آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. نیویارک کے سکول اس تعلیمی سال کے لیے بند رہیں گے

    نیو یارک کے گورنر اینڈریو کوومو نے کہا ہے کہ ریاست کے تمام سکول باقی تعلیمی سال کے لیے بند رہیں گے۔

    اپنی روزانہ کی بریفنگ میں انھوں نے کہا کہ حکام کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ یہ جان سکیں کہ سکولوں میں، جہاں ہر روز 42 لاکھ طالب علم پڑھتے ہیں، معاشرتی دوری کی پالیسیاں کس طرح نافذ کی جائیں۔

    انھوں نے رپورٹرز سے پوچھا: ’آپ ایک دس برس کے بچے کو سماجی دوری کے بارے میں کیسے بتائیں گے؟ بچے، بچے ہوتے ہیں۔‘

    اینڈریو کوومو نے مزید کہا کہ موسم گرما کے سکول پروگرام کے بارے میں اس مہینے کے اختتام سے قبل فیصلہ کیا جائے گا۔

    جمعرات کے روز نیویارک میں 289 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں جبکہ بدھ کے روز یہ تعداد 306 تھی۔

    اینڈریو کوومو نے یہ بھی بتایا کہ لاک ڈاؤن کے احکامات کے بعد مارچ میں گھریلو تشدد 15 فیصد جبکہ اپریل میں 30 فیصد رہا۔

  2. کیا کورونا وائرس کی بے چینی آپ کے خوابوں میں بھی خلل ڈال رہی ہے؟

    ابھی لاک ڈاؤن کو دو ہفتے ہوئے تھے کہ فلپائن میں ایک 19 سالہ نوجوان لڑکی کو عجیب و غریب خواب آنا شروع ہو گئے۔

    ایلیشا انجیلیز کہتی ہیں کہ 'میں آدھی رات کو ایک ہسپتال میں تھی اور ایک ڈاکٹر میرے ہاتھ کا آپریشن کر رہا تھا۔‘

    'کچھ لمحوں بعد میں اس عمارت سے ایک ہاتھ کے ساتھ ہی نکل گئی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر میرا کٹا ہاتھ پکڑے اس سے کھیلتا ہوا جا رہا تھا۔ اس نے اس کو کاٹنا بھی شروع کر دیا اور میں اتنی زیادہ کھوئی ہوئی محسوس کرنے لگی۔‘

    اگلی چند راتوں میں وہ مزید چیزیں کھونے کے خواب دیکھتی رہیں۔ 'وہ یا پیسے یا میرا لیپ ٹاپ ہوتا تھا۔‘

    لیکن ایلیشا اکیلی نہیں ہیں۔

    دنیا کورونا وائرس کے بحران سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے اور اسی طرح خواب بھی ہوئے ہیں۔

  3. کیا وائرس ہم سب پر یکساں طور پر اثر انداز ہوتا ہے؟, اینتھونی ریوبن، شماریات کے سربراہ

    برطانوی سیکرٹری صحت میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ کورونا وائرس ہم سب پر ’غیر امتیازی طور پر اثر انداز ہوتا ہے۔‘

    لیکن آج صبح دفتر برائے قومی شماریات سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق ایسا نہیں ہے۔

    انگلینڈ کے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں میں کووڈ 19 سے ہونے والی اموات کی شرح ہر ایک لاکھ افراد میں 55.1 اموات ہے جو کم پسیماندہ علاقوں میں ہونے والی اموات سے دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

    جوزف رونٹری فاؤنڈیشن کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ پسماندہ علاقوں کے لوگوں کے پاس ایسی ملازمتیں کم ہیں جن میں وہ گھر سے کام کر سکتے ہیں، جس سے ان میں کورونا وائرس کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ ہو جاتا ہے۔

    یونیورسٹی آف برسٹل کے پروفیسر ڈیو گورڈن کے مطابق پسماندہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو صحت کے مسائل زیادہ ہو سکتے ہیں جن کی وجہ سے ان کے کورونا وائرس سے ہلاک ہونے کا خدشہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

