آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. پاکستان: عید کے پہلے اور دوسرے روز کورونا وائرس ٹیسٹنگ میں کمی کا رجحان

    پاکستان میں گذشتہ دو روز سے متاثرین میں کمی کی بڑی وجہ ٹسیٹنگ میں کمی بھی ہے۔

    گذشتہ دور روز یعنی عید کے پہلے اور دوسرے دن ملک میں بالترتیب 10049 اور 7252 ٹیسٹ کیے گئے جو اس سے قبل اوسطاً 15 ہزار یومیہ کیے جانے والے ٹیسٹس سے خاصے کم ہیں۔

  2. نیویارک سٹاک ایکسچینج میں سودے بازی کا آغاز

    نیویارک سٹاک ایکسچینج کورونا وائرس کی وجہ سے دو ماہ کی بندش کے بعد منگل کو دوبارہ سودے بازی کا آغاز کرے گا۔

    لیکن امکان ہے کہ نئے قواعد نافذ العمل ہونے سے سٹاک ایکسچینج اب دیکھنے میں بہت مختلف محسوس ہو گا۔

    نئے اقدامات کے مطابق صرف ایک چوتھائی تاجروں کو ہی کام پر واپس آنے کی اجازت ہو گی۔

    واضح رہے کہ نیویارک میں اب تک کورونا وائرس سے تقریباً 20 ہزار اموات ہو چکی ہیں جبکہ تقریباً دو لاکھ افراد اس سے متاثر ہوئے ہیں۔

  3. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1356 نئے مریض، 30 اموات

    پاکستان میں کورونا وائرس کی عالمی وبا کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1356 نئے مریض سامنے آئے ہیں جبکہ 30 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    اب تک ملک میں کل متاثرین 57 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ اموات 1200 کے قریب ہیں۔

    اب تک کل 18314 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    تاحال صوبہ سندھ متاثرین کے اعتبار سے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اموات کے اعتبار سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ ہے۔

  4. کورونا: ایکواڈور میں حکومت کے اقتصادی ردعمل کے خلاف احتجاج

    ایکواڈور میں ہزاروں افراد نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر حکومت کے اقتصادی ردعمل کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

    دارالحکومت کوئٹو میں لگ بھگ دو ہزار افراد نے پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے احتجاج میں حصہ لیا۔

    گذشتہ ہفتے ایکواڈور کے صدر نے کچھ سرکاری کمپنیوں کی بندش اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے اقدامات کا اعلان کیا تھا۔

    ایکواڈور جنوبی امریکہ کے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے۔ جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق ایکواڈور میں اب تک کورونا کے تقریباً 37 ہزار کیس سامنے آ چکے ہیں جبکہ دو ہزار سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    صدر لینن مورینو کی اعلان کردہ کٹوتیوں کے بعد ماسک پہنے اور جھنڈے اٹھائے مظاہرین نے ٹریڈ یونینز اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام مظاہروں میں شرکت کی۔

    صدر مورینو کے مطابق کورونا وائرس کے نتیجے میں ڈیڑھ لاکھ ملازمتیں ختم ہو گئیں ہیں۔

  5. کورونا لاک ڈاؤن میں نرمی: دنیا میں سماجی دوری کے زمانے میں تفریح، میل جول کے انوکھے طریقے

    جیسے جیسے سپین اور اٹلی جیسے ممالک میں کورونا وائرس کے باعث نافذ کیے جانے والے لاک ڈاؤن میں نرمی آ رہی ہے، کئی عوامی مقامات مثلاً گرجا گھر، پارک، ریستوران وغیرہ لوگوں کے درمیان سماجی دوری یقینی بنانے کے لیے انوکھے انوکھے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔

  6. ’دو برس سے کم عمر کے بچوں میں ماسک کا استعمال روک دیں‘

    جاپان کے ایک میڈیکل گروپ نے کہا ہے کہ دو سال سے کم عمر کے بچوں کو ماسک نہیں پہننا چاہیے کیونکہ اس سے انھیں سانس لینے میں دشواری اور دم گھٹنے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

    جاپان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن نے والدین کو متنبہ کیا ہے کہ نوزائیدہ بچوں کے لیے ماسک بہت زیادہ خطرہ ہیں۔

    ایسوسی ایشن نے اپنی ویب سائٹ میں ایک نوٹس میں کہا: ’دو برس سے کم عمر کے بچوں میں ماسک کا استعمال روک دیں۔‘

