کورونا وائرس: پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 1430 نئے متاثرین، 33 ہلاکتیں
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 44 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 37,176 ہو گی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 803 ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں گذشتہ روز 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 900 سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
لائیو کوریج
پاکستان میں پھنسی ہسپانوی سیاح کی آپ بیتی
ڈاریا سنتیرا کا تعلق سپین سے ہے۔ مارچ میں جب سپین میں کورونا وائرس کے سبب سخت لاک ڈاؤن تھا اور پاکستان میں لاک ڈاؤن کی شروعات تھیں تو اس وقت یہ پاکستان میں سیاحت کے لیے موجود تھیں۔اس دوران انھوں نے نہ صرف گلگت بلستان اور اسلام آباد کی سیاحت کی بلکہ انھوں نے لاک ڈاؤن میں وقت بھی گزارا۔ ان کے سفر کے بارے میں دیکھیے زبیر خان اور نیئر عباس کی یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔
برطانیہ : ایمرجنسی کورونا وائرس ہسپتالوں کی تعمیر میں شامل کمپنیوں پر سائبر حملے کیے گئے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ میں ایمرجنسی کورونا وائرس ہسپتالوں کی تعمیر میں شامل دو کمپنیاں رواں ماہ سائبر حملوں کا نشانہ بنی ہیں۔
انٹرسرو، جس نے برمنگھم کا این ایچ ایس نائٹنگیل ہسپتال بنانے میں مدد کی، اور بام کنسٹرکٹ، جس نے یارکشائر اور ہمبر کو بنایا ، نے ان واقعات کی اطلاع حکام کو دی ہے۔
اس ماہ کے شروع میں، حکومت نے خبردار کیا تھا کہ وائرس سے نمٹنے والے طبی کارکنان کے گروہوں کو بدنیتی پر مبنی اداکاروں کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا ہے۔
ان علیحدہ حملوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ملا۔
لیکن بام کنسٹرکٹ کا کہنا ہے ’یہ سائبر حملے ان سرکاری اور نجی تنظیموں پر کیے جا رہے ہیں جو حکومت کی کورونا وائرس سے نمٹنے والی کوششوں کا حصہ ہیں۔‘
ناصر حسین شاہ: ایس او پیز کی عدم پیروی کی صورت میں دوبارہ سختی کی جاسکتی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کاروباری سرگرمیوں کے دوران طے شدہ ایس او پیز پر عمل درآمد ہر صورت یقینی بنایا جائے ورنہ عدم پیروی کی صورت میں لاک ڈاؤن دوبارہ سخت کیا جاسکتا ہے۔
ناصر حسین شاہ کے مطابق حکومت سندھ نے افہام و تفہیم کے بعد اس بات کا فیصلہ کیا کہ صبح آٹھ تا شام پانچ حفاظتی اقدامات کی مکمل پیروی کے ساتھ صوبے میں کاروباری سرگرمیوں کی اجازت دی جائے، تاکہ انسانی جانوں کی حفاظت کے ساتھ معیشت کا پہیہ بھی چلتا رہے۔
انھوں نے کہا کہ نرمی کے ساتھ ہی مارکیٹوں سمیت بے شمار مقامات پر رش اور ایس او پیز کی عدم پابندی نظر آتی رہی جو کہ تاجروں اور حکومتی معاہدے کے برخلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل یا لا پرواہی کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی اور انسانی زندگیوں کی قیمت پر کاروبار کا فروغ دانشمندی نہیں کہا جاسکتا۔
ناصر حسین شاہ نے عوام اور تاجر برادری سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کی رعایت کا بے جا فائدہ ہرگز نہ اٹھائیں بصورت دیگر حکومت سندھ ایک بار پھر سے مکمل اور سخت ترین لاک ڈاون کا نفاذ کرنے پر مجبور ہوجائے گی۔
کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی کا ستمبر میں اپنے کیمپس بند رکھنے کا اعلان
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی سب سے بڑی ریاستی یونیورسٹی کیلیفورنیا سٹیٹ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ وہ ستمبر میں اپنے 23 کیمپسز کو بند رکھے گی جبکہ کلاسیں آن لائن ہوں گی۔