    اس کے علاوہ غریب علاقے زیادہ گنجان آباد ہوتے ہیں اور ان علاقوں کے رہائشی پبلک ٹرانسپورٹ کا بھی زیادہ استعمال کرتے ہیں جس سے ان کے اس انفیکشن سے متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

  4. ترکی میں مزید 84 اموات

    خبر رساں ادارے روئٹرز نے ترکی کی وزارتِ صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اعداد و شمار ترکی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں کووڈ۔19 سے مزید 84 افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور اس طرح اب ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد 3258 ہو گئی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ 2188 نئے کیسز کی بھی شناخت ہوئی ہے۔

    ڈیٹا کے مطابق کیسز کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ 22 ہزار 392 تک پہنچ گئی ہے جو کہ مغربی یورپ اور امریکہ کے باہر سب سے زیادہ تعداد ہے۔

    ابھی تک اس بیماری میں مبتلا 53 ہزار 808 افراد صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں 41 ہزار 431 ٹیسٹ کیے گئے، اس طرح جب سے یہ وبا شروع ہوئی ہے اس وقت سے لے کر اب تک ترکی میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کے ٹیسٹ ہو چکے ہیں۔

  5. ہمیں ٹیسٹنگ اور ٹریسنگ کی ضرورت کیوں ہے؟, جیمز گیلگر، نمائندہ سائنس اور ہیلتھ

    جانچ اور روابط کا سراغ لگانا ہی لاک ڈاؤن سے باہر نکلنے کا راستہ ہے۔

    یہ آپ کو اہدافی نقطہ نظر کے ساتھ ہر ایک پر عائد پابندیوں کو تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

    یہ وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے، لاک ڈاؤن سے پہلے اس سے متاثرہ ایک شخص مزید تین افراد میں یہ وائرس منتقل کر رہا تھا۔

    جانچ اور رابطے میں آنے والے افراد کو قرنطینہ میں رکھنے سے لاک ڈاؤن کے اقدامات میں کمی کی جا سکتی ہے۔

  6. برطانوی سیکرٹری برائے صحت: ’ہمارا مقصد آزادی ہونا چاہیے‘

    برطانوی سیکرٹری برائے صحت میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ ٹیسٹنگ حکومتی حکمت عملی کا صرف پہلا حصہ ہے اور اب ٹریک اینڈ ٹریسنگ کا عمل شروع کیا جائے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس بات کا پتا لگانا کہ کون اس وائرس کا شکار ہے اور وہ کس کس سے رابطے میں آئے ہیں ’انفیکشن کی شرح کو کم کرے گا اور اس میں کمی زیادہ مؤثر ثابت ہو گی۔‘

    سیکرٹری صحت نے کہا: ’ہمارا مقصد آزادی ہونا چاہیے۔‘

    ’ہم اس وقت تک پابندیاں نہیں ختم کریں گے جب تک ایسا کرنا محفوظ نہیں ہو جاتا لیکن ہمیں معاشرتی آزادی اور معاشی آزادی کا خیال ہے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ٹیسٹنگ، ٹریکنگ اور ٹریسنگ سے لاک ڈاؤن کے اقدامات کو جانچنے میں مدد ملے گی کہ کہاں ان کی ’زیادہ ضرورت‘ ہے۔

  7. میٹ ہینکاک: حکومت نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے اور یہ ایک شاندار کامیابی ہے

    برطانیہ کے وزیرِ صحت میٹ ہینکاک نے کہا ہے کہ برطانیہ نے اپریل کے آخر میں ایک لاکھ ٹسیٹ یومیہ کا ٹارگٹ مکمل کر لیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے اور یہ ایک شاندار کامیابی ہے۔

    انھوں نے تصدیق کی کہ 24 گھنٹوں میں برطانیہ میں 1 لاکھ 22 ہزار 347 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ حکومت اب حقیقی طور پر آگے بڑھ رہی ہے۔

    انھوں نے یوڈل سمیت سب کا شکریہ ادا کیا جس نے بقول ان کے ’ہمیں اس ہفتے ٹیسٹ ڈلیور کر کے مصیبت سے نکالا۔‘

