آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, پنجاب: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 15 ہلاکتیں، 577 نئے متاثرین

    صوبہ پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 577 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جبکہ اسی دورانیے میں 15 افراد وبا کے باعث ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

    قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے مطابق مزید نئے متاثرین سامنے آنے کے بعد صوبے پنجاب میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 20654 ہو گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 352 ہو گئی ہے۔

    پنجاب میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 3229 افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ صوبے میں مجموعی طور پر ہونے والے ٹیسٹوں کی تعداد دو لاکھ نو ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    9915 مصدقہ متاثرین کی ساتھ صوبہ پنجاب کا دارالحکومت لاہور سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

    پنجاب میں اب تک کُل 6124 افراد کورونا سے مکمل صحت یاب ہوئے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں اب تک 1886 ہیلتھ کیئر ورکرز کا کورونا ٹیسٹ کروایا جا چکا ہے جن میں سے 241 میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    پنجاب کے مختلف اضلاع میں متاثرین کی تعداد کچھ یوں ہے: اٹک 85، بہاولنگر 65، بہاولپور 167، بکھر 105، چکوال 33، چنیوٹ 46، ڈیرہ غازی خان 398، فیصل آباد 1025، گجرانوالہ 1239، گجرات 602، حافظ آباد 261، جھنگ 70، جہلم 197، قصور 246، خانیوال 40، خوشاب 110، لیہ 62، لودھراں 148، منڈی بہاؤالدین 188، میانوالی 40، ملتان 1399، مظفر گڑھ 196، ننکانہ صاحب 109، ناروال 108، اوکاڑہ 51، پاکپتن 44، راجن پور 55، راولپنڈی 1698، رحیم یار خان 227، ساہیوال 93، سرگودھا 414، شیخوپورہ 317، سیالکوٹ 732، ٹوبہ ٹیک سنگھ 44 اور ویہاڑی 127۔

  2. برطانیہ: یکم جون سے مارکیٹیں اور شو رومز کھولنے کی اجازت

    برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ حکومت یکم جون سے بیرونی منڈیوں اور کار شو رومز کھولنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا ’آج میں دکانوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے نوٹس دینا چاہتا ہوں تاکہ وہ بھی تیار ہو جائیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’15 جون سے ہم دیگر تمام غیر ضروری خوردہ فروشوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ اجازت صرف کووڈ 19 ’محفوظ احاطے‘ میں ہو گی۔

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: حفاظتی خدشات کے پیشِ نظر ہائیڈروکسی کلوروکوین کے تجربات معطل

    عالمی ادارہِ صحت نے حفاظتی خدشات کے پیش نظر کووڈ 19 کے ممکنہ علاج کے طور پر استعمال ہونے والی دوائی ہائیڈروکسی کلوروکوین کے ٹرائل معطل کر دیے ہیں۔

    یہ اعلان ایک تحقیق کے بعد کیا گیا ہے جس میں بتایا گیا تھا کہ اس دوا کے استعمال سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد، اسے استعمال نہ کرنے والوں سے کہیں زیادہ ہے۔

    ہائیڈروکسی کلوروکوین روایتی طور پر ملیریا کے علاج میں استعمال کی جاتی ہے لیکن کچھ ماہرین نے یہ تجویز کیا تھا کہ یہ کووڈ 19 سے ہونے والی انفیکشن کو روک سکتی ہے۔

    صدر ٹرمپ نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ہائیڈروکسی کلوروکوین لے رہے ہیں۔ لیکن عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ دوا کورونا وائرس کے مریضوں کو کوئی فائدہ پہنچاتی ہے اور نظرثانی تک سلامتی کے خدشات کے پیشِ نظر اس کے استعمال کو روک دیا گیا ہے۔

  4. ’مالی بحران 10 سال طویل ہو سکتا ہے، ایشیائی ممالک کو چین، امریکہ میں سے ایک کو چننا ہوگا‘, کرشما واسوانی، ایشا بزنس نامہ نگار

    ماہر اقتصادیات نوریل روبینی کے مطابق کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے دنیا کو ایک ایک لمبے عرصے تک خراب معاشی حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    اپنی منفی پیشںگوئیوں کی وجہ سے ڈاکٹر روبینی کو ’مسٹر ڈُوم‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بحران کے بعد کچھ نوکریاں کبھی واپس نہیں آئیں گی۔

