آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا وائرس کے دوران پابندیوں میں رہنے والی ’لاک ڈاؤن جینریشن‘ کئی دہائیوں تک متاثر رہ سکتی ہے

دنیا میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 56 لاکھ 18 ہزار سے زیادہ جبکہ ہلاکتوں کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ پاکستان میں متاثرین کی تعداد 60 ہزار کے قریب ہے۔ کراچی کے این آئی بی ڈی میں جمعرات سے کورونا اینٹی باڈی ٹیسٹنگ کا آغاز متوقع ہے جبکہ پنجاب میں عید کے بعد کاروبار صرف پیر تا جمعرات کھلیں گے۔

لائیو کوریج

  1. لاک ڈاؤن میں نرمی سے متاثرین کی تعداد میں دوسرا عروج آسکتا ہے، عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں متعدد ممالک کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کورونا وائرس کی عالمی وبا کا پھیلاؤ بڑھ سکتا ہے اور متاثرین کی تعداد میں ’دوسرا عروج‘ آ سکتا ہے۔

    عالمی ادارہ صحتت کے ایمرجنسیز کے سربراہ ڈاکٹر مائیکل رائن نے پیر کے روز ایک بریفنگ میں کہا کہ دنیا ’کورونا وائرس کیسز کے پہلے عروج کے بیچ میں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ کیونکہ بیماری کے پھیلاؤ میں بدستور اضافہ ہو رہا ہے تمام ممالک کو یہ سمجھنا ہو گا کہ بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔

    ڈاکٹر رائن نے کہا کہ ’ہم اس بارے میں اندازہ نہیں لگا سکتے کہ کیونکہ اس وقت بیماری کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اس لیے اس میں بدستور کمی ہی آئے گی۔

    ان کا مزید کہنا تھا ہمارے پاس کورونا وائرس کیسز میں ہوشربا اضافے کے خلاف تیاری کے لیے متعدد مہینے ہوں گے۔

    یہ تنبیہ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب متعدد ممالک لاک ڈاؤن نرمی لا رہے ہیں اور دکانیں کھولنے کی اور بڑے اجتماعات کی اجازت دے رہے ہیں۔

  2. کورونا وائرس: اسلام آباد میں این سی او سی کا جائزہ اجلاس جاری

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کیے جانے والا نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس جاری ہے۔

    عید کے تیسرے روز منعقد کیے جانے والے اس اجلاس میں آئندہ کا لائحہ بھی طے کیا جائے گا۔

  3. بریکنگ, ڈومینک کمنگز کے لاک ڈاؤن توڑنے کے تنازعے پر برطانوی وزیر مستعفی ہو گئے

    حکومتی وزیر ڈگلس راس نے برطانوی وزیرِ اعظم بورس جانسن کے مشیر ڈومینک کمنگز کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے اور اس کے بعد کھڑے ہونے والے تنازعے پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

    راس نے ایک بیان میں کہا کہ ’میں ان کی جانب سے صورتحال پر دیے جانے وضاحتی بیان کو سراہتا ہوں لیکن اس وضاحت میں اب بھی کچھ ایسے پہلو ہیں جن سے مجھے مسئلہ ہے۔‘

    راس پہلے وزیر ہیں جنھوں نے اس تنازعے کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔

  4. پاکستان میں سیاحت پر پابندی ہزاروں خاندانوں کے لیے تباہی کا پیغام

  5. جنوبی کوریا سے لاک ڈاؤن کا احوال پاکستانی طالبہ کی زبانی

    مشرقِ بعید کے ملک جنوبی کوریا میں اگرچہ کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد نسبتاً کم ہے لیکن وہاں بھی اِس وبا سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطتی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں۔

    دارالحکومت سیول میں کیا حالات ہیں، بتا رہی ہیں وہاں موجود پاکستانی طالبہ سعدیہ رند اپنے اِس وی لاگ میں۔

