کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. جب انفیکشن کی نشاندہی ہو جائے گی تو ٹارگٹڈ لاک ڈاؤن ممکن ہو گا

    میٹ ہینکاک

    سیکریٹری ہیلتھ میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ برطانیہ اب اس پوزیشن میں ہے کہ وہ ٹیسٹ، ٹریک اینڈ ٹریس پروگرام شروع کرے یعنی ان لوگوں کی شناخت اور کھوج لگایا جائے جن میں کورونا کی علامات ہیں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس سکیم کا آغاز آزمائشی بنیادوں پر منگل کو جزیرہ ائل آف وائٹ سے کیا جائے گا۔

    اس منصوبے میں این ایچ ایس کی ایپ استعمال ہو گی جس کی پہلے ہی اس جزیرے میں آزمائش ہو چکی ہے۔

    ہینکاک کا کہنا ہے کہ علاقے کے تمام مکینوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس ایپ کو ڈاؤن لوڈ کریں۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کی مدد سے حکومت وائرس کو کنٹرول کرنے کے لیے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کو زیادہ ٹارگٹڈ بنیادوں پر کر سکے گی۔ یعنی متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کے لحاظ سے لاک ڈاؤن کے اقدامات ہوں گے۔

  2. تجزیہ: برطانیہ کے تازہ اعداد و شمار مثبت ہیں, نِک ٹریگل، صحت کے نامہ نگار

    حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کئی مثبت اشارے ہیں۔ مزید 288 اموات کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ گذشتہ ایک ماہ میں 24 گھنٹوں میں رہورٹ ہونے والی سب سے کم تعداد ہے۔

    ویک اینڈ پر رپورٹ ہونے والی تعداد کم ہوتی ہے اور یہ تعداد اتوار کی ہے لیکن انگلینڈ کے چیف میڈیکل آفیسر جوناتھن وین ٹام کا کہنا ہے کہ ’واضح ہے کہ ہم انتہا سے گزر چکے ہیں‘۔

    اگر تاریخ کے لحاظ سے ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اپریل کے دوسرے ہفتے میں وبا کا عروج تھا اور اب اس وقت کے مقابلے میں تعداد ایک تہائی ہیں۔

  3. انگلینڈ میں ہسپتال میں داخلوں میں کمی

    انگلینڈ کے ہسپتالوں میں مریضوں کے داخلوں میں کمی آئی ہے۔ دیے گئے چارٹ میں مارچ کے وسط سے اتوار تک کا ڈیٹا دیکھا جا سکتا ہے۔

    ڈیٹا
  4. برطانیہ میں مزید 288 اموات

    برطانیہ کے سیکریٹری صحت مسٹر ہینکاک کے مطابق مزید 288 اموات کے بعد برطانیہ میں کل اموات کی تعداد 28734 ہو گئی ہے۔

    بریفنگ کے دوران انھوں نے بتایا کہ اموات کی تعداد اصل سے کم ہو سکتی ہے جس کی وجہ ہفتے کے اختتام پر اعداد سے متعلق رپورٹنگ میں تاخیر ہے۔

    سیکریٹری ہیلتھ کا کہنا ہے کہ اتوار سے اب تک کورونا کی تشخیص کے 85186 ٹیسٹ ہوئے ہیں جو حکومتی ٹارگٹ سے کم ہے جو ایک لاکھ یومیہ ٹیسٹ تھا۔

    uk
  5. بانڈی پورہ، انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں کورونا وائرس کا مرکز, عامر پیرزادہ، نامہ نگار بی بی سی

    india

    ،تصویر کا ذریعہSaqib Bhat/Barcroft Media

    انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کا ضلع بانڈی پورہ کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ لیکن وہاں کی چار لاکھ آبادی کی جان بچانے کے لیے کوئی وینٹی لیٹر نہیں ہے۔

    اس مراسلے کی تحریر تک بانڈی پورہ میں سب سے زیادہ 128 کورونا کیسز تھے۔ گنڈ جہانگیر جو کہ بانڈی پورہ کی تحصیل حاجن کا ایک گاؤں ہے، اس وقت کورونا کا مرکز بنا ہوا ہے وہاں کورونا کیسز کی تعداد 53 ہے۔

