چمن کے راستے داخل ہونے والے مزید 355 افراد کو قرنطینہ کر دیا گیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان سے دوسری مرتبہ پاکستانی شہریوں کی ایک بڑی تعداد چمن کے راستے داخل ہوئی جن کو قرنطینہ مرکز میں رکھا گیا ہے۔
قلعہ عبد اللہ میں محکمہ صحت کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق ان افراد کی تعداد 355 سے زائد تھی جن کا تعلق بلوچستان کے علاوہ پنجاب، سندھ اورخیبر پشتونخوا سے ہے۔
اہلکار کے مطابق ان افراد کے کورونا کے ٹیسٹ کے لیے نمونے لے کر لیباریٹری بھیجوا دیے گئے ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ ٹیسٹ کے نتائج آنے کے بعد دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے ان افراد کو صوبوں میں بھیجا جائے گا جن کے ٹیسٹ کے نتائج منفی ہوں گے۔
حکمہ صحت حکومت بلوچستان کی پورٹ کے مطابق ان 355 افراد کے آنے کے بعد چمن میں قائم قرنطینہ مرکز میں موجود افراد کی تعداد بڑھ کر 469 ہو گئی ہے۔
چمن کے بعد قلعہ عبد اللہ سے متصل پشین میں کورونا کے سب سے زیادہ متاثرین قرنطینہ میں رکھے گئے ہیں جن کی تعداد 381 ہے۔ جبکہ تیسرے نمبر پر سب زیادہ تعداد سب سے بڑے قرنطینہ مرکز تفتان میں ہے جہاں 274 افراد موجود ہیں۔
محکمہ صحت کے مطابق بلوچستان میں قرنطینہ مراکز میں لوگوں کی مجموعی تعداد 1420 ہے۔


