  6. مارچ میں کھیلوں کی تقریبات سے ’مصائب اور اموات میں اضافہ‘ ہوا

    برطانیہ میں کووڈ 19 کے سب سے بڑے ٹریکنگ منصوبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ مارچ میں ہونے والی کھیلوں کی دو اہم تقریبات کی وجہ سے ’مصائب اور اموات میں اضافہ‘ ہوا ہے۔

    چیلتین ہیم فیسٹیول اور لیورپول کے چیمپیئنز لیگ میں اٹلیٹیکو میڈرڈ کے خلاف میچ کے فوراً بعد ہی لاکھوں رضاکاروں سے جمع کردہ ڈیٹا سے کورونا وائرس کے ’ہاٹ سپاٹ‘ کے بارے میں پتا چلا۔

    پروفیسر ٹم سپیکٹر نے کہا ہے کہ مقامی طور پر کیسز کی شرح میں ’کئی گنا‘ اضافہ ہوا ہے جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ ایک خاص علاقے میں بہت سے عوامل کیسز کی تعداد کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود، تین مہینے سے بھی کم عرصہ قبل تک برطانیہ میں کھیل معمول کے مطابق جاری تھے۔

    لیکن کنگز کالج لندن کے پروفیسر ٹم سپیکٹر نے کہا کہ ’اس فیصلے کی وجہ سے لوگ شاید وقت سے پہلے ہی دم توڑ چکے ہوں گے۔‘

  7. بریکنگ, کورونا وائرس: روس میں ایک دن میں ریکارڈ 174 اموات

    روس میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ریکارڈ 174 اموات سامنے آئی ہیں جس کے بعد ملک میں کل اموات کی تعداد 3807 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ روز 8915 کیس سامنے آئے جس سے ملک میں کل متاثرین کی تعداد 362342 ہو گئی ہے۔

    ماسکو میں سب سے زیادہ 2830 جبکہ ماسکو خطے میں 817 اور سینٹ پیٹرزبرگ میں 364 نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    اب تک ملک میں 131129 افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

  8. ’عید پر کی جانے والی بے احتیاطی کے نتائج آئندہ دنوں میں برآمد ہوں گے‘

    محکمہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل محمد سلیم ابڑو نے بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر عوام کی اکثریت نے سماجی فاصلوں اور احتیاطی تدابیرکو بالائے طاق رکھ دیا جس کے منفی نتائج آئندہ ایک دو روز میں برآمد ہونا شروع ہو جائیں گے۔

    کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق اپنے ایک بیان میں انھوں نے اس امر پر افسوس کا اظہار کیا کہ عوام کی جانب سے کورونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا حکومت کی جانب سے مروجہ اصول و قواعد کو عوامی سطح پر نظر انداز کیا جارہا ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ اس وقت کورونا کے پھیلاؤ کا تناسب لگ بھگ 30 سے 35 فیصد تک ہے۔ اگر عوام نے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل درآمد نہ کیا تو اکتوبر نومبر تک پھیلاؤ کا یہ تناسب 79 فیصد تک جا سکتا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے عوام کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا ان کا کہنا تھا کہ دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے اب تک صورتحال کو سنبھالا دیا گیا ہے تاہم اگرعوام نے احتیاطی تدابیر کو مسلسل نظر انداز کیا تو وبا کے پھیلاؤ کا تناسب غیر معمولی حد تک بڑھ جائے گا۔

    لاک ڈاون میں نرمی عوامی مشکلات کے مدنظر کی گئی تاہم عوام ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کر رہے اور اگر عوامی سطح پر غیر سنجیدگی برقرار رہی تو مزید سخت حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انھوں نے کہا کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کے فقدان کے باعث معمولاتِ زندگی کی بحالی میں غیر معمولی تاخیر ہو سکتی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ صورتحال کے تناظر میں محکمہ صحت بلوچستان نے صوبائی حکومت کو سفارشات مرتب کردی ہیں۔

