انڈیا کے ڈاکٹر سدھاکر راؤ جنھیں اپنے پیشے میں 20 سال کا تجربہ ہے دو ماہ کے دوران دوسری بار شہہ سرخیوں میں آئے جب سوشل میڈیا پر ان کے رہائشی علاقے میں پولیس کے ساتھ ان کی کشمکش کی ویڈیوز وائرل ہوئیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ انھیں دماغی امراض کے ہسپتال بھجوا دیا گیا ہے۔
یہ خبر ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی جن میں بتایا گیا کہ انڈین ڈاکٹرز کو حفاظتی آلات اور ہسپتالوں میں تیاری کی کمی کا سامنا ہے۔
سنیچر کو پیش آنے والے اس واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا اور واٹس ایپ پر شیئر کی گئیں۔
پہلے راؤ بغیر قمیض کے ایک گاڑی میں بیٹھے دکھائی دیتے ہیں اور پولیس پر چلا رہے ہوتے ہیں۔
ایک دوسری ویڈیو میں وہ سڑک پر لیٹے ہیں اور ان کے ہاتھ ان کی پشت پر بندھے ہیں اور ایک پولیس اہلکار انھیں ڈنڈے سے پیٹ رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس اہلکار کو معطل کر دیا گیا ہے اور انکوائری کی جائے گی۔
اور بظاہر ایک آخری ویڈیو میں حیرت زدہ ہجوم کے سامنے پولیس والے ڈاکٹر کو رکشہ میں ڈالتے ہیں۔
لیکن اس سے قبل کہ پولیس انھیں لے جاتی ڈاکٹر وہاں جمع ہونے والے مقامی صحافیوں سے کہتے ہیں کہ وہ معلوم کریں کہ کیا ہو رہا ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کی گاڑی کو پولیس نے روکا۔ ان کا الزام ہے: ’انھوں نے میرا فون اور بٹوہ بھی چھین لیا اور مجھے مارا بھی۔‘