آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: برطانیہ کا ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان، بلوچستان میں 148 نئے متاثرین

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 46 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں متاثرین کی کل تعداد 41 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ صوبہ پنجاب میں پیر سے 26 صنعتیں کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ادھر برطانیہ نے ویکسین کے لیے 84 ملین پاؤنڈز دینے کا اعلان کیا ہے جبکہ چین کے شہر بیجنگ میں عوامی مقامات پر ماسک پہننے کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔

لائیو کوریج

  1. خیبرپختونخوا: دفاتر کی سرکاری تعطیلات میں 31 مئی تک توسیع

    صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا صوبے بھر میں عام تعطیلات میں 31 مئی تک توسیع کر دی گئی ہے۔

    انھوں نے کہا ہے کہ تمام ضروری سرکاری دفاتر کے علاوہ دیگر تمام سرکاری اور نجی دفاتر 31 مئی تک بند رہیں گے۔

    انھوں نے کہا کہ عام تعطیل کا مقصد کورونا کے خطرات کو کم سے کم کرنا ہے۔

  2. برطانیہ: کتوں کو کورونا وائرس کی تشخیص کے لیے تربیت دی جائے گی

    برطانیہ میں سائنسدانوں نے تحقیق شروع کی ہے کہ کیا سونگھ کر چیزوں کا پتا چلانے والے کتے کسی مریض میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہونے سے قبل مرض کا پتا لگا سکتے ہیں یا نہیں۔

    تربیت یافتہ کتے ملیریا، کینسر اور پارکنسنز جیسی کئی بیماریوں کا پہلے ہی سونگھ کر پتا لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    لندن سکول آف ہائیجین اینڈ ٹراپیکل میڈیسن کے محققین کتوں کو کووِڈ-19 کے حامل افراد اور اس سے محفوظ افراد کی بؤ سنگھا کر انھیں تربیت دیں گے۔

    اس طرح کے کتوں کی ناک اس قدر حساس ہوتی ہیں کہ وہ بُو میں اتنا معمولی سا فرق بھی پہچان لیتے ہیں جو اولمپک سائز کے دو تالابوں میں چینی کے ایک چمچ کے برابر ہو۔

    اگر حکومت کا منظور کردہ یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو امید کی جا رہی ہے کہ ان چھ میں سے ہر کتا ایک گھنٹے میں ڈھائی سو افراد کی سکریننگ کر سکے گا۔

  3. عید پر وائرس سے بچتے ہوئے شاپنگ کیسے کی جائے؟

    عید کی آمد آمد ہے، تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم عید پر نئے کپڑے نہ خریدیں؟

    تاہم کورونا سے بچاؤ کے لیے لیے گھر بیٹھنا بھی لازم ہے، تو ایسے میں عقل مندی اسی میں ہے کہ بازار جا کر عید کی خریداری کرنے کے بجائے آن لائن کپڑے خریدے اور سلوائے جائیں۔

    گھر بیٹھے آن لائن کپڑے کیسے سلوائیں، جانیے ہماری ساتھی ترہب اصغر اور فرقان الٰہی سے۔

  4. ’بلوچستان حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے سے متعلق ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا‘

    حکومت بلوچستان کے ترجمان لیاقت شہوانی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندی کے خاتمے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے فیصلہ وزیر اعلی بلوچستان کریں گے۔

    انھوں نے کہا اس حوالے سے فیصلہ صوبے کے مختلف اضلاع اور صوبے کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔

    یاد رہے کہ صوبہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں نے آئندہ سوموار سے پبلک ٹرانسپورٹ چلانے کا اعلان کر رکھا ہے جبکہ صوبہ سندھ نے فی الحال پبلک ٹرانسپورٹ نہ چلانے کا اعلان کیا ہے۔

  5. پاکستان میں اندرونِ ملک پروازوں کا سلسلہ بحال: تصاویر

    پاکستان میں اندرونِ ملک پروازوں کا سلسلہ آج سے جزوی طور پر بحال ہو گیا ہے۔

    نجی ایئرلائن کی پہلی پرواز آج سندھ کے دارالحکومت کراچی سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے لیے روانہ ہو چکی ہے۔