  9. پانچ برس کے بچے کا دلی سے بنگلور تک اکیلے سفر

    انڈیا میں پانچ برس کے ایک بچے نے دلی سے بنگلور تک اکیلےفضائی سفر کیا ہے۔

    انڈیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن سے اندرون ملک تمام پروازیں بند کر دی گئی تھیں جنھیں گذشتہ روز پیر کو بحال کیا گیا ہے۔

    ایسے میں ویہان شرما دلی میں اپنی نانی کے گھر میں موجود تھے اور لاک ڈاؤن میں وہ وہاں ہی پھنس کر رہ گئے۔

    پیر کے روز ویہان شرما نے دلی سے بنگلور کا فضائی سفر کیا اور اس دوران ان کے اہلخانہ میں سے کوئی بھی ان کے ہمراہ نہیں تھا۔ بنگلور ایئرپورٹ پر ویہان کی والدہ نے ان کا استقبال کیا۔

  10. کورونا وائرس: کووِڈ-19 کے خلاف نئے علاج کی آزمائش شروعات کے قریب

    برطانیہ کے سائنسدان ایک ایسے علاج کی آزمائش شروع کرنے والے ہیں جس کے بارے میں انھیں امید ہے کہ وہ کووِڈ-19 سے شدید ترین متاثر افراد کی بھی صحت میں بہتری لائے گا۔

    سائنسدانوں کو معلوم ہوا ہے کہ جن افراد میں مرض سب سے زیادہ شدت سے ظاہر ہوا ہے، ان میں ٹی سیلز کہلانے والے مدافعتی خلیے بہت کم تعداد میں پائے جاتے ہیں۔

    ٹی سیلز کا کم جسم سے انفیکشن کا صفایا کرنا ہوتا ہے۔

    یہ طبی آزمائش اس بات کی جانچ کرے گی کہ کیا ٹی سیلز کی تعداد میں اضافہ کرنے والی انٹرلیوکین 7 نامی دوا مریضوں کی صحتیابی میں مدد دے سکتی ہے یا نہیں۔

  11. سعودی عرب کی ویران سڑکیں اور مساجد

    اس سے قبل ہم رپورٹ کر چکے ہیں کہ سعودی عرب نے اگلے ماہ ملک گیر کرفیو ہٹانے کا اعلان کیا ہے۔

    یہ پابندیاں تین مراحل میں ہٹائی جائیں گی جس کے بعد مکمل طور ر کرفیو ختم ہو جائے گا۔ تاہم مسلمانوں کے مقدس شہر مکہ میں کرفیو جاری رہنے کا امکان ہے۔

    سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق حج اور عمرہ کے باعث لاکھوں افراد مختلف ممالک سے سعودی عرب کے لیے سفر کریں گے اس لیے یہ غیر معینہ مدت تک معطل رہے گا۔

    اب تک ملک میں 74795 متاثرین سامنے آ چکے ہیں جبکہ 399 اموات بھی ہوئی ہیں۔

    ملک میں یومیہ 2000 سے زائد کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

    خیال رہے کہ عید کے موقع پر سعودی عرب میں پانچ روزہ کرفیو لگایا گیا تھا جو جعمرات کو ہٹایا جا رہا ہے۔

  12. کورونا: بلوچستان میں مقامی منتقلی کے کیسز کی شرح 95 فیصد، ’لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد متاثرین میں تیزی سے اضافہ ہوا‘

    محکمہ صحت نے یہ اعتراف کیا ہے کہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کے دوران بلوچستان میں کورونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق بلوچستان میں مکمل لاک ڈاﺅن نو مئی تک جاری رہا۔ اگرچہ لاک ڈاﺅن میں احتیاطی تدابیر کا خیال نہیں رکھا جاتا رہا تاہم بازار اور کاروباری مراکز بند ہونے کی وجہ سے یہاں لوگوں کی تعداد کم تھی۔

    اب تک صوبے میں مقامی طور پر مرض کی منتقلی کی شرح 95 فیصد ہو گئی ہے۔ اب تک صوبے میں مجموعی 33 میں سے 24 اضلاع میں کورونا وائرس پھیل چکا ہے۔

