کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. روس: دوسرے دن بھی 10 ہزار سے زیادہ کیسز

    روس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    روسی حکام نے ملک میں 10581 نئے کورونا کیسز کی تصدیق کی ہے جس کے بعد ملک میں مجموعی کیسز کی تعداد 145268 ہے۔

    یہ مسلسل دورا روز ہے جب روس میں ایک ہی دن میں دس ہزار سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں۔

    اب روس میں چین، ترکی اور ایران کی نسبت زیادہ تعداد میں کیسز ہیں۔

    گذشتہ ہفتے صدر پوتن نے ملک میں 11 مئی تک کام بند کرنے کے عمل میں توسیع کی تھی اور ماسکو میں بھی کرفیو نافذ تھا۔

    گذشتہ ماہ وزیراعظم کے بھی کورونا میں مبتلا ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

    حکام لوگوں کو گھر پر رہنے کی تلقین کر رہے ہیں اور روس میں مئی کی عام تعطیل کے موقع پر بھی لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی نہ کریں۔

  2. جنوبی کوریا میں بچے اگلے ہفتے سے سکول جا سکیں گے

    کورونا وائرس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جنوبی کوریا میں حکام کا کہنا ہے کہ بچے اگلے ہفتے سے سکول جا سکیں گے۔

    ملک میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کم ہونے کی وجہ سے معمولات زندگی اور کاروبار کو بحال کرنے کی طرف قدم اٹھایا گیا ہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔

    مارچ کے آغاز میں سکول بند کر دیے گئے تھے۔ ایک وقت میں جنوبی کوریا چین کے بعد کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک تھا۔ اب تک یہاں کل متاثرین 10,801 اور 252 اموات پیش آئی ہیں۔

    لیکن ’ٹریک، ٹیسٹ اور ٹریٹ‘ یعنی مریض کو ڈھونڈنا، اس کا ٹیسٹ کرنا اور پھر علاج کرنا کے پروگرام کی مدد سے وبا پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔

    اپریل سے طلبہ آن لائن کلاس لے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ رواں ہفتے بدھ سے لے کر 1 جون تک سکول آہستہ آہستہ کھولے جائیں گے۔

  3. دبئی ایکسپو 2020 اب اگلے سال ہوگا

    دبئی ایکسپو 2020 اب اگلے سال ہوگا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دبئی ایکسپو 2020 کے منتظمین نے پیر کو کہا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے پیش نظر یہ تقریب اب 1 اکتوبر 2021 کو شروع ہوگی۔

    ابتدائی طور پر اس کا آغاز 20 اکتوبر 2020 میں ہونا تھا اور اندازوں کے مطابق تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ افراد نے اس میں شرکت کرنی تھی۔

    لیکن اس میں حصہ لینے والے دو تہائی ملکوں نے متحدہ عرب امارات کی جانب سے اسے ملتوی کرنے کے مطالبے کی حمایت کی۔

    جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے شرکا کووڈ 19 کے اثرات سے بچ سکیں گے۔

    اسے عرب دنیا میں ہونے والی سب سے بڑی تقریب قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ چھ ماہ تک جاری رہے گی اور اس میں دنیا بھر سے لاکھوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

  4. لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا کے خلاف جاری جنگ میں سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن واحد ہتھیار ہیں جنھیں نافذ کرنے کے لیے دنیا کے اکثر ملکوں میں لاک ڈاؤن کیا جا رہا ہے۔

    لیکن لاک ڈاؤن ہماری ذہنی صحت پر کس طرح اثر انداز ہو سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے نفسیاتی مسائل سے کیسے نمٹا جائے، جانیے ماہرِ نفسیات عطیہ نقوی سے ہمارے ساتھی کریم الاسلام کی اس ڈیجیٹل ویڈیو میں۔

  5. ایران: کم متاثرہ علاقوں میں 8 مئی سے مساجد کھولی جائیں گی, بعض مساجد میں ماسک، دستانے پہننا لازم

    ایران میں کورونا وائرس کے متاثرین ایک لاکھ کے قریب

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایران کے محکمہ صحت نے کہا ہے کہ انھوں نے اب تک 98,647 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی ہے۔

    ان کا مزید کہنا ہے کہ اب تک اس وبا سے 6277 اموات ہوئی ہیں۔

    جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایران میں کورونا سے 78,422 افراد صحتیاب ہو چکے ہیں۔

    ایران کے خبر رساں ادارے آئی ایس این اے کے مطابق بعض مساجد میں چہرے پر ماسک اور ہاتھوں پر دستانے پہننا لازم ہوگا۔ ملک میں لاک ڈاؤن میں دو ماہ بعد نرمی لائی جا رہی ہے۔

