وائرس کے لیبارٹری سے پھیلنے کے ثبوت دیکھے ہیں: صدر ٹرمپ, امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے اس مفروضے کی تردید کی گئی ہے کہ یہ وائرس انسانوں کا بنایا ہوا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
امریکہ کے خفیہ اداروں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ نہ تو کورونا وائرس انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور نہ ہی اس میں جینیاتی تبدیلیاں کی گئی ہیں تاہم یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ فی الحال اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ یہ وائرس ابتدا میں پھیلا کہاں سے۔
امریکی خفیہ اداروں کی سرپرست ادارے قومی انیٹلیجنس کے سربراہ کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم ابھی اس حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا یہ وائرس کسی جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا یا لیبارٹری کے حادثے سے۔
تاہم کچھ دیر بعد ایک پریس بریفنگ کے دوران ایک صحافی کے سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے خفیہ اداروں کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ تو نہیں دیکھا لیکن جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا انھوں نے کچھ ایسا دیکھا ہے جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ یہ وائرس ووہان میں متعدی امراض پر تحقیق کرنے والی لیبارٹری سے نکلا ہے تو انھوں نے جواب میں دو مرتبہ کہا: ’جی ہاں میں نے دیکھا ہے۔‘











