آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

کورونا: امریکی سیاستدان ’اپنی ناکامی چھپانے کے لیے‘ چین پر الزامات لگا رہے ہیں

دنیا میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 35 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ 51 ہزار سے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحتنے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ان دعووں کے کوئی شواہد پیش نہیں کیے ہیں کہ وائرس کا وجود وہان کی ایک لیبارٹری میں عمل میں آیا جبکہ چینی میڈیا نے ان دعووں کو 'پاگل پن' اور 'مضحکہ خیز' قرار دیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. انڈیا میں لاک ڈاؤن میں نرمی اور آن لائن کنسرٹ

    • جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت انڈیا میں کورونا کے کل متاثرین کی تعداد 42,505 ہے جبکہ 1,391 اموات ہوچکی ہیں اور 11,775 افراد اب تک صحتیاب ہوئے ہیں۔
    • گذشتہ روز کووڈ 19 سے مقابلے کے لیے منعقد ایک آن لائن کنسرٹ میں 70 سے زیادہ بالی ووڈ کے اداکاروں اور فنکاروں نے صارفین کو تفریح فراہم کی اور اس وبا کے خاتمے کے لیے اپنی خواہش اور امید ظاہر کی۔ ان اداکاروں میں شاہ رخ خان بھی شامل تھے۔ فیس بک پر لائیو نشر ہونے والے اس کنسرٹ کو 50 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے دیکھا۔
    • لاک ڈاؤن میں نرمی کے نئے اصولوں کے مطابق نجی دفاتر 33 فیصد عملے کے ساتھ کھولے جاسکتے ہیں۔ خود کے لیے کام کرنے والا صفائی کا عملہ، باورچی، الیکٹریشن اور پلمبر بھی کام پر واپس جا سکتے ہیں۔
    • اس کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ بند رہے گا اور سیل کردہ علاقوں میں داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔
    • نئی ہدایات وفاقی حکومت نے جاری کی ہیں جنھیں ریاستیں اپنے طور پر مسترد کر سکتی ہیں۔
  2. ویکسین کی تیاری اور فنڈنگ کے لیے دنیا کو ’اکٹھا ہونا پڑے گا‘

    یورپی ممالک کے رہنماؤں نے ایک منصوبے کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کیا ہے جس کے تحت ویکسین کی تیاری کے لیے 8.3 ارب ڈالر کی فنڈنگ جمع کی جائے گی۔

    جعے کو برسلز کی سربراہی میں یہ منصوبہ یورپی یونین کی صدر فان ڈیئر لاین نے پیش کیا۔

    اقوام متحدہ کے مطابق معمولات زندگی صرف اس صورت میں بحال ہوسکتی ہے کہ اگر کورونا وائرس کی ویکسین تیار کر لی جاتی ہے۔

    پیر کو برطانیہ، کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، سعودی عرب اور یورپی کمیشن فنڈنگ جمع کرنے کے لیے ایک آن لائن کانفرنس میں حصہ لے رہے ہیں۔

    اٹلی کے وزیر اعظم جیوزیپی کونٹے، فرانس کے صدر ایمینوئل میکخواں اور جرمن چانسلر انگیلا مرکل بھی اس منصوبے میں شریک ہوں گے۔

    وبا کے پھیلاؤ پر امریکی تنقید کے باوجود منصوبے میں شریک ان ممالک نے عالمی ادارہ صحت کی حمایت کی ہے۔

  3. کورونا وائرس سے تھائی لینڈ قدرے محفوظ؟

    تھائی لینڈ کے شہر بینکاک میں دن میں لاک ڈاؤن جبکہ رات میں کرفیو لاگو کیا جاتا ہے۔

    شہر میں کورونا وائرس کی تازہ صورتحال جانیے حنان احمد قریشی کی اس ویڈیو میں۔۔۔

  4. امریکہ اور چین کے درمیان تناؤ بڑھنے کا خدشہ، ایشیائی مارکیٹوں میں مندی

    کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین سے متعلق بیان کے بعد ایک نئی تجارتی جنگ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہوا ہے جس سے پیر کو ایشیائی مارکٹوں میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔

    صدر ٹرمپ نے یہ تاثر دیا ہے کہ چین کی جانب سے وائرس کو ابتدائی طور پر چھپانے کے الزام میں وہ اس ملک سے درآمدات پر نئے ٹیکس لگا سکتے ہیں۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے ایسے شواہد خود دیکھے ہیں جو ووہان کی لیب کو وائرس کے پھیلاؤ سے جوڑتے ہیں۔

    اس سے اس بات کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کہ گذشتہ سال کی طرح دوبارہ چین اور امریکہ کی باہمی تجارت رُک سکتی ہے۔ گذشتہ دسمبر میں دونوں ممالک کے درمیان جزوی معاہدہ طے پایا تھا جس سے تجارت بحال ہوئی تھی۔

    ہانگ کانگ کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ تین فیصد مندی دیکھی گئی جبکہ سیول، تائی پی، سنگاپور، منیلا اور جکارتہ میں مارکیٹیں دو فیصد سے زیادہ گریں۔ ویلنگٹن میں یہ اعداد و شمار 0.7 فیصد رہے۔

    تاہم سڈنی میں مارکیٹ کی صورتحال کچھ حد تک برقرار رہی۔

    صدر ٹرمپ رواں سال صدارتی انتخابات میں حصہ لے رہے اور نومبر میں یہ ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہوگا کیونکہ کورونا کے بحران کی وجہ سے امریکہ میں معاشی نقصان ہوا ہے اور لاکھوں امریکی شہری بے روزگار ہوگئے ہیں۔

  5. دنیا میں کہاں کتنی اموات پیش آئی ہیں؟

    دنیا کے بعض ممالک میں زیر علاج مریضوں اور اموات کی تفصیلات درج ذیل ہے:

    امریکہ: زیر علاج مریض 939,758 اور اموات 67,680

    سپین: زیر علاج 73,300 اور اموات 25,264

    اٹلی: زیر علاج 100,179 اور اموات 28,884

    برطانیہ: زیر علاج 158,421 اور اموات 28,520

    فرانس: زیر علاج 93,140 اور اموات 24,900

    جرمنی: زیر علاج 28,198 اور اموات 6866

    روس: زیر علاج 116,768 اور اموات 1280

    ترکی: زیر علاج 59,497 اور اموات 3397

    برازیل: زیر علاج 51,131 اور اموات 7025

    یہ اعداد و شمار جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں اور یہاں صرف مصدقہ کیسز درج ہیں۔ کچھ ممالک میں اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

  6. ہانگ کانگ میں لوگ کام پر واپس آنے لگے

    ہانگ کانگ میں آج سے حکومتی ملازمین کام پر واپس آنا شروع ہوگئے ہیں۔ شہر میں گذشتہ دو ہفتوں سے وائرس کی مقامی منتقلی کے کوئی نئے متاثرہ افراد سامنے نہیں آئے ہیں۔

    باہر سپورٹس کے مراکز، لائبریریاں اور میوزیم بھی آج سے کھل رہے ہیں۔ تاہم اب بھی ایک وقت میں چار افراد کے اکٹھے ہونے پر پابندی ہے۔

    تاحال جمز، سینما اور بار بند رکھے جائیں گے۔

    حکومت نے اس سے قبل کہا تھا کہ سماجی فاصلے اور سفری پابندی کو کم از کم 7 مئی تک نافذ رکھا جائے گا۔ اب تک یہ واضح نہیں کہ آیا اس میں توسیع کی جائے گی۔

    گذشتہ جمعے کو تقریباً 100 مظاہرین نے سماجی فاصلے کی ہدایات پر عمل نہ کرتے ہوئے ایک مرکزی شاپنگ مال میں اپنے احتجاج کے لیے ایک گانا گایا تھا۔

    وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات میں نرمی سے ہانگ کانگ میں جمہوریت کی حمایت میں مظاہرے ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    گذشتہ سال یہاں کئی مظاہرے دیکھے گئے تھے۔

  7. کورونا کی ویکسین بنانے کی دوڑ

    ماضی کے برعکس جب کوئی وبا پھوٹنے کے بعد مرض سے بچاؤ کی دوا یا ویکسین بنانے میں برسوں لگ جاتے تھے، نئے کورونا وائرس کے خلاف ویکسین پر کام اس کی شناخت کے چند گھنٹوں بعد ہی شروع ہو گیا تھا۔

    امریکہ اور آسٹریلیا میں ہمہ تن مصروف سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وہ دن رات کام کر رہے ہیں تا کہ انسانی استعمال کے لیے یہ ویکسین جلد از جلد تیار ہو سکے۔