    ہینکاک نے کہا کہ سب نے مشترکہ مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مل کر تحمل اور عزم سے کام کیا۔ ’جب چیزیں غلط ہو گئی تھیں، جو ہر دن ہو رہی تھیں، تو یقین مانیے، ہم نے یہ نہیں پوچھا کہ اس کا ذمہ دار کسی کو ٹھہرایا جائے بلکہ یہ دیکھا کہ اس کو ٹھیک کس طرح کیا جائے۔‘

  8. بریکنگ, برطانیہ نے ایک لاکھ ٹیسٹوں کا ہدف حاصل کر لیا

    دوسری جانب برطانیہ نے اپریل کے آخری روز کورونا وائرس کے ایک لاکھ 22 ہزار ٹیسٹ کر کے ایک دن میں ایک لاکھ ٹیسٹ کرنے کا اپنا ہدف بھی پورا کر لیا ہے۔

  9. بریکنگ, کورونا وائرس: برطانیہ میں ہلاکتوں کی تعداد 27 ہزار سے زیادہ

    برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہونے والی مزید 739 اموات کے بعد ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 27510 ہو گئی ہے۔

    ان میں ہسپتالوں اور کیئر ہومز میں ہونے والی اموات شامل ہیں۔

  10. مختلف ممالک میں ہونے والی اموات کے موازنے کا بہترین طریقہ

    شماریات کے ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ کورونا وائرس کے حوالے سے روزانہ کے رپورٹ کیے ہوئے نمبروں کو استعمال نہ کیا جائے۔ وہ ایسے تجزیے کو ترجیح دیتے ہیں جس میں سبھی اموات کو دیکھا جائے لیکن ملک میں اوسط عمر کو مدِ نظر رکھتے ہوئے۔

    روزانہ کے نمبروں میں کیا مسئلہ ہے؟

    اس کی تعریف مختلف ملکوں میں مختلف ہے۔ کچھ میں صرف ہسپتالوں میں ہونے والی اموات کو شامل کیا جاتا ہے تو کچھ میں کیئر ہومز میں ہونے والی اموات کو بھی۔

    مثال کے طور پربیلجیئم ان اموات کو شامل کرتا ہے جہاں کووڈ۔19 کا شبہ ہو، جبکہ برطانیہ صرف ان لوگوں کو شامل کرتا ہے جن میں کووڈ۔19 مثبت آیا ہو۔

    جب ہر ملک مختلف طریقے سے چیزوں کی گنتی کرتا ہے تو شماریات کے ماہرین اس کے لیے آسان طریقہ استمعال کرتے ہیں۔

    ’اضافی اموات‘ کی گنتی

    اگر آپ وجہ کو بھول جائیں اور یہ دیکھیں کہ کسی ملک میں کل کتنی اموات ہوئی ہیں تو آپ کو وہ اموات ملیں گی جن کی لیب ٹیسٹنگ نہیں ہوئی، وہ اموات جن کی غلط تشخیص ہوئی اور وہ اموات جو وائرس کی وجہ سے ہونے والے ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہوئیں۔ یقیناً آپ اس دوران دل کے دوروں اور کار کے حادثات میں ہونے والی اموات کو بھی شامل کریں گے۔

    مارچ کے آخر سے اموات تیزی سے بڑھ گئیں۔ یہ گذشتہ ہفتوں اور سال کے اس مہینے میں عموماً ہونے والی اموات سے کہیں زیادہ ہیں۔ ان اضافی اموات کو زیادہ ترعالمی وبا سے منسلک کیا جا رہا ہے۔

    اور یہ ’اضافی‘ یا زیادہ اموات ہی تعداد میں وہ فرق ہے جو ہم عموماً دیکھتے اورجو ہم اس وقت دیکھ رہے ہیں۔ شماریات دان اس فرق کو لے کر کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کا اندازہ لگاتے ہیں۔

