آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. بورس جانسن اور ان کی منگیتر کا اپنے بچے کے نام سے ڈاکٹروں کو خراج تحسین

    بورس جانسن اور ان کی منگیتر نے اپنے بیٹے کو ولفرڈ لاری نکولوس جانسن نام دیا ہے۔

    بورس جانسن کی منگیتر کیری سیمنڈز نے انسٹاگرام پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ یہ نام ان کے دادا اور ان ڈاکٹروں کو خراج تحسین ہے، جنھوں نے وزیراعظم کی اس وقت دیکھ بھال کی جب انھیں کورونا وائرس تھا۔

    ’نکولس‘ سے مراد ڈاکٹر نک پرائس اور ڈاکٹر نک ہارٹ ہیں، جنھوں نے برطانوی وزیراعظم کا علاج کیا تھا۔

  2. بریکنگ, کورونا وائرس: فرانس میں ہنگامی اقدامات میں 24 جولائی تک توسیع کی تجویز

    فرانسیسی حکومت نے ملک میں ہنگامی اقدامات کو 24 جولائی تک بڑھانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

    فرانس کے وزیر صحت نے کہا ہے کہ یہ تجویز سوموار کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائے گی۔

    انھوں نے کہا کہ 24 مارچ سے شروع ہونے والی ہنگامی حالت کو ختم کرنا ’وقت سے پہلے‘ ہو گا اور اس سے کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کا خطرہ ہے۔

    واضح رہے کہ کورونا وائرس سے اب تک فرانس میں 24628 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں اس وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 167000 ہے۔

  3. آسٹریا: لاک ڈاؤن میں نرمی، شاپنگ مالز کھول دیے گئے

    ہفتے کے روز آسٹریا میں شاپنگ مالز، حجام کی دکانیں اور 400 مربع میٹر سے زیادہ رقبہ رکھنے والی دکانوں کو دوبارہ کھولنے کی اجازت دے دی گئی۔

    بجلی اور کھیلوں کا سامان رکھنے والی دکانوں کے ساتھ ساتھ فرنیچر اور فیشن برانڈز کی دکانیں بھی دوبارہ کھول دی گئی ہیں۔

  4. کورونا وائرس: پابندیوں میں نرمی کے بعد چین میں سیاحوں کا رش

    چین کے زیادہ آبادی والے شہروں میں یکم مئی سے شروع ہونے والے ویک اینڈ پر سیاحوں کا رش دیکھا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ملک میں لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کے بعد کئی سیاحتی مقامات کو کھول دیا گیا ہے۔

    چین کی وزارت سیاحت و ثقافت کے مطابق یکم مئی کو ملک میں دو کروڑ تین لاکھ سے زیادہ مقامی سیاحوں کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔

  5. کورونا وائرس: وائٹ ہاؤس نے مشیر صحت کو گواہی دینے سے روک دیا

    وائٹ ہاؤس نے سینئر مشیر صحت ڈاکٹر اینتھونی فوسی کو اگلے ہفتے کانگریس کی ایک کمیٹی میں گواہی دینے سے روک دیا ہے، جو وبائی مرض کے بارے میں ٹرمپ انتظامیہ کے ردعمل کا جائزہ لے رہے ہیں۔

    ڈیموکریٹک پارٹی کی اکثریت والے ایوان نمائندگان کی ایک ذیلی کمیٹی نے 6 مئی کو ڈاکٹر اینتھونی فوسی کو گواہی دینے کے لیے طلب کر رکھا ہے۔

    ڈیموکریٹک پارٹی نے اس وبا پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر شدید تنقید کی ہے، جس سے 65 ہزار سے زیادہ امریکی ہلاک شہری ہو گئے ہیں۔

    وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے ردعمل میں ملوث افراد کے لیے گواہی دینا ’نقصان دہ‘ ہو سکتا ہے۔

    تاہم ترجمان نے مزید کہا کہ ہم مناسب وقت پر گواہی پیش کرنے کے لیے کانگریس کے ساتھ مل کر کام کرنے کے پابند ہیں۔

