آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا اور ہسپتالوں میں ختم ہوتے بستر

    آپ کورونا سے متاثر ہیں، گھر پر قرنطینہ میں ہیں اور آپ کی طبیعت بگڑ جاتی ہے لیکن ہسپتال پہنچنے پر آپ کو بتایا جاتا ہے کہ بستر دستیاب نہیں ہے۔

    کیا پاکستان میں ایسا ہونے جا رہا ہے؟ جانیے ہمارے ساتھی عمر دراز اور فرقان الٰہی کی اس رپورٹ میں۔۔۔

  2. کورونا وائرس: روس نے لاک ڈاؤن میں نرمی سے قبل ٹیسٹنگ بڑھا دی

    کورونا وائرس کا پتا چلانے کے لیے ماسکو نے جمعے کو بڑے پیمانے پر شروع کی جانے والی سکریننگ کے دوران ہزاروں عام شہریوں کے ٹیسٹ کرنا شروع کر دیے ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انھیں یہ معلوم ہو سکے گا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرنا محفوظ ہے یا نہیں۔

    روس کے 12.7 ملین والے دارالحکومت ماسکو میں لاک ڈاؤن کا ساتواں ہفتہ چل رہا ہے اور اس نے ملک کی طرح اس وبا کا اثرات کا سامنا کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا وائرس نے روس بھر میں ایک چوتھائی سے زیادہ افراد کو متاثر کیا ہے۔

    ماسکو کے میئر سرگے سوبیانن کا کہنا ہے کہ سرکاری اعداوشمار کے مقابلے میں وبا کہیں بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی ہے کیونکہ بہت سے لوگوں میں اس کی علامات ظاہر نہیں ہوتی ہیں اور انھیں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ ان سے دوسروں کو یہ وائرس منتقل ہو سکتا ہے۔

    سرگے کے مطابق بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ سے ایسے لوگوں کے بارے میں پتا چل سکے گا اور اس وبا کے بارے میں حقیقی اعدادوشمار معلوم ہو سکیں گے۔ اور یہ صورتحال حکام کو درست تصویر دے گی کہ انھیں لاک ڈاؤن میں مناسب وقت پر نرمی کرنے میں اسانی ہو سکے گی، جب زیادہ نقصان کا خطرہ موجود نہ ہو۔

  3. پاکستان: صوبہ خیبرپختونخوا کا پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے بعد خیبرپختونخوا نے بھی پیر سے تمام پبلک ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    مشیر اطلاعات اجمل وزیر کے مطابق ٹرانسپورٹ بحال کرنے کا فیصلہ وفاق سے مشاورت سے کیا ہے اور پبلک ٹرانسپورٹ کو ایس او پیز کے تحت ہی بحال کیا جائے گا۔

    اجمل وزیر نے کہا کہ کمشنرز اور ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ٹراسپورٹز کے ساتھ مل کر ایس او پیز تشکیل دیں گے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ کمشنر حالات کو دیکھتے ہوئے اپنے ڈویژن کے اندر انفرادی روٹ کھولنے کا فیصلہ کریں گے جبکہ ایک ضلع کے اندر یا ایک ضلع سے دوسرے ضلع کے روٹ کا فیصلہ بھی کمشنرز کریں گے۔

    اجمل وزیر نے کہا کہ ایسے روٹ جو مختلف ڈویژنوں کی حدود میں ہوں ، ان کو کھولنے کا فیصلہ صوبائی سطح پر ہو گا۔

    مشیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پٹرول پمپ 24 گھنٹے کھلے رہ سکیں گے جبکہ حجام کی دکانیں ایس او پیز کے ساتھ جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو 4 بجے تک کھلی رہ سکیں گی۔

