آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. عالمی سطح پر سب سے زیادہ متاثرین کس ملک میں ہیں؟

    امریکہ میں جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ متاثرین امریکہ میں ہیں جہاں 1103781 افراد اس مرض کا شکار ہیں۔ دنیا بھر کل کیسز کا یہ یقریباً تیسرا حصہ ہے۔

    عالمی سطح پر کورونا سے اب تک 3344099 افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

  2. کورونا وائرس کی شکار گلشن کا بالی وڈ سے کیا رشتہ تھا؟

  3. کورونا وائرس: انڈیا میں مسلمان مریضوں کے ساتھ مبینہ تفریق کیسے روکی جا سکتی ہے؟

    انڈیا کی ریاست گجرات کے بعد دیگر ریاستوں میں بھی ہسپتال اور طبی عملے کی طرف سے مسلمان مریضوں کے ساتھ ان کے مذہب کی بنیاد پر تفریق کے کچھ اور مبینہ واقعات سامنے آئے ہیں۔

    اسی حوالے سے دلی سے ہمارے ساتھی مہتاب عالم کی تحریر۔

  4. بریکنگ, برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر جانے سے پہلے مسافروں کا بخار چیک کرنے پر غور

    برطانیہ میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کو محفوظ بنانے کے لیے زیرِ غور تجاویز میں سے ایک یہ ہے کہ مسافروں کا سفر سے پہلے بخار چیک کیا جائے۔

    محکمہِ ٹرانسپورٹ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جدید ترین سائنس کی رہنمائی میں فیصلے کر رہے ہیں۔

    آئندہ جمعرات کو وزیراعظم نے ملکی معیشت کو واپس اپنے پاؤں پر کھڑے کرنے اور سکولوں کو دوبارہ کھولنے کے حوالے سے لائحہِ عمل کا اعلان کرنا ہے۔

    اس پلان میں لوگوں کی محفوظ طریقے سے آمد و رفت کے حوالے سے تجاویز بھی متوقع ہیں۔

    بخار اور متواتر خشک کھانسی کورونا وائرس کی دو مرکزی علامات ہیں۔

  5. بریکنگ, چین کے خلاف پابندیوں کے امکان کو رد نہیں کر سکتے: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ چین کے خلاف درآمدات پر پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ اس کی وجہ انھوں نے چینی کی جانب سے کورونا وائرس کو محدود رکھنے میں ناکامی قرار دی ہے۔

    صدر ٹرمپ مارچ 28 کے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس سے نکلے ہیں۔ وہ اس اختتامِِِ ہفتہ پر کیمپ ڈیوڈ جا رہے ہیں جو کہ امریکی صدور کے لیے ایک مخصوص ریٹریٹ ہے۔

  6. کورونا وائرس کو سمجھنے کے لیے ’R` نمبر کی اتنی اہمیت کیوں ہے؟

  7. دیکھیے کے لاک ڈّاؤن کے دوران لندن کیسے دکھتا ہے

    لندن کے مشہور سیاحتی مقامات جہاں عام دنوں میں تل دھرنے کی بھی جگہ نہیں ملتی، لاک ڈاؤن کے بعد کیسے لگتے ہیں، جاننے کے لیے دیکھیے ہمارے ساتھی غظنفر حیدر کی یہ ویڈیو۔۔۔

  8. دنیا بھر میں اموات دو لاکھ 38 ہزار سے زیادہ

    دنیا بھر میں کورونا وائرس کی عالمی وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد دو لاکھ 38 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ متاثرین 33 لاکھ سے زیادہ ہیں۔

    اب تک دنیا بھر میں دس لاکھ 53 ہزار افراد اس وائرس سے صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

    دنیا میں سب سے زیادہ متاثرہ ملک امریکہ ہے جہاں کیسز کی مجموعی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

  9. یمن کے صوبہ تعز میں کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق

    یمن کے صوبہ تعز میں بھی کورونا وائرس کے پہلے مریض کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد ملک میں متاثرین کی تعداد سات ہو گئی ہے جبکہ دو اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    خیال رہے کہ یہ یمن کا تیسرا صوبہ ہے جہاں کورونا وائرس کے مریض کی تصدیق ہوئی ہے۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے انھیں شدید تشویش لاحق ہے۔

    اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انھیں ڈر ہے کہ ملک میں وائرس کے ٹیسٹ نہیں کیے جا رہے کیوں یہاں برسوں سے ہونے والی خانہ جنگی نے ملک کے صحت کے نظام کو کمزور کر دیا ہے۔

  10. جرمنی میں یومِ مئی کے اجتماع کے شرکا کی پابندیوں کی کھلی خلاف ورزی

    جرمنی کے دارالحکومت برلن میں یومِ مئی کے اجتماع میں سینکڑوں افردا نے شرکت کی اور 20 سے زائد افراد کے اجتماعات کے حوالے سے لگائی گئی پابندی کی کھلی خلاف ورزی کی۔