یونیورسٹی میں تقریباً چار لاکھ 80 ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔
یہ کسی امریکی یونیورسٹی کی جانب سے پہلا اعلان ہے کہ طلبا سردیوں میں کیمپس واپس نہیں لوٹیں گے۔
یہ اعلان متعدی امراض کے امریکی ماہر اور ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر فاؤچی کے اس بیان کے بعد کیا گیا ہے کہ خزاں میں وائرس کی واپس ’عین ممکن اور قابلِ تصور ہے۔‘
مگر یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی جانب سے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا گیا ہے جس کے 10 کیمپسز میں دو لاکھ 85 ہزار طلبا زیرِ تعلیم ہیں۔
کینیڈا کی میک گل یونیورسٹی نے بھی ستمبر میں اپنے زیادہ تر کورسز آن لائن پڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا: 20 کھرب روپوں کے امدادی پیکج میں کیا کیا شامل ہے؟
،تصویر کا ذریعہEPA
،تصویر کا کیپشنانڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز کووِڈ 19 کے باعث ہونے والی معاشی مشکلات کے ازالے کے لیے 20 کھرب روپے مالیت کے اقتصادی پیکج کا اعلان کیا تھا
انڈیا کی وزیرِ خزانہ نرملا سیتھارامن نے آج کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے سبب متاثر ہونے والے چھوٹے کاروبار کو سہارا دینے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
انڈیا کی حکومت نے چھوٹے کاروبار کو آسان قرضے کی فراہمی کے لیے تین کھرب روپوں کے کریڈٹ گارنٹی پروگرام کا اعلان کیا ہے جبکہ ان کے لیے 500 ارب روپوں (6.6 ارب ڈالر) کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔
انڈیا کے چھوٹے کاروبار اس کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ مجموعی قومی پیداوار میں ان کا حصہ 28 فی صد ہے جبکہ 10 کروڑ افراد ان میں ملازمت کرتے ہیں۔
انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے گذشتہ روز کووِڈ 19 کے باعث ہونے والی معاشی مشکلات کے ازالے کے لیے 20 کھرب روپے مالیت کے اقتصادی پیکج کا اعلان کیا تھا جو ان کے مطابق ملک کی اقتصادی پیداوار کے 10 فیصد کے برابر ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق اس نئے اقتصادی پیکج میں وہ پانچ کھرب روپے بھی شامل ہیں جو انڈیا کا مرکزی بینک پیسے کی رسد کو بہتر بنانے کے لیے استعمال کرے گا جبکہ 1.7 کھرب روپے نقد اور خوراک کی صورت میں دیے جائیں گے جس کا اعلان حکومت نے مارچ میں کیا تھا۔
انڈیا نے مارچ میں کورونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے مکمل لاک ڈاؤن کا اعلان کیا تھا جس کے بعد کروڑوں لوگوں کے بیروزگار ہونے اور متعدد کاروبار بند ہونے کے باعث انڈیا کی معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔
اب ان بندشوں میں کچھ حد تک نرمی کی گئی ہے جبکہ جلد ہی مزید نرمی کا بھی اعلان کیا جائے گا۔
گذشتہ روز انڈیا کے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ اقتصادی پیکج کے ساتھ ساتھ انڈیا کے زمینداری اور محنت سے متعلق قوانین میں بھی تبدیلی کی جائے گی جن کے متعلق نقادوں کا خیال ہے کہ وہ انڈیا کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
پولینڈ : متاثرین کی بڑھتی تعداد کے باوجود پابندیوں میں نرمی کر دی گئی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پولینڈ میں لاک ڈاؤن کے سلسلے میں لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے پیر سے ہیئر ڈریسر اور ریستورانوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔
وزیر اعظم میٹیوز موراویسکی کا کہنا ہے ’کم از کم کسی حد تک ہمارے ہاں کورونا وائرس کی بیماری موجود ہے۔ لہذا ہم آہستہ آہستہ معیشت کو کھولنا شروع کرسکتے ہیں۔‘