    8 مئی سے کم متاثرہ علاقوں میں مساجد کھولی جائیں گی۔ تاہم ایسے علاقوں میں مساجد بند رہیں گی جہاں وائرس زیادہ یا درمیانے درجے تک پھیل چکا ہے۔

    لوگوں کو نماز کے اوقات کے دوران صرف آدھے گھنٹے کے لیے مسجد کے اندر داخل ہونے دیا جائے گا۔

  6. ’وبا کے دوران بچوں کی ویکسینیشن نہ ہونا بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے‘

    ’وبا کے دوران بچوں کی ویکسینیشن نہ ہونا بڑے مسائل پیدا کر سکتا ہے‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یورپی یونین نے منتبہ کیا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران کچھ ممالک میں بچوں کی ویکسینیشن نہ ہونے سے بڑے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔

    بیماری کی روک تھام کے یورپی ادارے کی ڈائریکٹر انڈریا ایمون نے کہا ہے کہ یہ بات ظاہر ہے کہ ’ہمیں ایسے افراد اور بچے ملیں گے جن کی ویکسینیشن نہیں ہوئی ہوگی۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ کچھ یورپی ممالک میں اب بھی بچوں کی ضروری ویکسینیشن کرائی جا رہی ہے، جیسے خسرے کی روک تھام کی ویکسین۔

    انھوں نے متنبہ کیا ہے کہ وبا کے دوران بعض ملکوں نے ویکسینیشن بالکل معطل کر دی ہے۔ تاہم انھوں نے ان ممالک کے نام نہیں لیے۔

  7. فلپائن میں مزید 16 اموات

    فلپائن میں مزید 16 اموات

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق فلپائن میں محکمہ صحت نے کورونا سے 16 نئی اموات کی تصدیق کی ہے جبکہ 262 مزید افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اب ملک میں کل متاثرین کی تعداد 9485 ہوگئی ہے جبکہ 623 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

    101 مزید افراد اس بیماری سے صحتیاب ہوچکے ہیں۔ صحتیاب ہونے والوں کی کل تعداد 1315 بتائی گئی ہے۔

  8. ’فوجی نظم و ضبط سے کام کی بحالی ممکن‘

    ’فوجی نظم و ضبط سے کام کی بحالی میں مدد ملے گی‘

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ کے سیکریٹری دفاع بین والیس نے کہا ہے کہ اگر دفاتر میں دو میٹر تک سماجی رابطہ برقرار رکھنے کے اصول کو ختم بھی کر دیا جائے تو فوج جیسے ’سخت انفرادی نظم و ضبط‘ کی مدد سے بھی لوگ محفوظ رہ سکتے ہیں۔

    بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’جب آپ اور میں سپر مارکیٹ میں جا کر قطار میں کھڑے ہوتے ہیں تو ہم دو میٹر کا فاصلہ نہیں رکھ پاتے۔ لیکن وہ خود کو محفوظ رکھ لیتے ہیں۔‘

    ’دو میٹر کے اصول میں کئی باتیں شامل ہیں اور اس کا مقصد وائرس سے بچنا ہے۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ ایک دوسرے کے قریب کتنی دیر کھڑے رہتے ہیں۔‘

    انھوں نے ہاتھ دھونے اور چھینکتے وقت تدابیر پر عمل کرنے پر بھی زور دیا ہے۔

    ’فوجیوں کی ٹریننگ میں انفرادی نظم و ضبط کا اعلیٰ معیار ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے کہ فوج میں صرف 10 فیصد لوگ غیر حاضر رہے ہیں جو قومی اوسط سے کافی کم ہے۔‘

    بین والیس کہتے ہیں کہ ’یہ کچھ حد تک دفاتر میں نظم و ضبط سے ممکن ہوا ہے۔ کام کی بحالی کے لیے یہ ایک اہم پہلو ہوسکتا ہے۔‘

  9. یورپ کورونا سے مقابلے کے لیے ایک نئے مرحلے میں داخل

    وائرس سے نمٹنے کے لیے یورپ نئے مرحلے میں داخل

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پیر سے مختلف یورپی ممالک کی حکومتیں لاک ڈاؤن میں نرمی کر رہی ہیں۔ اس سے یورپ کورونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔

    اٹلی میں آٹھ ہفتوں کے لاک ڈاؤن کے بعد اب لوگ پارک جا سکیں گے، اپنے رشتہ داروں سے مل سکیں گے اور ریستوران سے کھانا گھر لے جا سکیں گے۔ تقریباً 40 لاکھ افراد کام پر واپس جائیں گے۔ دفاتر اور پبلک ٹرانسپورٹ میں چہرے کے ماسک لازم قرار دیے گئے ہیں۔