  8. فرانس، سپین اور اٹلی میں اموات کم ہونے لگیں

    یورپی ممالک فرانس، سپین اور اٹلی میں اموات میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ ممالک اب لاک ڈاؤن میں نرمی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    فرانس میں 34 نئی اموات ہوئی ہیں، سپین میں مارچ کے وسط کے بعد سب سے کم 164 ہلاکتیں پیش آئی ہیں جبکہ اٹلی میں دو ماہ میں سب سے کم 174 اموات ہوئی ہیں۔

    فرانس کے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک زیر علاج مریض کے نمونوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وائرس ملک میں دسمبر 2019 کے دوران موجود تھا۔

    لیکن روس میں وائرس کا پھیلاؤ بڑھتا نظر آرہا ہے۔ اب وہاں 134,687 متاثرین کی تصدیق ہوچکی ہے۔

    دیگر ممالک کے مقابلے روس میں اموات کی شرح کم ہے۔ اتوار کو وہاں 58 اموات پیش آئیں اور اب کل اموات 1280 ہیں۔

    برطانیہ میں اتوار کو 315 اموات ہوئیں۔ امریکہ اور اٹلی کے بعد کورونا سے سب سے زیادہ اموات برطانیہ میں ہوئی ہیں۔

    ملک میں صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ انتہائی صورتحال گزر چکی اور ہسپتالوں میں نئے مریضوں کی آمد کم ہو رہی ہے۔

    دنیا بھر میں کورونا وائرس سے 35 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ڈھائی لاکھ کے قریب اموات ہوچکی ہیں۔

  9. دنیا بھر میں متاثرین 35 لاکھ سے زیادہ ہوگئے

    دنیا کے کئی ممالک میں جزوی لاک ڈاؤن اور سخت اقدامات میں نرمی کے بعد ایک نئے ہفتے کا آغاز ہو رہا ہے۔

    4 مئی کے اعداد و شمار کے مطابق عالمی سطح پر کورونا وائرس کے 3,506,729 متاثرین موجود ہیں۔ ان میں سے 11 لاکھ سے زیادہ صحتیاب ہوچکے ہیں اور فی الحال زیر علاج مریضوں کی تعداد تقریباً 24 لاکھ ہیں۔

    کچھ ممالک میں کل متاثرین کی تفصیل

    امریکہ: 1,157,945

    سپین: 217,466

    اٹلی: 210,717

    برطانیہ: 187,841

    فرانس: 168,925

    جرمنی: 165,664

    روس: 134,687

    ترکی: 126,045

    برازیل: 101,147

    یہ اعداد و شمار جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں اور یہاں صرف مصدقہ متاثرین کی تعداد درج ہے۔ کچھ ممالک میں اعداد و شمار اس سے بھی زیادہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

  10. برازیل میں متاثرین ایک لاکھ سے تجاوز کر گئے

    حکام کے مطابق برازیل میں اب کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 101,147 ہوگئی ہے جبکہ سات ہزار اموات کو کووڈ 19 سے جوڑا جاچکا ہے۔

    بڑھتے اعداد و شمار کے باوجود ملک کے صدر نے لاک ڈاؤن کے لیے صحت کے حکام کے مشورے پر مقامی گورنرز کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی مخالفت کی ہے۔

    انھوں نے اتوار کو کہا کہ: ’کچھ گورنرز کی جانب سے نوکریاں ختم کرنا غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول ہے۔ ہم مستقبل میں اس کی بڑی قیمت ادا کریں گے۔‘

    جنوبی امریکہ میں کووڈ 19 کے متاثرین اور اموات تیزی سے بڑھنے کے باوجود مبصرین کہتے ہیں کہ یہاں ابھی انتہائی صورتحال کچھ ہفتے دور ہے۔

    بعض ماہرین کے مطابق برازیل اور اس کے کچھ ہمسایہ ممالک میں سرکاری اعداد و شمار کے برعکس متاثرین اور اموات کی اصل تعداد کئی گنا زیادہ ہے۔

