کورونا وائرس: پاکستان میں 24 گھنٹوں میں 1430 نئے متاثرین، 33 ہلاکتیں
کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں اب تک 44 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر اور تین لاکھ سے زیادہ ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 37,176 ہو گی ہے اور ہلاکتوں کی کل تعداد 803 ہے۔ دوسری جانب جرمنی میں گذشتہ روز 100 سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں اور 900 سے زیادہ نئے متاثرین سامنے آئے ہیں۔
لائیو کوریج
کار کمپنیاں فورڈ اور واکسال برطانیہ میں پروڈکشن دوبارہ شروع کر رہے ہیں
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کار کمپنیاں فورڈ اور واکسال نے اعلان کیا ہے کہ وہ برطانیہ میں اپنی فیکٹریاں دوبارہ شروع کر رہے ہیں۔
فورڈ نے کہا ہے کہ وہ اپنے پلانٹس 18 مئی کو کھول دیں گے۔ کمپنی نے اس جانب اشارہ بھی دیا کہ وہ جلد سپین میں اپنا پلانٹ کھول دیں گے جس کے بعد فورڈ کے یورپ میں تمام پلانٹ کھل جائیں گے۔
ادھر واکسال نے کہا ہے کہ وہ بھی 18 مئی کو اپنے لوٹن شہر میں پلانٹ میں پروڈکشن شروع کر دیں گے۔ اس پلانٹ میں 1600 افراد کام کرتے ہیں اور ابتدائی طور پر صرف ایک تہائی ملازمین سے کام شروع کیا جائے گا۔
پبلک ٹرانسپورٹ پر کتنا خطرہ ہے؟
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جیسے جیسے مختلف ممالک میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ کتنی محفوظ ہے؟
ظاہر ہے اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ پر کتنا رش ہے اور آپ دوسروں سے کتنا دور رہ سکتے ہیں۔
اس حوالے سے وینٹیلیشن کا نظام بھی اہم ہے کیونکہ تازہ ہوا کے مسلسل آنے سے وائرس کے ذرات جلدی ختم ہو سکتے ہیں۔
مگر اگر آپ محفوظ محسوس نہیں کرتے اور پھر بھی آپ کو کام پر جانا ہے تو آپ کیا کر سکتے ہیں؟
دنیا بھر میں کئی شہروں میں عارضی طور پر سائیکل لینز متعارف کی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ٹرینوں اور بسوں کے بجائے ساییکلوں کا استعمال کریں۔ اگر آپ اپنے دفتر کے قریب رہتے ہیں تو آپ پیدل سفر کر سکتے ہیں۔
مگر یہ آپشن نہیں ہے تو آپ کوشش کریں کہ ایسے وقت پر سفر کریں جب مسافر کم ہوں۔
’اہل تشیع علما سے کہیں کہ کورونا کے پھیلائو کی وجہ سے وہ یوم علی پر جلوس نہ نکالیں‘
کورونا وائرس کی وجہ سے تمام قسم کی مذہبی اجتماعات پر پابندی کے تناظر
میں بلوچستان میں بھی یوم علی کی مناسبت سے جلوسوں پر پابندی عائد ہوگی۔ محکمہ داخلہ حکومت بلوچستان کے انسپیکٹر جنرل پولیس اور تمام کمشنرز کے نام ایک مراسلے میں کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سےمذہبی سمیت تمام قسم کے اجتماعات پر پابندی ہے۔ مراسلے کے مطابق وفاقی حکومت نے بھی صوبائی حکومتوں سے کہا ہے کہ
وہ مذہبی اجتماعات کی اجازت نہ دیں۔ مراسلے میں تمام متعلقہ حکام سے کہا گیا ہے کہ وہ اہل تشیع کے علما سے ملیں اور انہیں اس بات پر قائل کریں کہ کورونا کے پھیلائو کی وجہ سے وہ یوم علی پر جلوس نہ نکالیں۔
،تصویر کا ذریعہBalochistan Police
امریکہ کی بڑی ایئر لائنز نے ماسک پہننے کی پالیسی لازم نہیں کی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکہ کی تین بڑی ایئر لائنز نے اپنے عملے کو کہا ہے کہ وہ اس پالیسی کا اطلاق نہ کریں جس کے تحت مسافروں پر لازم ہوگا کہ وہ طیاروں پر سفر کے دوران ماسک پہننیں۔