    سپین میں ہیئر ڈریسر جیسے چھوٹے کاروبار کھولے جا سکیں گے۔ تاہم صرف ان لوگوں کو آنے کی اجازت ہوگی جنھوں نے بکنگ کرائی ہے۔ کچھ جزیروں پر مزید نرمی کی جائے گی کیونکہ وہ کورونا سے اتنے متاثر نہیں ہوئے تھے۔

    جرمنی میں چڑیا گھر، میوزیم، ہیئر ڈریسر اور یہاں تک کہ کچھ سکول کھولے جا رہے ہیں۔ ابتدائی طور پر سب سے کم عمر کے بچوں کو سکول واپس آنے کا کہا گیا ہے۔

    آسٹریا میں بچے دوبارہ سکول آنا شروع ہوگئے ہیں۔ ہنگری میں بڑی عمر کے بچوں کے امتحانات ہو رہے ہیں جبکہ یہاں سکول تاحال بند رکھے گئے ہیں۔

    پولینڈ میں ہوٹل، لائبریریاں، میوزیم اور دکانیں کھولی جا رہی ہیں۔ لیکن ہیئر ڈریسرز، ریستوران اور پلے گراؤنڈ بند رکھے جا رہے ہیں۔

  10. امریکہ اور چین کے درمیان جنگ کی باتیں کیوں ہو رہی ہیں؟

    امریکہ اور چین کے درمیان جنگ کی باتیں کیوں؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    جب امریکی اہلکاروں نے کووڈ 19 کو پہلے ’ووہان وائرس‘ اور پھر ’چینی وائرس‘ کے نام سے تعبیر دی تو چین کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے امریکہ کو متنبہ کیا کہ وہ چین کو گالی دینے سے پہلے ’اپنے کام پر دھیان دیں۔‘

    چین کی وزارت خارجہ کے ایک اور اہلکار نے امریکہ کے لیے کچھ سوالات اٹھا دیے اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس امریکی فوجی، جو ووہان میں فوجی مشقوں میں حصہ لینے آیا تھا اور ممکنہ طور پر وائرس کا نشانہ بنا، اس کے ٹیسٹ کے نتائج دنیا کو دکھائے۔

    امریکی اہلکاروں کی جانب سے کووڈ 19 کو ’چینی وائرس‘ کہے جانے کے بعد امریکہ میں چین کے سفیر نے امریکہ سے مطالبہ کہ وہ اس وبا کو سیاسی رنگ نہ دیں۔

    سپیکٹیٹر نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں لکھا کہ کورونا کے ہاتھوں پہلی ہلاکت اس امریکی سوچ کی تھی کہ وہ چین کے عالمی طاقت بننے کی حقیقت کو ’باہمی مفادات‘ کے ذریعے قابو کر سکتا ہے۔

  11. کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ یہ وائرس کسی لیب سے خارج ہوا؟, پال رنکن، مدیر برائے سائنس، بی بی سی نیوز

    کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ کووڈ-19 وائرس لیبارٹری سے خارج ہوا؟

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایسے شواہد خود دیکھے ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ وائرس ووہان کی ایک لیبارٹری سے نکل کر دنیا میں پھیلا۔

    یہ وبا گذشتہ سال کے آخر میں سامنے آئی جب اس وائرس سے متاثرہ کچھ مریضوں کی بیماری کی وجہ کو ووہان کی ایک فوڈ مارکیٹ سے جوڑا گیا۔

    بڑے پیمانے پر آن لائن سامنے آنے والی قیاس آرائیوں کے باوجود اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ سارس-کوو-2، جو کووڈ-19 کی وجہ بنا، واقعی حادثاتی طور پر چین کی ایک لیبارٹری سے اخراج کے نتیجے میں پھیلا۔

    جن لیبارٹریز میں وائرس اور بیکٹیریا پر تحقیق ہوتی ہے وہ جن حفاظتی انتظامات پر عمل کرتی ہیں، انھیں بی ایس ایل یعنی بائیو سیفٹی لیول کہا جاتا ہے۔

  12. امریکی رپورٹ کا دعویٰ: چین نے جان بوجھ کر وبا کی شدت کو پوشیدہ رکھا

    چین، شی جنپنگ، کورونا وائرس، ماسک

    ،تصویر کا ذریعہAFP

    خبر رساں ادارے اے پی کی ایک خبر میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ادارے ہوم لینڈ سکیورٹی کی لیک ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی حکام سجھتے ہیں کہ چین نے عالمی وبا کے دوران ’جان بوجھ کر صورتحال کی شدت پوشیدہ رکھی۔‘

