بریکنگ, پاکستان کا دوسری گیند پر ہی ریویو
جنید خان کی پہلی گیند کو بیرسٹو نے محتاط انداز میں کھیلا جبکہ دوسری ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل کے بعد پاکستانی کپتان نے امپائر کے ناٹ آؤٹ کے فیصلے کے خلاف ریویو لے لیا ہے۔
کارڈف کے میدان پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان انگلینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔
جنید خان کی پہلی گیند کو بیرسٹو نے محتاط انداز میں کھیلا جبکہ دوسری ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو کی زوردار اپیل کے بعد پاکستانی کپتان نے امپائر کے ناٹ آؤٹ کے فیصلے کے خلاف ریویو لے لیا ہے۔
سیمی فائنل دیکھنے کے لیے پاکستانی تماشائیوں کی بڑی تعداد میدان میں پہنچی ہے۔ گذشتہ روز حکام نے بتایا تھا کہ اس میچ کے 38 فیصد ٹکٹ انڈین شائقین خرید چکے ہیں اور انھوں نے ان شائقین سے کہا تھا کہ وہ یہ ٹکٹ دوبارہ آئی سی سی کی ویب سائٹ پر فروخت کر دیں تاکہ پہلا سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیموں کے حامیوں کو میچ دیکھنے کا موقع مل سکے

چیمپئنز ٹرافی کے کئی میچ بارش سے متاثر ہوئے ہیں تاہم پہلے سیمی فائنل کے دوران بارش کی کوئی پیشنگوئی نہیں کی گئی ہے


،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیمی فائنل میچ کے لیے پاکستانی ٹیم میں دو تبدیلیاں کی گئی ہیں اور فہیم اشرف کی لیگ سپنر شاداب خان جبکہ کمر میں تکلیف کے باعث ان فٹ ہونے والے فاسٹ بالر محمد عامر کی جگہ رومان رئیس یہ میچ کھیل رہے ہیں
کارڈف میں موجود بی بی سی اردو کے نامہ نگار فراز ہاشمی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ محمد عامر کو کمر میں تکلیف کے باعث سیمی فائنل کھیلنے والی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا۔ پی سی بی کے ذرائع نے کہا ہے کہ عامر کو اس لیے نہیں کھلایا گیا کہ اگر دو چار اوور بعد ان کی تکلیف بڑھ گئی تو پھر زیادہ مشکل ہو جائے گی۔
نامہ نگار کے مطابق فہیم اشرف کی جگہ ٹیم میں شامل شاداب خان نے پہلے دو گروپ میچوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔ اب تک انھوں نے چیمپیئنز ٹرافی کے دو میچوں میں پندرہ اوور کیے ہیں اور انڈیا کے خلاف دس اوور میں انہوں نے باون رنز دیے ہیں۔
کاڈرف میں کھیلے جانے والے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان نے ٹاس جیت کر انگلینڈ کو پہلے بلے بازی کرنے کی دعوت دی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیمیپئنز ٹرافی میں انگلینڈ کی ٹیم کا بھی یہ چوتھا سیمی فائنل ہے۔ ماضی کے تین میں سے دو سیمی فائنل انگلش ٹیم نے جیتے تاہم دونوں مرتبہ فائنل میچ میں اسے شکست ہوئی۔
چیمپئنز ٹرافی مقابلوں میں پاکستانی ٹیم کا یہ چوتھا سیمی فائنل ہے تاہم وہ آج تک اس ٹورنامنٹ کے فائنل میں نہیں پہنچ سکی ہے۔ ماضی میں اسے دو مرتبہ نیوزی لینڈ اور ایک مرتبہ ویسٹ انڈیز نے ہرایا۔
حالیہ باہمی مقابلوں میں انگلش ٹیم کا ریکارڈ پاکستان سے کہیں بہتر ہے اور گذشتہ 14 ون ڈے میچوں میں سے 12 میں انگلینڈ نے پاکستان کو شکست دی ہے تاہم آخری مرتبہ ان دونوں ٹیموں کا مقابلہ گذشتہ سال کارڈف کے میدان میں ہی ہوا تھا جہاں پاکستان نے انگلینڈ کو ہرایا تھا۔
پاکستان اور انگلینڈ کی ٹیمیں 25 سال بعد کسی عالمی ٹورنامنٹ کے ناک آؤٹ راؤنڈ میں ایک دوسرے کا سامنا کر رہی ہیں۔یہ دونوں آخری مرتبہ 1992 کے عالمی کپ کے سیمی فائنل میں مدِمقابل آئی تھیں اور اس میچ میں فتح پاکستان کا مقدر بنی تھی۔
انگلینڈ اور ویلز میں کھیلی جا رہی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں بدھ کو انگلینڈ اور پاکستان کی ٹیمیں مدِ مقابل ہیں۔