شماریات کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے روزانہ کے رپورٹ کیے ہوئے نمبروں
کو استعمال نہ کیا جائے۔ وہ ایسے تجزیے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں سبھی اموات کو دیکھا
جائے لیکن ملک میں اوسط عمر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔
روزانہ کے نمبروں
میں کیا مسئلہ ہے؟
اس کی تعریف مختلف
ملکوں میں مختلف ہے۔ کچھ میں صرف ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کو شامل کیا جاتا ہے تو
کچھ میں کیئر ہومز میں ہونے والی اموات کو بھی۔
مثال کے طور پربیلجیئم ان اموات کو شامل کرتا ہے جہاں کووڈ۔19 کا شبہ ہو، جبکہ برطانیہ صرف ان لوگوں کو شامل کرتا ہے جن میں کووڈ۔19
مثبت آیا ہو۔
جب ہر ملک مختلف طریقے سے چیزوں کی گنتی کرتا ہے تو شماریات کے ماہرین اس کے لیے آسان طریقہ استمعال کرتے ہیں۔
اگر آپ وجہ کو
بھول جائیں اور یہ دیکھیں کہ کسی ملک میں کل کتنی اموات ہوئی ہیں تو آپ کو وہ اموات
ملیں گی جن کی لیب ٹیسٹنگ نہیں ہوئی، وہ اموات جن کی غلط تشخیص ہوئی اور وہ اموات جو
وائرس کی وجہ سے ہونے والے ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوئیں۔ یقیناً آپ اس دوران دل کے دوروں اور
کار کے حادثات میں ہونے والی اموات کو بھی شامل کریں گے۔
مارچ کے آخر سے اموات تیزی سے بڑھ گئیں۔ یہ گذشتہ ہفتوں اور سال کے اس مہینے میں عموماً ہونے والی اموات
سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان اضافی اموات کو زیادہ ترعالمی وبا سے منسلک کیا جا رہا ہے۔
اور یہ ’اضافی‘ یا
زیادہ اموات ہی تعداد میں وہ فرق ہے جو ہم عموماً دیکھتے اورجو ہم اس وقت دیکھ
رہے ہیں۔ شماریات دان اس فرق کو لے کر کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا اندازہ لگاتے
ہیں۔
آپ کو اس بات کو
مدِ نظر رکھنا ہے کہ آبادی کی عمر کیا ہے، کیونکہ کورونا وائرس عمر رسیدہ لوگوں کے
لیے زیادہ خطرناک ہے۔ سو آپ کو اٹلی میں زیادہ ’اضافی اموات‘ ملیں گی جہاں اوسط عمر
47 سال ہے، بہ نسبت آئر لینڈ کے جہاں یہ 37 سال ہے۔
ایک مرتبہ آپ نے
یہ حساب کتاب لگا لیا تو آپ کو ایک واضح تصویر ملے گی کہ مختلف ممالک میں کیا ہو رہا
ہے۔