    انھوں نے ایسے بحران کے بارے میں متنبہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ پروفیسر روبینی نے اس سے پہلے سنہ 2008 میں بھی بہت سے دوسرے لوگوں سے پہلے بحران کی پیشینگوئی کر دی تھی۔

    انھوں نے بی بی سی کے پروگرام ’ٹاکنگ ایشیا‘ میں بات کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2008 کے عالمی مالی بحران کو طاقت اختیار کرتے تین سال لگے تھے لیکن اس بار پیداوار کو گرنے میں تین ماہ بھی نہیں لگے۔

    انھوں نے کہا کہ اس بحران سے واپسی انگریزی زبان کے حروف ’یو‘ یا ’ایل‘ کی شکل میں ہو گی۔

    ’یو‘ کا مطلب ہے کہ ایک بار پیداوار نیچے گرے گی اور پھر کم یا بالکل پیداوار نہ ہونے کے طویل عرصے کے بعد ہی بحال ہو گی۔

    ’ایل‘ کی شکل اختیار کرنے کا مطلب ہوتا ہے کہ پیداوار تیزی سے نیچے جاتی ہے اور پھر طویل عرصے تک صورتحال نہیں بدلتی۔

    انھوں نے کہا کہ امیر اورغریب ممالک میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو نوکریاں ختم ہوئی ہیں ان میں کچھ واپس آئیں گی لیکن پہلے سے کم آمدن اور مراعات کے ساتھ۔

    انھوں نے کہا کہ عام آدمی نوکریوں اور تنخواہ کے معاملے میں زیادہ عدم تحفظ کا شکار رہے گا۔

    ان کی وارننگ اس وقت سامنے آئی ہے جب دنیا بھر میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 50 لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور بہت سے ممالک کو انفیکشن کی دوسری لہر کا سامنا ہے جس کی وجہ سے معیشت کے دوبارہ کھلنے میں وقت لگ رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ چین میں اب بھی زیادہ تر شاپنگ سنٹر آدھے خالی ہیں۔ پروازوں کی تعداد نصف سے کم ہے۔ جرمنی میں دوکانیں کھلی ہیں لیکن کون شاپنگ کرنے جانا چاہتا ہے؟

    پروفیسر روبینی نے کہا کہ امکان ہے کہ ایشیا کی ابھرتی ہوئی معیشتیں ترقی یافتہ معیشتوں سے بہتر کارکردگی دکھائیں گی۔ لیکن چین اور امریکہ میں فاصلہ بڑھ جائے گا اور ایشیا کے بہت سے ممالک کو ان دو سپر پاوروں میں سے ایک کو چننا ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ ان دونوں ممالک کا دنیا کے لیے پیغام ہو گا کہ ’تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف۔ یا آپ ہمارا مصنوعی ذہانت کا نظام استعمال کریں گے، ہماری فائیو جی ٹیکنالوجی یا روبوٹ اپنائیں گے یا ہمارے مخالف ہوں گے۔‘

    اس طرح دنیا مزید بٹ جائے گی۔

  5. آئرلینڈ میں 21 مارچ کے بعد پہلی مرتبہ کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

    آئرلینڈ میں پیر کو کورونا وائرس سے کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔

    21 مارچ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ملک میں کوئی شخص کورونا سے ہلاک نہیں ہوا۔

    آئرلینڈ میں کووڈ 19 سے مجموعی طور پر 1606 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    محکمہ صحت نے وائرس سے متاثرہ 59 نئے مریضوں کی تصدیق کی ہے جس کے بعد متاثرین کل تعداد 24698 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ ہفتے چیف میڈیکل آفیسر ٹونی ہولوہن نے کہا تھا کہ وائرس کو ’معاشرے سے مؤثر طریقے سے ختم کر دیا گیا ہے۔‘

    8 جون سے آئرلینڈ میں ایک دوسرے کے گھر جا کر ملنے کی اجازت ہوگی اور چھوٹی دکانیں اور لائبریریاں بھی کھل سکیں گی۔

  6. بریکنگ, بلوچستان: 61 نئے مریض، مزید ایک ہلاکت کی تصدیق

    بلوچستان کے صوبائی محکمہ صحت کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے 61 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرین کی کل تعداد 3468 ہو گئی ہے۔