    واضح رہے کہ امریکہ میں بیماریوں کو کنٹرول کرنے کا ادارہ بھی یہ کہہ چکا ہے کہ دو برس سے کم عمر کے بچوں کو اپنے چہرے ڈھانپنے کی ضرورت نہیں۔

  7. انڈیا میں اندرونِ ملک پروازوں کا ’بے ہنگم‘ آغاز

    انڈیا میں پیر کے روز اندرونِ ملک پروازیں دو مہینے کی بندش کے بعد بحال کر دی گئی ہیں تاہم ایئرپورٹس پر مسافروں کا استقبال لمبی قطاروں اور افراتفری نے کیا۔

    مقامی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں 100 کے قریب پروازیں منسوخ کی گئیں تاہم اس سے کہیں زیادہ نے پرواز بھی بھری۔

    انڈیا میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ریاست مہاراشٹر کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ ایک دن میں اپنے ایئرپورٹس پر صرف 50 پروازیں اترنے کی اجازت دے گا۔

    غصے سے بھر پور مسافروں نے شکوہ کیا کہ انھیں پہلے سے اس حوالے سے نہیں بتایا گیا تھا۔ کچھ کو تو پروازوں کی منسوخی کے بارے میں ایئرپورٹ تک رسائی کے لیے بنائی گئی لمبی قطاروں میں کھڑے ہونے کے بعد پتا چلا۔

    انڈیا میں اب تک کووڈ 19 کے ایک لاکھ 30 ہزار متاثرین جبکہ 4021 اموات سامنے آ چکی ہیں۔

  8. برازیل عالمی ادارہ صحت کے خدشات کے باوجود کلوروکوین کا استعمال جاری رکھے گا

    برازیل کا کہنا ہے کہ وہ عالمی ادارہ صحت کے خدشات کے باوجود کووڈ 19 کے خلاف ہائیڈروکسی کلوروکوین اور کلوروکوین استعمال کرنے کی اپنی سفارش تبدیل نہیں کرے گا۔

    برازیل کے صدر جیر بولس نارو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح وائرس کے خلاف اس دوا کے استعمال پر زور دیتے رہے ہیں۔

    گذشتہ ہفتے میڈیکل جریدے لینسیٹ میں چھپنے والی ایک تحقیق میں کہا گیا تھا کہ ہائیڈرو آکسی کلوروکوین سے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کرنے کے کوئی فوائد نہیں ہیں اور اس کے استعمال سے ہسپتال میں اموات کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    برازیل میں صحت کے ایک عہدیدار نے کہا ’ہم پرسکون ہیں اور کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔‘

  9. بریکنگ, سعودی عرب: مکہ کے علاوہ ملک بھر میں کرفیو 21 جون کو ہٹایا جائے گا، سرکاری خبر رساں ایجنسی

    سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ہفتے ملک میں لگے کرفیو کے اوقات میں کمی لائی جائے گی جبکہ اگلے ماہ کی 21 تاریح سے مکہ کے علاوہ پورے ملک میں کرفیو ہٹا دیا جائے گا۔

    منگل کو سامنے آنے والے ایک پیغام میں بتایا گیا ہے کہ 31 مئی سے اندرون ملک سفری پابندیوں، مساجد میں نمازوں کی ادائیگی اور سرکاری و غیر سرکاری دفاتر میں کام کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

    مکہ میں کرفیو کے اوقات دوپہر تین بجے سے صبح چھ بجے تک ہوں گے جبکہ 21 جون سے مساجد میں نماز کی ادائیگی کی اجازت دے دی جائے گی۔

  10. کورونا: جرمنی میں مریضوں کی تعداد 179002، اموات 8302

    جرمنی کے رابرٹ کوچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 432 نئے کیسز کے ساتھ ملک میں کورونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 179002 ہو گئی ہے۔

    45 مزید اموات کے بعد ملک میں کورونا سے ہلاکتوں کی تعداد 8302 ہو گئی ہے۔

  11. نیوزی لینڈ: کورونا سے متاثرہ صرف ایک شخص ہسپتال میں

    نیوزی لینڈ میں کورونا وائرس سے متاثرہ صرف ایک شخص ہسپتال میں داخل ہے جبکہ ملک بھر میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد صرف 22 ہے۔

