آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. سلووینیا میں ’وبا کا اختتام‘ اور یورپ سے تازہ ترین خبریں

    سلووینیا وبا کے اختتام کا باقاعدہ اعلان کر کے اپنی سرحدیں کھولنے والا یورپ کا پہلا ملک بن گیا ہے۔

    20 لاکھ آبادی والے یورپی یونین کے اس رکن میں گذشتہ دو ہفتوں سے کورونا کے محض چند ہی کیس ریکارڈ ہوئے ہیں۔ ملک میں وائرس کے باعث کُل 1464 افراد متاثر ہوئے جبکہ 103 لوگ ہلاک ہوئے تھے۔

    لیکن خوشخبری یہ ہے کہ اگر آپ کسی اور ملک سے سلووینیا جائیں تو آپ کو قرنطینہ میں نہیں رکھا جائے گا!

    دوسری جانب بیلجیئم میں سائندانوں کے مطابق ملک میں وائرس کے باعث شرح اموات دوسری عالمی جنگ کی سطح پر پہنچ گئی ہے، جبکہ آسٹریا میں ریستوران اور کیفے کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ ہر میز ایک میٹر کے فاصلے پر رکھی گئی ہے اور ایک میز پر ایک وقت میں صرف چار افراد کو بیٹھنے کی اجازت ہوگی۔

    جرمنی میں بنڈسلیگا فٹبال لیگ سنیچر سے شروع ہو رہی ہے لیکن ایک رائے عامہ کے ایک سروے کے مطابق 56 فیصد جرمن شہری سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا قبل از وقت ہے۔

  2. خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1637 کورونا ٹیسٹ کیے گئے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا کا کہنا ہے کہ صوبے میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 1637 کورونا کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جو کہ اب تک خیبر پختونخوا میں کیے جانے والے ٹیسٹوں میں دوسری بڑی تعداد ہے۔

  3. بریکنگ, پنجاب کا شاپنگ مالز اور گاڑیوں کی صنعت پیر سے کھولنے کا اعلان

    پاکستان کے صوبہ پنجاب نے 18 مئی سے صوبے میں شاپنگ مالز اور گاڑیوں کی صنعت کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

    پنجاب کے وزیر برائے صنعت و تجارت میاں اسلم اقبال کی جانب سے جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی ہدایت پر صوبے میں پیر سے شاپنگ مالز اور آٹو موبائل کی صنعت کو کھولا جا رہا ہے۔

    اپنے ویڈیو پیغام میں صوبائی وزیر اسلم اقبال کا کہنا تھا اس حوالے سے کورونا کے لیے بنائے گئے قومی کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میں اس حوالے سے حکام سے مشاورت کے بعد ہی یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

    تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں شاپنگ مالز ہفتے میں چار دن پیر تا جمعرات کھلے گے جبکہ آٹو موبائل کی صنعت کو ہفتوں کے ساتوں دن کھولا جا رہا ہے۔

  4. عالمی ادارہ صحت: ’برطانیہ میں لاک ڈاؤن ختم ہونے پر وائرس دوبارہ پھوٹ سکتا ہے‘

    عالمی ادارہ صحت کے نمائندہ خصوصی برائے کورونا وائرس ڈاکٹر ڈیوڈ نبارو نے کہا ہے کہ برطانیہ کو لاک ڈاؤن اٹھانے کے حوالے سے بہت احتیاط کرنی ہوگی کیونکہ وائرس اب بھی بڑی تیزی سے پھیل رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ جوںہی ملک میں لوگوں کی آمد رفت معمول کے مطابق شروع ہوگی تو وائرس کئی جگہوں پر پھوٹ سکتا ہے۔

    ڈاکٹر ڈیوڈ نبارو نے کہا کہ ملک کے سامنے ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ کس طرح محدود وقت میں کانٹیکٹ ٹریسرز کی بڑی تعداد میں بھرتی اور ٹریننگ مکمل کر پائے گا۔

    ان کے نزدیک ’ٹیسٹ، ٹریس اور آئیسولیٹ‘ کی قابلیت موجود ہو تو لاک ڈاؤن اٹھایا جانا چاہیے۔ ’لاک ڈاؤن وائرس کو محض ایک جگہ محدود کر دیتا ہے اور ہمیں بہتر تیاری کرنے کا اضافی وقت دیتا ہے تاکہ جب لاک ڈاؤن ختم ہو تو ہم تیار ہوں۔‘

