کارڈف کے میدان پر آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں پاکستان انگلینڈ کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر فائنل میں پہنچ گیا ہے۔
لائیو کوریج
پاکستان 0-10, اظہر علی 3، فخر زمان 6
،تصویر کا ذریعہGetty Images
انگلینڈ کی جانب سے وڈ نے پہلا اوور کرایا۔ پہلی گیند وائیڈ کرائی اور تیسری گیند پر اظہر علی نے تین رنز بنائے۔ فخر زمان نے اوور کی پانچویں گیند پر چھکا لگایا اور یوں پہلے اوور میں پاکستان نے 10 رنز بنا لیے۔
فخر زمان کا چھکا
پہلے اوور میں وڈ کے باؤنسر پر شاٹ کھیلتے ہوئے فخر زمان نے چھکا مار دیا۔ یہ اس سیمی فائنل میچ میں لگنے والا پہلا چھکا ہے۔ انگلش بلے باز اپنی باری میں کوئی چھکا نہیں مار سکے۔
بریکنگ, ہدف 212 رنز، پاکستانی اننگز کا آغاز
پاکستان کی جانب سے اظہرعلی اور سری لنکا کے خلاف نصف سنچری بنانے والے نوجوان بلے باز فخر زمان نے اننگز شروع کی ہے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
حسن علی چیمپیئنز ٹرافی کے سب سے کامیاب بولر
پاکستان کے حسن علی نے اب تک چیمپیئنز ٹرافی 2017 میں چار میچوں میں دس وکٹیں حاصل کی ہیں
بریکنگ, پاکستانی بولرز کی عمدہ کارکردگی، انگلش اننگز 211 رنز تک محدود
،تصویر کا ذریعہReuters
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں انگلش ٹیم پاکستانی بولرز کی نپی تلی بولنگ کا اعتماد سے سامنا کرنے میں ناکام رہی ہے اور 211 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئی
اس طرح پاکستان کو فتح کے لیے 212 رنز کا ہدف ملا ہے۔
انگلینڈ کے لیے جو روٹ 46 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے جبکہ بیرسٹو نے 43 اور بین سٹوکس نے 34 رنز بنائے
پاکستان کی جانب سے حسن علی تین وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر رہے
رومان رئیس، جنید خان نے دو، دو کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جبکہ ایک وکٹ شاداب خان کے حصے میں آئی
فخر زمان کا شاندار کیچ دیکھیے
شاندار کیچ پکڑنے پر فخر زمان جپھی کے حقدار ہیں
بریکنگ, سٹوکس بھی پویلین میں واپس، حسن علی کی تیسری وکٹ
انگلش اننگز کے دوران بین سٹوکس کی مزاحمت بھی دم توڑ گئی ہے۔ وہ 34 رنز بنانے کے بعد حسن علی کی تیسری وکٹ بنے جبکہ یہ انگلینڈ کی آٹھویں وکٹ تھی
بریکنگ, انگلینڈ کے 200 رنز مکمل
انگلش ٹیم کا سکور 200 تک پہنچ گیا ہے تاہم اس مجموعے تک پہنچنے کے لیے انگلش بلے بازوں نے 47 اوورز لے لیے ہیں
انگلینڈ 7-189, بین سٹوکس 28، لیئم پلنکٹ 2
پاکستانی بولر انگلش بلے بازوں کو سٹروکس کھیلنے کا موقع نہیں دے رہے ہیں جبکہ اننگز میں چار اوور ہی باقی بچے ہیں اور انگلینڈ کو ایک فائٹنگ ٹوٹل تک پہنچنے کے لیے بڑے سکور والے اوورز درکار ہیں
سٹوکس انگلینڈ کی تمام امیدوں کا محور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
جب تک بین سٹوکس کریز پر موجود ہیں انگلینڈ کے ایک اچھے سکور تک پہنچنے کے امکانات بھی باقی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ سٹوکس کب تیز کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہیں کیونکہ اوور کم ہوتے جا رہے ہیں
انگلینڈ 7-182, بین سٹوکس 23، لیئم پلنکٹ 0
44 اوورز کا کھیل مکمل ہو چکا ہے اور انگلش ٹیم ایک باوقار سکور بنانے کی کوشش کرتی دکھائی دے رہی ہے تاہم پاکستانی بولرز اور فیلڈرز نے انھیں جیسے باندھ کر رکھ دیا ہے۔
بریکنگ, عادل رشید رن آؤٹ، انگلینڈ کا ساتواں نقصان