موراویکی نے یہ بھی کہا کہ چھوٹے بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز کو جزوی طور پر دوبارہ کھولا جائے گا۔
پولینڈ میں یہ اقدام سب سے زیادہ متاثرین سامنے آنے کے بعد لیا گیا ہے۔ زیادہ تر متاثرین کا تعلق سلیسیا کے علاقے میں کوئلے کی کان کنی کرنے والوں اور ان کے خاندانوں سے ہے۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق پولینڈ میں 17032 تصدیق شدہ متاثرین اور 847 اموات ہوئی ہیں۔
چین کے دفاع پر مامور سخت لہجے والے سفارتکاروں کی فوج
بریکنگ, گلگت بلتستان: مزید 6 افراد میں وائرس کی تصدیق، متاثرین کی مجموعی تعداد 482 ہوگئی, محمد زبیر خان، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں گلگت بلتستان میں کورونا مریضوں کی تعداد بڑھ کر 482 ہوگئی ہے۔
13 مئی کے روز سات مزید افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 13مئی کے روز چھ مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں جس کے بعد صحت مند مریضوں کی تعداد 337 ہوگئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں زیر علاج مریضوں کی تعداد 141 ہے۔ اب تک صرف چار مریض ہلاک ہوئے ہیں۔
محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق گذشتہ چند روز میں گلگت میں مریضوں کی تعداد بڑھنے سے اس وقت گلگت بلتستان میں گلگت سب سے متاثرہ ضلع بن گیا ہے جہاں پر اس وقت 59 مریض زیر علاج ہیں جبکہ اس سے قبل استور میں مریضوں کی تعداد سب سے زیادہ ہوتی ہے مگر اس وقت استور میں مریضوں کی تعداد 58 ہے۔
وزارتِ داخلہ کا صوبوں کو ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے مراسلہ
وفاقی حکومت نے رمضان اور عید کے دوران لاک ڈاؤن کے ایس او پیز پر لازمی عملدرآمد کے لیے صوبوں کو مراسلہ لکھ دیا ہے۔
مراسلے کے مطابق لاک ڈاؤن کے دوران تراویح کے لیے ایس او پیز کے لیے پہلے سے طے شدہ ضوابط کا اطلاق رمضان کے آخری عشرے اور عید کی نماز پر بھی ہوگا-
صوبوں سے کہا گیا ہے کہ وہ وزارت صحت کی جانب سے جاری کردہ سماجی فاصلے اور دیگر احتیاطی تدابیر کے ایس او پیز پر عمل کریں اور نو مئی کے بعد لاک ڈاؤن کے حوالے سے احکامات کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ این سی او سی کے فیصلے کے مطابق آخری عشرہ رمضان اور یوم علی کے جلوسوں پر بھی مکمل پابندی ہوگی۔
فرانس میں پرائمری سکول کھل گئے, چھوٹے چھوٹے بچوں کو دور رکھنے کے لیے اقدامات پر سوشل میڈیا صارفین حیران
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
پیر کے روز فرانس میں پرائمری سکول دوبارہ کھل گئے اور سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر سکولوں سے تصاویر کو شیئر کیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین چھوٹے چھوٹے بچوں کو ایک دوسرے سے جسمانی طور پر دور رکھنے کے لیے اقدامات پر حیران ہیں۔
ایک تصویر میں بچے کھیل کے میدان میں خانوں کے اندر کھڑے ہیں۔ لیکن اس تصویر کو شئیر کرنے والے صحافی کا کہنا ہے کہ بچے، کھیل اور سیکھنے کے اس نئے طریقہِ کار پر ناخوش دکھائی نہیں دیتے ہیں۔
معاشرتی دوری کے اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے سکولوں کو دوبارہ کھولنا بیشتر ممالک کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
ڈنمارک میں جہاں ایک ماہ قبل سکول دوبارہ کھولے گئے ہیں، وہاں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ چھوٹے بچوں سے ہر وقت جسمانی فاصلہ برقرار رکھنے کی توقع رکھنا غیر حقیقی ہے۔ اس کے بجائے کلاسوں کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ بچے پانچ پانچ کے گروپوں میں کھیلتے ہیں اور وہ ہر گھنٹے اپنے ہاتھوں کو دھوتے ہیں۔
پنجاب: جم اور ہیلتھ کلبز، سیلونز اور حجام کی دکانوں کے لیے ضوابط جاری
