آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. سنگاپور میں غیر ملکی مزدوروں کو بحری جہازوں میں رکھا جا رہا ہے

    سنگاپور میں جو غیر ملکی ورکز کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد صحت یاب ہو چکے ہیں، ان کو پورٹ پر کھڑے دو تفریحی بحری جہازوں یعنی کروز شپس پر رکھا جا رہا ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ جہازوں پر شخت قسم کے انفیکشن کنٹرول اقدامات کیے جائیں گے، اور حفاظتی فاصلے کی پالیسی بھی اپنائیی جائے گی۔

    سنگاپور میں کورونا وائرس سے انتہائی زیادہ متاثرین کی کہانی معاشی عدم برابری کی داستان بن گئی تھی۔ تقریباً سبھی کیسز غیر ملکی مزدوروں میں تھے جو اکثر انتہائی تنگ ہاسٹلوں میں رہتے ہیں۔

    ان پاسٹلوں کو اب قرنطینہ کر دیا گیا ہے اور حکام نئے مقامات کی تلاش میں ہیں جہاں پر ان مزدوروں کو رکھا جا سکے۔

    سنگاپور میں تقریباً تین لاکھ غیر ملکی مزدور ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جنوبی ایشیا سے ہے۔ سنگاپور میں کورونا وائرس کے 16000 تصدیق شدہ کیسز ہیں۔

  2. بریکنگ, جنوبی افریقہ میں آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کا آغاز, اینڈرو ہارڈنگ، بی بی سی جوہانسبرگ

    جنوبی افریقہ میں آج سے لاک ڈاؤن میں نرمی کر دی جائے گی جس کے تحت کچھ کاروباروں کو کھلنے کی اجازت دے دی جائے گی، ریسٹورانٹوں کو ڈلیوری کی اجازت دی جئے گی اور فیملیوں کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اپنے گھر سے باہر ورزش کے لیے آ سکیں۔

    تاہم جنوبی افریقہ کا پانچ ہفتوں سے جاری لاک ڈاؤن کچھ حوالوں سے پہلے جیسا سخت ہی رہے گا۔

    ملک میں شراب کی فروخت پر پابندی ہے۔ اس پابندی نے ملک کے ہسپتالوں پر دباؤ کم کیا ہے۔

    اب حکومت شہروں میں اور زیادہ فوجی بھی تعینات کرے گی اور رات کے وقت کرفیو نافذ رہے گا۔

    جنوبی افریقہ میں سیکیورٹی فورسز کو انتہائی شخت انداز میں عوام کے ساتھ پیش آنے کے حوالے سے تنقید کا سامنا رہا ہے۔

    تاہم جنوبی افریقہ کی حکومت کو اب تک انتہائی سخت اور بروقت لاک ڈاؤن کرنے پر بہت سراہا گیا ہے۔ مگر اب وہ وقت آ گیا ہے جب ملک میں انفیکشن ریٹ کو کم رکھنے کے ساتھ ساتھ ملک میںغربت اور معاشی مسائل کو بھی بیلنس کرنا پڑ رہا ہے۔

  3. کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

  4. کورونا کی دوسری اور تیسری لہر سے زیادہ متاثر کون: جانیے نقشوں اور چارٹس کی مدد سے

  5. کیا کورونا کے بعد لوگ کیش استعمال کرنا چھوڑ دیں گے؟

    ماہرین کا کہنا ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا دنیا میں نوٹوں کے استعمال میں کمی کے عمل کو اور تیز کر دے گی کیونکہ لوگ اب زیادہ سے زیادہ ادائیگیوں کے لیے ’ڈیجیٹل‘ طریقے اپنا رہے ہیں۔

