کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. کورونا: امریکی طیارہ بردار جہاز کے کپتان کی مدد کی اپیل

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کے کپتان نے جہاز میں کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔

    امریکی اخبار سین فرانسسکو کرانیکل کے مطابق اس وقت تھیوڈور روزاویلٹ نامی جہاز میں تقریباً چار ہزار افراد موجود ہیں اور ان میں سے اکثر کے کورونا وائرس ٹیسٹ مثبت آ چکے ہیں، جن میں 100 ماہی گیر بھی شامل ہیں۔

    کپتان بریٹ کوزیئر پینٹاگون کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ ’ہم حالتِ جنگ میں نہیں ہیں، ماہی گیروں کو مرنا نہیں چاہیے۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے اور وہ اسے روکنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔

    یہ طیارہ بردار جہاز گوام میں موجود ہے۔ جہاز میں تنگ جگہ ہونے کے باعث سماجی دوری اختیار کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔

    امریکی نیوی کے ترجمان نے روئٹرز کو بتایا کہ وہ ’اس حوالے سے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ یو ایس ایس تھیوڈور روزاویلٹ میں تمام افراد کو بچایا جا سکے۔‘

  2. بریکنگ, فرانس میں ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 499 ہلاکتیں

    فرانس

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    فرانس کے ڈائریکٹر صحت کے مطابق ملک میں کورونا وائرس کے باعث گذشتہ 24 گھنٹوں میں 499 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس سے اموات کی کل تعداد 3523 ہو گئی ہے۔

    یہ ملک میں ایک دن میں سب سے زیادہ اموات ہیں۔

    فرانس میں صحت کی قومی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیروم سیلومون نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے کیسز کی تعداد میں 7578 کا اضافہ ہوا ہے جس سے کل کیسز 52128 ہو گئے ہیں۔

    انھوں نے بتایا کہ کل 5565 مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے۔

    فرانس ان پانچ ممالک میں سے ہے جہاں اموات کی کل تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ دیگر چار ممالک میں چین، اٹلی، سپین اور امریکہ شامل ہیں۔

    فرانس فی الحال ہسپتالوں سے باہر ہونے والی اموات کی گنتی نہیں کر رہا اس لیے کل اموات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہیں۔

  3. افریقہ: ایتھوپیا میں الیکشن معطل، کانگو کے سابق صدر کورونا سے ہلاک

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    دنیا بھر کی طرح افریقہ بھی کورونا وائرس کی عالمی وبا سے متاثر ہوا ہے تاہم دیگر ممالک کے مقابلے میں یہاں جانی نقصان فی الحال کہیں کم ہے۔

    • ایتھوپیا نے اعلان کیا ہے کہ رواں برس اگست کے مہینے میں ہونے والے جس الیکشن کا سب کو انتظار تھا اسے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر معطل کر دیا گیا ہے۔
    • ادھر کینیا میں پولیس کے چیف نے ایک 13 سالہ بچے کے قتل کی تحقیقات کا حکم دیا ہے جسے نیروبی میں پولیس کی جانب سے لگائے گئے کرفیو کے دوران گولی ماری گئی تھی۔
    • کانگو کے سابق صدر جیکوئز جوکوئم یومبی اوپانگو 81 برس کی عمر میں پیرس میں کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔ سنہ 1979 میں ان کی حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا۔
    • سومالیا میں حکومت نے تمام مذہبی سکولوں، مدرسوں کو بند کرنے کا حکم دیا ہے اور لوگوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ نماز مساجد میں پڑھنے کی بجائے گھروں میں پڑھیں۔
    • یوگانڈا نے اگلے دو ہفتوں کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے جن میں ذاتی گاڑیوں کے استعمال پر پابندی شامل ہے جب تک حکومت کی جانب سے اجازت نامہ پاس نہ ہو۔
    • جنوبی افریقی ممالک بوٹسوانا اور موزمبیک نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے جبکہ مغربی افریقہ کے ملک گنی نے رات کے وقت کرفیو لگانے کا اعلان کیا ہے۔
    • لبیا کے دارالحکومت ٹریپولی میں جنگ بندی کی تجاویز کے باوجود جھڑپوں اور شیلنگ کا سلسلہ جاری رہا۔
    • جنوبی افریقہ نے ملک گیر سکریننگ کا پروگرام کا آغاز کیا ہے تاکہ کورونا وائرس کے مریضوں کو ڈھونڈا جا سکے، اس کے لیے 10 ہزار ورکر گھر گھر جا کر لوگوں میں اس وائرس کی علامات دیکھیں گے۔
    • اس کے علاوہ جنوبی افریقہ اور مغربی افریقہ میں موجود ممالک میں انٹرنیٹ کی رفتار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے جس کی وجہ زیرِ سمندر کیبل میں مسائل ہیں۔ اس کے باعث گھر سے کام کرنے والے افراد کو مشکلات کا سامنا ہے۔
  4. امریکہ میں ہلاکتیں چین سے زیادہ