  5. بریکنگ, فلپائن میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد 12 ہزار سے تجاوز کر گئی

    فلپائن کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 12 ہزار سے بڑھ گئی ہے جبکہ اب تک وبا کے باعث 800 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    جمعہ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت نے بتایا کہ گذشتہ روز وائرس کی وجہ سے 16 اموات ہوئی ہیں جن کے بعد ملک میں ہلاک ہونے والوں کی کُل تعداد 806 ہوگئی ہے۔

    جمعرات کو ملک میں 215 نئے مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہوئی جس کے بعد ملک میں متاثرین کی کُل تعداد 12091 ہوگئی۔

    اسی دوران 215 افراد صحتیاب بھی ہوئے جس کے بعد ملک میں کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 2460 ہوگئی ہے۔

  6. قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی

    پاکستان میں کورونا کی وبا کے پیش نظر لائحہ عمل اور حکومتی اقدامات پر ہونے والا قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہو گیا ہے۔

    آج ہونے والے اجلاس میں اختتام پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ایوان کی کارروائی کو ختم کرتے ہوئے اس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔

  7. قومی اسمبلی کا اجلاس: رکن اسمبلی منیر اورکزئی کی طبیعت ناساز

    قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے رکن قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی بھی کی طبیعت اچانک ناساز ہوگئی۔

    اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نے رکن اسمبلی منیر اورکزئی کی طبیعت ناساز ہونے پر اسمبلی سارجنٹ کو ڈاکٹرز اور طبی عملے کو بلانے کی ہدایت کی۔

    بعدازاں منیر اورکزئی کو وہیل چیئرپرایوان سے باہرلے جایا گیا۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ منیر خان اورکزئی کورونا وائرس کا شکار ہوگئے تھے اور وائرس کی تصدیق کے بعد انھیں پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے آئیسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا تھا۔

  8. ’دنیا آہستہ آہستہ اب وہاں پہنچ رہی ہے جو وزیراعظم عمران خان کا ویژن تھا‘

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ دنیا آہستہ آہستہ اب وہاں پہنچ رہی ہے جو وزیر اعظم عمران خان کا ویژن تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ اثرات غریب افراد پر مرتب ہوں گے اور اب دیگر ممالک کو بھی یہ احساس ہورہا ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ جب تک کورونا کی ویکسین دریافت نہیں ہو جاتی ہمیں تب تک اس وبا کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔

    انھوں نے کورونا سے متعلق حکومتی اقدامات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پہلے دن سے کہہ رہے ہیں کہ عوام کو معاشی بدحالی سے بچانا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک لاکھ ہیلتھ ورکرز کی اور پانچ ہزار سپشلائزڈ ہیلتھ ورکرز کی حفاظتی لباس کے درست استعمال کے متعلق تربیت کی جا رہی ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے ایک ہزار وینٹی لیٹرز کی خریداری کی ہے، جس میں سے بیشتر پاکستان کے پاس ہیں اور چند ملک میں پہنچنے والے ہیں۔

    اسد عمر نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا۔

  9. بریکنگ, روس: ایک دن میں پھر 10 ہزار سے زیادہ متاثرین

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روس میں کورونا وائرس کے 10598 نئے مریضوں کی شناخت ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں متاثرہ افراد کی کُل تعداد 262843 ہوگئی ہے۔

    گذشتہ روز ماسکو میں واقع کورونا وائرس ہیڈ کوارٹرز نے بتایا کہ ملک کے 85 علاقوں سے 10 ہزار سے زائد نئے مریض سامنے آئے ہیں۔

    اسی دوران ملک میں 113 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ روس میں اب تک کورونا سے 2418 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    نئے متاثرین میں سے 4748 کا تعلق دارالحکومت ماسکو سے ہے۔ ملک میں ان تک 58226 افراد وائرس سے صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  10. قومی اسمبلی کا اجلاس: ’کورونا وائرس ڈینگی مچھر نہیں ہے‘

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق متضاد رائے بھی پائی جاتی ہے کہ مسلم لیگ(ن) کے ایک رکن نے کہا کہ 6 ہفتے کے لیے سب بند کردیتے تو کورونا ہی ختم ہوجاتا اور دوسری رائے یہ ہے کہ وبا نے پھیلنا ہے اور ڈر کر زندگی گزارنے سے فائدہ نہیں ہے۔