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنراولپنڈی کے ایک سیلون میں عملہ ماسک پہن کر گاہکوں کو خدمات فراہم کر رہا ہے
پنجاب کے محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر نے لاک ڈاؤن میں نرمی کے پیش نظر جم اور ہیلتھ کلبز، حجام کی دکانوں اور سیلونز کے لیے معیاری طریقہ کار (ایس او پی) جاری کر دیے ہیں۔
حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ جگہوں پر صابن سے ہاتھ دھونے یا سینیٹائز کرنے کی سہولت مہیا کرنا لازم ہے۔
جم کے عملے اور ارکان، اور سیلون اور حجام کی دکانوں میں عملے اور گاہکوں دونوں کے لیے سرجیکل ماسک پہننا اور مناسب فاصلہ برقرار رکھنا لازم ہے۔
حجام کی دکانوں اور سیلونز پر زور دیا گیا ہے کہ وہ لوگوں کو انتظار گاہ میں بٹھانے اور جگہ کو پرہجوم بنانے کے بجائے ایک وقت میں ہی گاہک کو خدمات فراہم کریں جبکہ ہیلتھ کلبز کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف 50 فیصد گنجائش پر اپنا کام جاری رکھیں۔
،تصویر کا ذریعہGovt of the Punjab
مذکورہ تمام مقامات کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ سماجی دوری یقینی بناتے ہوئے گلے ملنے اور ہاتھ ملانے سے گریز کریں۔
جم کے ارکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے دو میٹر کا فاصلہ رکھیں، چاہے اس کے لیے درمیان میں ایک ایک مشین خالی کیوں نہ چھوڑنی پڑے۔
اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک رکن کے استعمال کے بعد ورزش کی مشین دوسرا ممبر پانچ منٹ کے وقفے سے استعمال کرے گا۔
اسی طرح حجام کی دکانوں اور سیلونز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے آلات اور کرسیوں کو الکوحل کے محلول سے صاف کریں تاکہ انھیں جراثیم سے مکمل طور پر پاک کیا جا سکے۔
،تصویر کا ذریعہGovt of the Punjab
گرمیوں میں سیاحت کا سیزن منائیں گے، یورپی یونین کا وعدہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیدار نے سرحدوں پر بتدریج کنٹرول ہٹانے کی تجویز دی ہے تاکہ کورونا وائرس کی وبا سے زیادہ متاثر ہونے والی سیاحت کی انڈسٹری کو دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
اقتصادی امور کے کمشنر پاؤلو جینٹیلونی نے کہا کہ ’ہمارا پیغام ہے کہ ہم ان گرمیوں میں سیاحت کا سیزن منائیں گے، چاہے وہ سکیورٹی کے اقدامات اور حدود کے اندر ہی رہ کر ہو۔‘
یورپی یونین، بشمول شینجین زون، میں سرحدیں بند کر دی گئی تھیں۔
لیکن اب ریاستیں انھیں کھول رہی ہیں۔
آسٹریا اور جرمنی نے حال ہی میں سفری پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
جمعہ سے سرحدوں پر کوئی اتفاقیہ چیک نہیں ہوں گے اور 15 جون سے آزادانہ نقل و حرکت شروع ہو جائے گی۔
چانسلر سبیسٹیئن کرز نے کہا کہ ’ہم لوگوں کی روز بروز کی زندگی آسان بنانا چاہتے ہیں اور مزید معمول کی زندگی کی طرف ایک اور قدم لینا چاہتے ہیں۔‘
برطانوی سیاحوں کو پہلے ہی کہا جا چکا ہے کہ وہ زیادہ پرتعیش چھٹیوں کا منصوبہ نہ بنائیں اور ہوائی سفر پر 14 دن کے قرنطینہ کا بھی منصوبہ ہے۔ لیکن صرف فرانس اور آئرلینڈ جانے والوں کے لیے قرنطینہ کی شرط نہیں رکھی گئی۔
کورونا اور محبت: سماجی دوری کے زمانے میں محبتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟
کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے معاملات اب الیکٹرانک روپ اختیار کر رہے ہیں، تو وہیں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس ڈیجیٹل ویڈیو میں دیکھیے کہ سماجی دوری کے زمانے میں ڈیٹنگ کے لیے نوجوان کیا طریقے اختیار کر رہے ہیں۔