    اس سے جرمنی میں سماجی فاصلے کے حوالے سے لگائی جانے والی پابندیوں پر عوام میں موجود بوریت کا بھی اظہار ہوا۔

    جرمنی میں مارچ کے وسط میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سخت پابندیاں لگائی گئی تھیں۔

    بائیں بازو کے ایک گروہ نے یہ اجتماع منعقد کروایا تھا تاکہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف احتجاج کیا جا سکے۔

    انھوں نے شرکا کو یہ ہدایت ضرور کی تھی کہ وہ چہرے پر ماسک پہنیں اور ایک دوسرے سے ایک اعشاریہ پانچ میٹر کا فاصلہ برقرار رکھیں۔

    ایک بینر پر لکھا تھا کہ ’جانیں بچانا جرم نہیں ہے۔‘ یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ہزاروں پناہ گزینوں کو یورپ داخل ہونے دیا جائے۔

  11. کورونا وائرس: آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم کا چند پابندیوں میں نرمی کا اعلان

    آئرلینڈ کے وزیرِ اعظم نے کورونا وائرس کے باعث لگائی جانے والی موجودہ پابندیوں میں نرمی کا اعلان کیا ہے تاکہ آہستہ آہستہ معیشت کا پہیہ بھی چلایا جا سکے۔

    قائم مقام وزیرِ اعظم لیو ورادکر نے کہا کہ 70 برس سے زائد عمر کے افراد اپنے گھروں سے چہل قدمی کے لیے منگل سے نکل سکتے ہیں۔ تاہم وہ پانچ کلومیٹر سے زیادہ دور نہیں جا سکتے۔

    انھوں نے بتایا کہ معیشت کو پانچ مرحلوں میں 18 مئی اور 10 اگست کے درمیان کھولا جائے گا۔ تاہم اس حوالے سے کورونا کے مریضوں کا بھی ساتھ ساتھ جائزہ لیا جائے گا۔

  12. کورونا وائرس کی منتقلی قدرتی ہے: عالمی ادارہ صحت

    عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر کہا گیا ہے کہ کورونا وائرس کا پھیلاؤ قدرتی تھا۔ اس کے برعکس امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے بارہا زور دیا ہے کہ اس کا پھیلاؤ دراصل چین سے ہوا۔

    سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا۔ انھیں شک ہے یہ چین کے شہر ووہان میں جنگلی جانوری کے گوشت کی ایک مارکیٹ سے پھیلا ہے۔

    خیال رہے کہ جمعرات کے روز امریکی صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نے ایسے ثبوت دیکھے ہیں جن سے انھیں یقین ہوتا ہے کہ یہ وائرس ووہان کی لیبارٹری سے پھیلا ہے۔

    عالمی ادارہ کے صحت کے اییمرجنسیز چیف مائیکل رائن سے جب اس حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’ہم نے اس حوالے سے سائنسدانوں کی بھی بارہا رائے لی ہے جنھوں اس وائرس پر تحقیق کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ قدرتی ہے۔‘

  13. انڈیا میں مسلمان مریضوں کے ساتھ مبینہ تفریق کیسے روکی جائے؟

  14. بریکنگ, امریکہ: ایف ڈی اے نے کورونا وائرس کے علاج کے لیے ریمڈیسیور دوا کے استعمال کی منظوری دے دی

    امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ کے مطابق محکمے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ہنگامی بنیادوں پر کورونا وائرس کے علاج کے لیے ریمڈیسیور نامی دوا کے استعمال کی منظور دے دی ہے۔

    ٹرمپ نے کہا کہ یہ دوا بنانے والی جیلیڈ کمپنی کے سربراہ نے اس اقدام کو انتہائی اہم پہلا قدم قرار دیتے ہوئے ریمڈیسیور کی 15 لاکھ خوراکیں عطیہ کرنے حامی بھری ہے۔

    امریکی نائب صدر مائیک پینس کے مطابق سوموار سے اس دوا کو ہسپتالوں میں پہنچایا جائے گا۔

    یہ دوا ابتدا میں ایبولا کے علاج کے لیے تیار کی گئی تھی تاہم تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس کے باعث کورونا وائرس کی علامات کو 15 سے 11 دن تک کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

    تاہم چین میں کی جانے والی ایک تحقیق میں اس کی افادیت پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

  15. مصنوعی ذہانت کورونا وائرس کے علاج کی دریافت کا عمل کیسے تیز کر سکتی ہے؟

    ایسا لگتا ہے کہ کورونا وائرس کی عالمی وبا پر قابو پانے اور اس سے ہونے والی اموات کے سلسلے کو روکنے کے لیے کسی مافوق الفطرت مدد کی ضرورت ہے۔

