حفیظ اور سرفراز کی پارٹنرشپ جاری
چوتھی وکٹ کے لیے یہ شراکت پاکستان کو ایک بڑا مجموعہ ترتیب دینے کے لیے کلیدی ہے۔
آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پیر کو ناٹنگھم میں پاکستان نے میزبان انگلینڈ کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد 14 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنا پہلا میچ جیت لیا ہے۔
ذیشان حیدر، وقاص علی
چوتھی وکٹ کے لیے یہ شراکت پاکستان کو ایک بڑا مجموعہ ترتیب دینے کے لیے کلیدی ہے۔
بین سٹوکس کے ساتویں اور اننگز کے 41ویں اوور میں پاکستان نے دو چوکوں کی مدد سے 13 رنز بنائے ہیں۔ محمد حفیظ اور سرفراز احمد کے مابین چوتھی وکٹ کے لیے 66 رنز کی اہم شراکت قائم ہو چکی ہے
پاکستانی اننگز کے 40 اوورز مکمل ہو چکے ہیں اور صرف تین وکٹوں کے نقصان کی وجہ سے ٹیم اس پوزیشن میں ہے کہ ایک بڑا مجموعہ تشکیل دے سکے۔
پاکستانی ٹیم نے آخری پانچ اوورز میں سات رنز کی اوسط سے سکور کیا ہے تاہم دیکھنا یہ ہے کہ سرفراز احمد محمد حفیظ کے ساتھ مل کر آخری اوورز میں اس اوسط سے رن بنا پاتے ہیں یا نہیں جو اس میدان پر ایک قابلِ دفاع سکور کہلائے جانے کے لیے درکار مجموعے کے حصول کے لیے لازمی ہے۔
پاکستانی کپتان سرفراز احمد اس وقت 100 کے سٹرائیک ریٹ سے کھیل رہے ہیں لیکن کیا یہ پاکستان کو ایک بڑے مجموعے تک پہنچانے کے لیے کافی ہو گا؟
پاکستانی شائقین سرفراز احمد کی جانب سے ایک ایسے موقع پر خود کھیلنے کے لیے آنے کے فیصلے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جب ٹیم کو تیزی سے رنز بنانے کی ضرورت ہے اور آصف علی جیسا بلے باز ڈریسنگ روم میں موجود ہے
پاکستانی اننگز کے 37ویں اوور کے اختتام کے ساتھ ہی انگلش سپنر معین علی کا کامیاب سپیل بھی اختتام کو پہنچا۔ معین علی نے دس اوور میں 50 رن دے کر تین وکٹیں لیں۔
پاکستان کے کپتان سرفراز احمد نے معین علی کو ان کے نویں اوور کی آخری گیند پر چوکا لگایا ہے۔ معین علی انگلینڈ کی جانب سے اس میچ میں سب سے کامیاب بولر رہے ہیں
محمد حفیظ نے 39 گیندوں پر پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ بابر اعظم کے اؤٹ ہونے کے بعد اب حفیظ ہی ایک بڑی اننگز کے لیے پاکستانی امیدوں کا محور ہیں۔
پاکستان کی اننگز کے 200 رنز 34ویں اوور میں مکمل ہو گئے ہیں اور کریز پر محمد حفیظ اور کپتان سرفراز احمد موجود ہیں۔
پاکستان کے 200 رنز میں 16 چوکے اور 3 چھکے شامل ہیں۔
بابر اعظم جن سے پاکستان کو ایک بڑے سکور کی امید تھی معین علی کی گیند پر کرس ووکس کو کیچ دے کر پویلین واپس چلے گئے ہیں۔ یہ معین علی کی تیسری وکٹ ہے۔
تیسری وکٹ کے لیے بابر اعظم اور محمد حفیظ نے 88 رنز کی شراکت قائم کی۔
دوسرے اینڈ سے محمد حفیظ نے بھی جارحانہ انداز اپنایا ہے اور عادل رشید کو اننگز کے 31ویں اوور میں پہلے چھکا اور پھر چوکا لگایا ہے۔
30ویں اوور میں بابر اعظم اس وقت آؤٹ ہونے سے بال بال بچے جب ان ایک تیز رن لینے کی کوشش کے دوران انگلش فیلڈر کی تھرو ڈائریکٹ وکٹوں پر لگی تاہم بابر بروقت کریز میں پہنچ چکے تھے
29 اوور کا کھیل مکمل ہو چکا ہے اور پاکستانی اننگز مستحکم انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک بڑے مجموعے تک پہنچنے کے لیے پاکستان کو اگلے دس اوورز میں مزید کسی وکٹ کے نقصان سے بچنا ہو گا
بابر اعظم نے اس میچ میں عمدہ بلے بازی کی ہے اور چار چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 50 گیندوں پر نصف سنچری مکمل کر لی ہے۔ یہ کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں کسی پاکستانی بلے باز کی پہلی نصف سنچری ہے