’شیطانی ٹرمپ انتظامیہ خدا کی طرف سے ایران کا امتحان ہے‘ روحانی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ امریکی تاریخ کی سب سے غیر انسانی اور نااہل انتظامیہ ہے۔
کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس کے دوران جسے براہ راست نشر کیا گیا، روحانی کا کہنا تھا ’ہم دو سال سے بدترین حکومت کا سامنا کر رہے ہیں۔ مجھے امریکہ میں پہلے کبھی ایسا وائٹ ہاؤس یاد نہیں۔ شاید مورخین ایسی کسی غیر انسانی، وحشیانہ، ظالمانہ اور نااہل حکومت کی مثال ڈھونڈ پائیں۔‘
روحانی نے سیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو کا حوالہ دیتے ہوئے انھیں ’نوسکھیئوں کا ایک گروہ‘ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’اس حکومت کے وزیر خارجہ کو دیکھ کر لگتا ہے انھیں ایک بھی سیاسی حرف یاد نہیں یا سکھایا نہیں گیا۔‘
صدر نے مزید کہا ’امریکہ ہمیشہ سے ہی دہشت گرد ملک رہا ہے لیکن اس حد تک کبھی نہیں گیا۔ حتیٰ کہ انھوں نے کورونا وائرس کے دوران ہمارے لیے ادوایات کی درآمد میں بھی رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا ’ٹھیک ہے، یہ ہمارے لیے خدا کا امتحان ہے۔‘
جنوری میں ایرانی جنرل قاسم سیلمانی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا ’مجھے امریکہ میں ایسی حکومت یاد نہیں ہے۔ یہ امریکہ کی بدترین حکومت ہے۔ یہ سب سے بری حکومت ہے۔ کون سی شیطانی حکومت دوسرے ملک میں کسی ملک کے فوجی کمانڈر کا قتل کر سکتی ہے؟‘
کورونا وائرس: جلدی کر کے محنت برباد نہ کریں، اینجلا میرکل کی تنبیہہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جرمن چانسلر اینجلا میرکل نے خبردار کیا ہے کہ ملک لاک ڈاؤن سے تیزی سے باہر نہ نکلے اور کورونا وائرس کے انفیکشن ریٹ کو آہستہ کرنے کی ساری کامیابی برباد نہ کرے۔
جرمنی کی کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کی پالیسی کی بہت تعریف کی گئی تھی۔
بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور لاک ڈاؤن کی موثر پابندیوں نے ملک میں اموات کی شرح کو یورپ کے دیگر ممالک کے مقابلے میں کم رکھنے میں کافی مدد دی ہے۔
جرمنی کی 16 وفاقی ریاستوں کو لاک ڈاؤن میں نرمی کا اختیار دیا گیا ہے اور سکولوں اور دوکانوں کو اس ہفتے دوبارہ کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔
میرکل نے بنڈیزسٹیگ کو بتایا کہ ’یہ بڑا مایوس کن ہو گا کہ ہمیں ان پابندیوں کی طرف واپس جانا پڑے جنھیں ہم نے پیچھے چھوڑا ہے کیونکہ ہم بہت کچھ بہت جلدی چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ جرمنی کا ارادہ ہے کہ شینجین ٹریول زون میں تمام سرحدوں پر سے کنٹرول 15 جون تک ہٹا لیا جائے۔
بریکنگ, برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 494 افراد ہلاک
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کی وزارتِ صحت کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے ہسپتالوں اور دیگر جگہوں پر کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 33 ہزار 186 ہو گئی ہے جن میں گذشتہ دن 494 افراد کا اضافہ ہوا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق منگل کو 87 ہزار 63 ٹیسٹ کیے گئے جو کہ حکومت کے ایک لاکھ روزانہ ٹیسٹ کے ٹارگٹ سے کم ہیں۔
ابھی تک کل ایک لاکھ 22 ہزار 258 لوگوں کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں، جن میں سے دو لاکھ 29 ہزار 705 کے نتائج مثبت آئے تھے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں مزید تین افراد میں کورونا کی تصدیق، مجموعی تعداد 91, ایم اے جرال، صحافی
،تصویر کا ذریعہMA Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے حکام کے مطابق اس خطے میں مزید تین افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 91 ہوگئی ہے.