  4. کورونا وائرس: مس روانڈا پلس سائز ماڈل کی حالت بہتر ہونے لگی

    ویوین یوویزیے روانڈا میں واحد مریضہ ہیں جن میں کورونا وائرس کی تصدیق کی گئی ہے۔

    ان کو 2011 میں ہونے والے ایک ماڈلنگ مقابلے میں مس روانڈا پلس سائز کا خطاب دیا گیا تھا۔ گذشتہ ماہ ان کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں انھیں ہسپتال کے ایک بستر پر پڑے دکھایا گیا تھا۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ کئی دنوں کی علامات کے بعد مجھے ’سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی۔‘

    اپریل 16 کو ان میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی اور انھیں روانڈا کے دارالحکومت کیگالی کے ایک سینٹر میں لے جایا گیا۔

    انھوں نے بتایا کہ ’وہاں سینٹر میں صرف میں ہی واحد مریضہ تھی جس کی حالت نازک تھی، روزانہ ڈاکٹر پوری لگن سے میرا علاج کرتے تھے۔‘

  5. گلگت بلستان: مزید 17 افراد میں کورونا کی تشخیص، متاثرین کی تعداد 518 ہو گئی, محمد زبیر خان، صحافی

    محکمہ صحت گلگت بلستان کے مطابق 15 مئی کو مزید 17 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد گلگت بلستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 518 ہو گئی ہے۔

    چھ مزید مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں، جس کے بعد صحت مند افراد کی تعداد 345 ہو گئی ہے۔

    اس وقت زیر علاج مریضوں کی تعداد 169 ہے جبکہ اب تک گلگت بلستان میں کورونا وائرس سے چار ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

  6. کورونا وائرس سے نقصان نہیں ہوا: شمالی کوریا نے سب اچھا کی ویڈیوز جاری کردیں

    شمالی کوریا نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ملک کے دارالحکومت پیانگ یانگ میں لوگوں کو باہر گھومتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

    یہ فوٹیج ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب شمالی کوریا کے بارے میں ایسی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ ملک کو کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    سرکاری میڈیا ڈی پی آر کے ٹوڈے نے اپنی ویب سائٹ پر 13 مئی کو تین منٹ کے ویڈیو کلپ شیئر کیے ہیں، جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ لوگ اپنے خاندان والوں اور دوستوں کے ساتھ مختلف ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور پارکوں کا رخ کر رہے ہیں۔ زیادہ تر ملازمین اور خریداروں نے ماسک پہنے ہوئے ہیں۔

    کورونا وائرس کا ذکر کیے بغیر ایک ملازم کہتا ہے کہ ضرورت کے مطابق بڑی تعداد میں گروسریز دستیاب ہیں۔ ایک خریدار کہہ رہی ہیں کہ وہ ہفتے میں کم از کم تین بار خریداری کرنے گھر سے باہر نکلتی ہیں۔

    اگرچہ شمالی کوریا کورونا وائرس کے متاثرین سے متعلق انکاری ہے لیکن حال ہی میں کچھ ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جن میں کہا گیا تھا شمالی کوریا اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے مشکلات کا شکار ہے جہاں اشیا کی فراہمی میں کمی واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔

  7. ناروے: پابندیاں 20 اگست تک جاری رہیں گی

    ناروے کی وزیرِ اعظم ایرنا سولبرگ نے کہا ہے کہ وہ ملک میں آنے جانے پر حالیہ پابندیاں ممکنہ طور پر 20 اگست تک جاری رکھیں گی۔

    ان اقدامات میں جب تک بہت ضروری نہ ہو کسی دوسرے ملک جانے کی سرکاری پابندی، بیرون ممالک سے آنے والے لوگوں پر 10 دن کی قرنطینہ کی پابندی اور ان غیر نارویجیئن افراد کی ناروے میں داخلے پر پابندی شامل ہے جن کے پاس ناروے میں رہنے یا کام کرنے کا حق نہیں ہے

