پاکستان میں گذشتہ چند دنوں سے اجتماعی مدافعت کا ذکر سننے کو مل رہا ہے اور اس کا تعلق لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار خاتمے کے فیصلے سے بهی جوڑا جا رہا ہے۔
مارچ کے آغاز میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہونے والے ایک اعلی سطحی اجلاس میں ملک کے حساس اداروں نے کورونا وائرس سے ہونے والے ممکنہ جانی اور معاشی نقصان سے متعلق ایک جامع رپورٹ پیش کی تهی۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہی وہ پہلا موقع تها جب اجتماعی مدافعت کا ذکر سننے کو ملا اور یہ تذکرہ ہوا کہ ویکسین دریافت ہونے یا نہ ہونے کی صورت میں ہرڈ امیونٹی کا راستہ ہی اختیار کرنا پڑے گا۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں اس نکتے پر غور کیا گیا کہ ملک کے بیشتر شہری علاقے انتہائی گنجان آباد ہیں جہاں خود ساختہ آئسولیشن اور سماجی فاصلے کا تصور ناممکن ہے۔ چهوٹے چهوٹے گهروں میں بڑے خاندان رہائش پذیر ہیں اور وائرس کے پهیلاؤ کی صورت میں ہر شخص کو تنہا کر کے آئسولیٹ کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
ذرائع کے مطابق یہ کہا گیا کہ اس لیے بات اجتماعی مدافعت کی تیکنیک کو اپنانے تک ہی جائے گی۔
مگر حکام نے اجتماعی مدافعت کا راستہ اختیار کرنے سے قبل دنیا بهر میں مروجہ دیگر طریقوں جیسا کہ وائرس سے متعلق آگاہی مہم، ہاتھ دهونا، ماسک پہننا اور سماجی دوری پر عملدرآمد یقینی بنانے پر زور دینے کا فیصلہ کیا۔
گذشتہ روز وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد حسین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے ذریعے آگاہ کیا کہ وزارتِ سائنس کے ماہرین پر مشتمل ایک کمیٹی نے یہ رائے دی ہے کہ اجتماعی مدافعت کا تصور انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے اور اس طرح کی کوئی حکمت عملی ہرگز نہیں اپنانی چاہیے۔
پیر کی شام نجی ٹیلیویژن چینل سما پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ اجتماعی مدافعت کا تصور اس لیے خطرناک ہے کیونکہ اس حوالے سے نہ تو کوئی جامع تحقیق اور نہ ہی ڈیٹا دستیاب ہے۔
تاہم اب ایسا تاثر مل رہا ہے کہ حکومت نے ملکی آبادی میں مجموعی سطح پر قوت مدافعت پیدا کرنے کا سوچ لیا ہے۔ طبی ماہرین اور انسانی حقوق کے کارکن اس ممکنہ اقدام کو ایک ’خطرناک کهیل‘ قرار دے رہے ہیں۔