یونائیٹڈ، ڈیلٹا، اور امریکن ایئر لائنز تین کی پالیسی ہے کہ صارفین کو اپنا چہرہ ڈھانپنا ہوگا اور عملہ انھیں گیٹ پر طیارے میں داخل ہونے سے اس بنا پر روک سکتا ہے۔ تاہم ایک دفعہ مسافرین طیاروں پر سوار ہو جائیں تو فضائی عملہ صرف ان کی ماسک پہننے میں حوصلہ افزائی کرے نہ کہ اس کو لازم قرار دے۔
امریکہ میں مارچ کے مہینے میں فضائی مسافرین کی تعداد میں 51 فیصد کمی آئی ہے جو کہ گذشتہ بیس سال میں فضائی مسافرین کی کم ترین تعداد ہے۔
’امریکہ میں متاثرین کی تعداد کینیڈا کے لیے خطرہ‘ سرحدی بندش میں توسیع کا مطالبہ
،تصویر کا ذریعہReuters
کینیڈا نے امریکہ سے غیر ضروری سفر پر پابندی کو جون تک بڑھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
21 مارچ کو سرحدی آمدورفت پر 30 دن کی پابندی عائد کی گئی تھی اور مئی کے آخر تک اس کی تجدید کی گئی تھی۔
ایک بار پھر 30 روز کی توسیع کا مطلب ہے کہ سرحد 21 جون تک سیاحوں اور دیگر غیر ضروری مسافروں کے لیے بند رہے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امکان ہے کہ امریکہ اس پر متفق ہوجائے گا۔
جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ ’امریکہ کے ساتھ بہتر بات چیت ہو رہی ہے۔‘
کینیڈا کے چیف پبلک ہیلتھ آفیسر نے کہا ہے کہ امریکہ میں متاثرین کی تعداد ’کینیڈا کے لیے خطرہ‘ ہے۔
بریکنگ, پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین میں کورونا کی تصدیق
پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے رہنما اور رکنِ قومی اسمبلی محسن داوڑ نے اعلان کیا ہے کہ پی ٹی ایم سربراہ منظور پشتین میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں یہ اطلاع دی اور لوگوں سے درخواست کی کہ وہ ان کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کریں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔
X پوسٹ کا اختتام
یورپی یونین کی سربراہ کا ’صاف، جدید اور صحتمند‘ معیشت کی تشکیل پر زور
،تصویر کا ذریعہEPA
یورپی یونین کی سربراہ اُرسلا وون ڈر لیئین نے یورپ کے رہنماؤں پر ایک ’جدید، صاف، اور صحت مند معیشت‘ بنانے پر زور دیا ہے تاہم انھوں نے خبردار کیا کہ وہ ’گزرے ہوئے کل جیسی معیشت ہرگز نہ بنائیں۔‘
یورپی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ایک بحالی فنڈ کے منصوبے کے خدوخال پیش کیے جس سے حکومتوں کو ایک جدید مستقبل میں سرمایہ کاری میں مدد ملے گی۔
انھوں نے کہا: ’اگر ہمیں وہ قرضہ بڑھانا ہی ہے جو ہمارے بچے مستقبل میں واپس کریں گے، تو کم سے کم ہم یہ تو کر سکتے ہیں کہ اس پیسے کو مستقبل بہتر بنانے کے لیے استعمال کریں، ماحولیاتی تغیر سے نمٹیں، ماحول پر بوجھ کو کم کریں نہ کہ اس کو بڑھائیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کورونا وائرس ختم ہونے پر ہمیں واپس اپنی پرانی ڈگر پر نہیں لوٹنا چاہیے، ہمیں گزرے ہوئے کل جیسی معیشت نہیں تشکیل دینی چاہیے۔ ہمیں اب بہادری کے ساتھ ایک جدید، صاف اور صحت مند معیشت بنانے کے موقعے سے فائدہ اٹھانا چاہیے جو ہمارے بچوں کے روزگار کا تحفظ کرے۔‘
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے زرعی شعبے کے لیے 100 ارب روپے کا پیکج منظور کر لیا
،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan
اقتصادی رابطہ کمیٹی نے زرعی شعبے کے لیے کئی ارب روپے کا پیکج منظور کر لیا ہے جس میں کسانوں کو کھاد اور کیڑے مار ادویات پر سبسڈی، زرعی قرضوں پر بینک کے سود میں کمی، اور مقامی طور پر تیار شدہ ٹریکٹرز پر سیلز ٹیکس میں سبسڈی شامل ہے۔
کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیرِ اعظم کے مشیر برائے خزانہ و مالیات حفیظ شیخ کی زیرِ سربراہی ہوا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق یہ زرعی پیکج چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار اور زرعی شعبے کو کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے سبب ہونے والے نقصانات سے سہارا دینے کے لیے مختص کیے گئے 1200 ارب روپے میں سے 100 ارب روپے کا حصہ ہے۔
اس پیکج کے تحت کسانوں کو کھاد کی خریداری پر 37 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جائے گی۔
یہ سبسڈی کی سکیم صوبے نافذ کریں گے اور یہ رقیم سکریچ کارڈ سکیم کے تحت تقسیم کی جائے گی جو کہ پہلے ہی پنجاب میں نافذ العمل ہے۔
کسانوں کو زرعی قرضوں پر مارک اپ میں کمی کے لیے 8.8 ارب روپے کی سبسڈی، جبکہ کپاس کے بیج پر 2.3 ارب روپے اور سفید مکھی مار ادویات پر 6 ارب روپے کی سبسڈی منظور کی گئی۔
اس کے علاوہ پیکج میں ایک سال کے لیے مقامی طور پر تیار ٹریکٹروں پر سیلز ٹیکس کی مد میں 2.5 ارب روپے کی سبسڈی بھی منظور کی گئی۔
کمیٹی نے سوشل سیفٹی ڈویژن کی جانب سے کنٹرول لائن کے پاس رہنے والے لوگوں کے لیے سپیشل ریلیف پیکج کی تجویز کو بھی منظور کیا۔
بریکنگ, خیبر پختونخوا: 231 نئے متاثرین کے بعد مجموعی تعداد 5252
صوبہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران 231 نئے کورونا متاثرین سامنے آئے ہیں، جن میں سے 112 متاثرین صرف پشاور سے رپورٹ ہوئے ہیں۔
چنانچہ اب تک صوبے میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 5 ہزار 252 ہوگئی ہے۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 87 مریضوں نے کورونا کو شکست دی ہے جبکہ کورونا سے 24 گھنٹوں میں آٹھ مزید مریض جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
کورونا کے باعث خیبر پختونخوا میں اب تک 275 افراد زندگی کی بازی ہارے ہیں۔
بلوچستان اور خیبر پختونخوا سے تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 35 ہزار 425 ہوگئی ہے۔ اب تک پاکستان بھر میں 761 افراد اس مرض کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ نو ہزار 582 لوگ صحتیاب ہوئے ہیں۔
بلوچستان: مزید 81 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق
،تصویر کا ذریعہget
بلوچستان میں کورونا وائرس کے 81 نئے متاثرین سامنے آ گئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی مجموعی تعداد 2239 ہوگئی ہے۔
محکمہ صحت حکومت بلوچستان
کی رپورٹ کے مطابق 13 مئی 2020 کو کورونا کے 311 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 81 مثبت آئے۔
بلوچستان میں اب تک کورونا کے مجموعی طور پر 16 ہزار 62 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے 13 ہزار 823 کے نتائج منفی آئے۔
بلوچستان میں مجموعی طور پر 40 ہزار 997 افراد کی سکریننگ کی گئی ہے جبکہ مشتبہ مریضوں کی تعداد 17 ہزار 910 ہے۔
صوبے میں اب تک کورونا وائرس سے 326 افراد صحت یاب ہوئے ہیں۔
بلوچستان میں کورونا وائرس سے ہلاک مریضوں کی تعداد 27 ہے۔
تین کروڑ سے زیادہ افراد انتہائی غربت کا شکار ہو جائیں گے، اقوام متحدہ, اینڈریو واکر، ورلڈ سروس، معاشیات کے نمائندے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے آنے والی معاشی بدحالی پچھلے چار سالوں میں حاصل کیے گئے فوائد کا خاتمہ کر سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے عالمی جائزے کے مطابق، اس سال تین کروڑ سے زیادہ افراد کے انتہائی غریب ہونے کا امکان ہے، خاص طور پر افریقہ میں۔