    شاید آرٹیفیشل انٹیلیجنس (مصنوعی ذہانت) کو کچھ زیادہ ہی بڑھا چڑھا کر بیان جاتا ہے لیکن جب بات طب کی آتی ہے تو اس شعبے میں مصنوعی ذہانت کتنی کارآمد ثابت ہوئی ہے، اس کا مصدقہ ریکارڈ موجود ہے۔

  16. تجزیہ: ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ ایک شاندار کارنامہ لیکن بات اتنی سادہ نہیں, نِک ٹریگل، صحت کے نامہ نگار

    برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ ایک کارنامہ ہے۔ صرف دو دن قبل کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد 55 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔

    یہ اس سخت محنت کا ثبوت ہے جس میں حکومت نے سائنسدانوں، نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کیا اور اس میں ملٹری کی بھی مدد شامل ہے۔

    ٹیسٹگ کے نیٹ ورک کو دیکھیں تو اس میں تین بڑی لیبارٹریاں، 40 سے زیادہ ڈرائیو تھرو سینٹرز، ہوم ٹیسٹنگ سروسز شامل تھیں اور موبائل یونٹ بہت تیزی سے قائم کیے گئے۔

    تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے۔

    حکومت نے اپنے اعداد و شمار میں ہوم ٹیسٹنگ کِٹس شامل کی ہیں جنہیں انفرادی طور پر لوگوں کو بھیجا گیا اور ان میں وہ کِٹس بھی شامل ہیں جنہیں کیئر ہومز اور دیگر جگہوں پر بھیجا گیا۔

    جن میں سے شاید بعض کبھی واپس نہیں آئیں گی۔

    اور یہ سب ملا کر ان ٹیسٹ کی تعداد کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے جو ’کیے گئے ہیں۔‘

  17. کورونا وائرس: فرانس میں مزید 218 افراد ہلاک،اموات کی 24594 ہو گئی

    فرانسیسی حکومت نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ ملک میں کورونا وئرس سے ہونے والی مزید 218 اموات کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 24594 ہو گئی ہے۔

    یہ تعداد گذشتہ روز ہونے والی اموات سے تھوڑی زیادہ ہے تاہم گذشتہ دو ہفتوں سے روزانہ ہونے والی اموات کی تعداد میں آہستہ آہستہ کمی ہوتی جا رہی ہے۔

    یورپ میں اٹلی، برطانیہ اور سپین کے بعد سب سے زیادہ اموات فرانس میں ہوئی ہیں۔

    فرانس 11 مئی سے لاک ڈاؤن کے چند اقدامات میں نرمی بھی کر رہا ہے تاہم سیکنڈری سکولوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں جہرے پر ماسک پہننا لازم ہو گا۔

  18. آئرلینڈ نے پابندیوں میں ایک بار پھر توسیع کر دی

    آئرلینڈ نے غیر ضروری وجوہات کی بنا پر لوگوں کو اپنا گھر چھوڑنے کی موجودہ پابندیوں میں 18 مئی تک توسیع کر دی ہے تاہم منگل سے کچھ پابندیوں میں نرمی کی جائے گی۔

    لوگوں کو ورزش کے لیے اپنے گھر سے پانچ کلومیٹر تک کا فاصلہ طے کرنے کی اجازت ہو گی۔

    آئرش حکومت پابندیوں میں نرمی کے لیے پانچ مراحل پر مشتمل ایک منصوبہ بنا رہی ہے جو کہ ممکنہ طور پر 10 اگست کو اختتام پذیر ہو گا۔

  19. پریمیر لیگ سیزن کو ختم کرنے کے لیے 40 ہزار ٹیسٹ کی ضرورت ہوسکتی ہے

    پریمیئر لیگ فٹ بال کے کلبز کو بتایا گیا ہے کہ یہ سیزن ختم کرنے کے لیے کھلاڑیوں اور عملے کے اندازاً 40 ہزار کورونا وائرس ٹیسٹ کرنے کی ضرورت ہو گی۔

    کلب مالکان کو آج سہ پہر پریمیر لیگ کے شیئر ہولڈرز کی میٹنگ میں ’پروجیکٹ ری سٹارٹ‘ منصوبے پر یہ تازہ ترین معلومات دی گئی ہیں۔

    تاہم فرانس، بیلجیئم اور ہالینڈ کی طرح قبل از وقت سیزن کے خاتمے کے بارے میں کوئی بحث نہیں ہوئی۔

    حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کی پابندیوں پر نظرثانی کے بعد کلبز کا اجلاس اگلے ہفتے دوبارہ ہو گا۔

  20. آئرلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 34 افراد ہلاک

    آئرلینڈ کے محکمہ صحت کے مطابق کورونا وائرس سے مزید 34 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس سے اموات کی تعداد 1265 ہو گئی ہے۔

    آئرلینڈ میں کورونا وائرس کے متاثرہ مریضوں کی تعداد 20833 ہے۔