  8. بچوں کو کورونا وائرس کے متعلق بتانا ہے، ڈرانا نہیں

    یہ وائرس کیا ہے، کتنا خطرناک ہے اور اس سے کیسے بچنا چاہیے۔ بچے بچے ہوتے ہیں، چیزیں اپنی طرح سے سمجھتے ہیں اور ہر کوئی ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ تو پھر ہم بچوں کو کیسے بتائیں؟

    اپنے بچوں کو کہیں کہ اگر وہ اس وائرس کے متعلق آپ سے کچھ جاننا چاہتے ہیں تو وہ ضرور پوچھیں۔

    ضروری نہیں کہ بہت زیادہ ڈرانے والی ہی معلومات دی جائیں لیکن پھر بھی سچ بولتے ہوئے انھیں اس کے متعلق بتایا جا سکتا ہے کہ اسے عالمی وبا کیوں کہا گیا ہے اور کیوں یہ اس وقت دوسری بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہے۔

  9. سویڈن کا لاک ڈاؤن نہ کرنے کا دفاع: ’ایک ہی سائز سب کو فٹ نہیں آتا‘

    سویڈن نے متنازع طور پر لاک ڈاؤن نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلہ کا دفاع کرتے ہوئے وزیرِ اعظم سٹیفان لووین نے کہا تھا کہ اس بحران میں ’ایک ہی سائز سب کو فٹ نہیں آتا۔‘

    انھوں نے کہا کہ کچھ میڈیا سویڈن کی پالیسی کو غلط طریقے سے رپورٹ کر رہا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’زندگی معمول کے مطابق نہیں ہے۔‘ ایک نیوز کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ ’اکثر لوگ گھروں پر ہی رہ رہے ہیں۔‘

    سماجی دوری رضاکارانہ ہے لیکن سروے کے مطابق زیادہ تر سویڈن کے رہائشی اس پر عمل کر رہے ہیں۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی پبلک ہیلتھ کی تجاویز عمل کرنے کے لیے ہیں اور یہ ’کوئی دوستانہ مشورہ نہیں ہے۔‘

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت عمر رسیدہ لوگوں کو زیادہ تحفظ دینے میں ناکام رہی ہے۔

    بی بی سی کی سویڈن میں نامہ نگار میڈی سیوج کے مطابق سویڈن میں اب تک ہونے والی 3 ہزار 529 ہلاکتوں میں 70 سال سے اوپر کے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شامل ہے۔

    ایک کروڑ لوگوں کے ملک سویڈن نے اپنی سرحدیں بند نہیں کی ہیں لیکن لوگوں کو سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

  10. کورونا: ڈنمارک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی

    ڈنمارک میں صحت کے حکام کی جانب سے جاری اعدادوشمار کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس سے کوئی موت ریکارڈ نہیں کی گئی اور ایسا 13 مارچ کے بعد پہلی بار ہوا ہے۔

    ڈنمارک میں اب تک کورونا وائرس سے 537 اموات ہو چکی ہیں جبکہ مریضوں کی کل تعداد 10791 ہے۔

  11. دنیا میں متاثرین کی تعداد 44 لاکھ، اموات تین لاکھ سے زیادہ ہو گئیں

    خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق دنیا بھر میں 44.6 لاکھ افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں اور اس وائرس سے ابھی تک کل 301,445 اموات ہو چکی ہیں۔

    چین میں گذشتہ سال دسمبر میں اس وائرس کے آغاز سے اب تک اس وائرس سے 210 سے زائد ممالک اور خطوں کے لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