    اس گاؤں سے کورونا کا پہلا کیس چھ اپریل کو سامنے آیا جب 52 سالہ شخص کی سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں کورونا کی وجہ سے ہلاکت ہوئی۔

    وہ فروٹ منڈی میں کاروبار کرتے تھے اور ان کا کسی کورونا وائرس کے متاثرہ شخص سے میل جول یا پھر علاقے سے باہر سفر کا ریکارڈ نہیں تھا۔

    وہ جس دن ہسپتال لائے گئے اسی دن ان کا انتقال ہوگیا اور بعد میں ان کا کورونا کا پوزیٹو رزلٹ آیا۔

    اس سے پہلے انھوں نے شمالی کشمیر میں اپنے علاقے میں سفر کیا تھا اور گنڈ جہانگیر کے بہت سے لوگوں سے ملے تھے۔ تب سے اب تک کورونا وائرس اس گاؤں میں بہت تیزی سے پھیلا ہے۔

  6. کورونا کے شکار ڈاکٹر فرقان ’جنھیں طبی سہولت نہیں ملی‘

  7. کیا کیمرے کے ذریعے نگرانی سماجی دوری پر عمل کروا سکتی ہے؟

    france

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    فرانس اگلے ہفتے سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں کو نرم کرنے کا آغاز کر رہا ہے۔ لیکن حکام کی جانب سے ویڈیو کیمروں کے ذریعے عوام کی نگرانی کی جائے گی کہ کیا وہ ماسک استعمال کر رہے ہیں اور سماجی دوری کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں۔

    اس سلسلے میں فرانس کے سیاحتی شہر کانز میں نگرانی کے سافٹ ویئر کے ذریعے کھلی مارکیٹوں اور بسوں میں ایک آزمائشی مہم شروع کی گئی ہے۔

    ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ڈیجیٹل نگرانی مزید کتنے شہروں میں کی جائے گی۔

  8. سمتھ فیلڈ ’پورک‘ پلانٹ: امریکہ میں بڑے پیمانے پر کورونا وائرس پھیلنے کی کہانی جو آپ نے پہلے کبھی نہ سنی ہو گی

    امریکہ میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی اتنی بڑی تعداد ساؤتھ ڈکوٹا کے ایک چھوٹے سے کونے سے کیسے سامنے آئی؟پورک (خنزیر)پراسیسنگ فیکٹری میں انفیکشن کیسے پھیلیاور ایسے کئی سوالات کے جواب ابھی ملناباقی ہیںجیسا کہکمپنی نے عملے کے تحفظ کے لیے کیا کیا؟

    25 مارچ کی دوپہر، جولیا نےاپنا لیپ ٹاپ کھولا اورایک جعلی فیس بک اکاؤنٹ پر لاگ اِن ہو گئیں۔ انھوں نے یہ اکاؤنٹ مڈل سکول میں بنایا تھا تاکہ خفیہ طور پر اپنے پسندیدہ لڑکوں پر نظر رکھ سکیں۔

    لیکن اب اتنے سال بعد یہ اکاؤنٹ ایک بہت سنجیدہ مقصد کی تکمیل میں ان کی مدد کرنے والا تھا۔

    جولیا نے مقامی اخبار ’ارگس لیڈر‘ کے فیس بک اکاؤنٹ ’ارگس 911‘ کو اپنے اکاؤنٹ سے یہ پیغام بھیجا ’براہ مہربانی کیا آپ پتہ کر سکتے ہیں کہ سمتھ فیلڈ میں کیا ہو رہا ہے؟ وہاں ایک شخص میں کووِڈ 19 کی تصدیق ہوئی ہے لیکن وہ پھر بھی سمتھ فیلڈ کو کھلا رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔‘

  9. کینیڈا: وبا کا سب سے بڑا مرکز بننے والا گوشت کا پلانٹ دوبارہ کھولنے کی کوشش

    امریکی کمپنی ’کارگل‘ یونین کی جانب سے احتجاج کے باوجود کورونا کی وبا کا سب سے بڑا مرکز بننے والا گوشت کا پلانٹ دوبارہ کھولنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    ایلبرٹا کے علاقے ہائی ریور میں واقع اس ہلانٹ کے 2000 کے عملے میں سے نصف میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔

    اس پلانٹ کو 20 اپریل کو ایک مزور کی موت کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔ ملک میں گائے کا 36 فیصد گوشت یہاں پروسیس کیا جاتا ہے۔

    کمپنی اب پلانٹ کو کھولنا چاہتی ہے لیکن یونین اسے روکنے کے لیے عدالتی آرڈر لینے کی کوشش کر رہی ہے۔ یونین کی جانب سے کرائے گئے سروے میں 600 افراد نے حصہ لیا جن میں سے 85 فیصد کام پر واپس آنے پر خائف ہیں۔

    اس طری کی بحث امریکہ میں بھی جاری ہے جہاں صدر ٹرمپ نے جنگ کے دنوں کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے گوشٹ کے پلانٹوں پر کھلے رہنے کے لیے دباؤ ڈال رکھا ہے۔ ساؤتھ ڈکوٹا میں سمتھ فیلڈ پورک پلانٹ وہ جگہ ہے جو امریکہ میں وبا کا سب سے بڑا مرکز بنا۔

  10. کورونا فنڈ کے لیے منشیات کے سمگلر کا گھر اور قیمتی اشیا کی نیلامی

    mexico

    ،تصویر کا ذریعہindep

    میکسیکو کے حکام نے منشیات کے سمگلر لارڈ امادو کیریلو فیونٹیس کا گھر نیلام کر دیا ہے۔ اس رقم کو عوامی صحت کی سہولیات اور کورونا کے خلاف جنگ کے فنڈ میں شامل کیا گیا ہے۔

    کیریلو فیونٹیس `لارڈ آف سکائز` یعنی آسمانوں کے بادشاہ کے نام سے معروف تھے اور سنہ 1997 میں ان کا انتقال ایک ناقص پلاسٹک سرجری کے بعد ہوا۔

    ان کے گھر کو 20 لاکھ امریکی ڈالر سے زیادہ رقم میں نیلام کیا گیا ہے۔ اس میں کاریں، جیولری اور جہاز بھی شامل ہیں۔ کل ملا کر نیلامی کی رقم 45 لاکھ امریکی ڈالر ہے۔

  11. پومپیو کی چین کی لیبارٹری سے متعلق قیاس آرائیوں کی پیچھے کیا ہے؟, پال رنکن، سائنس ایڈیٹر، بی بی سی نیوز ویب سائٹ

    امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی جانب سے اتوار کو کورونا وائرس کے نقطہ آغاز سے متعلق دیے گئے بیان میں صدر ٹرمپ کے الفاظ کی گونج تھی۔ لیکن انھوں نے زوردار انداز میں یہ بھی کہہ دیا کہ اس بات کے ’قوی شواہد‘ موجود ہیں کہ یہ چین کی ایک لیبارٹری سے حادثاتی طور پر خارج ہوا۔

    گذشتہ ہفتوں میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے چین پر وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات لگانے کی بظاہر ایک معظم کوشش کی گئی ہے۔ ٹرمپ وبا کے خلاف اقدامات کے حوالے سے خود پر کی جانے والی تنققید سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چین الزامات کی تردید کر چکا ہے اور امریکہ کے وائرس کے خلاف ردعمل پر تنقید بھی۔

    یہ کہنا کہ یہ ’لیبارٹری میں تیار ہوا ‘ اس بارے میں کچھ ابہام پایا جاتا ہے۔

    سائسندان اس قیاس کو بالکل سنجیدگی سے نہیں لے رہے کہ وائرس ایک بائیلوجیکل ہتھیار ہے یا پھر اسے جینیاتی انجینیئرنگ کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس کے ساکھ کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مکمل طور پر قدرتی ہے۔

    وہان کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ سے چمگادڑ کو لاحق وائرس کا حادثاتی طور پر اخراج ہو جانا ایک مختلف معاملہ ہے اور اس بارے میں کوئی شواہد منظر عام پر نہیں لائے گئے ہیں۔

    سائنسدانوں کی ایک بڑی تعداد اس حق میں ہے کہ یہ قدرتی طور پر وجود میں آیا ہے۔

    ہاں، ماضی میں لیبارٹریوں میں حادثات ہوئے ہیں۔ سنہ 2003 میں سناگاپور کی ایک لیب میں ایک غلطی سے ایک گریجوایٹ سٹوڈنٹ کو سارس کا مرض ہوگیا تھا۔ ایک دوسرے واقعے میں بیجنگ کی ایک ادارے میں سارس کے وائرس کو غیر موثر بنانے کی کوشش ناکام ہونے پر یہ دو محققین کو لاحق ہو گیا تھا۔