اقوام متحدہ کے جائزوں کے مطابق دولت مند معیشتیں پانچ فیصد تک مزید سکڑ جائیں گی، جبکہ ترقی پذیر دنیا میں مزید غربت کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے بہت سے ممالک میں وبائی امراض اور معاشی اقدامات سے لڑنے کے اخراجات ناقابلِ برداشت ہوں گے۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کی حکومتیں قرضوں کے سود پر اپنی آمدنی کا بڑھتا ہوا حصہ خرچ کر رہی ہیں۔
ایلیٹ ہیرس، اقوام متحدہ کے چیف ماہر معاشیات اور معاشی ترقی کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل کا کہنا ہے ’بحران سے بحالی کی رفتار اور طاقت نہ صرف اس وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں صحت عامہ کے اقدامات کی افادیت پر منحصر ہے بلکہ اس کا انحصار ملازمتوں اور آمدنی کے تحفظ کے لیے ممالک کی صلاحیت پر بھی ہے، خاص طور پر ہمارے معاشروں کے سب سے کمزور طبقوں کے لیے۔‘
سابق امریکی صدارتی امیدوار برنی سینڈرز سمیت معروف سیاستدانوں کے ایک گروپ نے غریب ترین ممالک کی طرف سے واجب الادا قرضوں میں سے کچھ کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
کورونا کا خوف: ٹرمپ کے سابق مشیر باقی سزا گھر پر پوری کریں گے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
صدر ٹرمپ کے انتخابی مہم کے سابق چیئرمین پال مینافورٹ کو کووڈ 19 کے خوف کے تحت جیل سے گھر منتقل کر دیا گیا ہے جہاں وہ اپنی باقی سزا مکمل کریں گے۔
انھوں نے ساڑھے سات سال کی سزا میں سے ایک سال سے ذرا اوپر مکمل کر لی ہے۔
امریکی ریاست ورجینیا کی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی مہم کے سابق مینیجر پال مینافورٹ کو ٹیکس اور بینک سے دھوکہ دہی کے الزام میں 47 ماہ جیل کی سزا سنائی تھی۔
یہ الزامات امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کی مبینہ مداخلت کی تحقیقات کے دوران سامنے آئے تھے جن میں کہا گیا تھا کہ آیا ٹرمپ کی صدارتی مہم نے روس کی ملی بھگت سے سنہ 2016 کے صدارتی انتخاب جیتے تھے۔
امریکہ کی وفاقی جیلوں میں اس وقت کووڈ 19 کے دو ہزار 800 تصدیق شدہ مریض ہیں جن میں سے 50 قیدی ہلاک ہو چکے ہیں۔
تجزیہ: بچے سکول کیوں جا رہے ہیں, نک ٹریگل، صحت کے نامہ نگار
جب بات یہ ہوئی کہ بچے کیوں سکول واپس جا رہے ہیں تو انگلینڈ کی چیف میڈیکل آفیسر جینی ہیریز کی ’رسک اور مواقعوں کے توازن‘ کا جواب بہت دلچسپ لگا۔
چھوٹے بچوں کو اگر کورونا وائرس کی انفیکشن ہو جائے تو ان کے مرنے کے امکانات کم ہوتے ہیں، جب کہ سکول جانے کے فائدے بہت زیادہ ہیں۔
انگلینڈ اینڈ ویلز میں گذشتہ پانچ ہفتوں کے دوران وبا کے عروج پر 32 ہزار ہلاکتوں میں، 14 سال سے کم کی عمر کے صرف دو بچے تھے۔ اور یہ ایک کروڑ کی آبادی میں سے ہیں۔
اسی دوران 300 سے زیادہ بچے دوسری بیماریوں کا شکار ہونے کے بعد ہلاک ہو گئے۔
،تصویر کا ذریعہGetty images
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید دو متاثرین سامنے آگئے
،تصویر کا ذریعہMA Jarral
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ضلع مظفرآباد کے ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے والے دو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے، جس کے بعد اس خطے میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 93 ہوگئی ہے۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق دارالحکومت مظفرآباد کے مختلف بازاروں میں کام کرنے والے افراد کے بغیر کسی ترتیب کے ٹیسٹ لیے گئے، جس میں ایک ستر سالہ شخص کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ دوسرا شخص کپڑوں کی سلائی کا کام کرتا ہے جس نے رواں ماہ گوجرانوالہ سے سفر بھی کیا ہے وہ کورونا وائرس سے متاثر ہوا ہے۔