    ڈاکٹر فوسی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ میں جان ہاپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا وائرس سے ہلاکتیں چین سے زیادہ ہو گئیں ہیں۔

    امریکہ میں تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 3415 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ چین جہاں سے اس وائرس کی شروعات ہوئی تھی وہاں 3309 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

    اسی دوران امریکہ میں ماہرین کے مطابق اس بات کا بہت امکان ہے کہ سال کے آخر میں کورونا وائرس کی ایک اور لہر آئے گی۔

    امریکہ میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈاکٹر اینتھونی فوسی کے مطابق اس وائرس کے پھیلاؤ اور جس آسانی سے یہ ایک سے دوسرے شخص کو لگتا ہے دوسری لہر کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ کسی ممکنہ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے بہتر تیار ہو گا۔

    اتوار کو ڈاکٹر فوسی نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ کوروناوائرس سے امریکہ میں دو لاکھ ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ امریکہ میں کورونا وائرس کے 165874 مصدقہ کیس ہیں۔

  5. گورنر نیویارک: ’ہم اس وائرس کی طاقت کا صحیح اندازا نہیں لگا سکے‘

    کوؤمو

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    نیو یارک کے گورنر اینڈریو کوؤمو نے ایک مرتبہ پھر مزید طبی آلات اور ایک بہتر قومی حکمت عملی بنانے پر زور دیا تاکہ کووڈ 19 کو شکست دی جا سکے۔ انھوں نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی۔

    انھوں نے زور دیا کہ ’ہم اس وائرس کی طاقت کا صحیح اندازا نہیں لگا سکے، یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے جتنا ہم نے سمجھا تھا۔‘

    نیویارک کی ریاست جو امریکہ میں کورونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والی ریاست ہے کو طبی آلات، سامان اور عملے کی ضرورت ہے۔

    کوؤمو نے کہا کہ ’نیویارک آ کر ہماری مدد کریں، ہمارے لیے آلات لائیں، ٹریننگ کریں، تربیت حاصل کریں اور پھر ہم اگلی ریاست کی اسی طرح مدد کریں گے۔‘

    ’یہ ایک اچھا طریقہ ہو گا قومی اتحاد دکھانے کا۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    اینکر کرس کوؤمو میں کووڈ 19 کی تشخیص

    انھوں نے اپنے بھائی اور سی این این کے اینکر کرس کوؤمو میں کووڈ 19 کی تشخیص کے حوالے سے بھی بات کی۔

    انھوں نے کہا کہ ’وہ ایک نرم دل اور خوبصورت شخص ہے اور میرا بہترین دوست ہے۔‘

    ’اس میں اس حوالے سے ایک سبق ہے اور یہ کہ اس کا کام پر جانا ضروری تھا اور اسے گھر سے باہر جانا پڑتا تھا۔ اگر آپ گھر سے باہر جائیں گے تو عین ممکن ہے کہ آپ میں اس وائرس کی تشخیص ہو جائے۔‘

  6. بریکنگ, اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 837 مزید ہلاکتیں

    اٹلی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    کورونا وائرس کی عالمی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں گذشتہ 24 گھنٹوں میں 837 اموات کی تصدیق ہوئی ہے جس سے ملک میں کل ہلاکتیں 12428 ہو گئی ہیں۔

    اٹلی میں نئے کیسز کی تعداد 2107 ہے جس سے اب تک ملک میں اس وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 77635 ہو گئی ہے۔

    روم میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار مارک لوون کا کہنا ہے کہ جہاں اموات اب بھی زیادہ ہیں، لیکن نئے کیسز کی تعداد کم ہے۔

    اٹلی کی حکومت کا کہنا ہے 15729 افراد اب تک صحتیاب ہو چکے ہیں تاہم مرنے والے افراد میں 66 ڈاکٹر بھی شامل تھے۔

  7. ترکی میں لاک ڈاؤن کے لیے دباؤ لیکن اردوان کا معیشت سنبھالنے پر زور

    ترکی

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    ترکی میں ملک کے صدر رجب طیب اردوان پر اپوزیشن اور مختلف تنظیموں کی طرف سے کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    لیکن صدر اردوان کا کہنا ہے کہ ترکی کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کا پہیہ چلتا رہے اور لوگ کام پر جاتے رہیں۔