    اسد عمر نے کہا کہ 6 ہفتوں کا لاک ڈاؤن اتنا آسان ہوتا اور صرف پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے کورونا پھیلا تو امریکا، انڈیا، جرمنی کہیں تو ایسا تجربہ ہوا ہوتا اور ووہان میں بھی دوبارہ کیسز سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ وبا ڈینگی مچھر نہیں ہیں جسے مارے گے تو وبا ختم ہو جائے گی۔

  11. ’کورونا ویکسین کی پاکستان میں تیاری آئندہ چند ہفتوں میں شروع ہو جائے گی‘

  12. وبا کی تحقیقات پر ممکنہ قرارداد، چین کی حلیف ممالک سے ملاقاتیں

    ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں اپنے خلاف لائی جانے والی ممکنہ قرارداد کو شکست دینے کے لیے چینی سفارتکاروں نے اپنے حلیف ممالک سے ملاقاتیں شروع کر دی ہیں۔

    اس سلسلے کی پہلی ویڈیو کانفرنسز میں چین کے نائب وزیر خارجہ زھینگ زی گؤانگ نے نو کیریبین جزائر اور بحر الکاہل میں واقع جزائر کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔

    عنقریب منعقد ہونے والی ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں کورونا وائرس کی وبا کے حوالے سے تفتیش سے متعلق قرارداد پر بحث متوقع ہے تاہم چین اس کی مخالفت کرتا ہے۔

    اس سے قبل چین نے آسٹریلیا کی جانب سے وبا کی تحقیقات کرنے کی تجویز پر سخت ردعمل دیا تھا جبکہ اس نے واشنگٹن پر الزام لگایا ہے کہ وہ دنیا کے دیگر ممالک کو بیجنگ کے خلاف اکسا کر تائیوان کو ورلڈ ہیلتھ اسمبلی میں لانے کی کوششیں کر رہا ہے۔

    بیجنگ تائیوان کو اپنا صوبہ تصور کرتا ہے اور عالمی ادارہ صحت کے قوانین کے مطابق تائی پے اس کے اجلاسوں میں مدعو نہیں ہوتا اور چینی اراکین ہی اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔

  13. قومی اسمبلی کا اجلاس: ’ملک میں کورونا کی وبا بے قابو نہیں ہے‘

    پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا کی وبا بے قابو نہیں ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ حکومت دنیا کے بہترین ڈیٹا سائسندانوں کے ساتھ مل کر حکمت عملی مرتب کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں روزانہ اوسطاً 32 اموات ہو رہی ہیں جبکہ یورپ میں ہزاروں افراد ایک دن میں اس وبا کے باعث ہلاک ہوئے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا ٹیسٹنگ کی اہلیت بڑھا رہے ہیں، مارچ میں ملک میں یومیہ ٹیٹسنگ کی تعداد ساڑھے چار ہزار تھی جو آج یومیہ ساڑھے 13 ہزار کے قریب ہے اور اس کو مزید بڑھایا جا رہا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ملک میں ایک لاکھ طبی عملے کو حفاظتی لباس کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کے لیے تربیتی پروگرام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

  14. بریکنگ, قومی اسمبلی کا اجلاس: ’ہم مغرب کی اندھی تقلید نہیں کریں گے‘

    وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اپنے مسائل ہیں اور وبا کے ساتھ ساتھ ملک کو بھوک افلاس اور بے روز گاری کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اگر مغربی ممالک نے لاک ڈاؤن کیا ہے تو ہم ان کی اندھی تقلید نہیں کریں گے۔

  15. قومی اسمبلی کا اجلاس: ’وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں‘

    وفاقی وزیر اسد عمر نے قومی اسمبلی کو بتایا ہے کہ کورونا کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن اس کو صرف سست کر سکتی ہے۔

    اسد عمر کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک نے یہ کوشش کی کہ وبا ایسے مت پھیلے کہ ان کا صحت کا نظام بیٹھ جائے۔

  16. ’بیرون ملک سے آنے والے متاثرین سے وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پایا جا سکتا ہے‘

    چین کی قومی ہیلتھ کمیشن نے کہا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے متاثرین سے وائرس کے پھیلاؤ کے خطرے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