44ویں اوور میں پاکستانی فیلڈر نے عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عادل رشید کو رن آؤٹ کر دیا ہے۔ حسن علی کی گیند پر پہلے ان کے خلاف ایل بی ڈبلیو کی اپیل ہوئی جو رد کر دی گئی تاہم اسی اثنا میں وہ رن لینے دوڑے تو احمد شہزاد نے بولرز اینڈ پر ڈائریکٹ تھرو سے بیلز اڑا دیں۔
پاکستانی بولرز کی کارکردگی
پاکستان کے کپتان سرفراز نے 41 اوورز تک انگلش بلے بازوں کے خلاف اب تک
چھ بولرز کو استعمال کیا ہے۔ جس میں پہلے اگر فاسٹ بولرز کی بات کی جائے تو
حسن علی نے سات اوورز میں 25 رنز دے کر اور جنید خان نے 8 اوورز میں 38
رنز دے کر دو دو وکٹیں حاصل کی ہیں جبکہ رومان نے پانچ اوورز میں 25 رنز دے
کر ایک وکٹ حاصل کی۔
سپنرز میں محمد حفیظ 8 اوورز میں 33 رنز دے کر
اور عماد 5 اوورز میں 16 رنز دے کر کوئی وکٹ حاصل نہیں کر سکے جبکہ سپنرز
میں واحد وکٹ شادان خان نے 8 اوورز میں 36 رنز دے کر حاصل کی۔
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کھلاڑیوں کی جذبے سے بھرپور فیلڈنگ
مضمون کی تفصیل
مصنف, فراز ہاشمی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کارڈف
آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی کے پہلے سیمی فائنل میں انگلینڈ کے
خلاف پاکستان کی فیلڈنگ اطمینان بخش رہی گو کہ کیچ کے دو موقعے ضائع ہوئے
لیکن یہ آسان کیچ نہیں تھے۔
پاکستان کے کھلاڑی بڑے جذبے سے فیلڈنگ کر
رہے ہیں اور گراؤانڈ فیلڈنگ میں انھوں نے کوئی غلطی نہیں کی جس پر ناقدین
کو تنقید کرنےکا موقع مل سکے۔
پہلا کیچ اظہر علی نے چھوڑا۔ یہ آسان
کیچ نہیں تھا اور ایک بھرپور سٹروک تھا جو ان کے سر سے دو تین فٹ اوپر تھا۔
اظہر علی نے دونوں ہاتھ بلند کر کے ہوا میں عمودی چھلانگ لگائی لیکن گیند
کی رفتار کے باعث ان کے ہاتھ میں گیند نہ آئی۔
اس کے بعد دوسرا کیچ
زیادہ ڈرامائی تھا لیکن بدقسمتی سے یہ پکڑا نہیں جا سکا۔ یہ کیچ 16 ویں
اوور میں شاداب کی گیند پر نکلا۔ بیرسٹو نے بڑی پکی شاٹ کھیلی تھی لیکن
گیند بڑی تیزی سے سلپ کی طرف گئی۔ بابر اعظم پہلی سلپ پر تھے۔ گیند ان کے
سر سے اونچی تھی۔ انھوں نے دونوں ہاتھ ڈالے لیکن گیند ان کے ہاتھوں سے لگ
کر اور اوپر اٹھ گئی اور تھرڈ مین حسن علی سے چند قدم آگے گری۔
ایک
لمحے کو پورا سٹیڈیم دم بخود اس گیند کو پہلی سلپ کے ہاتھوں سے نکل کر جاتے
دیکھ رہا تھا۔ گیند جب حسن علی کے قریب گری تو انگلینڈ کے شائقین نے سکھ
کا سانس لیا۔
،تصویر کا ذریعہAFP
انگلینڈ 6-172, بین سٹوکس 16، عادل رشید 5
انگلش اننگز کا 41واں اوور جنید خان کے کوٹے کا آٹھواں اوور تھا اور انھوں نے ان اوورز میں 38 رنز دے کر دو وکٹیں لی ہیں
آخری دس اوورز شروع
انگلش اننگز کے آخری دس اوورز کا آغاز ہو چکا ہے۔ انگلینڈ نے اننگز کی ابتدا میں چھ رنز کی اوسط سے رنز بنائے تاہم وکٹیں گرنے کے بعد 40 اوورز میں یہ اوسط کم ہو کر چار رن فی اوور سے کچھ زیادہ رہی ہے۔
انگلینڈ 6-169, بین سٹوکس 15، عادل رشید 4
پاکستان کا بولنگ اٹیک باقی ٹیموں سے بہتر
مضمون کی تفصیل
مصنف, فراز ہاشمی، بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کارڈف
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے بولنگ اٹیک کی آئی سی سی چیمپیئنز ٹرافی میں کارکردگی باقی ٹیموں سے بہتر رہی ہے اور اس کا اندازہ کرنے کے لیے اب تک کے سکور
کارڈز پر نظر ڈالنی پڑے گی۔
دسویں اوور سے چالیسیوں اوور کے درمیان
پاکستانی بولر سب سے موثر رہے اور انھوں نے ان اووروں میں 16 وکٹیں حاصل
کیں اور رن دینے کی شرح چار اعشاریہ چار سات رہی۔
اچھی کارکردگی کا
یہ مظاہرہ کارڈف میں انگلینڈ کے خلاف سیمی فائنل میں بھی دیکھنے میں آیا۔
پاکستان
کے خلاف انگلینڈ کے بلے باز اتنی زیادہ باؤنڈریز لگانے میں بھی کامیاب
نہیں ہو سکے جتنی انھوں نے دوسری ٹیموں کے خلاف لگائی تھیں۔