین راشد کے مطابق اسی رہورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ پچاس برس کی عمر سے زیادہ کے افراد زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں ان کے مطابق ماہرین کی رائے تھی کہ ابھی لاک ڈاؤن برقرار رکھیں۔ لیکن افر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو پنتالیس فیصد ریوینیو رک گیا۔
انڈیا نے کورونا کے مریضوں کے لیے ’ریمڈیسویر‘ دوا کے استعمال کی منظوری دے دی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی حکومت نے کورونا وائرس کے علاج میں مددگار دوا ’ریمڈیسویر‘ کے مریضوں پر استعمال کی اجازت دے دی ہے۔
ریمڈیسویر اینٹی وائرل دوا ہے اور کلینیکل ٹرائلز کے دوران کورونا مریضوں پر اس کے استعمال کے بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
گذشتہ ماہ امریکہ کے ادارے ’فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن‘ نے اس کے ایمرجنسی استعمال کی اجازت دی تھی، یہ اجازت جاپان میں صحت کے نگراں اداے کی منظوری کے بعد دی گئی تھی۔
انڈیا کے ڈرگز کنٹرولر جنرل نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ریمڈیسویر کی یکم جون سے ہنگامی صورتحال کے تحت استعمال کی اجازت کی منظوری دی گئی ہے۔‘ یہ اجازت پانچ روز میں دوا کی پانچ خوراکیں کھانے سے مشروط ہے۔
اس دوا کو بنانے والے ادارے نے اب تک اس پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے اور اس حوالے سے مزید تفصیلات طلب کی ہیں۔
انڈیا کے صحت حکام کے مطابق منگل کی صبح تک ملک میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 198706 ہو چکی ہے جبکہ اموات کی کُل تعداد 5598 ہے۔
اس دوا کو تیار کرنے والی کمپنی گیلیڈ کا کہنا ہے کہ ایسے کورونا مریض جن میں مرض کی علامات معتدل نوعیت کی ہیں ان پر اس دوا کے پانچ روزہ کورس کے معمولی مگر بہتر نتائج سامنے آئے ہیں۔
اس تحقیق کے مطابق جن مریضوں پر اس کا استعمال دس دن کے لیے کیا ان میں اس دوا کا کوئی خاص فائدہ نظر نہیں آیا۔
کورونا: انگلینڈ اور ویلز میں اموات کم ترین سطح پر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اعداد و شمار کے مطابق مارچ کے بعد سے انگلینڈ اور ویلز میں ہر ہفتے کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔
ادارہ برائے قومی شماریات نے موت کے سرٹیفیکیٹس پر نظرثانی کی ہے جس کے مطابق 22 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں 2،589 اموات میں وائرس کا ذکر کیا گیا جبکہ مجموعی طور پر اس ہفتے میں 12،300 اموات ہوئیں۔
اعدادوشمار کے مطابق جب یہ وبا عروج پر تھی تو توقع سے تقریباً دوگنی اموات ہو رہی تھیں۔
مجموعی طور پر اس سال 286،700 اموات ہوئیں ہیں جو کہ توقع سے 51400 زیادہ ہیں۔
تقریباً 43800 اموات کو کورونا وائرس سے منسلک کیا گیا ہے۔
فلم ایواٹار۔ ٹو کا عملہ نیوزی لینڈ پہنچ گیا، 14 دن قرنطینہ میں گزارنا ہوں گے
فلم ایواٹار کا سیکوئیل بنانے کے لیے فلم کا عملہ نیوزی لینڈ پہنچ گیا ہے۔
ہالی ووڈ ہدایت کار جیمز کیمرون کے پروڈیوسر نے ویلنگٹن انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اپنی تصویر انسٹاگرام پر پوسٹ کی ہے۔
جان لینڈو نے لکھا: ’ہم نیوزی لینڈ پہنچ گئے ہیں۔ حکومت کی زیر نگرانی 14 دن کی خود ساختہ تنہائی اب شروع ہوتی ہے۔‘
لینڈو نے گذشتہ ماہ فلم کے سیٹ کی ایک تصویر بھی پوسٹ کی تھی اور کہا تھا کہ وہ نیوزی لینڈ واپس جا کر کام کرنے کے بارے میں پرجوش ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
Instagram پوسٹ کا اختتام
سندھ میں بدھ سے اندورن شہر ٹریفک بحال ہو جائے گی
سندھ کابینہ کے رکن ناصر حسین شاہ نے دیگر صوبائی وزرا کے ساتھ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی شہر کی ٹریفک بدھ سے بحال ہو جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹرانسپورٹرز کے ساتھ مل کر ضابطہ اخلاق بنایا ہے اور ٹرانسپورٹرز ایسوسی ایشن نے اس پر مکمل عملدرآمد کی یقینی دہانی کرائی ہے۔