    چین میں گذشتہ روز کورونا کے چار نئے مریض سامنے آئے لیکن وہ تمام مقامی منتقلی کے کیس تھے۔

    چین نے دوسری ممالک کے شہریوں کے ملک میں داخلے پر مارچ کے اوآخر سے پابندی لگا رکھی ہے۔

  17. دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ میں کورونا کے پہلے مریض

    بنگلہ دیش میں واقع دنیا کے سب سے بڑے پناہ گزین کیمپ میں روہنگیا برادری کے دو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    بنگلہ دیشی حکام کے مطابق یہ 10 لاکھ آبادی والے کوکس بازار کیمپ سے سامنے آنے والے کورونا کے پہلے کیس ہیں۔

    حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ مریضوں کو تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کا علاج جاری ہے۔ اس کے علاوہ کیمپ کے 1900 مزید رہائشیوں کو ٹیسٹ کرنے سے قبل قرنطینہ کر دیا گیا ہے۔

    کوکس بازار کے پناہ گزین 14 مارچ سے لاک ڈاؤن میں رہ رہے ہیں۔

  18. جاپان: ایمرجنسی ہٹا لی گئی لیکن بڑے شہروں میں پابندیاں برقرار

    جاپان کے متعدد حصوں میں ایمرجنسی اٹھنے کے باوجود جمعے کو ٹوکیو اور اوساکا سمیت کئی بڑے شہروں میں پابندیاں نافذ رہیں۔

    دوسری جانب ٹوکیو میں ٹیسٹنگ کی ایک نئی مہم اس بات کا عندیہ دیتی ہے کہ دارالحکومت میں کوئی خطرہ اب بھی موجود ہے جو اعدادوشمار میں نہیں نظر آ رہا۔

    جاپان کے ان 39 پرفیکچر میں، جہاں ایمرجنسی اٹھا لی گئی ہے، ملک کی تقریباً 55 فیصد آبادی رہائش پزیر ہے۔

    جاپان میں اب تک کورونا کے 16 ہزار سے زیادہ مریض ہیں اور وائرس کے باعث 713 اموات ہوئی ہیں۔ اگرچہ یہ تعداد دیگر کئی ترقی یافتہ ممالک سے کہیں کم ہے لیکن وبا کی وجہ سے جاپان کو 2020 کے اولمپک مقابلوں سے ہاتھ دھونے پڑے۔

  19. کورونا وائرس کے علاوہ پانچ مسائل جو دنیا میں بحران کا باعث بن سکتے ہیں, جوناتھن مارکس، تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور

    کورونا وائرس کی وبا سے بہت سی عالمی خبریں شہ سرخیوں کا حصہ نہیں بن پا رہیں اور شاید اس کی وجہ سمجھ بھی آتی ہے۔

    کیونکہ یہ وبا دنیا بھر کو متاثر کر رہی ہے، تو ہم اس بحران سے کیسے نمٹیں، اپنے معاشروں کو اس وبا کے پیش نظر کیسے تبدیل اور منظم کریں اور اپنے روز مرہ کے کام کیسے جاری رکھیں، ایسے بہت سے سوالات جنم لے رہے ہیں۔

    اس وبا کے آغاز کے بعد سے بہت سے عالمی مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے اور شاید اب ان کو حل کرنے کے لیے بہت دیر ہو چکی ہے۔

    کچھ مسائل بہت گھمبیر ہو چکے ہیں جبکہ چند حکومتیں اپنی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کے لیے کورونا وائرس کی وبا کو توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

  20. قومی اسمبلی کا اجلاس:’کورونا پر بلائے گئے اجلاس میں صرف سندھ حکومت کی بات ہوتی ہے‘

    پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی شازیہ مری نے اپنی تقریرمیں حکومت ارکان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کورونا پر بلائے گئے اجلاس میں صرف سندھ حکومت کی بات ہوتی ہے۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ یہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہے نہ کہ سندھ کی صوبائی اسمبلی کا اجلاس، ان کا کہنا تھا کہ بہتر ہوگا کہ قومی اسمبلی کے آج کے اجلاس میں ہم صرف کورونا کے مسئلے پر ہی بات کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ خدا ہمیں اس وقت اس وبا سے بچائے اور اس کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کی نااہلی سے بھی بچائے۔