    • امریکہ: 1,422,388 افراد متاثر، 85,397 ہلاک۔
    • روس: 252,245 افراد متاثر، 2,305 ہلاک۔
    • سپین: 247,394 افراد متاثر، 27,321 ہلاک۔
    • برطانیہ: 233,151 افراد متاثر، 33,614 ہلاک۔
    • اٹلی: 223,096 افراد متاثر، 31,368 ہلاک۔
    • برازیل: 202,918 افراد متاثر، 13,993 ہلاک۔
    • فرانس: 178,870 متاثر، 27,425 ہلاک۔
    • جرمنی: 172,961 افراد متاثر، 7,814 ہلاک۔
    • ترکی: 143,114 افراد متاثر، 3,952 ہلاک۔
    • ایران: 116,635 افراد متاثر، 6,902 ہلاک۔
    • چین: 82,933 افراد متاثر، 4,633 ہلاک۔
    • انڈیا: 81,970 افراد متاثر، 2,649 ہلاک۔
    • پیرو: 80,604 افراد متاثر، 2,267 ہلاک۔
    • کینیڈا: 72,536 افراد متاثر، 5,337 ہلاک۔
    • بلجیئم: 54,644 افراد متاثر، 8,959 ہلاک۔
    • سعودی عرب: 46,869 افراد متاثر، 283 ہلاک۔
    • ہالینڈ: 43,481 افراد متاثر، 5,590 ہلاک۔
    • میکسیکو: 42,595 افراد متاثر، 4,477 ہلاک۔
  12. بریکنگ, نیویارک: لاک ڈاؤن میں کم از کم 28 مئی تک توسیع

    امریکی ریاست نیویارک میں جاری لاک ڈاؤن میں کم از کم 28 مئی تک کے لیے توسیع کر دی گئی ہے۔

    نیویارک کے پانچ کم آبادی والے علاقوں میں گھروں میں رہنے کے احکامات میں کچھ نرمی دی جائے گی تاہم کاروباروں کو آہستہ آہستہ کام کرنے کا موقع ملے گا۔

    واضح رہے کہ نیویارک امریکہ میں کورونا وائرس کا مرکز ہے، جہاں اب تک 20 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

  13. ُُُآسٹریلیا میں لاک ڈاؤن ختم ہونے کے بعد زندگی

  14. جب رشی سوناک نے اپنی ہی حکومت کے ’خلاف‘ ووٹ ڈال دیا

    یہ عالمی وبا تھی جو برطانیہ کو 21 ویں صدی میں لے کے آئی، لیکن اب حکومت چاہتی ہے کہ جون سے ورچوئل مباحثوں اور ووٹنگ کو ختم کر دیا جائے۔ سب اس فیصلے سے خوش نہیں ہیں۔

    جب سے کورونا وائرس کا بحران شروع ہوا ہے، اس 700 سال پرانے دارالعوام میں اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے بحث میں حصہ لے رہے ہیں، اور اس ہفتے انھوں نے پہلی مرتبہ آن لائن ووٹ بھی کیا تھا۔ یہ تبدیلیاں بظاہر تو کام کر رہی ہیں، اگرچہ اس سے مباحثے میں وہ جان نہیں رہ جاتی جو آمنے سامنے بات کرنے سے ہوتی ہے۔

    پارلیمان کے آڈیو اینڈ ویڈیو کے ڈائریکٹر جان اینجلی کہتے ہیں کہ ’ایسے موقعے آتے ہیں جب حکومت اور حزبِ اختلاف کے نمائندے کسی خاص موضوع پر ممبران کا موڈ جاننے سے مستفید ہوتے ہیں۔‘

    ’میرے خیال میں جو چیز گذشتہ کچھ ہفتوں سے ڈرامائی طور پر نظر آئی وہ ایک اہم مسئلے پر ایوان کے اندر اس موڈ کا فقدان تھا۔‘

    کچھ ممبر پارلیمان کو ورچوئل ووٹوں پر بھی مشکل پیش آئی۔ اقتصادی امور کے وزیر رشی سوناک نے ذراعت کے بل پر ووٹنگ کے دوران غلطی سے اپنی حکومت کے خلاف ہی ووٹ ڈال دیا، لیکن پھر بھی زیادہ تر کام ٹھیک ہی رہا۔