    پاکستان میں لاک ڈاؤن کے نفاذ کے ساتھ ہی اندرون ملک اور بیرون ملک پروازوں کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا تھا۔

  6. بلوچستان: غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے قرض حسنہ سکیم کا اجرا

    حکومتِ بلوچستان نے کورونا سے متاثرہ افراد کو غیر سرکاری تنظیم اخوت کے اشتراک سے قرض حسنہ فراہم کرنے کے سکیم کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔

    ایک سرکاری اعلامیے کے مطابق اس سلسلے میں کوئٹہ میں منعقدہ ایک تقریب میں قرض حسنہ سکیم کے پہلے روز کوئٹہ، پشین اور سبی کے 96 افراد کو میرٹ اور شفافیت کی بنیاد پر مجموعی طور پر 1920000 روپے کے قرضے فراہم کیے گئے۔

    اس موقع پر سیکریٹری خزانہ نور الحق بلوچ نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے پہلے روز سے ہی بلوچستان حکومت نے ریلیف اور کیش پروگرام کا اجرا کیا ہے کیونکہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور چھوٹے کاروبار کرنے والے طبقے کو معاشی طور پر مشکلات کا سامنا ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ قرض حسنہ سکیم ان لوگوں کے لیے بہت ہی اہمیت کی حامل ہے جس کے تحت بلا سود قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔ قرض حسنہ کے پہلے مرحلے کے تحت 25 ہزار خاندانوں میں کیش رقوم کی تقسیم کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ بہت جلد اس سکیم کو بلوچستان کے دور دراز علاقوں تک وسعت دی جائے گی۔ اس موقع پر سیکرٹری خزانہ نے بتایا کہ قرض حسنہ سکیم کے ساتھ ساتھ ایک نئی سکیم کے تحت بیروزگاری کے خاتمے اور نوجوانوں کو ’اپنا کاروبار‘ شروع کرنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر قرضہ دیا جائے گا۔

    تقریب سے اخوت کے سربراہ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے حکومت بلوچستان کے تعاون سے وزیراعلیٰ قرض حسنہ سکیم کو انتہائی اہم نوعیت کا منصوبہ قرار دیا ہے۔

  7. سنگاپور: 465 نئے متاثرین سامنے آگئے، کُل تعداد 27 ہزار سے زائد

    سنگاپور کی وزارتِ صحت نے اعلان کیا ہے کہ اس شہری ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 465 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد 27 ہزار 356 ہوگئی ہے۔

    وزارت کے اعلامیے کے مطابق متاثر ہونے والے نئے افراد میں سے زیادہ تر پرہجوم اجتماعی رہائشوں میں رہنے والے افراد ہیں جبکہ چار افراد مستقل شہری ہیں۔

    یاد رہے کہ سنگاپور میں اب تک 21 افراد کووِڈ-19 کے سبب ہلاک ہوئے ہیں۔

  8. بریکنگ, سندھ: گذشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 13 اموات، 674 نئے متاثرین

    صوبہ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 674 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 15590 ہو گئی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے وبا کے حوالے سے صوبے کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 افراد وبا کے باعث ہلاک بھی ہوئے۔

    صوبہ سندھ میں اب کورونا کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی کُل تعداد 268 ہو چکی ہے۔ سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 4467 ٹیسٹ کیے گئے ہیں جبکہ مجموعی طور پر صوبے میں اب تک 117860 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    وزیر اعلی نے آگاہ کیا کہ اس وقت صوبے بھر میں 11518 مریض زیرِ علاج ہیں جن میں سے 10134 افراد اپنے اپنے گھروں میں قرنطینہ ہیں، 832 سرکاری قرنطینہ مراکز میں ہیں جبکہ 552 مختلف ہسپتالوں میں ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ119 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 32 وینٹیلیٹرز پر ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے 674 کیسوں میں سے 490 متاثرین کی تعلق کراچی، 55 کا حیدرآباد، سکھر 11، خیرپور اور قمبر شہداد کوٹ میں چھ، چھ، سانگھڑ میں چار، ٹنڈو محمد خان اور جیکب آباد میں تین، تین، مٹیاری، سجاول اور گھوٹکی میں دو، دو جبکہ جامشورو اور ٹھٹہ میں ایک، ایک کیس سامنے آیا ہے۔