    صوبے میں ایک اور ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔ جس سے بلوچستان میں اموات کی کل تعداد 41 ہوگئی ہے۔

    محکمہ صحت حکومت بلوچستان کے مطابق 24مئی کو کورونا کے 196 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 61 پازیٹو آئے۔ بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر21597 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 18129 کے نتائج منفی آئے۔

    بلوچستان میں مجموعی طوپر پر 51342 افراد کی سکریننگ کی جا چکی ہے۔

    مشتبہ مریضوں کی تعداد 20352 ہے جبکہ کورونا وائرس سے اب تک 993 افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔

  7. کیا گرم موسم کورونا وائرس کو ختم کر دے گا؟

    کچھ لوگوں کو امید ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے سے کورونا وائرس کی وبا ختم ہو جائے گی۔ لیکن عام موسمی وباؤں کے برعکس کووِڈ 19 جیسی وبائی بیماریوں میں صورتحال اکثر مختلف ہوتی ہے۔

    اکثر متعدی بیماریاں موسم کے بدلنے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں۔ مثلاً عام نزلہ زکام جو عموماً موسمِ سرما کی آمد کے ساتھ ہی پھیلتا ہے مگر موسم گرما میں ختم ہو جاتا ہے۔ اِسی طرح نورو وائرس بھی موسم سرما ہی میں اپنے پاؤں جماتا ہے۔

    اِن کے برعکس ٹائیفائڈ گرمیوں میں سامنے آتا ہے جبکہ خسرہ جیسا مرض گرمیوں میں کم ہو جاتا ہے۔

    اِسی لیے اِس میں حیرت کی کوئی بات نہیں کہ اگر لوگ یہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا کووِڈ 19 پر بھی کیا موسم کے بدلنے سے کوئی فرق پڑ سکتا ہے۔

  8. بریکنگ, گلگت بلتستان: 11 نئے مریض، ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہو گئی, محمد زبیر خان، صحافی

    گلگت بلتستان میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہوچکی ہے۔

    محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق دو روز میں تین ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ ایک 25 مئی کو ہوئی ہے۔

    گیارہ نئے مریضوں کے ساتھ گلگت بلتستان میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 630 ہے۔

    صحت یاب مریضوں کی تعداد 440 جبکہ 178 مریض زیرِ علاج ہیں۔

    اس وقت کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض 98 گلگت میں ہیں جبکہ استور میں 29 اور ہنزہ میں 16 مریض ہیں۔

  9. ایران : 24 گھنٹوں میں 2023 نئے مریض، اموات کی سب سے کم تعداد رپورٹ

    ایرانی حکومت کے مطابق 25 مئی کو ملک میں کووڈ 19 سے متاثرہ 2023 نئے متاثرین سامنے آئے، جس سے ملک میں متاثرین کی سرکاری تعداد 137724 ہوگئی ہے۔

    وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور کا کہنا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 34 مریض ہلاک ہوئے ہیں۔ جس سے اموات کی مجموعی تعداد 7451 ہو گئی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں فروری میں کووڈ 19 کی وبا شروع ہونے کے بعد سے اب تک ایک دن میں اموات کی سب سے کم تعداد ہے۔

    انھوں نے مزید کہا کہ 19 صوبوں میں کوئی اموات رپورٹ نہیں کی گئیں جبکہ پانچ میں صرف ایک ہی موت کا اندراج ہوا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 107713 ہے جبکہ 2585 مریض تشویشناک حالت میں ہیں۔

    انھوں نے مزید بتایا کہ ملک میں اب تک 818917 ٹیسٹ کروائے جا چکے ہیں۔

  10. انڈونیشیا: کورونا وائرس کے 479 نئے مریض، مزید 19 اموات

    انڈونیشیا کی وزارت صحت کے عہدیدار اچماڈ یوریانو کے مطابق ملک میں پیر کے روز کورونا وائرس سے متاثرہ 479 نئے مریض رپورٹ ہوئے جن سے متاثرین کی تعداد 22750 ہوگئی ہے۔