    گذشتہ دنوں کے دوران ٹرمپ انتظامیہ نے چین پر کڑی تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ اور وزیر خارجہ مائیک پومپیو دونوں نے بیجنگ پر الزام عائد کرتے ہوئے چین سے معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور درآمدات پر ٹیکس بڑھانے کی دھمکی بھی دی ہے۔

    چین اور امریکہ کے تعلقات میں تناؤ کے خدشے سے ایشیائی مارکیٹوں میں مندی بھی دیکھی گئی ہے۔

    امریکی رپورٹ کے مطابق چین نے وبا کے پھیلاؤ پر پردہ ڈالتے ہوئے اپنی درآمدات بڑھا دی تھیں اور طبی سامان کی برآمدات کم کر دی تھیں۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین نے جنوری میں عالمی ادارہ صحت کو صحیح طرح حالات سے آگاہ نہیں کیا تاکہ یہ دوسرے ممالک سے طبی سامان منگوا سکے۔

    تاہم چین پہلے ہی ایسے الزامات کی سختی سے تردید کر چکا ہے۔

  13. جاپان: ایمرجنسی میں 31 مئی تک توسیع

    جاپان

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    جاپان میں پیر کو ملک گیر ایمرجنسی میں مئی کے اواخر تک توسیع کی گئی ہے۔ ملک میں یہ اقدام کورونا وائرس کی وبا سے مقابلے کے لیے کیا گیا ہے۔

    وزیر اعظم شنزو ایبے نے ابتدائی طور پر7 اپریل کو ایک ماہ کے لیے ٹوکیو سمیت چھ علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ بعد میں انھوں نے اسے پورے ملک پر نافذ کر دیا تھا۔

    یہ ایمرجنسی بدھ کو ختم ہونی تھی اور یہ امکان تھا کہ وزیر اعظم اسے 31 مئی تک بڑھا دیں گے۔ حکومت کی معاونت کرنے والے ایک پینل نے اس منصوبے کو منظور کیا تھا۔

    کووڈ 19 سے متعلق حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ملک میں 31 مئی تک اقدامات جاری رکھنے کے لیے ایک منصوبہ منظور کیا گیا ہے۔

  14. برطانیہ: ’چین کو وائرس کے پھیلاؤ پر معلومات دینی پڑے گی‘

    برطانیہ، کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق برطانیہ کے سیکریٹری دفاع نے کہا ہے کہ چین کو اس حوالے سے معلومات دینی پڑے گی کہ ناول کورونا وائرس کیسے پھیلا اور اس دوران اس نے وائرس کی روک تھام کے لیے کیا کردار ادا کیا۔

    بین والیس کا کہنا تھا کہ چین کو ایسے سوالات کا جواب دینا پڑے گا تاکہ دنیا اس بحران کی سنجیدگی کو سمجھ سکے۔

    ’جب ہم اس پر قابو پا لیں گے اور معیشت بحال ہوجائے گی تو اس کا پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔‘

    ان کا کہنا تھا کہ چین کے لیے ضروری ہوگا کہ یہ کھل کر وضاحت کرے اور شفاف طریقے سے وہ معلومات دے جو اس کے پاس موجود ہے۔ ’اس میں نہ صرف اس کی کوتاہیاں بلکہ کامیابیاں بھی شامل ہوں گی۔‘

  15. تھائی لینڈ میں کورونا سے کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی

    تھائی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پیر کو تھائی لینڈ میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین کی تعداد 18 ہوگئی ہے۔ گذشتہ ہفتے یہ تعداد 10 سے کم ہوچکی تھی۔

    لیکن تاحال ملک میں کوئی نئی ہلاکت نہیں ہوئی ہے۔

    پیر کے اعداد و شمار کے مطابق تھائی لینڈ میں اب تک کورونا وائرس کے 2987 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے جبکہ جنوری سے اب تک 54 اموات پیش آئی ہیں۔

    کووڈ 19 کی صورتحال پر ایک حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ تھائی لینڈ میں نئے متاثرین ملائیشیا کی سرحد سے غیر قانونی طریقے سے داخل ہوئے تھے۔

    انھیں قرنطینہ منتقل کر دیا گیا تھا۔ اپریل 25 کو کورونا کے 42 متاثرین کی تصدیق ہوئی تھی۔

  16. کورونا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

    کورونا وائرس کیا ہے اور چین میں وبا کی طرح پھیلنے والی اس بیماری سے لوگ کیسے متاثر ہو رہے ہیں؟

