آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. فرانس: کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد نسبتاً کم، 166 مزید ہلاک

    فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے۔ جمعے کے بعد سے ہسپتالوں اور کیئر سنٹرز میں مزید 166 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    فرانس میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 24760 ہو گئی ہے۔ تاہم جمعے کی 218 ہلاکتوں کے مقابلے میں آج تعداد کم ہے۔

    اب بھی 26000 لوگ کورونا کے باعث ہسپتالوں میں ہیں تاہم دو ہفتوں سے فرانس میں یہ تعداد کم ہو رہی ہے۔

    اس سے پہلے جمعے کو فرانس نے طبی ہنگامی حالت میں مزید دو ماہ کا اضافہ کیا تھا۔ تاہم ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 11 مئی سے نرمی کی جائے گی۔

  2. بلڈ پریشر کی دوا سے لینے سے ’وائرس لگنے کا خطرہ نہیں بڑھتا‘

    تین بڑے مطالعوں سے پتا چلا ہے کہ بلڈ پریشر یا بلند فشار خون کو قابو کرنے کے لیے تجویز کردہ دواؤں سے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے خدشے میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔

    یہ نتائج دنیا بھی میں لاکھوں افراد کے لیے ایک اچھی خبر ہے۔ ایسی افواہیں پھیل رہے تھیں کہ ہائی بلڈ پریشر کی دواؤں نے وائرس سے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

    اس مطالعے کی قیادت کرنے والے نیویارک یونیورسٹی کے گراسمین سکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے ہارمنی رےنولڈ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ کہ 12600 افراد پر کیے گئے مطالعے میں ’ہمیں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ بلڈ پریشر کی دوا اے سی ای لینے سے کوئی فرق پڑا ہو۔‘

    برطانیہ میں طبی ادارے این ایچ نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ حسب معمول بلڈ پریشر کی دوا لیتے رہیں۔

  3. دنیا میں کووڈ-19 کے متاثرین کہاں کہاں ہیں؟ نقشے اور چارٹس کی مدد سے جانیے

    دنیا بھر میں کووڈ-19 نامی کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اور اس سے ہونے والی ہلاکتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

  4. کورونا وائرس: فون کو جراثیم سے پاک کرنے کا صحیح طریقہ

    ہم اپنی روز مرہ زندگی میں موبائل فون کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہیں لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ فون کو جراثیم سے پاک کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟

  5. فرانس آنے والوں کو 14 روز قرنطینہ میں رہنا پڑے گا

    فرانسیسی شہیریوں سمیت فرانس آنے والے تمام مسافروں کو دو ہفتے کے لیے لازمی طور پر قرنطینہ اور آئسولیشن میں رہنا ہو گا۔

    فرانس کے وزیر صحت نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ’فرانسیسی سرزمین پر واپس آنے والے ہر فرد پر قرنطینہ عائد کیا جائے گا۔‘

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق قرنطینہ کے ان نئے قوانین کو 24 جولائی تک ہنگامی اقدامات بڑھانے کے بل میں پیش کیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس سے اب تک فرانس میں 24594 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں 11 مئی سے نرمی کے چند اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

  6. کورونا: امریکہ نے ’ریمڈیسیور‘ نامی دوا کے استعمال کی اجازت دے دی

  7. برطانیہ میں سکول ’مرحلہ وار‘ کھولے جا سکتے ہیں

    برطانیہ کے کمیونٹیز سیکرٹری رابرٹ جینرک نے کہا ہے کہ سکولوں میں طلبا کی واپسی احتیاط سے کی جائے گی اور شاید یہ عمل ’مرحلہ وار‘ کیا جائے لیکن ایسا موزوں وقت پر ہی ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ انھیں معلوم ہے کہ گھر سے پڑھائی مشکل ہو سکتی ہے۔

    انھوں نے کہا ’میں ان بچوں پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کر رہا ہوں جن کو ہم جانتے ہیں کہ وہ کمزور ہیں۔۔۔ اور گھر پر ہیں اور کم دکھائی دیتے ہیں۔

  8. بیلجیئم میں اتنے زیادہ لوگ وبا سے کیوں ہلاک ہو رہے ہیں؟

  9. کورونا اور محبت: سماجی دوری کے زمانے میں محبتیں کیسے بڑھ رہی ہیں؟

    کورونا وائرس کی وجہ سے جہاں زندگی کے دوسرے معاملات اب الیکٹرانک روپ اختیار کر رہے ہیں، تو وہیں آن لائن ڈیٹنگ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

  10. برطانیہ میں دفاتر ’کئی ماہ‘ تک بند رہ سکتے ہیں

    فائیننشل ٹائمز اخبار کے مطابق برطانیہ میں گھر سے کام کرنے ہزاروں افراد کی دفاتر میں جلد واپسی کا ابھی کوئی امکان نہیں ہے۔

    اخبار کے مطابق حکومت چند روز میں لاک ڈاؤن میں نرمی کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے دفاتر ’کئی ماہ‘ تک بند رہ سکتے ہیں تاکہ نقل و حمل کے رش سے بچا جا سکے۔

  11. بریکنگ, امریکہ میں ہلاکتیں 65 ہزار سے بڑھ گئیں

    امریکہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں 65 ہزار سے بڑھ گئی ہیں جبکہ 11 لاکھ لوگ اس سے متاثر ہیں۔

    امریکی یونیورسٹی جان ہاپکنز کے اعداوشمار کے مطابق اب تک امریکہ میں کورونا وائرس سے 65244 افراد ہلاک جبکہ 1104345 متاثر ہو چکے ہیں۔