    سید مراد علی شاہ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 198 مریض صحت یاب ہوکر گھروں کو چلے گئے اور اب صوبے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی کُل تعداد 3804 ہو گئی ہے۔

  9. کمبوڈیا: 'کووِڈ کا آخری مریض صحتیاب ہو کر گھر روانہ'

    کمبوڈیا کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کا کورونا کا آخری مریض صحت یاب ہو کر اپنے گھر روانہ ہو چکا ہے جس کے بعد اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں کورونا کا فی الوقت کوئی مریض موجود نہیں ہے۔

    تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وزارت نے احتیاط کا دامن نہ چھوڑنے پر زور دیا جبکہ اعلامیے میں لاک ڈاؤن میں نرمی کا کوئی تذکرہ نہیں تھا۔

    کمبوڈیا میں کووِڈ-19 کے 122 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ اس سے ملک میں کوئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

    کمبوڈیا میں کورونا کا آخری مصدقہ مریض 12 اپریل کو سامنے آیا تھا۔ وزارت کے مطابق جنوری سے اب تک ملک میں 14 ہزار 684 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔

    وزیرِ صحت مام بن ہینگ نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ محتاط رہیں اور حفاظتی اقدامات پر کاربند رہیں جن میں بڑے گروہوں کی صورت میں نہ جمع ہونا شامل ہے۔

    انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمیں لگتا ہے کہ زیادہ تر متاثرین باہر سے آنے والے لوگ ہیں، اس لیے ہمیں تمام سرحدی ناکوں پر محتاط رہنا ہوگا، چاہے وہ ہوائی اڈے ہوں، بحری یا زمینی راستے ہوں۔’

    وزیرِ صحت نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک سے آنے والے تمام لوگوں کو کووِڈ-19 سے پاک ہونے کی سند فراہم کرنی پڑے گی، جس کے بعد ہی انھیں ملک میں داخل ہونے دیا جائے گا۔ ‘ایک بار جب وہ ملک میں آ جائیں گے، تو انھیں مزید 14 دن کے لیے قرنطینے میں رکھا جائے گا۔’

  10. پاکستان، افغانستان سرحد: تجارتی سرگرمیاں بحال کرنے کے لیے پابندیوں میں مزید نرمی

    حکومت پاکستان نے ملک میں لاک ڈاﺅن میں نرمی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے ذریعے تجارتی گاڑیوں کی آمدورفت کے حوالے سے بھی مزید نرمی کر دی ہے۔

    محکمہ داخلہ حکومت پاکستان کے ایک نوٹیفیکیشن کے مطابق خیبرپختونخوا میں طورخم سرحد دوطرفہ تجارت کے لیے سنیچر کے سوا ہفتے میں چھ یوم 24 گھنٹے کھلی رہے گی۔

    ان چھ دنوں میں دو طرفہ تجارت کے تحت لامحدود مال بردار گاڑیاں سرحد کے آر پار آ اور جا سکیں گی۔

    اس سے قبل جب سرحد کو ابتدائی طور پر کھولا گیا تھا تو محدود اوقات کار میں یکطرفہ طور پر دن میں صرف افغانستان جانے کے لیے 100 مال بردار گاڑیوں کو جانے کی اجازت تھی۔

    نوٹیفیکیشن کے مطابق اسی طرح بلوچستان میں چمن سرحد بھی سنیچر کے سوا ہفتے میں چھ یوم کے لیے دو طرفہ تجارت کے لیے کھلی ہو گی۔

    سنیچر کا دن ان دونوں مقامات سے پیدل افراد کی آمد و رفت کے لیے مختص ہو گا۔

    نوتٰفیکیشن کے مطابق اس حوالے سے جو ایس او پیز ہیں ان پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا۔

  11. بریکنگ, روس: کورونا وائرس سے مزید 9200 افراد متاثر، ہلاکتوں کی کُل تعداد 2537

    روس میں سنیچر کو کورونا وائرس کے نو ہزار 200 نئے متاثرین سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد دو لاکھ 72 ہزار 43 ہوگئی ہے۔