ڈاکٹر سعید کے مطابق متاثرہ شخص جس مارکیٹ میں کام کرتا تھا وہ سیل کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اب تک تین ہزار 245 مشتبہ افراد کو اس خطے کے مختلف قرنطینہ مراکز میں لایا گیا ہے جس میں 62 افراد کے ٹیسٹ رزلٹ آنے باقی ہیں۔
کووڈ 19 پابندیاں: نیویارک میں 1983 کے بعد پہلی مرتبہ کوئی راہگیر ہلاک نہیں ہوا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
کووڈ 19 پابندیوں کی بدولت نیو یارک شہر میں سنہ 1983 کے بعد پہلی مرتبہ پیدل چلنے والوں کی کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
اے بی سی 7 نیو یارک کے مطابق، نقل و حمل کے کمشنر پولی ٹروٹن برگ نے منگل کے روز کہا کہ شہر میں پچھلے 58 دنوں سے کسی راہگیر کو ہلاک نہیں کیا گیا۔
مارچ کے آخر سے گھر سے کام کرنے اور غیر ضروری کاروبار کی بندش کے بعد سے نیو یارک شہر میں ٹریفک بہت کم ہوگئی ہے۔
لیکن ٹراٹن برگ نے خبردار کیا کہ کچھ ڈرائیور بھیڑ کی کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تیز رفتاری سے گاڑیاں چلا رہے ہیں اور ٹرانسپورٹ کے عہدیداروں نے وبائی بیماری سے پہلے کے مقابلے میں دو دوگنا جرمانے کیے ہیں۔
گذشتہ مہینے شہر کے میئر نے پیدل چلنے والوں کے لیے 100 میل تک نیو یارک کی سڑکیں کھولنے کے منصوبوں کا اعلان کیا تھا تاکہ معاشرتی فاصلے کو برقرار رکھا جا سکے۔
چینی ہیکرز کورونا تحقیق کو نشانہ بنا سکتے ہیں، امریکہ کی وارننگ, گورڈن کوریرا، بی بی سی کے سکیورٹی کے نامہ نگار
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی ایف بی آئی اور سائبر سکیورٹی اینڈ انفراسٹرکچر سکیورٹی ایجنسی (سی آئی ایس اے) نے ایک اعلان میں کووڈ 19 پر تحقیق کرنے والے گروہوں کو کہا ہے کہ چینی ہیکرز ان کی تحقیق کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
برطانیہ اور امریکہ پانچ مئی کو پہلے ہی ایک تفصیلی مشترکہ وارننگ دے چکے ہیں جس میں دوسرے ممالک کی طرف سے تحقیق کو نشانہ بنانے کی بات کی گئی تھی۔
اس موقع پر انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا تھا لیکن ذرائع کے مطابق ان کا اشارہ چین، روس اور ایران کی طرف تھا۔
اب امریکہ نے اس نئی ہدایت میں خاص طور پر چین کا نام لیا ہے۔
ابھی تک برطانیہ نے امریکہ کا ساتھ نہیں دیا اور اس نئے الرٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایسا کیا ہوا ہے جس کی وجہ سے یہ ہدایت دی گئی ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ یہ امریکہ کے عوام کو خوش کرنے کے لیے کہا گیا ہے اور ساتھ ساتھ چین پر دباؤ بڑھانے کے لیے بھی کیونکہ دونوں ممالک میں پہلے ہی بہت زیادہ تناؤ ہے۔
برطانیہ میں کھیلوں کو ضوابط کے ساتھ دوبارہ شروع ہونے کی اجازت
،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کھیلوں کی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہو رہی ہیں۔
اس حوالے سے تازہ ترین صورتحال کچھ یوں ہے:
پریمیئر لیگ کلبز کی ٹیمیں جب اپنی ٹریننگ دوبارہ شروع کریں گی تو میدانوں کو ڈس انفیکٹ کیا جائے گا، کھلاڑیوں کو پانچ پانچ کے گروہوں تک محدود رکھا جائے گا، جبکہ ایک دوسرے سے جسمانی طور پر الجھنے پر پابندی ہوگی۔
وولورہیمپٹن وانڈررز وہ پہلا پریمیئر لیگ کلب ہیں جنھوں نے اپنے تربیتی میدان میں ڈرائیو تھرو ٹیسٹنگ سٹیشن نصب کیا ہے۔
