کورونا وائرس: پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 1430 نئے متاثرین، 33 ہلاکتیں

کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 44 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 37,176 ہو گی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 803 ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں گذشتہ روز 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 900 سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔

لائیو کوریج

  1. پاک، ایران سرحد پر تجارتی راہداریاں دوبارہ کھول دی گئیں

    border

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا کے باعث بند کی جانے والی پاکستان اور ایران کی سرحد پر تجارتی راہداریاں کھول دی گئی ہیں۔

    مقامی انتظامیہ کے مطابق چاغی میں پاکستان گیٹ اور زیروپوائنٹ سے تجارتی اشیاء کی درآمد شروع کر دی گئی ہے جب مشترکہ بازار کی راہداری پہلے ہی کھول دی گئی تھی۔

    پاکستان گیٹ سے ایرانی ٹرالرز اور ایل پی جی گیس ٹینکرز کی آمد شروع ہو گئی ہے۔ زیرو پوائنٹ اور پاکستان گیٹ پر تجارتی سرگرمیاں ڈھائی ماہ سے معطل تھیں۔

  2. شفقت محمود: کیا غریب کا خیال رکھنا کنفیوژن ہے؟

    پاکستان کے وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے قومی اسمبلی کے خصوصی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کوشش کی کہ ہم تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں اور کوشش کریں کہ ہم اس حوالے سے بہتر رابطہ قائم کر سکیں۔

    انھوں کہا کہ وزیراعظم کی جانب سے این سی او سی بنایا گیا جس میں تمام صوبوں کی نمائندگی تھی۔

    شفقت محمود کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے فوری طور پر تعلیمی ادراے اور شادی ہال بند کیے لیکن کہا گیا کہ ہمارے فیصلے ابہام کا شکار ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے لاک ڈاؤن میں نرمی غریبوں اور مزدوروں کے فائدے کے لیے کی۔

    ’کیا غریبوں کا خیال رکھنا کنفیوژن ہے؟‘

  3. اگر عوام نے حفاظتی تدابیر نہ اپنائیں تو مجبوراً بندشیں دوبارہ عائد کی جائیں گی: اسد عمر

    asad

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کے وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے لوگ حفاظتی تدابیر پر عمل نہیں کر رہے۔

    انھوں نے کہا کہ اگر لوگوں کی جانب سے اسی طرح لاپرواہی جاری رہی تو وزیرِ اعظم اور قومی رابطہ کمیٹی کو مجبوراً بندشیں دوبارہ عائد کرنی پڑیں گی۔

  4. جن لوگوں نے لاک ڈاؤن پر بھاشن دیے، ورچوئل سیشن کو رد کیا: شفقت محمود

    shafqat

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    کورونا وائرس کے حوالے سے ملکی صورتحال پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں بات کرتے ہوئے پاکستان تحریکِ انصاف کے رکنِ پارلیمان اور وفاقی وزیر برائے تعلیم شفقت محمود کا کہنا تھا کہ جو لوگ روز ہمیں لاک ڈاؤن لگانے کے حوالے سے بھاشن دیتے ہیں انھوں نے ورچوئل پارلیمان کے حوالے سے دی گئی تجاویز کو رد کیا جس کے باعث اس وقت ہم اس طرح سے سماجی فاصلہ نہیں اختیار کر پا رہے۔

    انھوں نے کہا کہ اب تک پارلیمان کی نشست کو صرف حکومت پر تنقید کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

    شفقت محمود نے کہا کہ جو لوگ ہم پر تنقید کر رہے ہیں کیا انھوں نے ان دہاڑی دار طبقے اور مزدوروں کی پرواہ کی؟

    انھوں نے کہا پاکستان میں شرح اموات وہ نہیں ہے جو دیگر ممالک میں ہے جس کے لیے ہمیں خدا کا شکر ادا کرنا چاہیے۔

  5. ’ٹوئٹر کی جانب سے ہمیشہ کے لیے گھر سے کام کرنے کی اجازت دینا عہد ساز فیصلہ ہے‘

    twitter

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کی جانب سے یہ اعلان کرنا کہ ان کے ملازمین ہمیشہ کے لیے گھر سے کام کر سکتے ہیں، کاروباری حلقوں میں کافی زیر بحث ہے۔

