کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بریکنگ, اٹلی میں اموات کی تعداد 29 ہزار کے قریب پہنچ گئی

    کورونا، اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی میں کورونا وائرس کے سبب 174 مزید ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ مارچ کے اوائل میں لاک ڈاؤن شروع ہونے سے لے کر اب تک کم ترین یومیہ تعداد ہے۔

    اب تک اٹلی میں 28 ہزار 884 افراد ہلاک ہو چکےہیں جبکہ متاثرین کی کُل تعداد دو لاکھ 10 ہزار 717 ہے۔

    ہسپتالوں میں علامات کے حامل 17 ہزار 242 مریض ہیں، 1501 انتہائی نگہداشت میں جبکہ 81 ہزار 436 افراد گھروں پر خود کو تنہائی میں رکھے ہوئے ہیں۔

    اٹلی پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی کی تیاری کر رہا ہے جس کے تحت لوگوں کو چھوٹی تعداد میں اپنے رشتے داروں کے پاس جانے کی اجازت ہوگی۔

    باغات اور کارخانے کھول دیے جائیں گے اور تعمیراتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دی جائیں گی، لیکن سکول ستمبر تک تدریسی عمل شروع نہیں کریں گے۔

  2. مائیک پومپیو کا ایک مرتبہ پھر چین پر الزام

    کورونا، امریکہ، مائیک پومپیو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے چین پر کورونا وائرس کی وبا میں شدت کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس ‘دنیا پر نازل ہونے والی اس آفت کو روکنے کا موقع تھا’ لیکن اس نے معلومات ‘چھپانے اور گمراہ کرنے کی کوشش کی۔’

    انھوں نے یہ تبصرہ اے بی سی نیوز پر بات کرتے ہوئے کیا۔

    ٹرمپ انتظامیہ نے حالیہ چند ہفتوں میں چین پر الزام تراشی میں اضافہ کیا ہے۔ بی بی سی نامہ نگار باربرا پلیٹ اوشر کا کہنا ہے کہ یہ نومبر میں عام انتخابات سے پہلے صدر ٹرمپ کے وبا سے نمٹنے کی حکمتِ عملی کو بہتر انداز میں پیش کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔

    جب ان سے اس مفروضے کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ وائرس انسان کا بنایا ہوا ہے، تو انھوں نے کہا کہ وہ اسے جھوٹ تصور نہیں کرتے، اور دعویٰ کیا کہ ‘اب تک بہترین ماہرین کا بظاہر خیال یہی ہے کہ یہ انسان کا بنایا ہوا ہے۔’

    مگر گذشتہ ہفتے امریکی انٹیلیجنس برادری نے بیان جاری کیا تھا کہ وہ سائنسی برادری سے متفق ہیں کہ وائرس نہ انسان کا بنایا ہوا نہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ ہے۔

    جب ان سے لائیو شو کے دوران انٹیلیجنس برادری کے اس بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا اور کہا کہ وہ انٹیلیجنس کے تجزیے سے اتفاق کرتے ہیں اور ان کے پاس اس پر شک کرنے کے لیے کوئی وجہ نہیں۔

    پومپیو نے اس کے بعد کہا کہ وہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ وائرس دانستہ یا حادثاتی طور پر چھوڑا گیا کیونکہ ان کے مطابق ‘چین کی کمیونسٹ پارٹی نے بین الاقوامی طبی ماہرین کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا ہے۔’