ضلع باغ کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر منظور کے مطابق متاثر ہونے والے دو افراد میں ایک والد اور ان کا بیٹا شامل ہیں جن کا تعلق دھیرکوٹ سے ہے۔
ان کے مطابق یہ افراد راولپنڈی میں ایک سبزی منڈی میں کام کرتے تھے جہاں سے انھوں نے دھیرکوٹ کا سفر کیا۔
ڈاکٹر منظور کے مطابق سبزی منڈی میں جب ایک شخص کے متاثر ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تو ان دو افراد کو گھر پر تنہائی میں رکھا گیا۔
دوسری جانب ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد جرال کے مطابق تراڑ میں ایک شخص کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے جس نے رواں ماہ فیصل آباد سے راولاکوٹ کا سفر کیا۔
حکام کے مطابق اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والا مزید ایک مریض صحت یاب ہوا ہے جس کے بعد اس خطے میں صحت یاب مریضوں کی تعداد 69 ہوگئی ہے۔
افریقہ کے ملک لیسوتھو میں کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آ گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
افریقہ کے ملک لیسوتھو میں بھی کورونا وائرس کا پہلا مریض سامنے آ گیا ہے۔
جنوبی افریقہ کی آئی وٹنس ویب سائٹ کے مطابق یہ مریض جنوبی افریقہ اور سعودی عرب سے آنے والے 81 مسافروں میں سے ایک ہے۔
ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ ’لیسوتھو میں ٹیسٹنگ کی سہولت میسر نہیں ہے اس لیے یہاں سے نمونے جنوبی افریقہ میں بیماریوں سے متعلق قومی مرکز کو بھیجے جاتے ہیں‘
لیسوتھو افریقہ کے 54 ممالک میں سے وہ آخری ملک ہے جہاں کووڈ 19 کے مریض کی تصدیق کی گئی ہے۔ یہ ملک چاروں طرف سے جنوبی افریقہ سے گھرا ہوا ہے جہاں مسلسل کورونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض سامنے آ رہے ہیں۔
افریقی یونین کے امراض پر قابو پانے اور روک تھام کے مرکز کے تازہ ترین اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ افریقہ میں کووڈ 19 سے اب تک 2340 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ براعظم میں اب تک 68102 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہیں۔
لیسوتھو نے مارچ میں مکمل لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ وزیر اعظم ٹام تھابین کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر بڑھتے ہوئے سیاسی تناؤ کے درمیان اس لاک ڈاؤن کو مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھایا گیا تھا۔
11 مئی کو، پارلیمنٹ کے سپیکر نے کہا تھا کہ تھابین کو ان کی مخلوط حکومت کے خاتمے کے بعد 22 مئی تک اپنا عہدہ چھوڑنا پڑے گا۔ 12 مئی کو، فرانسیسی خبر رساں ایجنسی (اے ایف پی) نے ان کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ وہ آج بادشاہ لیٹسی سوم کو عہدے سے علیحدگی کے اپنے ارادے سے آگاہ کریں گے۔
تھابین اور ان کی اہلیہ مسیحہ کو ان کی سابقہ بیوی لیپولیلو کے قتل کے الزامات کا سامنا ہے۔ لیپولیلو کو 2017 میں قتل کر دیا گیا تھا۔
کورونا وائرس: امریکی اداکار رابرٹ ڈی نیرو کی ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ پر تنقید
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر کورونا وائرس کے بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر کڑی تنقید کی ہے۔
انھوں نے وائٹ ہاؤس کی پریس کانفرنس کو ’شیکسپیریئن‘ کہتے ہوئے کہا کہ ’جس چیز کی مجھے تکلیف ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی کچھ نہیں کہتا۔‘
انھوں نے صدر پر الزام لگایا کہ انھیں اس بات کی کوئی فکر نہیں کہ کتنے امریکی ہلاک ہو رہے ہیں، بس دوبارہ منتخب ہونا ان کی ترجیح ہے۔
ڈی نیرو بہت عرصے سے صدر ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں۔
سائنسدان اب بھی کورونا وائرس کے بارے میں کیا نہیں جانتے؟
نول کووڈ 19 وائرس نے پوری دنیا میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہیں اور دنیا بھر میں لاکھوں افراد اس سے متاثر ہیں، سائنسدان اس وائرس کی ویکسین بنانے میں کوشاں ہیں لیکن وہ اس وائرس کے متعلق کیا اور کتنا جانتے ہیں، جاننے کے لیے دیکھیے یہ ڈیجیٹل ویڈیو۔