    کئی لوگ کہہ رہے ہیں کے ٹوئٹر کے بعد ٹیکنالوجی سے منسلک دیگر ادارے بھی ایسے فیصلے کریں گے اور ایک ماہر نے کہا کہ یہ ایک ’عہد ساز‘ فیصلہ ہے۔

    نیویارک میں مقیم سٹونی بروکس یونی ورسٹی کے پروفیسر سری سرینواسان نے کہا کہ شاید کچھ لوگ اس بات کو سنجیدگی سے نہ لیں لیکن ہم سیلیکون ویلی سے کافی کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

    ’لوگ سمجھتے ہیں کہ گھر سے کام کرنے کا مطلب ہے کہ کام پر توجہ نہ دینا اور جسمانی طور پر دفتر میں موجودگی ضروری ہے لیکن ان حالات میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ لوگ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ وہ گھر سے بھی کام کرتے ہوئے اپنے ذمہ داریاں پوری طرح نبھا سکتے ہیں۔ مجھے تو بہت لوگوں نے بتایا ہے کہ وہ گھر سے کام کرتے ہوئے زیادہ تھک جاتے ہیں۔

  6. حکومت سنجیدگی نہیں دکھائے گی تو لوگ بھی سنجیدہ نہیں ہوں گے: شاہدہ اختر

    ptv

    ،تصویر کا ذریعہPTV Parliament

    کورونا وائرس کے حوالے سے ملکی صورتحال پر بحث کے لیے قومی اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے جمیعت علمائے اسلام ف کی رکن پارلیمان شاہدہ اختر علی کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایوانوں میں پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جن کا اثر عوام تک پہنچ رہا ہے لیکن اگر ہم اس پارلیمان کی اس نشست کے بعد ہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچتے تو یہ ہماری بدقسمتی ہو گی۔

    انھوں نے کہا کہ اگر حکومت کی جانب سے سنجیدگی نہیں دکھائی جائے گی تو ہمیں لوگ بھی سنجیدہ نہیں ہوں گے۔

  7. نیوزی لینڈ میں 50 افراد کو جنازوں میں شرکت کی اجازت

    NZ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیوزی لینڈ نے کورونا وائرس پر بڑی حد تک قابو پانے کے بعد ملک میں لگائے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی شروع کر دی ہے اور اب حکومت نے جنازوں میں زیادہ سے زیادہ 50 افراد کو شرکت کرنے کی اجازت دے دی ہے، جو کہ پہلے صرف 10 افراد تک تھی۔

    حزب اختلاف کے رہنما سائمن برجز نے اس پابندی کو ’غیر انسانی‘ قرار دیا تھا۔

    ملک میں الرٹ لیول اب کم کر کے درجہ دو پر آگیا ہے جس کے تحت دکانیں، ریستوران، سنیما گھر اور دیگر عوامی مقامات کو کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    ان قواعد کے تحت اجتماعات میں زیادہ سے زیادہ 100 افراد کی موجودگی ہو سکتی ہے۔

  8. دنیا بھر کے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کے مناظر

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر میں مختلف ممالک میں کہیں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے تو کہیں پابندیاں ہٹانے کے لیے احتجاج کیے جا رہے ہیں۔

    آسٹریلیا میں حکومت کی جانب سے خاصی نرمی کی گئی ہے جس کے بعد ٹرینوں کی بحالی کے علاوہ پارکس اور مختلف ساحل بھی کھولے گئے ہیں۔

    ٹرینیں

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی ریاسس شمالی کیرولائنا میں سینکڑوں افراد نے ریاست کو کھولنے سے متعلق احتجاج کیا تاکہ گورنر پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ ریاست میں کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر بحال کر دیں۔

    ٹرین

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں بھی لاک ڈاؤن میں مرحلہ وار نرمی کے بعد اکثر افراد نے پارکس کا رخ کیا اور سائیکلنگ کرتے بھی دکھائی دیے۔

    آسٹریلیا میں لوگ مچھلیاں پکڑنے میں بھی مصروف رہے۔

    وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خیال رہے کہ ماہرین کی جانب سے خبردار کیا گیا ہے کہ لاک ڈاؤن میں قبل از وقت نرمی وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن سکتی ہے۔

  9. میڈیکل یونیورسٹیز کورونا وائرس جیسی بیماریوں کی تحقیق پر خصوصی توجہ دیں: صدر پاکستان