    عمر کو بھی دیکھیں

    آپ کو اس بات کو مدِ نظر رکھنا ہے کہ آبادی کی عمر کیا ہے، کیونکہ کورونا وائرس عمر رسیدہ لوگوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے۔ سو آپ کو اٹلی میں زیادہ ’اضافی اموات‘ ملیں گی جہاں اوسط عمر 47 سال ہے، بہ نسبت آئر لینڈ کے جہاں یہ 37 سال ہے۔

    ایک مرتبہ آپ نے یہ حساب کتاب لگا لیا تو آپ کو ایک واضح تصویر ملے گی کہ مختلف ممالک میں کیا ہو رہا ہے۔

  11. یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ووہان لیب سے روابط کی تحقیقات

    امریکی وفاقی تفتیش کاروں نے یونیورسٹی آف ٹیکساس سے کہا ہے کہ وہ ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرولوجی کے ساتھ اپنے تعلق کی دستاویزات فراہم کریں، جس کے بارے میں امریکی عہدیدار عالمی سطح پر کورونا وائرس پھیلنے کے ممکنہ ذریعہ کے طور پر تفتیش کر رہے ہیں۔

    امریکی محکمہ تعلیم کی طرف سے یونیورسٹی کو بھیجے گئے ایک خط میں دونوں اداروں کے مابین ہونے والے معاہدوں یا تحائف کی دستاویزات کی درخواست کی گئی ہے۔

    امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کے مطابق یہ بات وسیع تر تحقیقات کے طور پر سامنے آئی ہے کہ امریکی یونیورسٹیوں کو ان کے پیسے کیسے ملتے ہیں۔

    جمعرات کو امریکی قومی انٹلیجنس ڈائریکٹر کے دفتر نے کہا کہ وہ چینی لیب تھیوری کی تحقیقات کر رہے ہیں لیکن وہ اس بارے میں یقین رکھتے ہیں کہ کووڈ 19 ’انسان کا بنایا ہوا یا جینیاتی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔‘

    لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انھوں نے یہ ثبوت دیکھا ہے کہ ووہان کا انسٹیٹیوٹ آف ویرولوجی اس وبا کا سبب تھا، جس کے بارے میں چین انکار کرتا ہے۔

  12. انگلینڈ: ہسپتالوں میں مزید 352 اموات، کل اموات 20483

    انگلینڈ میں مزید 352 اموات کے بعد ہسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد 20483 ہو گئی ہے۔

    مرنے والے ان 352 افراد کی عمریں 30 سے 103 برس کے درمیان تھیں اور ان میں سے 18 افراد (عمر 43 سے 98) کو صحت کا کوئی بنیادی مسئلہ بھی نہیں تھا۔

    واضح رہے کہ یہ اعدادوشمار برطانیہ کے محکمہ صحت اور سوشل کیئر کے اعداوشمار سے الگ ہیں۔

  13. سعودی عرب: 24 گھنٹوں میں 1344 نئے کیسز

    سعودی عرب کی وزارت صحت کے مطابق ملک میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 1344 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جس کے بعد ملک میں مصدقہ مریضوں کی تعداد 24 ہزار 97 ہوگئی ہے۔

    گلف نیوز نے وزارت کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملک میں 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں اور ملک میں اموات کی کل تعداد 169 ہوگئی ہے۔

    نئے کیسز میں سے 282 ریاض، 237 مدینہ، 207 مکہ، 171 جُبیل، 124 جدہ اور 114 دمام میں رپورٹ کیے گئے ہیں۔

  14. کورونا وائرس: ہالینڈ میں مزید 98 اموات، متاثرین کی تعداد 40 ہزار کے قریب

    ہالینڈ میں کورونا وائرس کے 475 نئے مریض سامنے آنے کے بعد متاثرین کی تعداد 39791 ہو گئی ہے جبکہ جمعے کے روز مزید 98 اموات بھی ریکارڈ کی گئی ہیں۔

    ہالینڈ کے صحت عامہ کے ادارے کے مطابق ملک میں اب تک کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 4893 ہے۔