    50 لاکھ افراد پر مشتمل نیوزی لینڈ میں کورونا کے تقریباً 1500 مریض رپورٹ ہوئے جبکہ وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 21 ہے۔

    حکام اس بارے میں پر اعتماد ہیں کہ انھوں نے ’مقامی منتقلی کا سلسلہ‘ توڑ دیا ہے کیونکہ مئی کے مہینے میں کورونا کے کوئی نئے کیس سامنے نہیں آئے۔

    ملک میں جاری لاک ڈاؤن بھی ہٹا لیا گیا ہے تاہم اصل خطرہ تب ہو گا جب نیوزی لینڈ اپنی سرحدیں دوبارہ کھولے گا۔

  12. لاک ڈاؤن کے دوران ایک جوڑے کا اپنی نوزائیدہ بچی کو دیکھنے کی خاطر طویل سفر

  13. انڈیا کورونا سے متاثرہ دس سرِفہرست ممالک میں شامل

    انڈیا کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ دس ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق انڈیا میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 144950 ہو چکی ہے۔

    انڈیا میں وبا کے باعث ہونے والی اموات کی تعداد 4172 ہو چکی ہے۔

    کورونا سے متاثرہ دس سرفہرست ممالک میں بالترتیب امریکہ، برازیل، روس، برطانیہ، سپین، اٹلی، فرانس، جرمنی، ترکی اور انڈیا شامل ہیں۔

    اس فہرست کے مطابق 56 ہزار سے زائد متاثرین کے ساتھ پاکستان 19ویں نمبر پر ہے۔

  14. دنیا بھر میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 55 لاکھ کے لگ بھگ, اموات تین لاکھ 45 ہزار سے زائد

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 55 لاکھ کے لگ بھگ ہو چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد تین لاکھ 45 ہزار سے زائد ہے۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر کے 188 ممالک اور خطوں میں کورونا متاثرین موجود ہیں۔

    اس وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں متاثرین کی کُل تعداد 16 لاکھ 62 ہزار سے زائد ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 98 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    وبا سے متاثرہ سرفہرست ممالک کی تفصیل کچھ یوں ہے:

    • برازیل میں مصدقہ متاثرین کی تعداد تین لاکھ 74 ہزار سے زائد ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 23 ہزار سے زیادہ ہے
    • روس میں کورونا متاثرین کی تعداد تین لاکھ 53 ہزار سے زائد جبکہ اموات کی تعداد 3633 ہے
    • برطانیہ میں متاثرین دو لاکھ 62 ہزار سے بڑھ چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 37 ہزار کے لگ بھگ ہے
    • سپین میں متاثرین دو لاکھ 35 ہزار سے زائد جبکہ اموات کی تعداد 26824 ہے
    • اٹلی میں متاثرین کی مجموعی تعداد دو لاکھ 30 ہزار سے زائد جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 32877 ہے
    • فرانس میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 83 ہزار جبکہ اموات کی تعداد 28 ہزار سے زائد ہے
    • جرمنی میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ 80 ہزار جبکہ اس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار 300 سے زائد ہے
    • انڈیا میں متاثرین کی تعداد ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ ہے جبکہ اموات کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے
  15. پی آئی اے کی خصوصی پرواز 30 مئی کو امریکہ روانہ ہو گی

    پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے امریکہ کے لیے ایک خصوصی پرواز کا اعلان کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پی آئی اے نے اعلان کیا ہے کہ یہ خصوصی پرواز وزارت خارجہ کی ہدایات پر چلائی جا رہی ہے۔

    یہ پرواز 31 مئی کو امریکہ جانے والے مسافروں کو لے کر پاکستان سے روانہ ہو گی اور دو جون کو پاکستان آنے کے خواہشمند مسافروں کو لے کر پاکستان واپس آئے گی۔

    اکانومی کلاس کے ٹکٹ کی قیمت 1385 امریکی ڈالر ہے جبکہ ایگزیکٹیو اکانومی کے ٹکٹ کی قمیت 1982 ہو گی۔

    امریکہ میں موجود پاکستانیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سیٹوں کی بکنگ کے لیے واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔

  16. جرمنی: لاک ڈاؤن میں نرمی کے معاملے پر اختلاف رائے

    کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اٹھائے گئے اقدامات کے باعث جرمنی کی کافی تعریف کی گئی ہے۔ حکومت نے وسیع پیمانے پر ٹیسٹنگ پروگرام کا آغاز کیا اور دیگر یورپی ممالک کے برعکس جرمنی میں ہلاکتوں کی تعداد آبادی کے لحاظ سے بہت کم ہے۔