  11. ’فرانس میں وائرس 2019 میں موجود تھا‘

    پیرس کے ایک ہسپتال کے آئی سی یو کی سربراہی کرنے والے ایک ڈاکٹر نے مقامی ذرائع ابلاغ سے کہا ہے کہ کورونا وائرس فرانس میں 27 دسمبر 2019 میں موجود تھا۔ یہ ملک میں پہلی مرتبہ کسی شخص میں کورونا کی تشخیص سے ایک ماہ پہلے کی بات ہے۔

    بی ایف ایم ٹی وی کو دیے انٹرویو میں ڈاکٹر کوہن کا کہنا تھا کہ دسمبر اور جنوری کے دوران ان کی ٹیم نے ایسے 24 مریضوں کا علاج کیا تھا جن میں فلو اور دوسرے کورونا وائرسز کے نتائج منفی آئے تھے اور جنھیں سانس لینے سے متعلق کوئی بیماری لاحق تھی۔

    وہ کہتے ہیں کہ ان 24 مریضوں میں سے انھوں نے ایک پر کووڈ 19 کا ٹیسٹ 27 دسمبر کو کیا تھا جب وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ’یہ ٹیسٹ بار بار دہرایا گیا تھا تاکہ نتائج کی تصدیق ہوسکے۔‘

    ڈاکٹر کوہن کہتے ہیں کہ انھوں نے اس بارے میں مقامی صحت کے حکام کو اطلاع دی تھی اور اس دوران تمام منفی نتائج والے مریضوں کے دوبارہ ٹیسٹ کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

  12. ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا کہ ویکسین اس سال تیار ہو جائے گی

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ کورونا وائرس کے علاج کے لیے ویکسین 2021 سے قبل ہی تیار کر لے گا۔ فوکس نیوز کے ساتھ انٹر ویو میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم پر اعتماد ہیں کہ ہم رواں برس کے آخر تک ویکسین بنا لیں گے۔‘

    پوری دنیا میں اس وقت سائنس دان کورونا وائرس کی وبا کے خلاف مدافعتی دوا بنانے کے دوڑ میں لگے ہیں تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ کوئی بھی دوا بننے کے بعد بڑے پیمانے پر تقسیم کے لیے 2021 تک ہی تیار ہو سکے گی۔

    ٹرمپ نے بظاہر تسلیم کیا کہ وہ اپنی پیش گوئی میں اپنی طبی مشیروں کی نسبت جلدی کا وقت بتا رہے ہیں۔

    ان کا کہنا تھا ’ڈاکٹرز کہیں کہ آپ کو یہ نہیں کہنا چاہیے۔ میں وہ کہوں گا جو میں سوچتا ہوں۔‘

    صدر ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ امریکہ میں کورونا سے کل اموات ایک لاکھ تک جاسکتی ہیں۔ تاحال امریکہ میں 67 ہزار سے زیادہ ہلاکتیں پیش آئی ہیں۔

  13. افغان خواتین کا قطر کی ملکہ کو خط، جنگ بندی کا مطالبہ

  14. ہوائی سفر کرنے والوں کو ماسک پہننے کی ہدایت

    چند بڑی ایئر لائنز نے اعلان کیا ہے کہ ان کی پروازوں پر مسافروں کے لیے چہرے پر ماسک پہننا لازمی ہوگا۔

    کئی امریکی ایئرلائنز نے اس ہفتے مسافروں اور عملے کی حفاظت کے لیے نئے قوانین متعارف کروائے ہیں جبکہ عالمی سطح پر دیگر کمپنیوں نے بھی اپنی پروازوں پر مسافروں کے لیے ماسک پہہنے کی شرط رکھنی شروع کر دی ہے۔

    ایئرلائنز کے مطابق یہ ایک عارضی قدم ہوگا۔

    امریکہ میں ڈیلٹا، امریکن ایئر لائنز اور یونائیٹڈ نے دوران سفر مسافروں اور عملے کے لیے ماسک پہننے کی شرط رکھی ہے تاہم آسٹریلیا کی کی ایئر لائن کانٹس نے کہا ہے کہ ان کی حکومت کی طرف سے ماسک کے حوالے سے کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے ہیں۔

  15. انڈیا میں لاک ڈاؤن کے دوران دل موہ لینے والی کہانیاں

  16. فرانس میں ’سٹاپ کووڈ‘ نام کی ایپ لانچ کرنے کی تیاری

    فرانس میں11 مئی سے ’سٹاپ کووڈ‘ نام کی ایپ لانچ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس کی مدد سے لوگوں سے رابطہ اور ان کی نشاندہی کی جا سکے گی۔