    ترکی 2018 کے اقتصادی بحران کے بعد بحالی کے راستے پر ہے اور صدر لوگوں کو گھر رہنے کا کہہ کر اس بحالی کو خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتے، تاہم انہوں نے لوگوں سے رضاکارانہ طور پر اپنے آپ کو تنہا کرنے کے لیے کہا ہے۔

    ترکی کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ ترکی میں وبا کے دوران بہت کچھ صحیح نہیں ہو رہا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی سرحدیں دیر سے بند ہوئیں اور باہر سے آنے والے ترک شہریوں کو قرنطینہ میں نہیں رکھا گیا۔

    ترکی کی میڈیکل ایسوسی ایشن نے کہا کہ کورونا کی بیماری ملک کے ہر حصے میں پھیل چکی ہے اور قرنطینہ نافذ کرنے کا وقت گزر چکا ہے۔

    ترکی نے تمام بین الاقوامی پروازیں بند کی دی ہیں اور اندرونی پروازیں محدود کر دی گئی ہیں۔ سکول اور کیفے بند ہیں اور کھیلوں کے مقابلے اور باجماعت نماز معطل ہے ۔

    حکام نے تاہم ملک میں کورونا کے بڑھتے ہوئے کیسوں کے باوجود لوگوں کو گھر رہنے کا پابند نہیں کیا۔ پیر کو ملک میں کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 10827 ہو چکی تھی او ہلاکتوں کا نمبر 168 تھا۔

  8. گھر کے راستے میں دم توڑ جانے والے رنویر نے آخری کال میں کیا کہا تھا؟

  9. نجی کمپنی کا یورپ میں تیسرا ہینڈ سینیٹائزر پلانٹ بھی 10 دن میں بنانے کا اعلان

    کمپنی

    ،تصویر کا ذریعہTwitter/@INEOS

    کیمیکل بنانے والی کمپنی انیوس کا کہنا ہے کہ وہ فرانس میں 10 دن میں ہینڈ سینیٹائزر پلانٹ بنا کر یورپ میں اس کی قلت کو ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔

    یاد رہے کہ اسی کمپنی کی جانب سے گذشتہ ہفتے اعلان کیا گیا تھا کہ برطانیہ اور جرمنی میں بھی ہینڈ سینیٹائزر پلانٹ لگائے جائیں گے۔

    کمپنی کے مطابق ان پلانٹس نے رواں ہفتے کام کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ ماہانہ 10 لاکھ ہینڈ سینیٹائزر بنائیں گے۔

    کمپنی کا کہنا ہے برطانیہ میں صحت کے قومی ادارے این ایچ ایس کو ان ہینڈ سینیٹائزرز کا مفت اجرا شروع کیا جا چکا ہے۔

  10. یورپ میں کورونا کو جمہوریت مخالف اقدامات کا بہانہ نہ بنانے کی وارننگ

    یورپی یونین کی صدر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی یونین کے ممالک کو وارننگ دی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے پھلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی طور پر متعارف کروائے جانے والے اقدامات کو جمہوریت کو محدود کرنے کا بہانہ نہ بنائیں۔

    یورپی کمشن کی صدر ارسلا وون ڈر لیین نے کہا کہ ’یہ بات بہت اہم ہے کہ ایمرجنسی اقدامات ہماری بنیادی اقدار اور اصولوں کی قیمت پر نافذ نہیں کیے جانے چاہیں۔‘

    انھوں نے کہا کہ ’جمہوریت آزاد اور خود مختار میڈیا کے بغیر کام نہیں کر سکتی۔‘

    پیر کے روز ہنگری کی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم وکٹر اوربن کو ایک نئے قانون کے تحت غیر معممولی اختیارات دیے تھے جس کی کوئی مدت نہیں بتائی گئی۔

  11. ’یورپ میں لاک ڈاؤن کے باعث 59 ہزار جانیں بچائی جا چکی ہیں‘

    یورپ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    برطانیہ میں امپیریئل کالج لندن کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں ریاضی کے اصولوں کی بنیاد پر بنائے گئے ماڈلز کے ذریعے اندازہ لگایا گیا ہے کہ اب تک یورپ میں لاک ڈاؤن اور پابندیوں کی بدولت 31 مارچ تک 59 ہزار جانیں بچائی جا چکی ہیں۔

    یہ تحقیق یورپ کے 11 ممالک سے لیے گئے اعداد و شمار کی مدد سے کی گئی ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ اکثر ممالک نے وائرس کے پھیلاؤ میں خاطر خواہ کمی لائی ہے۔