    جرمنی کی 16 ریاستوں کے سربراہان سے گفت و شنید کے بعد جرمن چانسلر اینگلا مرکل نے رواں ماہ ملک گیر لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کیا تھا۔

    یہ نرمی کب کرنی ہے ہر ریاست کو اس کا اختیار دیا گیا ہے اور کوئی بھی ریاست صورتحال دیکھتے ہوئے پابندیوں کو دوبارہ نافذ بھی کر سکتی ہے۔

    تاہم ریاستوں کے مابین پابندیوں میں نرمی کرنے اور اس کے طریقہ کار پر اختلاف سامنے آیا ہے۔ چند ریاستوں کی انتظامیہ ایسا جلد از جلد کرنا چاہتی ہیں مگر چند بتدریج اور مرحلہ وار۔

    مشرقی ریاست تھورینگیا کے وزیر اعظم بوڈو رمیلو نے اعلان کیا ہے کہ چھ جون سے سماجی فاصلہ رکھنے اور چہرے پر ماسک پہننے کی شرط کو ختم کر دیا جائے گا۔ اسی نوعیت کا اعلان دوسری ریاستوں نے بھی کیا ہے۔

    مگر برلن میں وفاقی حکومت کو یہ خدشات لاحق ہیں کہ اس نوعیت کی نرمیاں کرنے کے نتائج کیا ہوں گے؟

    جرمنی کے وفاقی وزیر صحت جینز سپہان نے سرکاری نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے ’کسی بھی صورت میں یہ تاثر نہیں دیا جانا چاہیے کہ وبائی بیماری ختم ہو گئی ہے۔‘

  17. سویڈن: وبا کے دوران ’ڈیٹنگ‘ اور جنسی تعلقات کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری, میڈی سیویج، نمائندہ بی بی سی سٹاک ہوم

    سویڈن میں صحت عامہ کی ایجنسی نے کورونا کی وبا کے دوران ’ڈیٹنگ‘ اور جنسی تعلقات قائم کرنے کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری کیا ہے۔

    یہ ہدایت نامہ ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب سویڈن میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

    ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ’ڈیٹنگ اور نئے پارٹنر (ساتھی) کے ساتھ عارضی جنسی تعلقات قائم کرنے سے وائرس سے متاثر ہونے یا دوسروں کو اس سے متاثر کرنے کے خدشات لاحق ہوتے ہیں۔‘

    تاہم ہدایت نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’قربت، جنسی تعلق اور سیکس عوامی صحت کی بہتری کے لیے مفید ہے‘ اور وہ افراد جو کسی تعلق میں منسلک ہیں ان کے لیے ’سیکس کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے مگر صرف اس وقت تک جب تک (جنسی تعلق قائم کرنے والوں میں سے کسی میں) بیماری کی علامات نہ ہوں۔‘

    گذشتہ ماہ ڈنمارک نے اعلان کیا تھا کہ سماجی فاصلہ برتنے کے حوالے سے جاری کردہ قواعد و ضوابط جنسی تعلقات پر لاگو نہیں ہوتے۔

    سویڈن میں وبا کے دوران لاک ڈاؤن کا باقاعدہ نفاذ نہیں کیا گیا ہے اور دیگر یورپی ممالک کے برعکس سوئیڈن کے زیادہ تر علاقے بشمول ریستوران اور شراب خانے کھلے ہیں۔

    تاہم وہ مقامات جو عوام کے لیے کھلے ہیں وہاں انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اجنبی افراد کے آپس میں گھلنے ملنے کی حوصلہ شکنی کریں۔

  18. برطانیہ: ’رمضان رننر‘ نے خیراتی ادارے کے لیے 50 ہزار پاؤنڈ اکھٹے کر لیے

    برطانیہ میں ماہ رمضان کے دوران روزے کی حالت میں 260 کلومیٹر کا راستہ دوڑ کر طے کرنے والے ایک شخص نے خیراتی ادارے کے لیے 50 ہزار برطانوی پاؤنڈ کی رقم اکھٹی کر لی ہے۔