    روس کی کورونا وائرس ٹاسک فورس کے مطابق یہ تعداد گذشتہ روز سے کم ہے جب 10 ہزار 598 نئے متاثرین سامنے آئے تھے۔

    سرکاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 119 لوگ اس مرض سے ہلاک ہوئے ہیں جس کے بعد وائرس سے ہلاکتوں کی کُل تعداد 2537 ہوگئی ہے۔

    روس اس وقت متاثرین کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ ملک ہے۔

    پہلے نمبر پر امریکہ ہے جہاں 14 لاکھ 43 ہزار سے زائد افراد متاثر جبکہ 87 ہزار 568 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    اس کے مقابلے میں روس میں اموات کی شرح کافی کم ہے۔

  12. بریکنگ, وزیر اعظم جلد از جلد ٹرین سروس بحال کرنے کا اعلان کریں: شیخ رشید

    وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آئندہ ہفتے کے آغاز تک ریلوے سروس کی بحالی کا اعلان کر دیں وگرنہ آن لائن ٹکٹوں کی مد میں جمع شدہ 23.2 کروڑ روپے عوام کو واپس کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جائے گا۔

    صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ اگر حکومت نے ریلوے کے سفر کی اجازت دینی ہے تو ہمیں سوموار یا زیادہ سے زیادہ منگل تک آگاہ کیا جائے کیونکہ عید کے قریب شارٹ نوٹس پر ایسا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔

    ’آدھا تیتر اور آدھا بٹیر نہیں ہونا چاہیے۔ ایک جانب بسیں اور ہوائی جہاز چلانے کی اجازت دی جا رہی ہے مگر دوسری طرف ٹرین سروس چلانے کی اجازت نہیں ہے۔ حالانکہ پوری دنیا میں لاک ڈاؤن کے دوران ٹرین سروس رواں دواں ہے۔‘

    انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی طرف سے اجازت دی جاتی ہے تو ریلوے کے انتظامات مکمل ہیں اور حفاظتی اقدامات کے تحت ٹکٹ نہ رکھنے والوں کو ریلوے سٹیشن میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اسی طرح ٹرینوں کو باقاعدگی سے ڈس انفیکٹ کیا جائے گا اور خصوصی عملہ ہر ٹرین پر موجود ہو گا۔

    ریلوے کا تنخواہوں اور پنشن کی مد میں سوا پانچ ارب تک خرچ ہوتا ہے۔ ریلوے کا اور کوئی ذریعہ آمدن نہیں ہے، اگر ریل نہ چلی تو وفاقی حکومت کو یہ اخراجات برداشت کرنا ہوں گے۔

  13. پاکستان: ’چینل مالکان اپنے عملے کا خیال کریں‘

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے دعوی کیا ہے کہ چند پاکستانی چینلز کے عملے کے اراکین کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے لیکن پھر بھی انتظامیہ نے دفاتر میں جراثیم کُش سپرے نہیں کروایا اور نہ ہی عملے کے دیگر اراکین کے ٹیسٹ کروائے گئے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میری میڈیا مالکان سے اپیل ہے کہ اپ ورکرز سے دن رات کام لے رہے ہیں لیکن اکثر کو نہ ہی تنخواہیں دی جا رہی ہیں، نہ ماسکس وغیرہ۔ حتٰی کہ ٹیسٹ بھی نہیں کروائے جا رہے۔ کچھ چینلز میں کیسس نکلے لیکن سپرے بھی نہیں کراوایا۔ رپورٹرز اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کام کر رہے ہیں پلیز ان کا خیال کریں۔‘

  14. راہل گاندھی: 'طوفان آیا نہیں ہے، بلکہ آنے والا ہے'

    انڈیا کی سیاسی جماعت کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے سنیچر کو ویڈیو کال کے ذریعے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کی پریس کانفرنس کے چیدہ چیدہ نکات یوں ہیں:

    • طوفان آیا نہیں ہے، بلکہ آنے والا ہے۔ زبردست اقتصادی نقصان ابھی آئے گا اور ہر کوئی اس سے متاثر ہوگا۔
    • مرکز کے اقتصادی پیکج میں قرض کا تذکرہ کیا گیا ہے مگر یہ طلب نہیں بڑھائے گا۔ افر ہم نے پیسے نہیں دیے اور طلب میں اضافہ نہیں ہوا تو ملک شدید تر اقتصادی بحران کا شکار ہوجائے گا جو کورونا سے بڑا نقصان ہوگا۔ جب تک یہ پیسہ عوام تک نہیں پہنچے گا، تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ترجیح یہ ہونی چاہیے کہ پیسہ عوام کی جیبوں تک پہنچے۔ اس پیکج پر نظرِثانی کرنی چاہیے۔
    • صورتحال اب یہ یوں ہے کہ طلب اور رسد دونوں ہی تھم گئی ہیں۔ آپ رسد شروع کر سکتے ہیں مگر طلب نہ بڑھانا نقصاندہ ہوگا۔ اس کے لیے لوگوں کی جیبوں میں پیسہ ہونا ضروری ہے۔ یاد رکھیں کہ انجن کو چلنے کے لیے ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بغیر یہ سٹارٹ نہیں ہوتا۔
    • اقتصادی پیکج کے اعلان کے بعد بھی لوگوں کے چہروں پر پریشانی ہے، آرام نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قرضہ پیکج ہے۔ پیسہ ابھی تک دیا نہیں گیا اور جب یہ دیا جائے گا تو قرض کی صورت میں ہوگا۔ جبکہ ضرورت یہ ہے کہ پیسہ ابھی دیا جائے۔
    • یہ الزامات کا وقت نہیں ہے۔ مسئلہ بہت بڑا ہے۔ میں الزام نہیں لگانا چاہتا۔ اگر بی جے پی حکومت میں ہے تو ان کے پاس زیادہ وسائل اور زیادہ ذمہ داریاں ہیں۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی مدد کریں۔ یہ بہت اہم ہے کہ ہم انھیں پیسہ دیں اور ان کا ہاتھ تھامیں۔
    • لاک ڈاؤن کو ختم کرنا ہوگا مگر یہ بہت محتاط انداز میں کرنے کا کام ہے۔ یہ ایک اقدام نہیں بلکہ ایک پیچیدہ مرحلہ ہے۔ ہم ان لوگوں کو قربان کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے جو عمر رسیدہ ہیں، دل، گردے اور پھیپھڑوں کے مریض ہیں۔ اگر ہم نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈاؤن اٹھا لیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہوگا۔
  15. پاکستان: وسط جولائی تک ہسپتالوں میں کورونا مریضوں کی گنجائش کی صورتحال کیا ہو گی

    پاکستان میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں گذشتہ چند روز کے دوران تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا اعلان کر دیا ہے اور اس حکومتی فیصلے پر طبی ماہرین پریشان ہیں۔ انھیں خدشہ ہے کہ مریضوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے ہسپتالوں میں بستروں اور دیگر طبی سہولیات کی قلت ہو سکتی ہے۔

    مزید تفصیلات نامہ نگار بی بی سی عمر دراز کی اس رپورٹ میں۔

  16. وفاق کی جانب سے عدم تعاون خدشات کو جنم دے رہا ہے: ترجمان حکومت گلگت بلتستان

    گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا کہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی ہے۔

    صحافی موسٰی چلونکھا کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت کو وسائل اور فنڈز کی شدید کمی کا سامنا ہے اور کورونا سے نمٹنے کے لیے وفاقی حکومت سے تقریبا دو ارب روپے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے عدم تعاون خدشات کو جنم دے رہا ہے۔

    ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ گلگت بلتستان حکومت اپنے شعبہ صحت اور تعلیم کے انڈومنٹ فنڈز سے ہیلتھ ایمرجنسی کا نظام چلا رہی ہے۔

    انھوں نے آگاہ کیا کہ گلگت بلتستان حکومت نے اب تک 24 ہزار سے زائد مستحق افراد میں راشن تقسیم کیا ہے۔ فیض اللہ فراق کے مطابق گلگت بلتستان میں رمضان سے پہلے لاک ڈاؤن کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آنے لگے تھے مگر عوامی مطالبے پر ماہ رمضان میں لاک ڈاؤن میں نرمی لائی گئی تھی جس کے نتائج اچھے نہیں آئے اور کورونا کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