    ہماری اس ویڈیو میں جانیے کہ یہ وائرس کیسے پھیلتا ہے اور ماہرین اس کے لیے کیا احتیاطی تدابیر تجویز کر رہے ہیں۔۔۔

  17. انڈیا: گھر واپسی کا کرایہ 800 روپے لیکن مزدور کی دیہاڑی 200 روپے

    انڈیا، مزدور

    انڈیا میں حکومت نے ایسے دیہاڑی دار مزدوروں سے اپنا ٹرین کا کرایہ خود ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو کسی دوسری ریاست میں پھنس چکے ہیں اور اپنے گھر جانا چاہتے ہیں۔

    ایسے لاکھوں افراد 24 مارچ کو لاک ڈاؤن کے نفاذ کے بعد کسی دوسری ریاست میں پھنس گئے تھے اور ان کے پاس روزگار کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا۔ یہ لاک ڈاؤن انڈیا میں کورونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لگایا گیا تھا۔

    ٹرین کی ٹکٹ تقریباً 800 انڈین روپے یا 11 ڈالر بنتی ہے۔ دیہاڑی دار مزدو روز 200 سے 600 روپے کماتا ہے۔

    انڈیا میں حزب اختلاف کی جماعت کانگریس پارٹی نے کہا ہے کہ وہ ان مزدوروں کے کرایے ادا کرے گی۔

    کانگریس کی صدر سونیا گاندھی سے منسوب ایک بیان کے مطابق کانگریس پارٹی ان افراد سے ’اظہار یکجہتی‘ کے لیے ان کے کرایے ادا کرنے کے انتظامات کرے گی۔

    یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ صرف ان افراد سے کرایے کیوں وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ حکومت نے بیرون ملک پھنسے اپنے شہریوں کی مفت وطن واپسی کے لیے اقدامات کیے تھے۔

    ایسے میں ہزاروں افراد اپنے گاؤں پیدل چل پڑے ہیں۔ لیکن اب بھی کئی افراد کسی دوسری ریاست میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    حکومت نے اپنے اقدام کے دفاع میں کہا ہے کہ یہ ضروری اس لیے ہے تاکہ صرف ایسے لوگوں کو ٹرین کی سروس دی جا سکے ’جو واقع پھنسے ہوئے ہیں۔‘

  18. پرتگال میں ایمرجنسی ختم، چھوٹی دکانیں کھولنے کی اجازت

    پرتگال، لاک ڈاؤن

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    پرتگال میں پیر سے لاک ڈاؤن میں نرمی ہونے جا رہی ہے۔ اس کے تحت چھوٹی دکانوں، ہیئر سیلونز اور کار ڈیلرز کا کاروبار بحال ہوجائے گا۔

    گذشتہ چھ ہفتوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی ختم کر دی گئی ہے۔

    حکومتی منصوبے کے تحت دکانوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں چہرے کے ماسک یا وائزر پہننا لازم ہوگا۔ ملک میں سماجی سرگرمیاں بتدریج طریقے سے بحال کی جائیں گی۔

    پرتگال نے 19 مارچ کو ملک گیر ایمرجنسی نافذ کی تھی۔ یہاں اب تک کورونا کے 25 ہزار سے زیادہ متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔ اور ایک ہزار سے زیادہ اموات پیش آئی ہیں۔

    لوگوں کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ بہتر یہی ہوگا کہ وہ گھر پر رہیں تاکہ ملک میں معمولات زندگی آہستہ آہستہ بحالی کی طرف جا سکے۔

  19. کورونا وائرس کی وبا آخر کب ختم ہوگی؟

  20. اٹلی میں دو ماہ بعد گھر سے باہر بعض سرگرمیوں کی اجازت

    اٹلی میں دو ماہ بعد گھر سے باہر بعض سرگرمیوں کی اجازت

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    اٹلی دنیا کا پہلا ملک تھا جس نے ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کیا تھا۔ اور اب دو ماہ کے قرنطینہ کے بعد اطالوی شہریوں کو گھر سے باہر نکلنے اور کچھ سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

    وہ اب خطے میں نقل و حرکت کر سکیں گے، اپنے رشتہ داروں سے مل سکیں گے، پارک جا سکیں گے اور ریستوران سے کھانا گھر لے جا سکیں گے۔

    ایک اندازے کے مطابق 40 لاکھ لوگ کام پر واپس جائیں گے۔

    ملک میں تاحال کل 210,717 متاثرین ہیں جبکہ 28,884 اموات ہوئی ہیں۔ یہ یورپ میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