    کوونٹری سے تعلق رکھنے والے ہارون موٹا نے ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے اس مقصد میں ان کی بھرپور سپورٹ کی۔ انھوں نے کہا کہ ان کا ٹارگٹ 25 ہزار پاؤنڈ جمع کرنے کا تھا مگر لوگوں کی بھرپور اعانت کے باعث وہ اپنے ٹارگٹ سے دگنی رقم اکھٹی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

    کورونا کے باعث دنیا کے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن کے نفاذ سے قبل 34 سالہ ہارون نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ دنیا بھر میں غربت سے نمٹنے کے خیراتی ادارے ’پینی اپیل‘ کے لیے فنڈ اکھٹا کرنے کی غرض سے چار بڑی میراتھان ریسوں میں حصہ لیں گے۔

    مگر لاک ڈاؤن کے بعد انھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ رمضان کے دوران ہر روز روزہ رکھ کر 10 کلومیٹر دوڑ لگائیں گے۔

    انھوں نے خیراتی ادارے کے لیے رقم اکھٹی ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

  19. سپین، ہلاکتوں کی تعداد میں ترمیم: اموات 28 ہزار سے کم ہو کر 26 ہزار رہ گئیں

    سپین میں حکام نے کورونا وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں ترمیم کرتے ہوئے کہا ہے کہ چند ہلاکتوں کا شمار غلطی سے ایک کی بجائے دو مرتبہ کیا گیا تھا۔

    اس سے قبل سپین میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 28 ہزار 700 بتائی جا رہی تھی تاہم حالیہ ترمیم کے بعد ہلاکتوں کی کُل تعداد گھٹ کر لگ بھگ 26 ہزار 800 ہو گئی ہے۔

    سپین میں صحت حکام کے مطابق نہ صرف چند ہلاکتوں کو دو مرتبہ شمار کیا گیا بلکہ ہلاک ہونے والے چند ایسے افراد کو بھی کورونا کا مشتبہ مریض قرار دیا گیا جو درحقیقت کسی اور بیماری کا شکار تھے۔

    سپین کورونا سے شدید متاثرہ ممالک میں سے ایک ہے۔ تاہم اب یہاں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی برتی جا رہی ہے۔

    حکام نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی سے سپین آنے والے غیرملکی سیاحوں کے لیے دو ہفتے قرنطینہ میں رہنے کی شرط کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔

  20. امریکہ: ’وہ ریاستیں زیادہ متاثر ہیں جہاں ڈیموکریٹس کا غلبہ ہے‘

    امریکہ میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ چکی ہے جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تین لاکھ 45 ہزار سے زائد ہے۔

    کورونا کا پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کی شرح امریکہ کی تمام ریاستوں میں یکساں نہیں ہے۔ اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ریاستیں جہاں عوام کا جھکاؤ ڈیموکریٹس کی جانب ہے وہ اس وبا سے زیادہ متاثر ہیں۔

    نیویارک ٹائمز کے ایک تجزیے کے مطابق وہ کاؤنٹیز (اضلاع) جہاں سے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں فتح حاصل کی تھی وہاں کورونا متاثرین کی تعداد امریکہ میں وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد کا 27 فیصد ہے جبکہ یہاں ہلاکتوں کی شرح ملک میں مجموعی ہلاکتوں کی شرح کا 21 فیصد ہے۔

    دلچسپ امر یہ ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کی جانب جھکاؤ رکھنے والی ان ریاستوں میں امریکی آبادی کا 45 فیصد حصہ رہائش پذیر ہے۔

    مگر ایسا کیوں ہے؟ اس کا سادہ سا ایک جواب یہ ہے کہ اس کے پس پردہ عوامل میں سے ایک آبادی کا گنجان آباد ہونا ہے۔

    امریکہ میں وائرس نے زیادہ تباہی ان اضلاع میں مچائی ہے جو گنجان آباد ہیں اور شہری علاقوں پر مشتمل ہیں، اور یہ وہی اضلاع ہیں جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے۔

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق اگر مجموعی طور پر بات کی جائے تو چند ایسے اضلاع جہاں عوام کا جھکاؤ ریپبلیکنز کی جانب ہے وہاں اب انفیکشن کی شرح میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ وہ ریاستیں جہاں ڈیموکریٹس کی اکثریت ہے جیسا کہ نیو یارک اور نیو جرسی وہاں کیسز کی تعداد میں کمی آ رہی ہے۔