    نو مئی کو لاک ڈاﺅن میں نرمی کرتے ہوئے اسے سمارٹ لاک ڈاﺅن میں تبدیل کرنے سے بازاروں میں عید سے ایک روز قبل تک لوگوں کا بے تحاشا رہا۔

    محکمہ صحت کی روزانہ کی بنیاد پر جاری ہونے والی رپورٹس کے مطابق بلوچستان میں کورونا کا پہلا کیس رپورٹ ہونے کے بعد سے 21 مارچ 2020 تک ان کی تعداد 104 تھی جن میں سے زیادہ ترتعداد ایران سے آنے والے زائرین کی تھی۔

    نو مئی کو مکمل لاک ڈاﺅن تک بلوچستان میں کورونا کے مجموعی کیسز کی تعداد 1935 تھی۔

    نو مئی کو مکمل لاک ڈاﺅن میں نرمی کرنے کے 25 مئی تک ان کی تعداد 3468 تک پہنچ گئی۔ سمارٹ لاک ڈاﺅن کے16دنوں کے دوران ان میں 15 سو 33 کیسز کا اضافہ ہوا۔

    محکمہ صحت کی رپورٹس میں کیسز میں بے تحاشا اضافے کی وجہ لاک ڈاﺅن میں نرمی کو قرار دیا گیا ہے جس کے دوران احتیاطی تدابیر کے بغیر لوگوں کی بڑی تعداد بازاروں میں پہنچ گئی۔

  13. کورونا وائرس: سات سمندر پار ’چھوٹے پاکستان‘ میں زندگی کیسی ہے؟

    امریکہ کے شہر نیو یارک میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جو ’لٹل پاکستان‘ یعنی چھوٹے پاکستان کے نام سے جانی جاتی ہے۔ بروکلن کے اس حصے میں پاکستانیوں کی ایک بڑی آبادی رہائیش پذیر ہے۔

    کچھ عرصہ پہلے حکومت نے یہاں پر ایک شاہراہ کا نام بھی ’محمد علی جناح ایوینیو‘ رکھا تھا۔ کورونا وائرس کے باٰعث اس علاقے کی زندگی کس طرح متاثر ہوئی ہے، یہ بتا رہی ہیں صحافی صباحت زکریا۔۔۔

  14. جنوبی افریقہ میں کورونا وائرس: سگریٹ نوشی کرنے والے تمباکو پر پابندی سے نالاں

    جنوبی افریقہ میں سگریٹ کی فروخت پر پابندی کے بعد اب ملک میں اس کی ناجائز فروخت اپنے عروج پر ہے۔

    بی بی سی کی پمزا فہلانی کے مطابق یہاں مارچ کے اختتام میں تمباکو پر پابندی لگائی گئی تھی تاکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    اس سے قبل 29 سالہ مقامی شہری مشیل (فرضی نام) کو سگریٹ مقامی دکانوں سے باآسانی مل جاتے تھے تاہم اب انھیں واٹس ایپ گروپس کے ذریعے تاجروں تک رسائی حاصل کرنی پڑتی ہے تاکہ وہ سگریٹ خرید سکیں۔

    انھوں نے بتایا کہ جب آپ کو ایسا تاجر مل جائے جو قابلِ اعتبار ہو تو پھر آپ اس سے ملنے کی جگہ اور وقت کا تعین کرتے ہیں۔

    آج سے دو ماہ قبل جو چیز قانونی تھی اب اس نے ہزاروں افراد کو مجرم بنا دیا ہے۔

    مشیل چار برس سے سگریٹ پی رہی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ان کو اس حوالے سے کوئی وارننگ نہیں دی گئی تھی۔ اس لیے نہ تو وہ سگریٹ خرید سکیں اور نہ ہی سگریٹ چھوڑنے کے لیے تیار ہو سکیں۔