    یوریانو نے مزید 19 اموات کی بھی تصدیق کی، جس کی مجموعی تعداد 1391 ہوگئی ہے۔

    مشرقی ایشیا میں چین کے بعد سب سے زیادہ اموات انڈونیشیا میں ہوئی ہیں۔

  11. ڈومینک کمنگز: مشکل صورتحال کے باوجود ’مناسب رویے‘ کا مظاہرہ کیا

    برطانیہ میں وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر ڈومینک کمنگز کا کہنا ہے کہ انھیں بچوں کی دیکھ بھال کے ساتھ 'مشکل صورتحال' کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کا خیال ہے کہ انھوں نے ’مناسب رویے‘ کا مظاہرہ کیا۔

    کمنگز لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات کا جواب دے رہے تھے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کے بارے میں خبروں کے بعد ان کا لندن کا گھر ایک ’ٹارگٹ‘ بن گیا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے خاندان کی حفاظت کے لیے خوفزدہ ہوگئے۔

    کمنگز نے اعتراف کیا کہ انھوں نے وزیر اعظم کو ڈرہم سفر کرنے کے فیصلے کے متعلق نہیں بتایا تھا۔

    انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ لوگ ناراض تھے اور وہ ’ناانصافی کے خیال سے نفرت کرتے ہیں‘ اس لیے انھیں جلدی بیان دینا چاہیے تھا۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ انھوں نے جو کیا اس کی وضاحت ہے، معافی نہیں۔

  12. مصنوعی ذہانت کورونا وائرس کے علاج کی دریافت کا عمل کیسے تیز کر سکتی ہے؟

    ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا پر قابو پانے اور اس سے ہونے والی اموات کے سلسلے کو روکنے کے لیے کسی مافوق الفطرت مدد کی ضرورت ہے۔

    شاید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر بیان جاتا ہے۔ لیکن جب بات طب کی آتی ہے تو اس شعبے میں مصنوعی ذہانت کتنی کارآمد ثابت ہوئی ہے، اس کا مصدقہ ریکارڈ موجود ہے۔

    تو کیا مصنوعی ذہانت اس خطرناک بیماری کا علاج دریافت کرنے کے چیلینج میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے؟

  13. سپین: یکم جولائی سے بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے دو ہفتے قرنطینہ کی شرط ختم

    دنیا میں سیاحت کے لحاظ سے دوسرے مقبول ترین ملک سپین نے اعلان کیا ہے کہ وہ یکم جولائی سے بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کے لیے دو ہفتے قرنطینہ کی شرط کو ختم کر دے گا۔

    وزیر خارجہ ارنچا گونزالیز لیا کا کہنا تھا ’ہم نے برا وقت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔‘

    انہوں نے ٹویٹ کیا ’جولائی سے ہم آہستہ آہستہ سپین کو بین الاقوامی سیاحوں کے لیے کھولیں گے، قرنطین کو ختم کریں گے اور صحت کے تحفظ کے اعلی معیار کو یقینی بنائیں گے۔‘

    اس سے قبل وزیر سیاحت رئیس ماروٹو نے سیاحوں کو ہدایت کی تھی کہ وہ جولائی کے لیے تعطیلات کی بکنگ شروع کر دیں۔

  14. سیاح باز نہ آئے، خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کو جانے والے راستوں پر ٹریفک جام, محمد زبیر خان، صحافی

    حکومتی پابندیوں ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤس بند ہونے کے باوجود عید کے دوسرے روز سیاحوں نے صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات اور مری کا رخ کرلیا جہاں سے انھیں واپس بھیجا جارہا ہے۔

    سیاحوں کی اتنی بڑی تعداد کے باعث سوات میں جی ٹی روڈ، شاہراہ قراقرم اور دیگر مقامات پر ٹریفک میں خلل پڑتا رہا اور ضلع ایبٹ آباد، سوات، مانسہرہ اور دیگر مقامات پر سے پولیس سیاحوں کو واپس بھیج رہی ہے۔

    روایتی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ کے لوگ بالخصوص نوجوان اور سیاح عید کی چھٹیوں کو سیر و سیاحت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    گذشتہ سالوں میں عید کے دوران صوبہ خیبر پختونخواہ کے سیاحتی مقامات سمیت مری اور دیگر علاقوں میں سیاحوں کا بہت زیادہ رش دیکھا جاتا رہا ہے مگر اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے حکومت نے سیاحت پرپابندیاں عائد کررکھی ہیں۔