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے میڈیکل یونیورسٹیز سے کہا ہے کہ وہ تحقیق کے عالمی معیارات کو پیش نظر رکھتے ہوئے صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز بالخصوص کورونا وائرس جیسی بیماریوں کی تحقیق پر خصوصی توجہ دیں۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق انھوں نے یہ بات اسلام آباد میں کورونا وائرس کے بارے میں میڈیکل یونیورسٹیز کے وائس چانسلرز کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہی۔

    جامعات کے سربراہوں نے اجلاس کو کورونا کی وبا کے تناظر میں اپنے متعلقہ طبی اداروں کی طرف سے حفظان صحت کے لیے کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اجلاس کو بتایا گیا کہ یونیورسٹیز نے تعلیم کی آن لائن فراہمی اوردیگر تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی پر مبنی نظام قائم کیا ہے۔

  10. تھائی لینڈ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صفر نئے کیسز

    thailand

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    تھائی لینڈ میں حکام نے خبر دی ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کسی بھی جگہ سے کووڈ 19 کے مریض کی شناخت نہیں ہویی ہے اور نو مارچ کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ نئے کیسز کی تعداد صفر ہو۔

    ملک بھر میں اب تک کل 3017 کیسز سامنے آئے ہیں جسے میں سے 56 افراد کی موت ہو چکی ہے جبکہ سوائے 163 افراد کے باقی تمام صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  11. حکومت صنعتی اور تعمیراتی شعبے کھولنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے: عمر ایوب

    پاکستان

    ،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

    پانی و بجلی کے وزیرعمرایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت صنعتی اور تعمیراتی شعبے کوکھولنے کے لئے بھرپور کوششیں کر رہی ہے جس کا مقصد کورونا وائرس کے باعث منجمد ہونے والی معیشت کو فعال بنانا ہے۔

    ریڈیو پاکستان کے مطابق ایک نجی نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت مزدوروں اورمحنت کشوں کے حالات کے پیش نظرغریب لوگوں کوریلیف فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

    بجلی کے شعبے میں مسائل سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مقیم کچھ لوگ بجلی کے واجب الادا بل ادا نہیں کر رہے جبکہ ہمیں وہاں لائن لاسز کے مسائل کا بھی سامنا ہے۔

  12. آسٹریلیا اور چین کی بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی میں گائے کے گوشت کا کیا کام؟

    BEEF

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    آسٹریلیا اور چین کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے اور اس بار یہ اختلافات گائے کے گوشت پر ہیں۔

    سلسلہ کچھ یوں ہے کہ گذشتہ ماہ آسٹریلیا نے امریکہ کا موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کورونا وائرس کے آغاز اور پھیلاؤ میں چین کے کردار پر عالمی طور پر تحقیقات کی جائیں۔

    اس پر چین کی جانب سے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا اور آسٹریلیا میں چینی سفیر نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ چینی عوام آسٹریلین مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔

    واضح رہے کہ چین آسٹریلیا کا سب سے بڑا تجارتی ساتھی ہے اور اس کی ایک تہائی سے زیادہ مصنوعات کی فروخت چین کو ہوتی ہے۔

    اس تناظر میں چینی سفیر کا بیان آسٹریلیا میں ایک دھمکی کے طور پر لیا گیا۔

    اور اس کے بعد گذشتہ روز چین نے عارضی طور پر آسٹریلیا سے گائے کا گوشت برآمد کرنے پر عارضی پابندی لاگو کر دی اور اس کی وجہ دی کہ گوشت پر لیبل غلط لگا ہوا تھا۔

    دونوں ممالک کی جانب سے کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیاسی نہیں ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے معاملات صرف اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب سفارتی طور پر کوئی کشیدگی چل رہی ہوتی ہے۔

  13. کیا مستقبل میں بوسہ اور مصافحہ کرنا معیوب سمجھا جائے گا؟

  14. بریکنگ, پاکستان: قومی اسمبلی میں آج ملک میں کورونا وائرس کی صورتحال کے حوالے سے بحث ہو گی

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  15. کورونا وائرس سے لڑنے والے ڈاکٹر کی ڈائری: لوگ کہتے ہیں ہم مریض مارنے کے پیسے لیتے ہیں

    انگلینڈ

    ،تصویر کا ذریعہJohn Wright

    برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ کی ایشیائی برادری میں کچھ افراد ایسی جعلی خبریں اور افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ غیر سفید فام مریضوں کو ہسپتال میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔

    بریڈ فورڈ رائل انفرمری کے ڈاکٹر جان رائٹ نے اینستھیزیا دینے والی ایک ایشیائی نژاد ڈاکٹر سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ انھیں کس وجہ سے گالم گلوچ سے بھرپور پیغامات موصول ہو رہے ہیں۔

  16. انڈین ریاست مہاراشٹر کا 17 ہزار قیدی عارضی طور پر رہا کرنے کا فیصلہ

    jails

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی مغربی ریاست مہاراشٹر نے کل 35 ہزار قیدیوں میں سے 17 ہزار کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جیلوں میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    منگل کے روز ریاست کے وزیرِ داخلہ انل دیشمکھ کا کہنا تھا کہ ریاستی دارالحکومت ممبئی میں واقع آرتھر روڈ جیل میں اب تک 180 متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ اقدام اس لیے کیا گیا ہے تاکہ ریاست کی تمام جیلوں میں سماجی فاصلے کو یقینی بنایا جا سکے اور کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ان قیدیوں کو عارضی طور پر ضمانت پر رہا کیا جا رہا ہے اور ایسے تمام قیدی جو بڑے جرائم جیسے قتل، ریپ یا فراڈ کے جرائم میں قید ہیں وہ جیلوں میں ہی رہیں گے۔

    انڈیا میں اب تک 70 ہزار سے زائد افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جبکہ 2293 اموات بھی ہوئی ہیں۔ مہاراشٹر ملک میں سب سے زیادہ متاثرہ ریاستوں میں سے ایک ہے اور یہاں 24 ہزار سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں۔

  17. لاک ڈاؤن میں مگرمچھ ’جارج‘ کی گھر کے باغیچے میں مستیاں

  18. کورونا وائرس: اسرائیلی حکام کا اپنے شہریوں پر جاسوسی کے آلات کا استعمال

    اسرائیل

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    کوتکووسکی ان ہزاروں اسرائیلیوں میں سے ایک ہیں جنھیں اسی طرح کے پیغامات کے ذریعے ہوشیار کیا گیا تھا۔

    کورونا وائرس پر قابو پانے کی لڑائی میں اسرائیل کی داخلہ سکیورٹی ایجنسی شن بیٹ کو لوگوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے اپنے خفیہ نظام کے استعمال کا اختیار دیا گیا ہے۔

  19. سیئول میں نائٹ لائف کے لیے مشہور علاقے میں کورونا وائرس کے 119 نئے متاثرین کی شناخت

    seoul

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیئول کے علاقے اتائیون میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کے کلسٹر کی شناخت ہوئی ہے جس کے بعد وہاں کل متاثرین کی تعداد 119 ہو گئی ہے۔

    سیئول کا یہ ضلع نائٹ لائف کے لیے مشہور ہے۔

    اس علاقے میں کورونا وائرس کی وبا کی شناخت اس وقت ہوئی جب حکومت نے سماجی فاصلوں کے سخت قوانین میں کچھ نرمی کی اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معمول کی زندگی میں واپس آنے کے بعد وائرس کے دوبارہ پھیلنے کا خدشہ کتنا زیادہ ہے۔

    واضح رہے کہ اس وبا سے نمٹنے والے ممالک میں جنوبی کوریا کے کارکردگی شاندار رہی ہے اور انھوں نے اس کے آغاز کے ساتھ ہی ملک میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ کا استعمال کرتے ہوئے ملک میں یومیہ کیسز کی تعداد کو بہت کی کم کر دیا تھا اور اس کے لیے انھیں ملک بھر میں لاک ڈاؤن بھی نافذ نہیں کرنا پڑا تھا۔

    البتہ اتائیون میں کورونا سے متاثرہ افراد کی شناخت کرنا دشوار ہے کیونکہ کلبز جانے والے کئی افراد نے اپنے نام غلط بتائے۔

    مجموعی طور پر جنوبی کوریا میں کل 11000 متاثرین کی شناخت ہوئی ہے جس میں سے 259 افراد کی موت ہوئی اور تقریباً ہزار کے علاوہ دیگر تمام افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

  20. کورونا وائرس: انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے حالات کیسے ہیں؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    پوری دُنیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کئی ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن نے زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، لیکن انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں یہ مشکلات مختلف اور زیادہ سنگین کیوں ہیں۔

    جانیے سرینگر سے ہمارے نامہ نگار ریاض مسرور سے۔