  6. کورونا وائرس: جے کے رولنگ کا دس لاکھ پاؤنڈ عطیہ کرنے کا اعلان

    یری پوٹر سیریز ناول کی مصنفہ جے کے رولنگ کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے دو فلاحی اداروں میں دس لاکھ پاؤنڈ رقم عطیہ دیں گی۔

    جے کے رولنگ نے کہا ہے کہ یہ رقم دو فلاحی اداروں ’کرائسس‘ جو بے گھر افراد کی مدد کرتا ہے اور ’ریفیوج‘ جو گھریلو تشدد کے شکار افراد کی مدد کرتا ہے، میں تقسیم کی جائے گی۔

    انھوں نے ہفتے کے روز ٹوئٹر پر کہا کہ وہ ’ان لوگوں کے بارے میں سوچ رہی ہیں جو ہمیں اور ہمارے طرز زندگی کی حفاظت کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘

  7. کورونا وائرس: کیا آپ جانتے ہیں کہ سماجی دوری یا خود ساختہ تنہائی کا مطلب کیا ہے؟

    جب ہمیں کسی عالمی وبا کا سامنا ہو تو عام آدمی کے لیے اس سے متعلق معلومات کا حصول اہم ہوتا ہے۔

    ان معلومات میں اپنے تحفظ کی معلومات سب سے اہم ہوتی ہیں لیکن اکثر یہ معلومات لوگوں کو الجھن میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں کیونکہ وہ ان اصطلاحات کا مطلب سمجھ نہیں پاتے جنھیں اختیار کرنے کا مشورہ انھیں دیا جا رہا ہوتا ہے۔

    کورونا وائرس کے عالمی پھیلاؤ کے بعد ’سوشل ڈسٹینسنگ‘ یا ’سیلف آئسولیشن‘ جیسی اصطلاحات بھی کچھ ایسے ہی الفاظ ہیں۔

  8. کورونا وائرس: ملائیشین حکام نے تارکین وطن کو حراست میں لینا شروع کر دیا

    ملائیشیا کے پولیس چیف عبد الحمید بدور نے بتایا ہے کہ ملائیشین حکام کورونا وائرس کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے

    دستاویز کے بغیر نقل مکانی کرنے والے تارکین وطن کی تلاش کر رہے ہیں۔

    جمعے کے روز کوالالمپور کے ایک علاقے میں چھاپہ مار کر 700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں بچے اور روہنگیا پناہ گزین بھی شامل ہیں۔

    پولیس چیف عبد الحمید نے بتایا: ’ہم انھیں آزادانہ طور پر گھومنے پھرنے نہیں دے سکتے کیونکہ اگر انھوں نے اپنی شناخت شدہ جگہیں چھوڑ دیں تو ان کا پتا لگانا ہمارے لیے مشکل ہو گا۔‘

    ہفتے کے روز ملائیشیا میں کورونا وائرس کے 105 نئے کیس رپورٹ ہوئے ہیں جس سے ملک میں متاثرین کی تعداد 6176 ہو گئی ہے۔

    ملائیشیا میں اب تک ہلاکتوں کی تعداد 103 ہے۔

  9. کورونا وائرس: ایران میں مزید 65 افراد ہلاک، اموات کی تعداد 6156 ہو گئی

    ایران کے وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹے میں 65 افراد کی ہلاکت سے ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 6156 ہو گئی ہے۔

    ایران میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 96448 ہے جن میں سے 2787 کی حالت تشویشناک ہے۔

  10. ایکسپو سینٹر: گندگی کورونا متاثرین کی صحت یابی میں رکاوٹ تو نہیں

  11. سنگاپور نے لاک ڈاؤن میں نرمی کا ٹائم ٹیبل دے دیا

    سنگاپور میں حکومت نے کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے ایک ٹائم ٹیبل کا اعلان ہے۔ روایتی چینی طب سے منسلک دکانیں منگل سے کھل سکیں گی جبکہ حجام اور لانڈری سروس 12 مئی سے شروع ہو جائے گی۔