    فرانس کے ڈیجٹل افیئر کے منسٹر کا کہنا تھا کہ یہ ایپ کووڈ 19 کو قابو کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ فرانس میں ابھی بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ کیے جانے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ „اس ایپ میں جادوئی کچھ بھی نہیں ہے لیکن یہ محض ٹیکنالوجی کی شوخی بھی نہیں۔‘

    ’یہ فائدہ مند ہوگی اگر اس یہ عالمی نظام صحت کے ساتھ ضم ہو جائے۔‘

  17. آسٹریئن میڈیکل ایسوسی ایشن کا لوگوں کو احتیاط کرنے کا مشورہ

    آسٹریا میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد آسٹریئن میڈیکل ایسوسی ایشن کے صدر تھامس زیکیریس نے آسٹریا کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط کریں۔

    اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ وہ سنیچر کو دکانوں کے باہر لگی ہوئی طویل قطاروں کی تصویریں دیکھ کر تشویش کے شکار ہیں۔ انھوں نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صفائی کی سخت پابندی کریں، جس میں ماسک پہننا، ہاتھ دھونا اور فاصلہ برقرار رکھنا شامل ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہم نے حالیہ ہفتوں میں ‘بہت کچھ حاصل کیا ہے مگر ہمیں اس پہلے مرحلے کی کامیابیوں کو ناکامیوں میں نہیں بدلنا چاہیے۔’

    آسٹریا میں اب تمام دکانوں کو کھول دیا گیا ہے اور لوگوں کو اب گھر سے نکلنے کے لیے وجہ درکار نہیں ہے، بھلے ہی اب بھی گھر سے کام کرنے کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے اور لوگوں کو کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

  18. پرتگال میں ہنگامی صورتحال اٹھا لی گئی، لاک ڈاؤن میں نرمی

    پرتگال میں مارچ کے وسط سے ہنگامی صورتحال تھی لیکن اب وہاں ایک کروڑ کی آبادی میں ایک ہزار سے کچھ اوپر اموات ہونے کے بعد لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔

    پرتگال پیر سے چھوٹی دکانوں کو کاروبار کی اجازت دے گا تاہم بڑی دکانوں کو یکم جون تک انتظار کرنا پڑے گا۔

    ملک میں 18 مارچ کو ہنگامی صورتحال کا نفاذ کیا گیا تھا جب وہاں صرف دو اموات ہوئی تھیں۔ لاک ڈاؤن میں کورونا وائرس کو روکنے کے لیے تمام غیر ضروری خدمات کو بند کر دیا گیا تھا۔

    پرتگال پڑوسی ملک سپین جتنا متاثر بالکل بھی نہیں ہوا ہے جہاں اب تک 25 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

    ہنگامی صورتحال کے نفاذ سے پہلے ہی پرتگال نے سکول اور نائٹ کلبز بند کر دیے تھے، بڑے اجتماعات پر پابندی لگا دی تھی، اٹلی جانے والی پروازوں اور سپین کے ساتھ سیاحت کو معطل کر دیا تھا۔

  19. آسٹریا: ویانا ایئرپورٹ پر کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کل سے شروع

    آسٹریا کے ویانا ہوائی اڈے پر بیرونِ ملک سے آنے والے لوگوں کو 14 روزہ قرنطینے میں بھیجنے کے بجائے ان کا وہیں پر کورونا وائرس کا ٹیسٹ کیا جائے گا۔

    یہ سہولت پیر سے شروع ہوگی۔

    ٹیسٹ میں دو سے تین گھنٹے کا وقت لگے گا اور اس کی قیمت 190 یورو (170 پاؤنڈ) ہوگی۔

    اب تک آسٹریا آنے والوں کے لیے لازم تھا کہ وہ ایئرپورٹ پر کووِڈ-19 کا ٹیسٹ منفی آنے کی سند دکھائیں یا پھر دو ہفتے کے لیے قرنطینے میں جائیں۔

    آسٹریا میں اب تک کورونا وائرس سے 598 ہلاکتیں ہوچکی ہیں مگر اب وہاں لاک ڈاؤن میں نرمی کی جا رہی ہے۔

  20. افریقی ممالک میں جڑی بوٹیوں سے تیار کردہ ’کورونا کی دوا‘ کا چرچہ