صوبائی وزیر نے وضاحت دی ہے کہ ابھی صرف سندھ کے شہروں کے اندر ٹریفک بحال کرنے کی اجازت ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ ضلعے اور صوبے کے باہر ٹریفک بحالی سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
مرتضی وہاب نے پریس کانفرنس میں کہا کہ کورونا وائرس سے بچنے کا واحد طریقہ اس سے احتیاط کرنا ہی ہے۔
انھوں نے شہریوں سے گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل کی اور کہا کہ باہر نکلنے کی ضرورت ہو تو ماسک کا انتظام ضرور کر لیں۔
صوبائی وزیر کے مطابق کشمور میں اس وائرس سے سب سے زیادہ ہندو کمیونٹی متاثر ہوئی ہے۔
ووہان: مہینوں انتہائی نگہداشت میں رہنے والا ڈاکٹر ہلاک, رابن برانٹ، بی بی سی نیوز، شنگھائی
،تصویر کا ذریعہthePaper.cn
لاک ڈاؤن ختم ہو چکا، سڑکیں اور ریلوے دوبارہ کھل گئیں اور ووہان کے سیاحتی عہدیدار لوگوں کو شہر آنے کی ترغیب دینے کے لیے سوشل میڈیا پر واپس آ گئے ہیں لیکن ووہان کے ڈاکٹر ابھی بھی دم توڑ رہے ہیں۔
ڈاکٹر ہو ویفینگ وہ پہلے ڈاکٹر تھے جنھوں نے کووڈ 19 بیماری کی وجہ بننے والے کورونا وائرس کو شناخت کیا اور اس کے علاج کا آغاز کیا۔
43 برس کے ڈاکٹر ہو گذشتہ چار ماہ سے انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل تھے جہاں ان کا علاج جاری تھا۔
چین کے سرکاری میڈیا پر چلنے والی متعدد رپورٹس کے مطابق منگل کی صبح ڈاکٹر ہو کا انتقال ہو گیا ہے۔
ڈاکٹر ہو اس ہسپتال کے چھٹے ڈاکٹر ہیں جو کووڈ 19 کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ سرکاری رپورٹ کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس ہسپتال کے عملے کے دیگر 230 افراد بھی اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔
کورونا وائرس: سندھ میں مزید 23 ہلاکتیں، کل اموات 526
سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 1439 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ مزید 23 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ
کے مطابق اس وقت صوبے میں 358 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 64 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں۔
وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 5454 ٹیسٹ کیے گئے جس میں 1439 متاثرین سامنے آئے ہیں۔ اب تک کل 192546 ٹیسٹ کیے گئے ہیں، جس میں 31086 مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
سندھ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 526 ہو گئی ہے۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق اس وقت 15022 مریض زیرعلاج ہیں،جن میں سے 13813 مریض گھروں اور 111 آئسولیشن مراکز پر زیرعلاج ہیں جبکہ اس وقت 1098 مریض مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
سید مراد علی شاہ
کا کہنا ہے تھا کہ آج 953 مزید مریض صحت یاب ہو گئے ہیں جبکہ سندھ میں اب تک کل 15538 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
صوبے بھر کے 1439 مریضوں میں سے کراچی میں 1035 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ کورنگی میں 263، ضلع شرقی میں 242 اور ضلع وسطی 166مزید مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
کراچی کے ضلع جنوبی میں 167، ملیر میں 139 اور غربی میں 58 نئے متاثرین کا پتا چلا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ
کے مطابق اس وقت اس وائرس سے لاڑکانہ میں 50، حیدرآباد میں 47 اور سکھر میں 40 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
خیرپور میں 33، گھوٹکی میں 27 اور شہید بینظیرآباد میں 17 مزید متاثریں ظاہر ہوئےہیں۔