    پیر کے روز سنگاپور کی سب سے معمر کورونا سے صحت یاب ہونے والی خاتون 102 سالہ میدم یاب لے ہانگ کو ہسپتال سے فارغ کیا گیا تھا۔

  12. آسٹریلیا میں بھی کانٹیکس ٹریسنگ ایپ تیار مگر ٹیسٹنگ کے مرحلے میں

    آسٹریلیا میں چار ملین لوگوں نے کانٹیکٹ ٹریسنگ ایپ ڈاؤن لوڈ کی ہے تاہم مقامی میڈئا کے مطابق ابھی اس پر ڈیٹا فراہم نہیں کیا جا رہا۔ محمکہِ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے حتمی ٹیسٹ کیے جا رہا ہیں اور پرائیویسی کے قانون کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم سکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ کووڈ سیف نامی یہ ایپ لاک ڈاؤن میں نرمی کی ٹکٹ ہے۔

  13. انڈیا میں تمام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین پر کورونا سے متعلق ایب استعمال کرنا لازمی

    انڈیا میں حکومت نے تمام سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین پر لازمی کر دیا ہے کہ وہ سمارٹ فونز کے لیے بنائی گئی ایپ استعمال کریں تاکہ ان لوگوں کا پتا لگایا جا سکے جو کورونا وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ آروگیا سیٹو نامی اس ایپ میں لوگوں کو الرٹ جاتا ہے جب وہ کسی کورونا کے مریض کے کانٹیک میں آتے ہیں۔ انڈیا میں اب تک 37336 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور 1223 اموات ہو چکی ہیں۔

  14. برطانیہ میں پلازمہ کے کلینکل ٹرائل کے ہزاروں افراد کا اظہارِ دلچسپی

    برطانیہ میں ہزاروں لوگوں نے ایک ایسے کلینکل ٹرائل میں شریک ہونے کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس میں کورونا وائرس سے صحت یاب ہونے والے افراد کے خون کا پلازمہ استعمال کیا جائے گا۔

    یہ ٹرائل شروع ہو چکا ہے اور اب تک 148 افراد نے اس میں خون عطیہ کیا ہے۔

    اس ٹرائل میں 6500 افراد نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے جس میں ماہرین کو امید ہے کہ صحت یاب ہو جانے والے مریضوں کے خون کی اینٹی باڈیز متاثرہ مریض سے وائرس کو ختم کر سکیں گی۔

  15. انڈیا کے فوک فنکاروں کے کورونا وائرس کے لیے تنبیہی فن پارے

    انڈیا میں فوک فنکار کئی بار سماجی پیغامات کے لیے روایتی اندازِ مصوری کا سہارا لیتے ہیں۔ اب ایک گروپ نے صفائی اور سماجی دور کے حوالے سے ایسے ہی فن پارے بنائے ہیں جن کا مقصد کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔

    انڈیا میں ہنر اور ہنر مندوں سے منسلک معروف تنظیم دستکار کے فنکاروں نے اس پر کام کرنا مارچ میں شروع کیا تھا۔ ان کے کام میں سماجی دوری، جہرے کے ماسک، اور ہاتھو دھونے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

  16. کورونا کے خوف سے پالتو جانور گھروں سے بے دخل

  17. بریکنگ, سپین میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد لوگ سڑکوں پر نکل آئے

    کئی ہفتوں میں پہلی مرتبہ سپین میں لوگوں کو سڑکوں پر سائیکل چلاتے، ورزش کرتے چلتے پھرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ سپین میں حکومت نے حال ہی میں لاک ڈاؤن میں کچھ نرمی کا اعلان کیا ہے۔

    یاد رہے کہ ایک ہفتہ قبل سپین میں بچوں کو باہر نکالنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

