جرمنی اور ڈنمارک کے سائنسدانوں کی ٹیم نے
امریکی کمپنی آرٹیمی لائف کے ساتھ ملک کر اس حوالے سے تحقیق شروع کی ہے کہ کیا
آرٹیمیسیا کا پودا کورونا وائرس کے خلاف کارآمد ثابت ہوسکتا ہے یا نہیں۔
تحقیق کے سربراہ پیٹر سی برگر نے جرمن نشریاتی
ادارے دوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ ان اولین تحقیقی مطالعوں میں سے ہے جس میں
سائنسدان اس پودے کے اجزا کا کورونا وائرس سے تعلق سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
آرٹیمیسیا کے پودے کو ایک طویل عرصے تک ملیریا
کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن یہ ملیریا کی پہلی دوائی نہیں ہے جس پر
کورونا کے علاج کے لیے تحقیق کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے ہائیڈروکسی کلوروکوئین نامی
ملیریا کی دوائی کو بھی حالیہ چند ماہ میں کووِڈ-19 کے علاج کے لیے آزمایا جاتا
رہا ہے۔
الجیریائی محققین نے اپریل میں کووِڈ-19 پر
ملیریا کی دواؤں کی اثر کی آزمائش کی تھی اور انھوں نے ثابت کیا تھا کہ آرٹیمیسیا
کے پودے کے اجزا ہائیڈروکسی کلوروکوئین سے زیادہ مؤثر ہیں۔
افریقہ کے کئی ممالک بشمول مڈغاسکر اور تنزانیہ
میں کورونا سے بچاؤ کے لیے آرٹیمیسیا کا مشروب فروخت کیا جا رہا ہے۔
تاہم اس حوالے سے اب تک کوئی حتمی سائنسی نتائج موجود نہیں ہیں۔
عالمی ادارہ صحت نے اپنی ویب سائٹ پر خبردار کیا
ہے کہ اس حوالے سے ‘کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آرٹیمیسیا سے تیار کی گئی مصنوعات
کووِڈ-19 کو روک سکتی ہیں یا ان کا علاج کر سکتی ہیں۔’
عالمی ادارہ صحت کے افریقہ آفس کے مائیکل یاؤ نے
کہا کہ یہ ممکن ہے کہ روایتی دواؤں سے نئے علاج دریافت ہوجائیں تاہم لوگوں کو
کورونا وائرس کے لیے وہ علاج استعمال نہیں کرنے چاہییں جن کی آزمائش نہیں ہوئی ہے۔