ہماری نظریں فائنل پر جمی ہیں، چاہے حریف انڈیا ہو یا انگلینڈ: بابر

سڈنی میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں جگہ بنا لی ہے۔ پاکستان نے 153 رنز کا ہدف 19ویں اوور میں حاصل کیا۔

لائیو کوریج

  1. ’اپنے نہیں، کیوی اوپنرز کا سوچیے‘

    بابر اعظم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان کی اوپننگ جوڑی میں تبدیلی سے متعلق جو سوال اس وقت پاکستان کے کرکٹ حلقوں میں زیرِ بحث ہے، کیا وہ واقعی پاکستان کے ڈریسنگ روم میں غوروخوض کا متقاضی ہونا چاہیے؟ کیونکہ کوئی بھی سٹریٹجک قدم لینے سے پہلے یہ حقیقت جھٹلائی نہیں جا سکتی کہ شائقین کی یاداشت بہت محدود ہوا کرتی ہے۔

    زیادہ پرانے نہیں، وہ ماضی قریب کے ہی دن تھے جب بابر اعظم شائقین کے دلوں کی دھڑکن ہوا کرتے تھے اور ان کا موازنہ وراٹ کوہلی سے کیا جاتا تھا اور تب نمبر ون بلے باز محمد رضوان کو سپرمین سے تشبیہہ دی جاتی تھی مگر انگلینڈ کے خلاف سیریزمیں بابر کی فارم کچھ گری اور شائقین کی محدود یاداشت بھی اچانک کہیں کھو گئی۔

    مگر ثقلین مشتاق کے ڈریسنگ روم کی خاص بات یہ ہے کہ یہ بیرونی آرا پر زیادہ توجہ نہیں دیتا اور اپنی سی ہی کرکٹ کھیلنے کو ترجیح دیتا ہے۔ گو یہ اپروچ بعض اوقات خسارے کا بھی سبب ہوتی ہے، مگر اسی لائحہ عمل نے حال میں ہی کئی کامیابیاں بھی سمیٹی ہیں۔

    یہاں سوال یہ بھی ہے کہ بابر اعظم اور محمد رضوان کے سٹرائیک ریٹ کا دنیا کی عظیم اقوام سے موازنہ کرتے ہوئے اس حقیقت سے صرفِ نظر کیوں کیا جاتا ہے کہ گذشتہ دو سال میں انھوں نے اپنی بیشتر کرکٹ سست ایشیائی وکٹوں پر کھیلی ہے۔

  2. سڈنی میں بابر اور رضوان کا بلا چلے گا: وقار یونس

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  3. شعیب اختر کو پاکستان کی جیت کی امید

    سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے ٹیم کو سخت مقابلے کا پیغام دیا ہے اور کہا ہے کہ میچ کے دوران حریف کو کنٹرول حاصل کرنے نہ دیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’لگا دو پھینٹا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 1

    X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام, 2

  4. پاکستانی ٹیم کی سٹیڈیم آمد

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  5. ٹی 20 ورلڈ کپ: ’92 میں بھی یہی ہوا تھا‘

    پاکستانی شائقین کو شاید اب بھی یہ ہضم کرنے کا وقت نہ ملا ہو کہ کیسے پاکستان نے سبھی اندازوں کو تہہ و بالا کر کے سیمی فائنل میں اپنی جگہ بنائی۔

    لیکن جن شائقین کی 1992 کے ورلڈ کپ کی یادیں تازہ ہیں ان کے منھ سے صرف یہی سننے کو ملتا ہے کہ ’92 میں بھی یہی ہوا تھا‘۔

    اس ورلڈکپ کا 1992 ورلڈ کپ کے ساتھ موازنہ کس حد تک درست ہے؟ آئیے جانتے ہیں اس ویڈیو میں۔۔۔

    ویڈیو: محمد صہیب، عبدالرشید شکور، نیر عباس

  6. پاکستان کا چوتھا سیمی فائنل، شاداب سو وکٹوں کے قریب, عبدالرشید شکور، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، سڈنی

    پاکستان، نیوزی لینڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    پاکستان اور نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیمیں آج سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے پہلے سیمی فائنل میں مدمقابل ہیں۔ پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اب تک 28 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلے جاچکے ہیں جن میں پاکستان نے 17 میں کامیابی حاصل کی ہے۔ 11 میچ نیوزی لینڈ نے جیتے ہیں۔

    ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ مقابلوں میں یہ ان دونوں ٹیموں کے درمیان دوسرا سیمی فائنل ہے۔ اس سے قبل یہ دونوں ٹیمیں 2007 میں کھیلے گئے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آمنے سامنے آئی تھیں جس میں پاکستان نے چھ وکٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان اور نیوزی لینڈ کا آمنا سامنا ون ڈے ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں بھی دو مرتبہ ہوچکا ہے 1992 اور 1999 میں دونوں مرتبہ پاکستان جیتا تھا۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم تیسری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیل رہی ہے۔

    وہ 2007 اور 2016 میں سیمی فائنل ہاری تھی البتہ گذشتہ سال اس نے دبئی میں فائنل کھیلا تھا جس میں اسے آسٹریلیا نے ہرادیا تھا۔

    موجودہ ٹورنامنٹ میں نیوزی لینڈ نے گروپ ون میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اس نے اسی سڈنی کرکٹ گراؤنڈ میں آسٹریلیا کے خلاف 200 رنز بناتے ہوئے 89 رنز سے کامیابی حاصل کی۔

    پاکستان کا یہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں چوتھا سیمی فائنل ہے۔ اس نے 2009 میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جیتا تھا جبکہ 2007 میں اسے فائنل میں شکست ہوئی تھی۔

    شاداب خان 100 وکٹوں کے قریب

    لیگ سپنر شاداب خان کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اپنی وکٹوں کی سنچری مکمل کرنے کے لیے صرف تین وکٹیں درکار ہیں۔

    وہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سب سے زیادہ 97 وکٹیں لینے کے شاہد آفریدی کے ریکارڈ کے برابر آچکے ہیں۔ تاہم انھوں نے شاہد آفریدی سے 16 میچ کم کھیل رکھے ہیں۔

  7. شائقین کی سٹیڈیم آمد۔۔۔

    پاکستانی شائقین
    پاکستانی شائقین
    پاکستانی شائقین
    پاکستانی شائقین
    پاکستانی شائقین
  8. ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کا پہلا سیمی فائنل: بی بی سی کی لائیو کوریج میں خوش آمدید

    پاکستان، نیوزی لینڈ

    سڈنی میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان اور نیوزی لینڈ کے ٹیمیں مدمقابل ہیں۔

    گذشتہ پانچ مقابلوں میں پاکستان نے نیوزی لینڈ کو چار بار ہرایا ہے۔ دونوں ٹیموں نے گروپ مرحلے میں تین، تین میچوں میں فتح حاصل کی تھی۔