    پڑھیے اسی حوالے سے ہمارے ساتھی کیون پیچی کی تحریر۔

  6. برطانیہ کی تازہ ترین صورتحال

    • برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا کہنا ہے کہ برطانیہ کورونا وائرس کے حوالے سے بدترین مرحلے (یعنی کیسز کی بلند ترین سطح) سے گزر چکا ہے۔جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ وہ آئندہ ہفتے ایک جامع پلان پیش کریں گے کہ معیشت کو کیسے دوبارہ سٹارٹ کرنا ہے اور کیسے سکول کھولے جانے ہیں۔
    • تاہم وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دوسری پیک یعنی بلند ترین سطح سے بچنے کے لیے لاک ڈاؤن جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں ملک کا آر ریٹ یعنی ایسے لوگوں کی تعداد جو کہ ایک ہی شخص سے متاثر ہوں، اس کو ایک سے کم رکھنا ہے۔
    • ادھر وزیرِ ٹرانسپورٹ گرانٹ شیپس نے کہا ہے کہ برطانیہ اپنا ایک لاکھ ٹیسٹ روزانہ کا ہدف یا تو حاصل کر لے گا یا پھر اس کے بہت قریب پہنچ جائے گا۔
    • برطانیہ میں اب تک 26771 افراد کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ملک میں 171000 تصدیق شدہ کیسز ہیں۔
  7. پہلا کورونا وائرس دریافت کرنے والی خاتون کون تھیں؟

  8. وہ پانچ وبائیں جنھوں نے دنیا بدل کر رکھ دی

  9. بریکنگ, یہ وائرس انسان کا بنایا ہوا نہیں ہے: امریکی انٹیلیجنس

    امریکی صدر ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ انپیں اس بات پر کافی اعتماد ہے کہ یہ کووڈ 19 وائرس ووہان کے انسٹیٹیوٹ آف وائرولوجی سے آیا تھا۔

    ادھر امریکی انٹیلیجنس ایسجنیوں کے ایک غیر معمولی بیان میں اگرچہ اس بات کو براہِ راست طور پر جھوٹ تو نہیں کہا گیا مگر بیان کے مطابق یہ وائرس نہ تو انسان کا بنایا گیا ہے اور نہ ہی جینیاتی طور پر تبدیل کیا گیا ہے۔

  10. بریکنگ, جنوبی کوریا میں ایک مرتبہ پھر نئے کیسز سامنے آنے لگے

    جمعے کے روز جنوبی کوریا میں کورونا وائرس کے نو نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔ یہ مسلسل تیسرا دب ہے جب متاثرین کی تعداد میں روزانہ ایک کا اضافہ ہو رہا ہے۔

    ان نو میں سے آٹھ کیسز ایسے ہیں جو بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔

    جمعرات گذشتہ ڈھائی ماہ میں پہلا دن تھا جب کوئی بھی مقامی طور پر منتقل ہونے والا کیس سامنے نہ آیا ہو۔

    جنوبی کوریا میں کورونا سے متاثرین کی تعداد 10744 ہے جبکہ 248 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

  11. چین کے ساتھ تنازع کے درمیان آسٹریلیا کی تائیوان کی حمایت کا اعلان

    آسٹریلیا میں مقامی خبر رساں اداروں کے مطابق آسٹریلیا نے تائیوان کے عالمی ادارہِ صحت کا رکن بننے کی حمایت کی تائید کر دی ہے۔

    آسٹریلیا روایتی طور پر تائیوان کے لیے آبزرور درجے کی حمایت کرتا رہا ہے اور موجودہ اعلان اس ہفتے تائیوان کے وزیرِ صحت کی جانب سے کال پر ردِعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔

    واضح رہے کہ آسٹریلیا اور چین کے درمیان اس وقت الفاظ کی شدید جنگ چل رہی ہے۔ آسٹریلیا عالمی سطح پر ایک تفتیش کا مطالبہ کررہا ہے کہ یہ وائرس کیسے پھیلا اور اس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات بھی متاثر ہوئے ہیں۔

  12. انڈیا کی تازہ ترین صورتحال

    انڈیا میں مکمل لاک ڈاؤن شروع ہوئے 38 دن ہو چکے ہیں۔ لاک ڈاؤن کو 3 مئی کو ختم ہونا ہے تاہم توقع یہ ہی کی جا رہی ہے کہ ملک کے بہت سے حصوں میں اس میں توسیع کی جائے گی۔

    تازہ ترین صورتحال کے مطابق:

    انڈیا میں اس وقت 35000 ایکٹیو کیسز ہیں اور اب تک 1147 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن نے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مدد کی ہے اور کچھ عیاستوں جیسے کہ پنجاب نے تو پہلے ہی لاک ڈاؤن میں توسیع کا اعلان کر رکھا ہے۔

    دلی کی مقامی حکومت نے شہر کے کچھ علاقوں جہاں زیادہ کیسز سامنے آ رہے ہوں، ان علاقوں میں ٹیسٹنگ میں تیزی سے اضافہ کیا ہے کیونکہ ایسے علاقوں میں سح، لاک ڈاؤن کے باوجود متاثرین کی تعداد کم نہیں ہو رہی۔ اس وقت دلی میں 3515 کیسز سامنے آ چکے ہیں جو کہ ملک میں تیسرے نمبر پر ہے۔

    مقامی میڈیا کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت چھوٹے اور متوسط حجم کے کاروباروں کی مدد کے ایک امدادی پیکج پر غور کر رہی ہے۔

  13. بریکنگ, جنوبی کوریا کی برآمدات میں تقریباً 25 فیصد کمی

    جنوبی کوریا میں وزیرِ تجارت کا کہنا ہے کہ ملک کی اپریل کے مہینے میں گذشتہ سال کے مقابلے میں برآمدات 24.3 کم ہوگئی ہیں جس کی وجہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنا اور گرتی ہوئی تیل کی قیمت ہے۔

    سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک سے باہر جانے والی اشیا کی قیمت اس اپریل میں 36.9 ڈالر رہی۔ گذشتہ سال اپریل کے مہینے میں یہ تعداد 48.7 ارب ڈالر تھی۔ 2009 کے بعد سے بدترین کمی ہے۔ درآمدار میں بھی 15.9% کمی دیکھی گئی ہے اور ان کی قیمت 37.8% رہ گئی۔

    یاد رہے کہ جنوبی کوریا اس وقت پر کورونا وائرس کے مراکز میں سے ایک تھا تاہم ملک میں اس وبا پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا ہے اور جمعرات کو مقامی منتقلی کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

  14. بریکنگ, چین میں کورونا وائرس سے بارہ نئے مصدقہ متاثرین، صفر ہلاکتیں

    چین میں آج 12 نئے کیسز رپورٹ کیے گئے ہیں جو کہ گذشتہ روز کے صرف چار کیسز سے زیادہ ہیں۔

    ان میں نصف کیسز ایسے ہیں جو کہ بیرونِ ملک سے آئے ہیں۔ مقامی طور پر وائرس منتقل ہونے کے واقعات میں ہیلونگ جیانگ صوبے میں پانچ کیسز سامنے آئے ہیں جو کہ روس کے ساتھ سرحدی صوبہ ہے۔ روس میں گذتہ ہفتے میں متاثرین کی تعداد میں تیزی دیکھی گئی ہے۔

    مجموعی طور پر چین میں کل متاثرین کی تعداد 82874 ہے اور تقریباً 90 فیصد لوگ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

    چین کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ایسے 24 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جن میں ٹیسٹ تو پازیٹیو ہے مگر ان مریضوں میں علامات نہیں ہے۔ چین ایسے مریضوں کی گنتی علیحدہ سے کرتا ہے۔

    چین میں کل ہلاکتوں کی تعداد 4633 ہے۔

  15. کیا خود ساختہ تنہائی سے رشتوں کو بہتر بنایا جا سکتا ہے؟

  16. دنیا بھر میں صحت یاب ہونے والوں کی تعداد دس لاکھ ہوگئی

    آج کی اہم خبر یہ ہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس سے مصدقہ ور پر متاثر ہونے والے تیس لاکھ افراد میں سے دس لاکھ افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔

    مگر کورونا کے حوالے سے اعداد و شمار کو ذرا ذمہ داری سے پڑھنا چاہیے۔

    کووڈ 19 کے متاثرین میں ہلاکتوں کا تناسب کافی کم ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ تیس لاکھ متاثرین میں سے بیشتر آخر کار صحت یاب ہو ہی جائیں گے، شاید بس کچھ کیسز میں وقت زیادہ لگ جائے۔

