’دفتروں کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے‘، ’دفتر جانا ماضی کا حصہ ہے‘، ماہرین کی رائے کتنی درست ہے؟, فرانچیسکا گلٹ، بی بی سی نیوز
کورونا وائرس کی وبا سے پہلے ہم میں سے دسیوں لاکھوں لوگ اپنے وقت کا تیسرا حصہ اپنے دفتر میں گزارتے تھے۔ تاہم لاک ڈاؤن کے بعد سے برطانیہ کی تقریباً نصف افرادی قوت گھروں سے کام کر رہی ہے اور کچھ کمپنیوں نے عندیہ دیا ہے کہ شاید مستقبل میں یہ معمول بن جائے گا۔
بارکلیز بینک کے سربراہ کے مطابق ’7000 افراد کو ایک عمارت میں بلانا اب شاید تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔‘
مورگن سٹینلے کے چیف نے کہا ہے کہ بینکوں کے پاس اب بہت کم زمین رہ جائے گی۔
کاروباری شخصیت سر مورٹن سوریل کا اس موضوع پر کہنا ہے کہ وہ 35 ملین پاؤنڈ کسی مہنگے دفتر پر خرچ کرنے کی بجائے لوگوں پر خرچ کرنا بہتر سمجھیں گے۔
کتاب ’جوئے آف ورک‘ کےمصنف کے مطابق دفتروں کا کھیل اب ختم ہو چکا ہے۔
بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام ’ٹوڈے‘ میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شاید ہمیں یہ سن کر دکھ ہو لیکن جس طرح کا دفتر کا ماحول ہم نے دیکھا ہے وہ شاید اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔
’میں ایک بڑے میڈیا ہاؤس میں کام کرنے والے ایک شخص سے بات کر رہا تھا تو اس نے بتایا کہ ان کے دفتر میں جہاں پہلے 1400 لوگ آتے تھے اب 30 لوگ آتے ہیں لیکن کام پورا ہو رہا ہے۔‘
تاہم لندن میں سٹی یونیورسٹی بزنس سکول کے پروفیسر آندرے سپائسر کا کہنا ہے کہ معاملہ اتنا بھی واضح یا یکطرفہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ لوگ دفتر جائیں گے لیکن ان کا دفتر میں وقت بہت کم ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گھر سے کام کرنے میں لوگوں کو لگے گا شاید ترقی کے اتنے مواقع نہیں جتنے دفتر جا کر ملیں گے۔ انھوں نے کہا کہ مالی بحران کے ماحول میں لوگ چاہیں گے کہ وہ اپنے باس کی نظروں میں رہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ بڑی کمپنیاں اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے گھروں سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کریں گی۔
کچھ لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ دفتر ہمیں روٹین دیتا ہے جس کی ہمیں ہمیشہ ضرورت رہتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دفتر جانے کا مطلب ہے روز نئے کپڑے پہننا، نئے دوست بنانا ااپنی ایک شناخت بنانا۔
تاہم پروفیسر سپائسر کا کہنا ہے کہ جائزوں کے مطابق گھر سے کام کرنے والے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں اور زیادہ کام کرتے ہیں اور روز دفتر آنے جانے کے لیے سفر سے بھی بچ جاتے ہیں جو ان کے لیے ایک بڑا منفی پہلو ہے۔
گھر سے کام کے منفی پہلوؤں میں ایک یہ ہے کہ سب لوگوں کے پاس گھر میں ایک جیسی جگہ یا ماحول ہونا ضروری نہیں۔ اس کے علاوہ نئے آنے والوں کو سینیئر لوگوں سے سیکھنے کا موقع کم ملے گا، خاص طور پر تجربے کی باتیں جو غیر رسمی گفتگو کے دوران نئے لوگوں تک پہنچتی ہیں۔