انگلینڈ میں چند کھیلوں کو دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ گالف، ٹینس، اینگلنگ اور باسکٹ بال میں بدھ کے روز سے لوگوں کی شرکت کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ میں گھوڑوں کی ریس دی ڈربی رواں سال ایپسم میں ہی ہوگی۔ کونسلرز نے جولائی یا اگست کے کسی سینچر کو بند دروازوں کے پیچھے گھڑ دوڑ کروانے کی درخواست منظور کر لی ہے۔
لندن میں اینیورسری گیمز کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور ایتھلیٹکس میں ڈائمنڈ لیگ سیزن اگست سے اکتوبر کے درمیان جاری رہے گا۔
کورونا وائرس: برطانیہ میں متاثرین، ٹیسٹوں اور اموات کے تازہ ترین اعدادوشمار
برطانیہ میں کورونا وائرس کے متاثرین، ٹیسٹوں اور اموات کے تازہ ترین اعدادوشمار نیچے گراف میں پیش کیے جا رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ روز 3242 نئے متاثرین سامنے آئے، 87063 ٹیسٹ کیے گیے جبکہ 494 اموات ہوئیں۔
برطانیہ میں اموات کی کل تعداد 33186 ہوگئی ہے۔
امریکہ: انکوائری مکمل ہونے تک روسی وینٹیلیٹرز استعمال نہیں کریں گے
،تصویر کا ذریعہReuters
،تصویر کا کیپشنسینٹ پیٹرزبرگ کے ہسپتال میں آگ لگنے سے کورونا وائرس کی انتہائی نگہداشت کی وارڈ میں پانچ مریض ہلاک ہو گئے تھے
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ روسی ہسپتال میں آگ لگنے کی انکوائری مکمل ہونے تک روسی وینٹیلیٹرز کا وہ بیچ استعمال نہیں کرے گا جن پر شبہ ہے کہ ان سے آگ لگی تھی۔
ان وینٹیلیٹرز کا تعلق منگل کو سینٹ پیٹرزبرگ کے ایک ہسپتال کے کورونا وائرس کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں لگنے والی آگ سے بتایا جاتا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ گذشتہ ہفتے ماسکو کے ایک اور ہسپتال میں بھی ہوا تھا۔
روسی ریگیولیٹرز نے آگ کے بعد پورے ملک میں ایونٹا ایم وینٹیلیٹرز کے استعمال کو معطل کر دیا تھا۔
اس کو بنانے والے کہتے ہیں کہ یہ 2012 سے بغیر کسی مسئلے کے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
ریڈیو الیکٹرانک ٹیکنالوجیز کنسرن نے، جو اس کمپنی کو کنٹرول کرتی ہے جو ایونٹا ایم بناتی ہے، دوسروں سے کہا ہے کہ وہ تحقیقات مکمل ہونے تک کسی نتیجے پر نہ پہنچیں۔
برطانوی حکومت ٹیسٹنگ کا ہدف حاصل نہ کر پائی
برطانوی حکومت کی یومیہ بریفنگ میں وزیرِ ہاؤسنگ رابرٹ جینرک نے کہا ہے کہ منگل کو کورونا وائرس کے 87 ہزار 63 ٹیسٹ کیے گئے۔
گذشتہ ماہ وزیرِ صحت میٹ ہینکوک نے برطانیہ میں یومیہ ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ہدف متعین کیا تھا۔
حکومت کا کہنا تھا کہ یہ اعداد و شمار 30 اپریل اور یکم مئی کو حاصل کر لیے گئے تھے تاہم ان اعداد و شمار میں وہ ٹیسٹنگ کٹس بھی شامل ہیں جو گھروں کو بھیجی گئیں لیکن تاحال واپس نہیں آئی ہیں یا ان کا تجزیہ نہیں کیا گیا ہے۔
اس کے بعد لگاتار آٹھ دن تک یہ ہدف حاصل نہ کیا جا سکا۔
وزیرِ اعظم بورس جانسن نے کہا کہ حکومت نے اتوار کو ایک مرتبہ پھر ٹیسٹنگ کا ہدف حاصل کیا جب ایک لاکھ 490 ٹیسٹ کیے گئے۔
اب وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ برطانیہ رواں ماہ کے آخر تک دو لاکھ ٹیسٹ یومیہ تک کرے گا۔
اس تعداد کے بارے میں وضاحت نہیں ہے۔ محکمہ صحت و سماجی تحفظ کا کہنا ہے کہ یہ ٹیسٹوں کی جانب نہیں بلکہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت ہے، یعنی روز کتنے ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