صوبہ سندھ کے شہر کراچی کے سب
سے بڑے سرکاری ہسپتال جناح پوسٹ گریجوئیٹ کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے
کہ حکومت انھیں پولیس سکیورٹی فراہم کرے یا پھر کورونا کے باعث ہلاک ہونے والوں کی میتیں حوالے کرنے سے متعلق ایس او پیز کو تبدیل کرے۔
گذشتہ روز
عبدلاسلام نامی ایک مریض کی ہلاکت کے بعد لاش ملنے میں تاخیر پرلواحقین نے جناح ہسپتال کے آئسولیشن وارڈ میں توڑ پھوڑ کے دوران دروازے، کھڑکیاں،
کمپیوٹر اور پرنٹر توڑ دیئے تھے تاہم اس ہنگامہ آرائی میں پی سی آر ٹیسٹنگ مشین محفوظ رہی تھی۔
بی بی سی سی سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا تھا کہ اس مریض
کو تشویشناک حالت میں اوجھا کیمپس سے جناح ہسپتال ریفر کیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہسپتالوں میں تو وہ ہی مریض آرہے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے ایکسپو سینٹر
میں تو صرف قرنطینہ کی سہولت ہے وہاں تو آکیسجن بھی موجود نہیں ہے۔‘
اس ہنگامہ آرائی کی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لواحقین کورونا سے ہلاک ہونے والے شخص کی لاش زبردستی لے گئے تھے اور پولیس اور رینجرز کے موقع پر پہنچنے کے بعد طبی عملہ دوبارہ لاش لیکر آیا تھا۔
ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ ’حکومت سندھ کی ایس او پیز کے مطابق کسی بھی کورونا کے مریض کی ہلاکت کی صورت میں متعلقہ ڈی ایچ او کو مطلع کرنا ہے، جس کے بعد ایدھی کی ٹیم لاش کو پلاسٹک میں بند کرنے کے بعد اپنے ساتھ لے جائے گی۔ اس سارے عمل پر لواحقین ناراض ہوتے ہیں۔‘
جناح ہسپتال کی ڈائریکٹر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز اور طبی عملہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کی زندگیاں خطرے میں ڈال کر ان غیر معمولی حالات میں کام کر رہے ہیں لیکن یہ رویہ انتہائی نامناسب ہے۔
’شکر ہے کہ ڈاکٹرز اور سٹاف کو مارپیٹا نہیں گیا ورنہ یہ ہڑتال پر چلے جاتے اور صورتحال سنگین ہوجاتی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ یہ سکیورٹی کی خامی اور کوتاہی کا نتیجہ ہے اگر ایک پولیس موبائل اورچند اہلکار تعینات ہوتے تو ان لوگوں کی ایسا کرنے کی جرات نہیں ہوتی اور یہ ایک دن کا معاملہ نہیں آئے روز ایسے ہی ہلاکت ہوتی ہے اور لوگ مشتعل ہوجاتے ہیں۔