رضوان 46 گیندوں پر 63 رنز بنا کر کیچ آؤٹ
وہ سیم کرن کے فُل ٹاس کو باؤنڈری پار نہ کرسکے اور فائن لیگ پر کیچ دے بیٹھے۔
نو وکٹیں گِرنے کے بعد پاکستان کا سکور 131 ہے اور ابھی دو اوورز رہتے ہیں۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
انگلینڈ کے خلاف لاہور میں سیریز کے پانچویں ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان نے چھ رنز سے فتح حاصل کی۔ انگلینڈ کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے پاکستان نے 146 رنز کا معمولی ہدف دیا مگر اچھی بولنگ کی بدولت اس کا کامیابی سے دفاع کیا گیا۔
عمیر سلیمی
وہ سیم کرن کے فُل ٹاس کو باؤنڈری پار نہ کرسکے اور فائن لیگ پر کیچ دے بیٹھے۔
نو وکٹیں گِرنے کے بعد پاکستان کا سکور 131 ہے اور ابھی دو اوورز رہتے ہیں۔
مارک ووڈ نے اپنے چار اوورز میں 20 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں۔
انھوں نے ڈیبیو پر سات گیندوں پر 10 رنز بنائے۔
وہ سیم کرن کے باؤنسر کو پُل شاٹ میں تبدیل نہ کرسکے۔ گیند گلووز سے لگی اور کیپر نے ان کا کیچ پکڑا۔
عادل رشید کے چار اوورز میں 41 رنز بنے ہیں۔
عادل رشید کی اچھی گوگلی بلے کو لگنے کے بعد سٹمپس کے بہت قریب سے گزری اور باؤنڈری پار کر گئی۔
پہلی گیند پر انھوں نے سویپ شاٹ کھیلی اور دو رنز حاصل کیے۔
وہ دوسرا رن لینے کے لیے بھاگے مگر بیٹنگ اینڈ پر واپس نہ پہنچ سکے۔
اب پاکستان کی سات وکٹیں گِر چکی ہیں اور اچھا ہدف دینے کے لیے صرف رضوان کی کچھ مدد کر سکتے ہیں۔
انھوں نے عادل رشید کی گیند پر سیدھا چھکا لگایا۔
یہ انگلینڈ کے لیے سب سے مؤثر اوور ثابت ہوا ہے۔ ووڈ نے پانچ رنز دیے اور انگلینڈ کو اس اوور میں دو وکٹیں ملی ہیں۔
محمد نواز سنگل کے لیے بھاگے مگر رضوان نے انھیں واپس بھیج دیا۔ معین علی نے ڈائریکٹ تھرو ماری اور نواز واپس نہ پہنچ سکے۔
13 اوورز کے بعد پاکستان کا سکور 88/6 ہے۔ سیریز کا پہلا میچ کھیلنے والے شاداب خان کی کریز پر آمد۔۔۔
گیند سے قبل کراؤڈ کی جانب سے ’آصف، آصف‘ کے نعرے لگائے جا رہے تھے مگر ان کی وکٹ گِرنے کے بعد مایوسی اور خاموشی چھا گئی ہے۔
یہ ووڈ کی تیسری وکٹ تھی۔
بائیں ہاتھ کے بلے باز محمد نواز کی ساتویں نمبر پر کریز پر آمد۔۔۔
آصف علی کی چھٹے نمبر پر کریز پر آمد۔۔۔