  12. جرمنی: اصل کیسز کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے ’10 گنا زیادہ ہو سکتی ہے‘

    جرمنی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک نئی تحقیق کے مطابق جرمنی میں وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے دس گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔

    یونیورسٹی آف بون کے محققین کے اندازوں کے مطابق 18 لاکھ افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ جرمنی میں تصدیق شدہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 60 ہزار ہے۔

    اس تحقیق پر ابھی دیگر محققین کی جانب سے نظر ثانی کی جائے گی۔ اس تحقیق میں ملک کے سب سے متاثرہ علاقے ہائنزبرگ سے 919 لوگوں کو شامل کیا گیا۔

    تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک متاثرہ شخص میں کوئی علامات نہیں تھیں۔

    جرمنی میں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے اور چڑیا گھر، میوزیم اور حجام کی دکانیں کھل گئی ہیں۔ بعض طالب علم بھی سکولوں کو لوٹ رہے ہیں۔

  13. کورونا بحران: گوگل، فیس بک، ایپل اور ایمزون کا کاروبار کس طرح چمکا

  14. مشرقِ وسطیٰ سے تازہ ترین:

    MIDDLE EAST

    ،تصویر کا ذریعہEPA

    • ایران نے 132 شہروں میں مساجد کھولنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ وہ شہر ہیں جہاں کورونا وائرس کے باقاعدگی سے کیسز سامنے نہیں آئے ہیں اور یہ ’کم خطرہ‘ والے شہر ہیں۔ لیکن ملک کا دارالحکومت تہران اور مشہد اس فہرست میں شامل نہیں ہیں۔ یہ اقدام کچھ ہفتوں سے جاری سرگرمیوں میں مرحلہ وار نرمی کا حصہ ہے۔ تاہم صدر حسن روحانی نے ایرانیوں کو تنبیہہ کی ہے کہ وہ ’برے حالات‘ کے لیے تیار رہیں۔ ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 6200 ہے۔
    • لبنان میں ریستورانوں اور حجام کی دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے لیکن وہاں گنجائش کے لحاظ سے 100 فیصد کے بجائے 30 فیصد افراد ایک وقت میں آ جا سکیں گے۔ دن کے اوقات میں لوگ ساحل پر جا کر چہل قدمی کر سکتے ہیں۔
    • مصر میں محدود تعداد میں لوگوں کو مقامی سیاحوں کے لیے ہوٹل کھولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہوٹلوں کو گنجائش سے 25 فیصد زیادہ افراد کو ٹھہرانے کی اجازت نہیں ہے اور انھیں صحت کے حوالے سے تمام اصول و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔
    • دبئی میں ایکسپو 2020 کو عالمی وبا کی وجہ سے اکتوبر 2021 تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
  15. ’دشمن‘ ملک کے بچوں کو پالنا کتنا آسان؟شمالی کوریا کے بچے جنوبی کوریا میں

  16. امریکی سپریم کورٹ کی تاریخ میں پہلی بار کیسز کی سماعت فون پر

    us

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کی وجہ سے امریکی سپریم کورٹ چند غیر معمولی تبدیلیوں کو اپنانے پر مجبور ہو گئی ہے۔

    اگلے دو ہفتوں تک امریکہ کی اعلیٰ عدلیہ میں کیسز کی سماعت فون پر ہو گی اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہو گا۔

    لائیو سٹریمنگ پر عدالتی کارروائی کی آڈیو بھی نشر کی جائے گی۔

    زیادہ تر وکلا بھی اپنے کیس کے دوران گھروں سے ہی کام کریں گے لیکن حکومتی وکلا اپنے دفاتر میں ہو گے۔

    اور وہ اپنے رسمی لباس میں ہی ہوں گے۔

    فون پر کیسز کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سامنے بڑے اہم کیسز آئیں گے ان میں صدر ٹرمپ کے فنانشل ریکارڈز کا کی بھی شامل ہو گا۔

  17. ٹرمپلومیسی: امریکہ کی چین کے لیے نئی حکمتِ عملی کے پیچھے کیا ہے؟

  18. لاک ڈاؤن نے لوگوں کے حلیے بدل دیے!

