ریمڈیسیور نامی دوا کے کووڈ19 کے علاج میں تازہ ترین کلینکل ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ دوا ابتدائی طور پر ایبولا کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی۔
امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈی) کی تحقیق کے مطابق اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس کی علامات 15 دن کے بجائے 11 دن تک محدود ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق میں 1063 افراد نے دنیا بھر کے ہسپتالوں میں شرکت کی۔
این آئی اے آئی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ریمڈیسیور کا ”واضح مثبت اثر ہے۔‘‘
تاہم ریمڈیسیورممکنہ طور پر صحت یابی میں مددگار ہو سکتی ہے یا انتہائی نگہداشت والے افراد کی مدد کر سکتی ہے، اس سے کوئی واضح اشارہ یہ نہیں ملتا کہ یہ اموات کو روک سکتی ہے۔
یاد رہے کہ تقریباً دس روز قبل عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے حادثاتی طور پر شائع کر دی جانے والی کچھ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا کا چین میں کیا گیا تجربہ ناکام رہا ہے۔
دستاویز میں لکھا ہوا تھا کہ اس دوا سے نہ تو مریضوں کی حالت میں کوئی بہتری آئی اور نہ ہی اس کے استعمال سے مریض کے خون میں اس وائرس کی مقدار کم ہوئی ہے۔
ادھر اس دوا کو تیار کرنے والی گلیڈ سائنسز نامی امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دستاویز نے اس تجربے کو درست انداز میں پیش نہیں کیا ہے۔