  3. برطانوی حکومت کی آج کی بریفنگ سے ہمیں کیا معلوم ہوا؟

    • مائیکل گوو نے اعلان کیا ہے کہ اب تک برطانیہ میں کورونا وائرس کے سبب 28 ہزار 446 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سنیچر سے اب تک ہلاکتوں میں 315 کا اضافہ ہوا ہے۔
    • آج کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ٹیسٹنگ کم ہوئی ہے۔ 30 اپریل کو ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ کیے گئے تھے جبکہ گذشتہ دن سے آج صبح نو بجے (برطانوی وقت کے مطابق) 76 ہزار 496 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
    • نیشنل ہیلتھ سروس انگلینڈ کے میڈیکل ڈائریکٹر سٹیفن پوویس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں اب ہسپتالوں میں داخلے کی شرح کا عروج گزر چکا ہے۔
    • گوو نے کہا کہ وزیرِ اعظم اگلے ہفتے ملک میں لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کے منصوبے کا اعلان کریں گے۔
    • سٹیفن پوویس نے کہا کہ کورونا متاثرین سے رابطے میں آنے والے افراد کی نشاندہی کے لیے ایپ اگلے ہفتے آزمائشی طور پر لانچ کی جائے گی۔
    • جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کورونا متاثرین کے لیے بنائے گئے عارضی نائٹنگیل ہسپتال چونکہ خالی پڑے رہتے ہیں، تو کیا یہ غلطی سے بنائے گئے ہیں، انھوں نے کہا کہ ‘سو فیصد طور پر ایسی بات نہیں۔’
  4. سٹیفن پوویس: نیشنل ہیلتھ سروس وائرس کی دوسری لہر سے نمٹ سکتی ہے

    کورونا، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہPA Media

    برطانوی حکومت کی یومیہ پریس بریفنگ میں حکام سے سوالات کا سلسلہ جاری ہے۔

    لندن کے ایک شہری کرس نے پوچھا ہے کہ حکومت وائرس کی دوسری ممکنہ لہر سے نمٹنے کے لیے کس طرح تیاری کر رہی ہے۔

    اس کے جواب میں مائیکل گوو نے کہا کہ برطانیہ نئے علاج آزما رہا ہے جبکہ بین الاقوامی سطح پر ویکسین کی تلاش کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ کی مقامی طور پر وینٹیلیٹر اور حفاظتی سامان بنانے کی صلاحیت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

    پروفیسر سٹیفن پوویس نے کہا کہ نیشنل ہیلتھ سروس ‘حیرت انگیز حد تک لچکدار’ ہے اور مختصر نوٹس پر بھی اپنی صلاحیت بڑھا سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ انھیں اعتماد ہے کہ این ایچ ایس کسی بھی دوسری لہر سے نمٹ لے گی۔

  5. مائیکل گوو: وزیرِ اعظم اگلے ہفتے لاک ڈاؤن میں نرمی کا منصوبہ پیش کریں گے

    کورونا، برطانیہ،

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    کابینہ وزیر مائیکل گوو نے اپنی بریفنگ میں بتایا ہے کہ وزیرِ اعظم اگلے ہفتے لاک ڈاؤن میں بتدریج نرمی کرنے کے لیے ایک جامع منصوبے کا اعلان کریں گے۔

    گوو نے کہا: ‘ان کے جامع منصوبے میں بتایا جائے گا کہ کیسے ہم اپنی معیشت کو چلائے رکھ سکتے ہیں، کیسے اپنے بچوں کو سکول بھیج سکتے ہیں، کام پر کیسے زیادہ محفوظ انداز میں جا سکتے ہیں، اور کام کی جگہوں پر زندگی کو کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں۔’

    مگر گوو نے کہا کہ اس سے پہلے کہ ہم موجودہ پابندیوں میں نرمی کریں، ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ پانچ شرائط پوری ہو رہی ہیں۔

    ان پانچ شرائط میں متاثرین کی تعداد میں کمی، شرحِ اموات میں کمی، نیشنل ہیلتھ سروس کی تیاری، اور ایسے اقدامات کی موجودگی کہ کسی دوسری لہر کی صورت میں نیشنل ہیلتھ سروس دباؤ کی شکار نہ ہوجائے۔

  6. برطانیہ میں یومیہ ٹیسٹس کی تعداد میں ایک تہائی سے بھی زیادہ کی کمی

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہHM Government

    اتوار کی صبح نو بجے تک برطانیہ میں 24 گھنٹوں کے دوران 76 ہزار 496 ٹیسٹ کیے گئے تھے جو کہ 30 اپریل کو کیے گئے ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ سے ایک تہائی سے بھی زیادہ کی کمی ہے۔

    رواں ہفتے ہم نے وزیرِ صحت سے سنا تھا کہ برطانیہ نے اپریل کے اواخر تک یومیہ ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