    انھوں نے کہا کہ اگر گلگت بلتستان میں متاثرین کی تعداد میں اضافہ جاری رہا تو لمبے عرصے تک ٹرانسپورٹ کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکے گی اور لاک ڈاون میں نرمی بھی ختم جا سکتی ہے۔

  17. برطانیہ: لاک ڈاؤن کے دوران شکاری پرندوں کے قتل میں اضافہ

    پرندوں کی بہبود کے لیے کام کرنے والے برطانوی فلاحی ادارے رائل سوسائٹی فار پروٹیکشن آف برڈز نے کہا ہے کہ چھ ہفتے قبل جب لاک ڈاؤن شروع ہوا، تب سے اب تک ان کے پاس شکاری پرندوں کے قتل کی لاتعداد خبریں آ رہی ہیں۔

    ادارے کا کہنا ہے کہ یہ جرائم ‘منظم انداز’ میں کیے جا رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ‘اکثریت کا تعلق’ ان زمینوں سے پایا گیا جہاں شوٹنگ کی جاتی ہے۔

    سوسائٹی کے تفتیشی یونٹ کے سربراہ مارک تھامس نے بی بی سی کو بتایا کہ جو لوگ شکاری پرندوں کو مارنا چاہتے ہیں، وہ چہل قدمی اور ہائیکنگ کرنے والوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے حوصلہ پا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ یہ اضافہ عین لاک ڈاؤن کے نفاذ کے دن سے منسلک ہے۔

    انھوں نے کہا کہ سال کے اس حصے میں ان کے پاس محفوظ قرار دیے گئے پرندوں کی عموماً ہفتے میں تین سے چار کی تعداد میں مارے جانے کی اطلاعات آتی ہیں، مگر اب یہ تعداد بڑھ کر یومیہ تین سے چار ہوگئی ہے۔

  18. کورونا وائرس کے خلاف دو محازوں پر لڑنے والی برطانوی نژاد پاکستانی ڈاکٹر

  19. حفاظتی طبی ساز و سامان کا درست استعمال کیسے کیا جائے؟

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک خصوصی دستاویزی فلم کا اجرا کیا جس میں ڈاکٹروں، نرسوں، پیرامیڈیکل سٹاف اور وبا سے نمٹنے والے دیگر خصوصی عملے کو حفاظتی طبی ساز و سامان کے درست استعمال کے حوالے سے تربیت دی گئی ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق اس دستاویزی فلم کا اجرا وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے ایک تقریب میں کیا ہے۔

    حفاظتی طبی ساز و سامان کا درست استعمال کیسے کیا جائے، دیکھیے اس ویڈیو میں۔ (بی بی سی نے یہ ویڈیو حکومت پاکستان کے یوٹیوب چینل سے لی ہے)۔

  20. برطانیہ میں مرض پھیلنے کی شرح میں اضافہ, جیمز گیلاگر، بی بی سی ہیلتھ نامہ نگار

    برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ ملک میں مرض پھیلنے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے اور اب یہ 0.7 سے 1 ایک کے درمیان ہے، جبکہ حالات قابو میں رکھنے کے لیے اسے 1 سے نیچے رکھنا ہوگا۔

    اعداد و شمار میں اضافے کی وجہ کیئر ہومز اور ہسپتالوں میں مرض پھیلنے کو تصور کیا جا رہا ہے۔

    وزیرِ اعظم بورس جانسن کی جانب سے اتوار کو لاک ڈاؤن میں کی گئی ترمیم کا اثر اب بھی غیر واضح ہے۔

    مرض پھیلنے کی شرح یا آر نمبر کا مھلب یہ ہے کہ ایک شخص سے وائرس کتنے لوگوں میں منتقل ہوتا ہے۔

    اگر یہ دو ہے، اس کا مطلب ہے کہ 10 افراد 20 لوگوں میں یہ مرض منتقل کریں گے۔ اگر یہ 0.5 ہے تو 10 لوگ اسے پانچ لوگوں میں منتقل کریں گے۔

    آر نمبر 0.5 سے 0.9 کے درمیان جھول رہا تھا تاہم اس میں ہونے والا کوئی بھی اضافہ لاک ڈاؤن میں نرمی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالے گا۔