کینیڈا میں حکام نے اونٹاریو صوبے میں قائم بزرگ افراد کے پانچ کیئر ہومز میں سہولیات کے حوالے سے تفتیش شروع کر دی ہے۔
یہ تحقیقات ایک رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد شروع کی گئی ہے۔
کینیڈا کی افواج کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں یہ الزامات عائد کیے گئے ہیں کہ ان کیئر ہومز میں سڑے ہوئے کھانے کی بدبو تھی جبکہ کمروں میں کاکروچ اور مکھیاں بکثرت موجود تھیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کیئر ہومز میں رہائش پذیر بزرگ افراد گھنٹوں مدد کے لیے چیختے چلاتے رہتے مگر وہاں موجود عملہ اس کی پرواہ نہ کرتا تھا۔
کینیڈا کے صدر جسٹن ٹروڈو نے اس رپورٹ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’تکلیف دہ‘ قرار دیا ہے۔
صوبے اونٹاریو کے وزیر اعظم ڈوگ فورڈ نے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں پیش کی گئی تفصیلات انتہائی ’ناخوشگورا‘ اور ناقابل برداشت ہیں۔
انھوں نے اس معاملے کی تفصیلی انکوائری کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔
کینیڈا میں عمر رسیدہ افراد کے لیے بنائے گئے کیئر ہومز کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور وہاں رہائش پذیر بہت سے بزرگ وائرس کے باعث ہلاک ہوئے ہیں۔
جب ان کیئر ہومز کی انتظامیہ سے حالات کنٹرول میں نہیں رہے تو فوج کو مدد کے لیے طلب کیا گیا تھا۔
کینیڈا کی حکومت کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ملک میں کورونا کے باعث ہونے والے ہلاکتوں میں سے 80 فیصد کیئر ہومز میں ہوئی ہیں۔