حکومتی پابندیوں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤس بند ہونے کے باوجود عید کے دوسرے روز سیاحوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات اور مری کا رخ کرلیا جہاں سے انھیں واپس بھیجا جارہا ہے۔
سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث سوات میں جی ٹی روڈ، شاہراہ قراقرم اور دیگر مقامات پر ٹریفک میں خلل پڑتا رہا اور ضلع ایبٹ آباد، سوات، مانسہرہ اور دیگر مقامات پر سے پولیس سیاحوں کو واپس بھیج رہی ہے۔
روایتی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگ بالخصوص نوجوان اور سیاح عید کی چھٹیوں کو سیر و سیاحت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
گذشتہ سالوں میں عید کے دوران صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات سمیت مری اور دیگر علاقوں میں سیاحوں کا بہت زیادہ رش دیکھا جاتا رہا ہے مگر اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے سیاحت پرپابندیاں عائد کررکھی ہیں۔
ایبٹ آباد میں صبح ہی سے سیاحوں کی کئی گاڑیوں نے ضلع میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ سیاح سوات ایبٹ آباد کے راستے مانسہرہ کے علاقوں وادی کاغان یا پھر گلیات کی طرف جانا چاہ رہے تھے۔ مگر پولیس نے ضلع ایبٹ آباد کی حدود پر ناکے لگا رکھے تھے جہاں سے سیاحوں کو واپس کیا جاتا رہا۔
سیاحوں کی گاڑیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے بھی بند ہوتا رہا۔
مانسہرہ سے مقامی صحافی نعمان شاہ کے مطابق مانسہرہ پولیس نے ضلع مانسہرہ کی حدود کے علاوہ دیگر مقامات پر ناکے لگا رکھے ہیں جبکہ بالاکوٹ سے آگے وادی کاغان جانے والے راستے کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا ہے مگر اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعدا د مانسہرہ میں داخل ہونے کے بعد بالاکوٹ تک پہنچ گئی۔
نعمان شاہ کے مطابق بالاکوٹ میں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں جبکہ پولیس اور انتظامیہ سیاحوں کو واپس بھجنے کے انتظامات کررہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بالاکوٹ کو جانے والے راستوں کو مکمل سیل کردیا ہے اور رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔
سوات سے مقامی صحافی سعید الرحمن کے مطابق سوات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے پولیس نے سوات کے تمام داخلی راستوں پر سخت ترین اقدامات کررکھے تھے مگر اس کے باوجود بھی سیاح بڑی تعداد میں پہنچے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان سیاحوں کو سوات میں داخلے کی اجازت نہیں ملی اور شام تک سوات جی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ چکی ہیں جن کو واپس بھجا جارہا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک میں بھی خلل پڑا ہوا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحق کے مطابق مری داخلے کے تمام راستے بھی بند ہیں لیکن سیاح عید کے دوسرے روز صبح ہی سے مری میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان کو واپس بھیجا جارہا ہے۔
مری کے ہوٹل وغیرہ پہلے ہی سے بند ہیں۔
ہوٹل ایسوسی ایشن ہزارہ ڈویثرن کے مطابق حکومت کی جانب سے پابندی کے باعث ہمارے تمام ہوٹل بند ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاح اگر یہ سوچ کر مانسہرہ، گلیات وغیرہ کا رخ کررہے ہیں کہ ان کو وہاں پر رہائش کے لیے کوئی سہولت ملے گئی تو ایسا ممکن نہیں ہے اس لیے سیاح سوچ سمجھ کر ان علاقوں کا رخ کریں۔
ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاح یا کسی بھی ایسے شخص کو جس کے پاس سوات کا شناختی کارڈ نہیں ہےعید کے دنوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ عید کے دوسرے روز کئی سیاحوں نے سوات داخل ہونے کی کوشش کی مگر کسی کو بھی اجازت نہیں دی گئی اور ان کی گاڑیاں واپس کی جارہی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وبا کا دور ہے۔ نہ خود کو مشکل میں ڈالیں اور نہ ہی اپنے پیاروں کو مسائل کا شکار بنائیں اور کوشش کرکے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید کی چھٹیاں گزاریں۔