    مگر حکومت کو 40 ہزار ٹیسٹ کٹس لوگوں کے گھروں تک بھیجنے پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ہوسکتا ہے ان میں سے بہت سی کٹس استعمال نہ کی گئی ہوں۔

    نیشنل ہیلتھ سروس کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پوویس کا کہنا ہے کہ انھیں توقع ہے کہ ٹیسٹنگ کی صلاحیت ‘بڑھتی رہے گی’۔

  7. برطانیہ: ہسپتالوں میں داخلوں کا عروج گزر گیا

    برطانوی حکومت کی کورونا وائرس کے متعلق یومیہ بریفنگ جاری ہے۔ برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر سٹیفن پوویس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں ہسپتالوں میں داخلے کی شرح اپنے عروج سے گزر چکی ہے اور ایسا خاص طور پر لندن میں ہے۔

    اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ہسپتالوں میں داخلوں کی یومیہ تعداد میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔

    انھوں نے لوگوں کو یاد دلایا کہ کورونا وائرس لوگوں کی اکثریت کے لیے معتدل علامات والا مرض ہے۔

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہHM Government

  8. کووڈ متاثرین کے پیروں پر چھالے کیوں نکل رہے ہیں؟, زوئی کلائنمین، ٹیکنالوجی رپورٹر، بی بی سی نیوز

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہCovid-Piel Study

    ہسپانوی ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اپنے ایک مطالعے میں پایا ہے کہ ہسپتالوں کے چند مریضوں جن میں کووِڈ-19 کی تشخیص ہوئی تھی، ان کے جسم پر چھالے نکل رہے ہیں۔

    یہ چھالے عموماً نوجوان لوگوں میں نکلے اور کئی دنوں تک جاری رہے۔

    چھالوں کا کسی وائرس کی علامت ہونا غیر معمولی نہیں۔ خسرہ اور چیچک میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔

    مگر محققین کا کہنا ہے کہ انھیں کووِڈ-19 کے چھالوں میں اتنی اقسام دیکھ کر حیرانی ہوئی ہے۔

    فی الوقت کورونا وائرس کی علامات میں چھالے شامل نہیں ہیں۔

  9. بریکنگ, برطانیہ میں کورونا وائرس سے مزید 315 افراد ہلاک

    کورونا وائرس سے اب تک برطانیہ بھر میں 28 ہزار 446 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    سنیچر سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد میں 315 کا اضافہ ہوا ہے۔

    ان اعداد و شمار میں ہسپتالوں، کیئر ہومز اور گھروں میں ہلاک ہونے والے افراد بھی شامل ہیں لیکن صرف وہ جن کے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ مثبت آئے تھے۔

  10. امریکہ: لاکھوں کاروباروں کی جانب سے کورونا ریلیف قرضے کا حصول

    کورونا، امریکہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی حکام نے اتوار کو بتایا کہ ایک سرکاری کورونا وائرس ریلیف پیکج کے تحت 27 اپریل سے اب تک 175 ارب ڈالر مالیت کے 22 لاکھ چھوٹے کاروباری قرضے لیے گئے ہیں۔

    خزانہ سیکریٹری سٹیو منوچن اور سمال بزنس ایڈمنسٹریٹر جوویتا کیرانزا نے کہا کہ پے رول پروٹیکشن پروگرام کے تحت حاصل کیے گئے قرضوں کا اوسط حجم 79 ہزار ڈالر تھا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ‘چھوٹے سے چھوٹے کاروبار’ اس منصوبے کا استعمال کر رہے ہیں۔

    یہ پروگرام ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں مدد دینے اور کووِڈ-19 کی بندشوں کے باوجود قائم رہنے کے لیے تشکیل دیا گیا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ پروگرام کا افتتاح کیے جانے سے اب تک 40 لاکھ قرضے منظور کیے گئے ہیں۔

  11. 'کاروباروں سے ملازمین کے اوقاتِ کار مختلف رکھنے کے لیے کہا جا سکتا ہے'