  12. ایران کے دارالحکومت تہران میں شہریوں کے لیے ’ڈرائیو ان‘ سینما

    ایران میں اسلامی انقلاب کے تقریباً 40 برس بعد پہلی بار دارالحکومت تہران میں ایک ’ڈرائیو ان‘ سینما قائم کیا گیا ہے، جس میں لوگ اپنی گاڑیوں میں بیٹھ کر فلم دیکھ سکتے ہیں۔

    یہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب عام سنیما گھر کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے بند ہیں۔

    جمعے کے روز تقریباً 160 گاڑیاں ڈائریکٹر ابراھیم ہتامیکیا کی فلم دیکھنے کے لیے میلاد ٹاور میں جمع ہوئیں۔ گاڑیوں کو داخلے سے قبل جراثیم سے پاک کیا گیا۔

    واضح رہے کہ ایران نے چھوٹی دکانیں دوبارہ کھول دی ہیں تاہم بڑے سٹور، سینما گھر اور تھیٹر ابھی بھی بند ہیں۔

    ایران میں کورونا وائرس سے اب تک 6100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں متاثرین کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔

  13. برطانیہ میں جمعے کے روز ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے گئے

    برطانیہ کے کمیونٹیز سیکرٹری رابرٹ جینرک نے بتایا ہے کہ جمعے کے روز ملک میں کورونا وائرس کے 105937 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ اب تک برطانیہ میں کورونا کے 1129907 ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں جن میں سے 182260 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا۔

    انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مزید 621 اموات کے بعد کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اس وقت 28131 ہے۔

  14. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے محفوظ رہا جائے؟

    محققین کے مطابق دنیا میں کورونا سے متاثر ہونے والے 80 فیصد افراد میں اس کی معمولی علامات ہی دکھائی دی ہیں اور ایسے لوگ جن میں یہ علامات شدت سے پائی گئیں اقلیت میں ہیں۔

  15. لندن: ایک دوسرے کو ’گلے لگا کر‘ لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج

    لندن میں مظاہرین کے ایک چھوٹے سے گروپ نے ایک دوسرے کو گلے لگا کر لاک ڈاؤن کے اقدامات کے خلاف احتجاج کیا ہے۔

    تقریباً 20 لوگوں نے ہفتے کی دوپہر پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہو کر احتجاج کیا۔ مظاہرین میں سے کچھ نے اپنے ہاتھوں میں ’میرا جسم، میری مرضی‘ کے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے۔

  16. اگر انڈیا میں صورتحال قابو میں ہے تو لاک ڈاؤن میں توسیع کیوں؟

  17. بریکنگ, روس: ایک دن میں کورونا کے 9623 نئے مریض، متاثرین کی تعداد 124054 ہو گئی

    روس میں ہفتے کے روز ایک دن میں کورونا وائرس کے ریکارڈ 9623 نئے مریض سامنے آئے ہیں جس سے ملک میں متاثرین کی تعداد 124054 ہو گئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں57 افراد کی ہلاکت سے ملک میں اموات کی تعداد 1222 ہو گئی ہے۔

  18. سپین: پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک پہننا لازمی

    سپین میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں تاہم سوموار سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والوں کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

    سپین کے وزیراعظم کے مطابق سوموار کے روز حکومت ملک بھر میں 60 لاکھ ماسک تقسیم کرے گی جبکہ مزید 70 لاکھ ماسک مقامی حکام کو بھیجے جائیں گے۔

    سپین کے وزیراعظم کے مطابق ان کی حکومت خطے میں وبائی مرض کے معاشرتی اور معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے 16 ارب یورو (14.2 ارب ڈالر) کے تعمیر نو فنڈ کی منظوری بھی دے گی۔

  19. بچوں کو کورونا وائرس کے متعلق بتانا ہے، ڈرانا نہیں

    کورونا وائرس یا کووڈ 19 کی عالمی تباہی کی وبا دنیا کے مختلف ممالک میں تیزی سے ایک انسان سے دوسرے انسان تک پھیل رہی ہے اور چین سے لے کر امریکہ تک متاثرہ افراد کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    ماہرین کہتے ہیں کہ فی الوقت اسے روکنے کا اگر کوئی طریقہ ہے تو وہ یہ ہے خود کو روکنا، مطلب اپنے روز مرہ کی عادات میں تبدیلی لانا۔ جتنا کم گھر سے نکلیں اتنا ہی بہتر ہے۔ بس یہ سمجھ لیں کہ کم ملنے سے محبت کم نہیں ہو رہی بلکہ اپنا اور دوسروں کا بھلا ہو رہا ہے۔

    پر یہاں سب سے بڑا مسئلہ والدین، خصوصی طور پر کام کرنے والے والدین کا ہے کہ وہ کس طرح بچوں کو سمجھائیں کہ یہ وائرس کیا ہے، کتنا خطرناک ہے اور اس سے کیسے بچنا چاہیے۔

  20. بریکنگ, انگلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 370 اموات

    انگلینڈ میں کورونا وائرس سے مزید 370 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ہسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد 20853 ہو گئی ہے۔

    این ایچ ایس انگیلنڈ کے اعداوشمار کے مطابق ایک ہے دن میں ہسپتال میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات 8 اپریل کو ہوئی جب 864 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہوئے۔

    برطانیہ کے اعداد و شمار میں اب کورونا وائرس سے ہونے والی ان اموات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے جو ہسپتالوں سے باہر ہوئیں۔