  15. ماسک کی کون سی قسم وائرس کو کتنا روک سکتی ہے؟

  16. کورونا وائرس نے روس کی مسلم اکثریتی ریاست داغستان میں کیسے تباہی مچائی

    ڈاکٹر ابراجیم یوتمیروف اب بھی بات کرتے ہوئے اکثر کھانستے ہیں۔ ڈاکٹر ابراجیم روس کی جنوبی ریاست داغستان میں بچوں کے امراض کے ماہر ہیں۔ ان کا وارڈ کئی ہفتوں سے کووڈ 19 کے مریضوں سے بھرا ہوا تھا جب انھیں وائرس نے متاثر کیا۔

    وہ کہتے ہیں کہ ان کے قصبے میں ان کے ساتھ کام کرنے والے سات لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں نرسیں، اردلی اور لیبارٹری کے لوگ شامل ہیں۔

    ڈاکٹر ابراجیم کہتے ہیں کہ میری ٹیم میں شامل تمام تین ڈاکٹر کورونا وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ ’جب ڈاکٹر بیمار ہوئے تو ہماری جگہ دانتوں کے ڈاکٹروں کو اس وقت تک کام کرنا پڑا جب تک ہم ٹھیک نہیں ہو گئے۔‘

  17. مستقبل قریب میں سرحدیں کھولنے کا کوئی امکان نہیں: آسٹریلوی وزیرِاعظم

    آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم سکاٹ موریسن نے منگل کے روز کہا ہے کہ آسٹریلیا کا ’مستقبل قریب‘ میں اپنی سرحدیں کھولنے کا کوئی امکان نہیں۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ بین التسمانیہ محفوظ سفر یقینی بنانے کے لیے نیوزی لینڈ کی وزیرِ اعظم جسندڈا آرڈرن سے بات کی ہے۔

  18. سنگاپور: سماجی دوری کے نفاذ کے لیے روبوٹ کتے کی خدمات حاصل

    یہ روبوٹ کتا سنگاپور کے ایک پارک میں کورونا وائرس سے متعلق ایک تحقیق کا حصہ ہے۔ امریکہ میں قائم بوسٹن ڈائنامکس کی تیار کردہ مشین میں ایک کیمرہ لگایا گیا ہے تاکہ اس بات کی نگرانی کی جاسکے کہ بشن انگ مو کیو پارک میں کتنا ہجوم ہوتا ہے۔

    اس میں سماجی دوری کو فروغ دینے والے پیغامات کو نشر کرنے کے لئے لاؤڈ اسپیکر بھی لگایا گیا ہے۔

  19. بریکنگ, کورونا وائرس: پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک اور ہلاکت، مزید دو نئے مریض, پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کل متاثرین: 211 | اموات: 3 | صحتیاب: 99

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید ایک اور خاتون کورونا وائرس کے باعث انتقال کر گئی ہیں جس کے بعد اس خطے میں کورونا کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین ہو گئی ہے۔

    ہلاک ہونے والے تین افراد میں دو خواتین شامل ہیں۔

    صحافی ایم اے جرال کے مطابق ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ افسر ڈاکٹر سعید نے بتایا کہ کورونا کے باعث ہلاک ہونے والی خاتون آئسلویشن ہسپتال مظفرآباد میں زیر علاج تھیں۔

    ان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اس خطے میں ایک ڈاکٹر اور ایک خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 211 ہوگئی ہے۔

    ضلع مظفرآباد میں ہلیتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد میں ایک خاتون کا کورونا وائرس ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے جو اپنے بیٹے سے متاثر ہوئی ہیں۔

    ان کے مطابق ایک ڈاکٹر بھی کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔ اس خطے میں اب تک محکمہ صحت کے چھ سے زائد ڈاکٹرز، آفیسرز یا پیرا میڈیکل اسٹاف متاثر ہوچکے ہیں۔

    حکام کے مطابق اب تک پانچ ہزار سے زائد مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جبکہ 62 کے ٹیسٹ رزلٹ آنا باقی ہیں۔

  20. جب ’آدھا انڈیا سڑکوں پر ہے‘ تو سیاح کو اجازت کیوں نہیں