برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں۔ یہ ایک کارنامہ ہے۔ صرف دو دن قبل کیے جانے والے ٹیسٹوں کی تعداد 55 ہزار سے کچھ زیادہ تھی۔
یہ اس سخت محنت کا ثبوت ہے جس میں حکومت نے سائنسدانوں، نجی سیکٹر کے ساتھ مل کر کام کیا اور اس میں ملٹری کی بھی مدد شامل ہے۔
ٹیسٹگ کے نیٹ ورک کو دیکھیں تو اس میں تین بڑی لیبارٹریاں، 40 سے زیادہ ڈرائیو تھرو سینٹرز، ہوم ٹیسٹنگ سروسز شامل تھیں اور موبائل یونٹ بہت تیزی سے قائم کیے گئے۔
تاہم بات اتنی سادہ نہیں ہے۔
حکومت نے اپنے اعداد و شمار میں ہوم ٹیسٹنگ کِٹس شامل کی ہیں جنہیں انفرادی طور پر لوگوں کو بھیجا گیا اور ان میں وہ کِٹس بھی شامل ہیں جنہیں کیئر ہومز اور دیگر جگہوں پر بھیجا گیا۔
جن میں سے شاید بعض کبھی واپس نہیں آئیں گی۔
اور یہ سب ملا کر ان ٹیسٹ کی تعداد کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے جو ’کیے گئے ہیں۔‘