    ایبٹ آباد میں صبح ہی سے سیاحوں کی کئی گاڑیوں نے ضلع میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ یہ سیاح سوات ایبٹ آباد کے راستے مانسہرہ کے علاقوں وادی کاغان یا پھر گلیات کی طرف جانا چاہ رہے تھے۔ مگر پولیس نے ضلع ایبٹ آباد کی حدود پر ناکے لگا رکھے تھے جہاں سے سیاحوں کو واپس کیا جاتا رہا۔

    سیاحوں کی گاڑیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے شاہراہ قراقرم ٹریفک کے لیے بھی بند ہوتا رہا۔

    مانسہرہ سے مقامی صحافی نعمان شاہ کے مطابق مانسہرہ پولیس نے ضلع مانسہرہ کی حدود کے علاوہ دیگر مقامات پر ناکے لگا رکھے ہیں جبکہ بالاکوٹ سے آگے وادی کاغان جانے والے راستے کو مکمل طور پر سیل کیا ہوا ہے مگر اس کے باوجود سیاحوں کی بڑی تعدا د مانسہرہ میں داخل ہونے کے بعد بالاکوٹ تک پہنچ گئی۔

    نعمان شاہ کے مطابق بالاکوٹ میں گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں جبکہ پولیس اور انتظامیہ سیاحوں کو واپس بھجنے کے انتظامات کررہی ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے بالاکوٹ کو جانے والے راستوں کو مکمل سیل کردیا ہے اور رکاوٹیں کھڑی کردی گئیں ہیں۔

    سوات سے مقامی صحافی سعید الرحمن کے مطابق سوات میں سیاحوں کے داخلے پر پابندی کی وجہ سے پولیس نے سوات کے تمام داخلی راستوں پر سخت ترین اقدامات کررکھے تھے مگر اس کے باوجود بھی سیاح بڑی تعداد میں پہنچے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان سیاحوں کو سوات میں داخلے کی اجازت نہیں ملی اور شام تک سوات جی روڈ پر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ چکی ہیں جن کو واپس بھجا جارہا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک میں بھی خلل پڑا ہوا ہے۔

    راولپنڈی پولیس کے ترجمان سجاد الحق کے مطابق مری داخلے کے تمام راستے بھی بند ہیں لیکن سیاح عید کے دوسرے روز صبح ہی سے مری میں داخل ہونے کی کوشش کررہے ہیں مگر ان کو واپس بھیجا جارہا ہے۔

    مری کے ہوٹل وغیرہ پہلے ہی سے بند ہیں۔ ہوٹل ایسوسی ایشن ہزارہ ڈویثرن کے مطابق حکومت کی جانب سے پابندی کے باعث ہمارے تمام ہوٹل بند ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاح اگر یہ سوچ کر مانسہرہ، گلیات وغیرہ کا رخ کررہے ہیں کہ ان کو وہاں پر رہائش کے لیے کوئی سہولت ملے گئی تو ایسا ممکن نہیں ہے اس لیے سیاح سوچ سمجھ کر ان علاقوں کا رخ کریں۔

    ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی سیاح یا کسی بھی ایسے شخص کو جس کے پاس سوات کا شناختی کارڈ نہیں ہےعید کے دنوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ عید کے دوسرے روز کئی سیاحوں نے سوات داخل ہونے کی کوشش کی مگر کسی کو بھی اجازت نہیں دی گئی اور ان کی گاڑیاں واپس کی جارہی ہیں۔

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ وبا کا دور ہے۔ نہ خود کو مشکل میں ڈالیں اور نہ ہی اپنے پیاروں کو مسائل کا شکار بنائیں اور کوشش کرکے اپنے گھروں میں اپنے پیاروں کے ساتھ عید کی چھٹیاں گزاریں۔

  15. سویڈن میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4000 سے تجاوز کر گئی

    سویڈن میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 4000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

    پبلک ہیلتھ ایجنسی کے پیر کو شائع کردہ اعدادوشمار کے مطابق سویڈن میں اموات کی تعداد 3998 سے بڑھ کر 4029 ہو گئی ہے جبکہ متاثرین کی تعداد 33459 سے بڑھ کر 33843 ہو چکی ہے۔

  16. امریکہ: میموریل ڈے پر ساحلوں کی صورتحال تصاویر میں

    امریکہ میں میموریل ڈے کے موقع پر ساحلِ سمندر لوگوں سے کچھا کچھ بھرے ہوئے تھے اور معاشرتی دوری پر کہیں عمل ہوتا نظر نہیں آیا۔

    کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک کے لوگوں نے متاثرین اور اموات میں اضافے کے باوجود پُرہجوم مقامات کا رخ کیا۔

  17. ڈومینک کمنگز لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات کا جواب دیں گے

    برطانیہ میں وزیرِ اعظم کے سینیئر مشیر ڈومینک کمنگز ایک بیان دینے والے ہیں جس میں وہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی سے متعلق الزامات کا جواب دیں گے۔

    مارچ میں ڈومینک کمنگز لندن سے 260 میل سفر کر کے اپنے والدین کے پاس گئے تاکہ وہ ان کے والدین انھیں اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں مدد دے سکیں۔ کمنگز کی بیوی اور انھیں خود کچھ دنوں بعد وائرس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد قرنطینہ میں رہنا پڑا تھا۔

    انھیں نے 14 دن تنہائی میں رہنے کے بعد اپنی کاؤنٹی ڈرہم تک 30 میل کا سفر بھی کیا۔

    تاہم بورس جانسن نے اپنے مشیر کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے جو بھی کیا وہ ’ذمہ دارای، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اور دیانت داری سے کیا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ ڈومینک کمنگز نے وہ کیا جو کوئی بھی دوسرا باپ کرتا۔

    تاہم اس حوالے سے ان پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ وزیرِ اعظم کے اپنے مشیروں کے لیے ایک قانون ہے جب باقی عوام کے لیے کچھ اور۔

  18. کورونا وائرس: کیا سونگھنے اور چکھنے کی حس ختم ہونا مرض کی علامات ہیں؟

    برطانوی محققین کا کہنا ہے کہ اگر آپ سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو جائیں تو ہو سکتا ہے کہ یہ کورونا وائرس کی علامت ہو۔

    کنگز کالج لندن میں ماہرین نے چار لاکھ سے زیادہ افراد ردعمل کو ایک ایپ کی مدد سے جانچا۔

    لیکن سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت کا ختم ہونا سانس کے انفیکشن کی علامات بھی ہو سکتی ہیں جیسے کہ ٹھنڈ لگ جانا وغیرہ۔

    ایک محقق کا کہنا ہے کہ بخار اور کھانسی اس وائرس کی اہم علامات ہیں جن کو دیکھنا اور اس پر کام کرنا ضروری ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ میں سے کسی مسلسل کھانسی ہو رہی ہے یا بہت تیز بخار ہے تو انھیں یہ مشورہ ہے کہ وہ گھر میں رہیں اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ نہ بنیں۔

  19. فلسطین: مقبوضہ مغربی کنارے میں دو ماہ بعد لاک ڈاؤن ختم کر دیا گیا

    فلسطینی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں کورونا وائرس پر قابو پانے کے لیے لگائے گئے دو ماہ کے لاک ڈاؤن کو ختم کررہی ہے۔

    فلسطین کے وزیر اعظم محمد اشتیہ کا کہنا ہے کہ دکانیں اور کاروبار منگل سے معمول کے مطابق کھل سکیں گے جبکہ سرکاری ملازمین عید کی چھٹی کے بعد بدھ کے روز کام پر واپس آجائیں گے۔

    آنے والے دنوں میں پابندیوں کے ساتھ کیفے اور ریستوراں بھی دوبارہ کھولے جائیں گے۔

    مغربی کنارے میں کورونا وائرس سے تین اموات اور 400 متاثرین کی تصدیق کی گئی ہے۔

  20. انڈیا میں پھنسے مزید 190 پاکستانی بدھ کے روز وطن واپس پہنچیں گے

    لاک ڈاؤن کے باعث انڈیا میں پھنسے مزید 190 پاکستانی بدھ کے روز واہگہ بارڈر سے وطن واپس پہنچیں گے۔

    وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے قومی سلامتی ڈاکٹرمعید یوسف کا کہنا ہے کہ انڈیا سے آنے والے افراد کو مسافروں کے لیے قائم ٹیسٹنگ پروٹوکول سے گزارا جائے گا۔

    انھوں نے تمام اداروں کے ساتھ ساتھ انڈیا میں پھنسے افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے صبر کے ساتھ وطن واپسی کا انتظار کیا۔