  15. کورونا وائرس: پاکستانی حکومت کے ’ایس او پی‘ کیا ہیں؟

    پاکستان میں جب سے کورونا وائرس کے مریض سامنے آئے ہیں تب سے ایس او پیز کی گردان روزانہ میڈیا اور روز مرہ زندگی میں سنی جا رہی ہے۔

    یہ ایس او پیز سٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر کا مخفف ہے اور عام الفاظ میں اس کا مطلب ایک معیار کے مطابق کام کرنے کا ضابطہ کار ہے۔

    ان ایس او پیز کا مطلب بنیادی طور پر ایسے اقدامات یا ایسا طریقہ کار وضع کرنا ہے جس پر عمل کر کے اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جائے۔

  16. بلوچستان شیعہ کانفرنس کا صوبے میں یوم علی کے جلوس منسوخ کرنے کا اعلان

    بلوچستان شیعہ کانفرنس نے صوبے بھر میں یوم علی کے جلوس منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    بلوچستان شیعہ کانفرنس کے صدر سید داﺅد آغا کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جلوسوں کی منسوخی کا فیصلہ کورونا وائرس کی وبا کے پیش نظر کیا گیا۔

    بیان میں کہا گیا ہے تمام عزادار اپنی اپنی امام بارگاہوں کے پاس سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے ماتم کریں اور اپنی عبادات سرانجام دیں۔

  17. ’امریکہ کو تاریک ترین سردیوں کا سامنا‘

    امریکہ کے صحت کے سابق اعلیٰ آفیسر نے کانگریس کو بتایا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ’امریکہ کو جدید تاریخ کی تاریک ترین سردیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔‘

    رک برائٹ اس حکومتی ایجنسی کی سربراہی کر رہے تھے جو کورونا وائرس کے خلاف ویکسین بنانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن گذشتہ ماہ انھیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

    رک برائٹ کہتے ہیں کہ انھیں اس لیے ہٹایا گیا کیونکہ انھوں نے اس دوا کی تشہیر سے انکار کیا تھا جس کو ابھی ٹیسٹ بھی نہیں کیا گیا تھا اور صدر ٹرمپ اسے ’گیم چینجر‘ کہہ رہے تھے۔

    صدر ٹرمپ کہتے ہیں کہ رک برائٹ ایک ’نالاں‘ ملازم ہیں۔

    رک برائٹ نے ایوانِ نمائندگان کی صحت کے متعلق ذیلی کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ وبا کے شروع کے مرحلوں میں حکومت کے کچھ نہ کرنے کی وجہ سے کئی زندگیاں ضائع ہوئیں۔

    انھوں نے کہا کہ انھوں نے سب سے پہلے جنوری میں طبی آلات کی کمی کے بارے میں بات کی تھی اور اس مسئلے کو ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سورسز (ایچ ایچ ایس) کے ’اعلیٰ ترین‘ درجے پر اٹھایا تھا لیکن اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

  18. کشمیر: بکروال کمیونٹی کو بالائی علاقوں کی طرف جانے کی اجازت مل گئی, صحافی ایم اے جرال

    پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ داخلہ نے بکروال کمیونٹی کو اپنے مال مویشی سمیت بالائی علاقوں کو جانے کی پابندی اٹھاتے ہوئے حفاظتی اقدامات کے ساتھ انھیں اس خطے میں داخل ہونی کی اجازت دے دی ہے۔

    محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق بکروال محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق ہر صورت عملدرآمد کرتے ہوئے سفر کے دروان ماسک اور دستانوں کے استعمال کے علاوہ سماجی فاصلے کو یقینی بناہیں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق مال مویشیوں کے ساتھ چند صحت مند افراد پیدل سفر کر سکیں گے جبکہ دیگر افراد گاڑیوں پر سفر کریں گے جبکہ ناگزیر صورت حال میں بکروال اپنے سمیت مال و مویشی کی نقل و حرکت بھی گاڑیوں کے زریعے کرنے کے پابند ہوں گے۔

