سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد شرح سود نو سے آٹھ فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔
سٹیٹ بینک کے پالیسی بیان کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جو تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔
خیال رہے کہ سٹیٹ بینک نے دو ماہ کے عرصے میں شرح سود میں 5.25 فیصد کمی کی ہے جو 15 مارچ 2020 میں 13.25 کی بلند سطح پر موجود تھی۔
سٹیٹ بینک کے مطابق اس برس مہنگائی کی شرح 12-11 فیصد جبکہ آئندہ مالی سال میں 9-7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
اپنے اعلامیے میں سٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا منظر نامہ دو پہلوؤں سے مشروط ہے۔ اگر معاشی سرگرمی اگلے سال توقع کے مطابق تیز نہ ہو سکی تو مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے گر سکتی ہے۔ دوسری جانب زراعت کے شعبے میں منفی حالات کی وجہ سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
سٹیٹ بینک کے مطابق کم شرح سود نہ تو وبا کے پھیلنے کی شرح سے متاثر ہو سکتی ہے اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمی میں مختصر مدتی کمی رک سکتی ہے تاہم اس سے گھرانوں اور کاروباری اداروں کو عارضی طور پر سرمایہ فراہم کیا سکتا ہے تاکہ وہ اس مشکل صورتحال سے گزر سکیں۔