    مگر کتنے لوگ بچ پائئں گے، اس کا انحصار اس وائرس کے متاثرین میں مہلک ہونے کی شرح پر پوگا اور اس وقت ہمیں یہ شرح معلوم نہیں ہے۔

    ماہرین کے تجزیے کے مطابق کورونا وائرس کے مہلک ہونے کی شرح عام نزلہ اور زکام والے وائرس انفلوئنزا (0.1%) سے زیادہ اور سارز وائرس (9.5%) سے کم ہے۔

    اگر ہم تفریحی بحری جہازوں یعنی کروز شپس کا جائزہ لیں جہاں کوئی باہر سے کیس نہیں آتا اور ٹیسٹنگ کی کمی بھی بہیں ہوتی تو وہاں پر اس کے مہلک ہونے کی شرح ایک فیصد ہے۔

    مگر کیونکہ ہر ملک میں ٹیسٹنگ کی صورتحال اس قدر مختلف ہے (اور کسی ملک میں ان بحری جہازوں کے طرح آبادی کے ہر فرد کا ٹیسٹ نہیں ہو سکتا) ہمیں ابھی صرف مصدقہ کیسز اور ہلاک ہونے والوں کا تناسب پتا چلتا ہے۔

    جب صرف ان لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں جن میں اس کی شدید علامات ہوں، تو ہلاک ہونے والوں کی شرح ایک فیصد سے زیادہ ہوتی ہے۔

    مگر حقیقت یہ ہے کہ بہت سے لوگ اس وائرس سے متاثر ہوں گے مگر ان کا اندراج نہیں کیا جا سکے گا اور اصل میں اس وائرس کے مہلک ہونے کی شرح کم ہی ہوگی۔

  17. سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کے اوقات میں کمی

    سعودی عرب نے لاک ڈاؤن کے اوقات میں کمی کرتے ہوئے تجارتی مراکز کھول دیے گئے ہیں مگر ان پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کُچھ شرائط بھی رکھی گئی ہیں جن کے بارے میں سعودی عرب کے ساحلی شہر جدہ میں مقیم ایک پاکستانی جہانگیر خان نے بی بی سی اردو کو بتایا۔

  18. کورونا وائرس: وبا ’نقد رقم کے استعمال میں کمی کو اور تیز کر دے گی‘

    ماہرین کا کہنا ہے کورونا وائرس کی عالمی وبا دنیا میں نوٹوں کے استعمال میں کمی کے عمل کو اور تیز کر دے گی کیونکہ لوگ اب زیادہ سے زیادہ ادائیگیوں کے لیے ’ڈیجیٹل‘ طریقے اپنا رہے ہیں۔

    لاک ڈاؤن کے دوران کیش مشینوں سے رقم نکلوانے میں ساٹھ فیصد کی کمی آئی ہے گو کہ لوگ اب بڑی رقوم نکلوا رہے ہیں۔

  19. کورونا وائرس کے علاج سے متعلق افواہوں کی حقیقت

    کیا سانس روکنے سے کورونا وائرس کا علاج ہو سکتا ہے؟ ایسے سوال اور ان سے جڑی کئی افواہیں انٹرنیٹ پر گردش کر رہی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پھیلنے والی افواہوں میں کتنی حقیقت ہے، جاننے کی لیے دیکھیے ہماری ڈیجیٹل ویڈیو۔

  20. میکسیکو میں مزید 1425 متاثرین، 127 اموات

    جنوبی امریکہ میں واقع ملک میکسیکو میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے 1425 متاثرین سامنے آئے ہیں جبکہ 127 بھی ہوئی ہیں۔

    اس اضافے کے بعد ملک میں متاثرین کی مجموعی تعداد 19224 ہو گئی ہے جبکہ کل اموات 1859 ہو گئی ہیں۔

    میکسیکو کورونا وائرس سے جنوبی امریکہ میں چوتھا سب زیادہ متاثرہ ملک ہے۔