    نوٹیفیکشن کے مطابق بکروال کمیونٹی گنجان آبادیوں، بازاروں اور ہجوم والے مقامات پر کھڑے ہونے اور گزرنے سے گریز کریں گے۔

    دوران سفر کسی بھی شخص سے ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں گے۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق ہر ضلع میں ہیلتھ آفیسر کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ آنے والے بکروالوں کے رینڈم ٹیسٹ کے زریعے کورونا وائرس کی سکرینگ کریں اور انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ تمام داخلی و خارجی راستوں پر آنے والے بکروالوں کے تمام کوائف جمع کیے جاہیں گے۔

  19. روس: امید ہے کہ مغرب محض الزامات کی بنیاد پر کوئی غیر دوستانہ اقدام نہیں اٹھائے گا

    روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ ماسکو یہ امید کرتا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں مغرب کی طرف سے مزید کوئی غیر دوستانہ کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی۔

    روس کے وزیر خارجہ نے 15 مئی کو آر بی سی پر لائیو انٹرویو کے دوران کہا کہ کہ اس کے علاوہ ہمارے نام نہاد مغربی پارٹنرز اور کیا کریں گے۔ وہ پابندیاں عائد کرنے کے اہل ہیں مگر بغیر کسی وجہ سے۔۔۔ کوئی بھی واضح ثبوت دینے کو تیار نہیں ہے۔

    ان کے مطابق اس وجہ سے انھیں امید ہے کہ مغرب والے سمجھداری کا ثبوت دیں گے اور وہ جو بھی اقدام اٹھائیں گے تو بین الاقوامی قوانین کے اصولوں کی بھی پاسداری کریں گے۔۔ جس کے تحت کسی بھی عدالت یا بین الاقوامی تنظیم کے سامنے الزام سے متعلق واضح ثبوت کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔

    سرگے لاوروف نے نیوز اینکر کے سوال کے جواب میں کہا کہ ہم کسی ان فرینڈلی اقدام کی توقع نہیں کر رہے ہیں اور ہمیں یہ امید ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا لیکن میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم کسی بھی طرح کی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔

  20. بریکنگ, سٹیٹ بینک آف پاکستان کا شرح سود میں مزید ایک فیصد کمی کا اعلان, تنویر ملک، صحافی

    سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک میں شرح سود میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا ہے جس کے بعد شرح سود نو سے آٹھ فیصد کی سطح پر آ گئی ہے۔

    سٹیٹ بینک کے پالیسی بیان کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح میں کمی کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا ہے، جو تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے۔

    خیال رہے کہ سٹیٹ بینک نے دو ماہ کے عرصے میں شرح سود میں 5.25 فیصد کمی کی ہے جو 15 مارچ 2020 میں 13.25 کی بلند سطح پر موجود تھی۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق اس برس مہنگائی کی شرح 12-11 فیصد جبکہ آئندہ مالی سال میں 9-7 فیصد رہنے کا امکان ہے۔

    اپنے اعلامیے میں سٹیٹ بینک نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کا منظر نامہ دو پہلوؤں سے مشروط ہے۔ اگر معاشی سرگرمی اگلے سال توقع کے مطابق تیز نہ ہو سکی تو مہنگائی توقع سے زیادہ تیزی سے گر سکتی ہے۔ دوسری جانب زراعت کے شعبے میں منفی حالات کی وجہ سے غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کا خطرہ بھی موجود ہے۔

    سٹیٹ بینک کے مطابق کم شرح سود نہ تو وبا کے پھیلنے کی شرح سے متاثر ہو سکتی ہے اور نہ ہی لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سرگرمی میں مختصر مدتی کمی رک سکتی ہے تاہم اس سے گھرانوں اور کاروباری اداروں کو عارضی طور پر سرمایہ فراہم کیا سکتا ہے تاکہ وہ اس مشکل صورتحال سے گزر سکیں۔