    جیمز

    ،تصویر کا ذریعہjames soopner

    elia

    ،تصویر کا ذریعہelia rodnight

    دنیا کے بیشتر ممالک میں لاک ڈاؤن کو لگے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے۔ ایسے میں لوگ اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں کہ وہ پہلے کیسے دکھائی دیتے تھے اور اب ان کا حلیہ کس قدر تبدیل ہوا ہے۔

    یہ پہلی تصویر جیمز سپونر کی ہے۔ 48 سالہ جیمز گلاسکو میں رہتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میری بیوی مجھے کہتی ہے کہ اب تمھارے بالوں نیچے کے بجائے اوپر کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

    ایلا روڈ نائٹ کی عمر 66 برس ہے اور وہ ابرڈین شائر میں رہتی ہے۔ انھیں لگا ان کے بال بڑھ گئے ہیں اور اچھے نہیں لگا تو انھوں نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ ان کا ہیر کٹ کر دیں۔ 43 سالہ شادی شدہ زندگی میں انھوں نے پہلی بار ایسا کہا تھا۔

  19. لندن کا نائٹنگیل ہسپتال سٹینڈ بائی میں رہے گا

    uk

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لندن میں نائٹنگیل ہسپتال میں اگلے کچھ دن بعد کام بند ہو جائے گا لیکن کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اسے سٹینڈ بائی رکھا جائے گا۔

    لندن کے ایکسل سینٹر کو فیلڈ ہسپتال میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ اس کا تین اپریل کو پرنس چارلس نے ویڈیو لنک پر افتتاح کیا تھا۔ اس سے ایک ہفتہ قبل پرنس چارلس کو کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا تھا۔

    بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ ابھی اس فیلڈ ہسپتال میں 20 سے کم مریض ہیں اور جب انھیں ہستپال سے رخصت مل جائے گی تو 4000 بستروں پر مشتمل یہ ہسپتال سٹینڈ بائے رکھا جائے گا۔ اس کا سٹاف اور کچھ آلات دوبارہ سے تعینات کیے جائیں گے۔

    سٹاف کو بریفنگ دیتے ہوئے ہسپتال کے چیف ایگزیکٹیو چارلس نائٹ نے اہلِ لندن کے عزم اور ارادے اور قربانیوں پر ان کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے گھر پر رہنے کے ماہرین کے مشورے پر عمل کیا اور جانیں بچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہسپتال کے ایک وارڈ سے زیادہ گنجائش کو نہیں بڑھانا پڑا تھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ ہسپتال کو سٹینڈ بائے رکھا جائے گا اور جب بھی آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں ضرورت پڑی یہ اپنا کام دوبارہ شروع کر دے گا۔

  20. امریکہ میں نرسوں کے لبادے میں پیکج چوری کرتی خواتین

    امریکی پولیس نے کہا ہے کہ واشنگٹن میں نرسوں کے کپڑوں میں ملبوس خواتین رہائشی مکانات کے باہر ڈلیور ہونے والے پیکج چوری کر رہی ہیں۔

    ان دو خواتین نے میڈیکل سٹاف والے نیلے لباس اور بیجرز بھی لٹکائے ہوئے ہوتے ہیں اور انہیں پولیس نے سی سی ٹی وی فٹیج میں دیکھا ہے۔

    ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ وہ گھروں کے سامنے چھوڑے گئی لوگوں کی ڈلیور ہونے والے پیکجز ’چوری‘ کر رہی ہیں۔

    مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کو شبہ ہے کہ یہ خواتین اصل طبی اراکین نہیں ہیں۔

    فیس بک پر پولیس کے محکمے کی جانب سے جاری بیان میں لکھا گیا ہے کہ ہم یہ جانتے ہیں نرسز لوگوں کو وقت اور زندگی دیتی ہیں ( ان کی جائیداد نہیں لیتی)

    حکام نے دو خواتین کی تصاویر بھی جاری کی ہیں اور عوام سے کہا ہے کہ وہ تحقیقات میں ان کی مدد کریں۔