    سپین دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وائرس نے آبادی کو وبری طرح متاثر کیا ہے۔ ملک میں 213000 ے زیادہ مصدیقہ کیسز تھے اور 24500 ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

    پہلے لوگوں کو صرف اشیائے خوردونوش کی خریداری کے لیے باہر نکلنے کی اجازت تھی یا اگر آپ گھر سے کام نہیں کر سکتے تو دفاتر جانے کی اجازت تھی۔

    گذشتہ ہفتے تک وہ واحد یورپی ملک تھا جہاں بچوں کے باہر نکلنے پر مکمل پابندی تھی۔

  18. عالمی لیبر ڈے پر پاکستانیوں نے ڈاکٹروں کو کیسے خراجِ تحسین پیش کیا؟

    گذشتہ روز دنیا بھر میں لیبر ڈے منایا گیا اور اسی سلسلے میں پاکستان میں بہت سے لوگوں نے کورونا وائرس سے فرنٹ لائن پر لڑے ڈاکٹروں اور طبعی عملے کو سراہا تھا۔ پاکستانی سوشل میڈیا صارفین کے خیلات کیا تھا، جانیے اس تحریر میں۔

  19. آخر ریمڈیسیور سے اتنی امیدیں کیوں وابستہ ہیں؟

    ریمڈیسیور نامی دوا کے کووڈ19 کے علاج میں تازہ ترین کلینکل ٹرائلز کے حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ یہ دوا ابتدائی طور پر ایبولا کے علاج کے لیے بنائی گئی تھی۔

    امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز (این آئی اے آئی ڈی) کی تحقیق کے مطابق اس دوا کے استعمال سے کورونا وائرس کی علامات 15 دن کے بجائے 11 دن تک محدود ہو جاتی ہیں۔ اس تحقیق میں 1063 افراد نے دنیا بھر کے ہسپتالوں میں شرکت کی۔

    این آئی اے آئی ڈی کے سربراہ ڈاکٹر اینتھونی فاؤچی کا کہنا ہے کہ ریمڈیسیور کا ”واضح مثبت اثر ہے۔‘‘

    تاہم ریمڈیسیورممکنہ طور پر صحت یابی میں مددگار ہو سکتی ہے یا انتہائی نگہداشت والے افراد کی مدد کر سکتی ہے، اس سے کوئی واضح اشارہ یہ نہیں ملتا کہ یہ اموات کو روک سکتی ہے۔

    یاد رہے کہ تقریباً دس روز قبل عالمی ادارہِ صحت کی جانب سے حادثاتی طور پر شائع کر دی جانے والی کچھ دستاویزات سے معلوم ہوا ہے کہ اس دوا کا چین میں کیا گیا تجربہ ناکام رہا ہے۔

    دستاویز میں لکھا ہوا تھا کہ اس دوا سے نہ تو مریضوں کی حالت میں کوئی بہتری آئی اور نہ ہی اس کے استعمال سے مریض کے خون میں اس وائرس کی مقدار کم ہوئی ہے۔ ادھر اس دوا کو تیار کرنے والی گلیڈ سائنسز نامی امریکی کمپنی کا کہنا ہے کہ اس دستاویز نے اس تجربے کو درست انداز میں پیش نہیں کیا ہے۔

  20. بریکنگ, ”عالمی ادارہِ صحت نے وقت ضائع نہیں کیا‘

    عالمی ادارہِ صحت کا کہنا ہے کہ انھوں نے کورونا وائرس کے حوالے سے ردِعمل میں کوئی وقت ضائع نہیں کیا تھا۔

    تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر تدروس آدہانوم غبریسس کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او نے 30 جنوری کو اسی ایک عالمی صحتِ عامہ کی ہنگامی صورتحال کہہ دیا تھا جس کے بعد ساری دنیا کے ممالک کے پاس اپنا ردِعمل مرتب کرنے کے کافی وقت تھا۔

    اس وقت چین کے بارے صرف 82 مصدقہ کیسز اور صفر اموات تھیں۔