    کورونا، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ کاروباروں کو کہا جا سکتا ہے کہ جب لاک ڈاؤن میں نرمی ہو تو وہ اپنے کارکنوں کے اوقاتِ کار کو ایک دوسرے سے مختلف رکھیں۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اس اقدام سے پبلک ٹرانسپورٹ میں ہجوم کم ہوگا جو کہ کورونا وائرس پھیلنے کا سبب بنتا ہے۔

    شیپس نے کہا کہ مزید بسیں اور ٹرینیں چلائی جائیں گی لیکن وہ خود سائیکل پر جانے یا پیدل چلنے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ وہ ٹرین کمپنیوں اور یونینز کے ساتھ مل کر سماجی دوری کے ضوابط پر کام کر رہے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ باہر سے آنے والے لوگوں کو قرنطینے میں رکھنے کے لیے سرگرمی سے مصروفِ عمل ہے۔

  12. بریکنگ, انگلینڈ میں مزید 327 افراد کورونا وائرس کے سبب ہلاک

    کورونا، برطانیہ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انگلینڈ میں مزید 327 افراد کورونا وائرس کے سبب ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد یہاں ہسپتالوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 21 ہزار 180 تک پہنچ گئی ہے۔

    سکاٹ لینڈ میں بھی 12 مزید اموات کا اعلان کیا گیا جس کے بعد وہاں اب ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1571 ہوگئی ہے۔

    ویلز میں 14 مزید افراد کورونا کے باعث ہلاک ہوئے ہیں اور ہلاک شدہ افراد کی تعداد 983 ہوگئی ہے۔

    شمالی آئرلینڈ سے پانچ مزید افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے اور وہاں ہلاکتوں کی تعداد 381 ہوگئی ہے۔

    برطانیہ بھر کے تازہ ترین مجموعی اعداد و شمار کچھ دیر بعد جاری کیے جائیں گے جن میں ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ کیئر ہومز اور دیگر جگہوں پر ہلاک ہونے والے افراد کو بھی شمار کیا جائے گا۔

  13. تنزانیہ کورونا کے علاج کے لیے ہربل چائے درآمد کرے گا

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    تنزانیہ کے صدر نے کہا ہے کہ وہ ایک طیارہ مڈغاسکر بھیجیں گے تاکہ ایک نباتاتی دوا درآمد کی جا سکے جسے ملک کے صدر نے کورونا وائرس کا علاج قرار دیا ہے۔

    اس حوالے سے اب تک کوئی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ یہ دوا کارآمد ثابت ہوسکتی ہے یا نہیں۔

    اسے آرٹیمیسیا کے پودے سے تیار کیا جاتا ہے۔ اسی پودے سے حاصل ہونے والا ایک جز ملیریا کے علاج میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

    یہ مشروب دیگر افریقی ممالک مثلاً گنی بساؤ میں بھی پذیرائی حاصل کر رہا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی علاج کے حوالے سے کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ہیں اور اس نے لوگوں کو خود علاج کرنے سے خبردار کیا ہے۔

  14. افغانستان: خوراک کی قیمتوں میں اضافے سے 70 لاکھ بچے بھوک کے شکار, متاثرین: 2469، ہلاکتیں، 72

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    افغانستان کی وزارتِ عوامی صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا وائرس کے 179 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جس کے بعد یہاں متاثرین کی کُل تعداد دو ہزار 469 ہوگئی ہے۔ اب تک اس مرض سے افغانستان میں 72 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    شاید یہ تعداد دنیا کے دیگر ممالک کی بہ نسبت تھوڑی معلوم ہو لیکن افغانستان میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت محدود ہے اور نظامِ صحت کو دہائیوں طویل جنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    خیراتی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں 70 لاکھ سے زائد بچے غذائی قلت کے خطرے کی زد میں ہیں کیونکہ وبا کے باعث خوراک کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

    فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ آبادی کا ایک تہائی حصہ غدائی قلت کا شکار ہے۔