بدین میں 15، سانگھڑ میں 13 اورجامشورو میں 9 نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ قمبر میں چھ جبکہ سجاول اور شکارپور میں پانچ پانچ مزید متاثرین رپورٹ ہوئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جیکب آباد اور دادو میں تین تین جبکہ کشمور میں دو نئے افراد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
مٹیاری، ٹنڈومحمد خان اور عمر کوٹ میں ایک ایک کورونا مریض رپورٹ ہوا۔
وزیراعلیٰ سندھ
نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ لاک ڈاؤن میں دی گئی سہولیات کا غیرضروری فائدہ نہ اٹھائیں۔ وزیر اعلیٰ کے مطابق عوام کی صحت حکومت کی ترجیح ہے۔ ان کہنا ہے کہ ایس او پیز پر سہی طور پر عمل نہ کرنے سے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔
روس: گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 8863 نئے کیس
،تصویر کا ذریعہEPA
روس میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا وائرس کے 8863 نئے کیس سامنے آئے ہیں جبکہ 182 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پیر کے روز بھی تقریباً اتنے ہی نئے کیس اور اموات رپورٹ ہوئی تھیں۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں امریکہ اور برازیل کے بعد کورونا وائرس کے سب سے زیادہ متاثرین روس میں ہیں جہاں یہ تعداد 414,328 ہے۔
بیٹی کو سکول لے جانے کی خاطر ’سماجی دوری والی موٹر سائیکل‘ تیار کرنے والا شخص
کورونا وائرس کی وبا کے دوران سماجی دوری کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے ایک انڈین مکینک نے
ایسی موٹر سائیکل بنائی ہے جس میں سوار اور چلانے والے کے بیچ ایک میٹر تک کا فاصلہ برقرار رہتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
بریکنگ, کورونا وائرس: انڈونیشیا کا اپنے شہریوں کو حج پر نہ بھیجنے کا فیصلہ
،تصویر کا ذریعہAFP
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق انڈونیشیا کے وزیر مذہبی امور نے بتایا ہے کہ اس بار کورونا وائرس کی وجہ سے انڈونیشیا نے اپنے شہریوں کو حج کے لیے نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ انڈونشیا دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ ہر سال لاکھوں افراد انڈونیشیا سے حج کرنے سعودی عرب جاتے ہیں جہاں اسلام کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ واقع ہیں۔
انڈونیشیا کے کیبیٹ سیکرٹری کا کہنا ہے کہ بہت سارے انڈونیشین شہریوں کو زندگی میں حج کی ایک ہی بار سعادت حاصل ہوتی ہے۔ کوٹہ سسٹم کی وجہ سے انڈونیشا میں دوبارہ حج کے لیے اوسطاً 20 سال تک کا انتظار کرنا ہوتا ہے۔
سعودی حکام پہلے ہی یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر سے کئی ملین افراد جو حج کرنے کی غرض سے سعودی عرب کا سفر کرنا چاہتے ہیں ان پر مزید کسی فیصلے تک پابندی برقرار رہے گی۔
انڈونیشیا کے مذہبی امور کے وزیر فاچرل راضی کے مطابق حج منسوخی کا فیصلہ کورونا وائرس اور سفری عائد پابندیوں کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
اس سال انڈونیشا کے لیے حج کوٹہ 221،000 تھا۔ وزارت مذہبی امور کی ویب سائٹ کے مطابق 90 فیصد نے اپنی رجسٹریشن بھی کرا رکھی تھی۔
بنگلہ دیش: پناہ گزین کیمپ میں مقیم 71 سالہ روہنگیا شخص کورونا سے ہلاک
،تصویر کا ذریعہAFP
ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش کے وسیع پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ایک 71 سالہ شخص کورونا وائرس سے مرنے والا پہلا روہنگیا بن گیا ہے۔
ماہرین صحت نے طویل عرصے سے متنبہ کیا ہوا کہ یہ مہلک وائرس ملک کے جنوب مشرق میں تقریبا دس لاکھ پنا گزینوں کی بستیوں میں پھیل سکتا ہے۔
ضلع کوکس بازار میں صحت کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا: ’ان کی موت 31 مئی کو ہو گئی تھی لیکن گذشتہ رات ہمیں اس بات کی تصدیق ہوئی کہ وہ کووڈ 19 سے ہلاک ہوئے ہیں۔‘
واضح رہے کہ ہلاک ہونے والا شخص اس کیمپ میں رہائش پذیر ان 29 پناہ گزینوں میں شامل ہے جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