  15. کورونا وائرس: کیا اس بات کا کوئی ثبوت ہے کہ کووڈ-19 وائرس لیبارٹری سے خارج ہوا؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سفارتی مراسلے کے مطابق چین میں امریکی سفارتخانے کے اہلکار چین کے شہر ووہان میں ایک لیب میں اختیار کی جانے والی بائیو سکیورٹی سے متعلق پریشان تھے۔

    یہ لیبارٹری اس شہر میں واقع ہے جہاں سب سے پہلے کورونا وائرس کی وبا پھوٹی تھی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اب ایسی غیر مصدقہ اطلاعات کا جائزہ لے رہی ہے کہ یہ وائرس ایک لیبارٹری سے نکل کر دنیا میں پھیلا۔

  16. میکڈونلڈز کا برطانیہ میں اپنے ریستوران کھولنے کا اعلان

    فاسٹ فوڈ چین میکڈونلڈز نے کہا ہے کہ وہ 13 مئی سے برطانیہ میں اپنے کچھ ریستوران ڈیلیوری کے لیے دوبارہ کھول رہا ہے۔

    میکڈونلڈز نے کہا ہے کہ وہ اپنے 15 ریستوران صرف ڈیلیوری کے لیے کھولے گا تاہم مقامات کا اعلان آئندہ ہفتے کیا جائے گا۔

    اسی ہفتے کے ایف سی نے بھی کہا تھا کہ وہ اپنے 20 ریستوران دوبارہ کھول چکا ہے جبکہ آئندہ ہفتے وہ مزید 80 ریستوران کھولنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    گذشتہ ہفتے برگر کنگ اور نینڈوز نے بھی کچھ مقامات پر اپنے ریستوران ڈیلیوری اور ٹیک اوے کے لیے کھول دیے ہیں۔

  17. بریکنگ, انڈیا: لاک ڈاؤن میں مزید دو ہفتوں کی توسیع

    انڈیا نے ملک میں جاری لاک ڈاؤن میں چار مئی سے مزید دو ہفتوں کی توسیع کر دی ہے۔

    انڈیا کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جس نے کورونا کی وبا کے پیش نظر سخت سفری پابندیاں عائد کیں۔

    25 مارچ کوشروع ہونے والے اس لاک ڈاؤن کے بعد ملک بھر میں ٹرینوں کی آمدورفت پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

    انڈیا میں کورونا وائرس سے اب تک 1100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

  18. ایک دن آئے گا۔۔۔

    ایک دن آئے گا جب ہم آپ کو خبر دیں گے کہ آج کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے نہیں آئے۔۔۔ لیکن تب تک ہم یہیں ہیں۔ آپ کے ساتھ ، ہر قدم پر آپ کو ہر خبر سے باخبر رکھنے کے لیے۔

  19. اقوام متحدہ: لاکھوں بچوں کے ویکسین سے محروم ہونے کا خطرہ

    اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے ترسیل کے نظام میں تعطل کے باعث لاکھوں بچے زندگی بچانے والی ویکسینز سے محروم ہو سکتے ہیں۔

    اس وبا نے ہوا بازی کی صنعت پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس سے تجارتی اور چارٹر پروازوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔

    اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ درجنوں ممالک میں اہم ویکسین ختم ہونے کا خطرہ ہے۔

  20. کیا آپ صحت یابی کے بعد دوبارہ کووڈ-19 کا شکار ہو سکتے ہیں؟

    کیا صحت یاب ہونے کے بعد کورونا وائرس آپ کو دوبارہ نشانہ بنا سکتا ہے؟ کچھ مریض دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بیمار کیوں ہیں؟ کیا یہ مرض ہر سردی میں واپس آئے گا؟ کیا ویکسین کارگر ثابت ہو گی؟ کیا امیونٹی پاسپورٹ کی مدد سے ہم میں سے کچھ لوگ کام پر واپس جا سکتے ہیں؟ اس وائرس سے نمٹنے کے لیے کن طویل المدتی اقدامات کی ضرورت ہے؟

    دنیا میں کووڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد جہاں روز بروز بڑھ رہی ہے وہیں یہ سوالات بھی تواتر سے پوچھے جانے لگے ہیں۔