  15. سعودی عرب کا اخراجات میں کمی اور ’تکلیف دہ فیصلے‘ کرنے کا اعلان

  16. ملائیشیا سے دستانوں کے ایک کروڑ جوڑے برطانیہ پہنچ گئے

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہAndrew Matthews/PA Wire

    ملائیشیا کے شہر کوالالمپور سے دستانوں کے ایک کروڑ جوڑے برطانیہ پہنچ گئے ہیں۔

    ایئربس اے 340 طیارہ جس پر ‘شکریہ نیشنل ہیلتھ سروس’ تحریر تھا، آج صبح برنمتھ ایئرپورٹ پہنچا۔

    برطانیہ میں اب تک ذاتی تحفظ کے سامان (پی پی ای) کی کئی کھیپ آ چکی ہیں۔

    گذشتہ ماہ ترکی سے پی پی ایز کی ایک کھیپ آنی تھی جس میں چار لاکھ حفاظتی گاؤن ہونے تھے، لیکن یہ کئی بار مؤخر ہوئی۔

    یہ اب بھی واضح نہیں ہے کہ نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کو ایک دن میں کتنے سرجیکل دستانے دیے جاتے ہیں مگر یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ طبی عملہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ گاؤن استعمال کر رہا تھا۔

  17. روس کے خطوں میں وائرس متاثرین کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی

    کورونا، روس،

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    ،تصویر کا کیپشنماسکو کے جنوب مغرب میں گولوخواستوف کے گاؤں کے باہر کورونا متاثرین کے لیے ہسپتال تعمیر کیا جا رہا ہے۔

    روس میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    روسی حکام کے مطابق اس کی وجہ ٹیسٹنگ میں اضافہ ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ 10 ہزار نئے متاثرین میں سے نصف وہ ہیں جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئی ہیں۔

    اس کے باوجود وائرس روس کے ان خطوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جہاں ہسپتالوں کی سہولیات دارالحکومت ماسکو سے کہیں زیادہ خراب ہیں اور جہاں طبی عملہ شکایت کر رہا ہے کہ ان کے پاس خود کو محفوظ رکھنے کے لیے ماسک اور حفاظتی کپڑے نہیں ہیں۔

    اور ماسکو میں بھی روزانہ 1700 لوگوں کو ہسپتال میں داخل کیا جا رہا ہے جس سے نظام پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

  18. برطانیہ کے سیاسی ٹاک شوز میں آج صبح کیا باتیں ہوئیں؟, عمر کی بنا پر تفریق، بچوں کا سکول واپس جانا، کام کے مختلف اوقات اور دیگر مسائل آج زیرِ بحث رہے

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اگر آپ آج صبح برطانیہ کے سیاسی ٹی وی پروگرام نہیں دیکھ پائے تو ان کے چیدہ چیدہ نکات درجِ ذیل ہیں۔

    • برطانیہ کے دفتر برائے قومی شماریات کے سربراہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں اموات کی تعداد 30 ہزار سے زیادہ ہوسکتی ہے۔
    • وزیرِ ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ اگر وبا پھیلنے سے قبل ہمارے پاس ٹیسٹنگ کی صلاحیت زیادہ ہوتی تو برطانیہ میں کورونا وائرس سے کم ہی لوگ ہلاک ہوئے ہوتے۔
    • کاروباروں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اپنے ملازمین کے اوقاتِ کار میں تبدیلی کریں تاکہ لاک ڈاؤن میں نرمی ہونے پر ٹرانسپورٹ پر دباؤ نہ پڑے۔
    • برطانیہ آنے والے لوگوں کو ممکنہ طور پر نیشنل ہیلتھ سروس کی کونٹیکٹ ٹریسنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے جس کی آزمائش اگلے ہفتے کی جائے گی
    • برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ لاک ڈاؤن اٹھاتے ہوئے ‘عمر کی حد’ متعارف نہ کروائے۔ کنزرویٹو پارٹی کے ایک رکن نے کہا ہے کہ بڑی عمر کے افراد سے گھروں پر رکنے کے لیے کہنا ‘عمر کی بنا پر تفریق’ ہوگی۔
    • برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ڈاکٹر ‘عطیات کے رحم و کرم پر ہیں’ کیونکہ تنظیم کو یہ معلوم ہوا ہے کہ نصف کے قریب ڈاکٹروں نے نیشنل ہیلتھ سروس کے پاس حفاظتی سامان کی عدم موجودگی کے باعث اپنے لیے سامان خود خریدا ہے۔
    • برطانیہ میں تعلیمی اداروں کے نگران ادارے آفسٹیڈ نے کہا ہے کہ بچوں کا جتنا جلد ممکن ہو سکول لوٹنا ان کے مفاد میں ہے مگر ایسا کیسے کیا جائے گا، اس کا کوئی آسان حل نہیں ہے۔
  19. ٹیسٹنگ کیوں اہم ہے؟

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ٹیسٹنگ پر بہت بات ہوچکی ہے اور برطانیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ اگر ٹیسٹنگ کی صلاحیت زیادہ ہوتی تو کم لوگ کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے ہوتے۔

    حکومت نے کہا کہ اس نے اپریل کے اختتام تک کورونا وائرس کے ایک لاکھ ٹیسٹ یومیہ کا ہدف حاصل کر لیا ہے، بھلے ہی ایک لاکھ 22 ہزار 347 ٹیسٹ کے اعداد و شمار میں 40 ہزار وہ ٹیسٹنگ کٹس ہیں جو لوگوں کے گھروں تک بھیجی گئی ہیں۔

    برطانیہ کے برعکس جرمنی اور جنوبی کوریا نے فوراً ہی ٹیسٹنگ کٹس کے ذخیروں میں اضافہ کر کے بڑی تعداد میں لیبارٹریوں کو یہ کٹس فراہم کیں۔

    پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے پروفیسر جان نیوٹن نے کہا ہے کہ وبا سے نمٹنے کے اگلے مرحلے کے لیے ٹیسٹنگ کے صلاحیت کو چھ ہندسوں میں ہونا ضروری ہے۔

    ٹیسٹنگ سے نہ صرف انفرادی طور لوگوں میں مرض کی تشخیص ہوتی ہے بلکہ اس سے یہ بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وائرس آبادی میں کس قدر پھیل گیا ہے۔

    ٹیسٹس سے کئی لوگوں بشمول نیشنل ہیلتھ سروس کے عملے کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کیا کام پر جانا ان کے لیے محفوظ ہے یا نہیں۔

    انگلینڈ میں 20 ہزار گھرانوں کا ایک سال تک ہر ماہ ٹیسٹ کیا جائے گا تاکہ ان میں فعال کورونا وائرس انفیکشن اور ماضی میں انفیکشن ہونے کا پتا دینے والی اینٹی باڈیز کا پتا لگایا جا سکے۔

  20. امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟

    نیویارک

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ،تصویر کا کیپشننیویارک کے سینٹرل پارک میں لوگوں کو فاصلہ رکھنے کی ترغیب دی گئی

    گرمی کی لہر کی وجہ سے نیو یارک کے ہزاروں شہری باغات کا رخ کرنے لگے ہیں مگر پولیس اور دیگر حکام لوگوں کو مسلسل سماجی دوری کے بارے میں ہدایات دے رہے ہیں۔

    شہر کے میئر بِل ڈی بلاسیو نے لاک ڈاؤن سے تھک چکے شہریوں کو خبردار کیا کہ وہ ضوابط کی خلاف ورزی نہ کریں اور یہ کہ کم از کم 15 مئی تک ‘غیر ضروری اجتماعات’ پر پابندی نافذ رہے گی۔ ریاست نیویارک میں اب تک تین لاکھ 13 ہزار متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 18 ہزار 900 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ریاست فلوریڈا میں پیر سے پابندیاں اٹھائی جا رہی ہیں۔ دکانیں اور ریستوران کھولے جائیں گے لیکن محدود افراد کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ سماجی دوری کا خیال رکھنا لازم ہوگا۔ کچھ اقسام کی سرجریاں بھی دوبارہ شروع کی جائیں گی۔ سکول، شراب خانے، جم، حجام، اور کیئر ہومز بند رہیں گے۔

    وبا کے باعث امریکہ میں تین کروڑ افراد بے روزگار ہوچکے ہیں اور اب کئی لوگ مدد کے لیے خیراتی اداروں سے رابطہ کر رہے ہیں۔