    تحقیق میں کہا گیا ہے کہ یورپی ممالک نے پابندیوں اور لاک ڈاؤن کی مدد سے ایک بہت بڑے سانحے کو ٹالا ہے لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ایسا مزید کتنے عرصے تک کرنا ہو گا۔

  12. دہلی میں تبلیغی اجتماع کے بعد کورونا کے متاثرین کی تلاش

  13. بریکنگ, برطانیہ میں ایک دن میں اب تک کی سب سے زیادہ 393 اموات

    برطانیہ میں ایک دن میں کورونا وائرس سے اب تک کی سب سے زیادہ 393 اموات سامنے آئی ہیں۔

    اس طرح برطانیہ میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1801 ہو گئی ہے۔

    گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انگلینڈ میں 367، سکاٹ لینڈ میں 13، ویلز میں سات اور شمالی آئرلینڈ میں چھ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

  14. یورپ نے ایران کے لیے طبی امداد بھیج دی

    ایران

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپی ممالک فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران کے لیے طبی سامان کا پہلا سلسلہ بھیج دیا ہے۔ یہ امداد انسٹیکس اقتصادی میکانزم کے تحت بھیجی گئی ہے جس کا قیام امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائی جانے والی پندیوں کے پیشِ نظر کیا گیا تھا۔

    جرمنی کے وزیرِ خارجہ کی جانب سے دیے گئے بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ امداد خاص طور پر کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے ہے جس سے ایران میں متاثرہ افراد کی تعداد 44600 جبکہ اموات 2898 ہیں۔

    رواں ماہ کے اوائل میں یورپی ممالک نے کہا تھا کہ وہ ایران کو ٹیسٹنگ لیبارٹری کا سازوسامان، حفاظتی لباس اور گلووز فراہم کریں گے۔ اس کے علاوہ 55 لاکھ ڈالر کا امداد پیکج بھی دیں گے۔

    ان کا ماننا ہے کہ انسٹیکس یورپ اور ایران کے درمیان ’ تجارت کا طویل المدتی حل ثابت ہو گا‘ اور اس سے 2015 میں کی جانے والا ایران جوہری معاہدہ برقرار رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ یہ جوہری معاہدہ ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ امریکہ نے دو برس پہلے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے ایران پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

    اتوار کے روز ایران کے وزیرِ خارجہ محمد جواد ظریف نے ٹرمپ انتظامیہ پر عالمی بحران کے دنوں میں ’طبی دہشتگردی‘ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔

    جس کے جواب میں امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگس نے سوموار کے روز کہا تھا کہ ’جھوٹ نہ بولیں، یہ پابندیوں کی وجہ سے نہیں آپ کی حکومت کی وجہ سے ہے۔‘

  15. کورونا وائرس: بعض ممالک نے چینی سامان مسترد کر دیا

  16. کورونا: متاثرین میں اضافے کے بعد انڈونشیا میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ

    انڈونشیا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈونیشیا کے صدر جوکو وڈوڈو نے منگل کے روز ملک میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات میں اضافے کے بعد ملک میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے تاہم انھوں نے ملک گیر لاک ڈاؤن کے مطالبوں کو رد کیا ہے۔

    وڈوڈو کی انتظامیہ پر بڑے شہروں کو لاک ڈاؤن نہ کرنے کے حوالے سے بھاری تنقید کی گئی ہے۔ ان شہروں میں دارالحکومت جکارتا بھی شامل جہاں 3 کروڑ افراد رہتے ہیں اور یہیں ملک کی سب سے زیادہ اموات بھی رپورٹ کی گئی ہیں۔

    انڈونیشیا کے صدر نے ایمرجنسی کے حوالے سے بہت کم تفصیلات بتائی ہیں تاہم انھوں نے کم پیسے کمانے والے ورکرز کے لیے ایک اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا ہے۔

    انھوں نے کہا کہ ہمیں بڑے پیمانے پر سماجی دوری اختیار کرنے کے حوالے سے کام کرنا ہو گا۔

    شہروں کو لاک ڈاؤن نہ کرنے سے متعلق ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دوسرے ممالک سے سبق ضرور سیکھنا چاہیے لیکن ہر ملک کے حالات مختلف ہوتے ہیں۔

  17. برطانیہ کے دوسری عالمی جنگ کے ہیرو ہلاک

    ہیرلڈ پیرسل

    ،تصویر کا ذریعہTNT News

    برطانیہ میں دوسری عالمی جنگ کے ہیرو جنھیں فرانس کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز بھی ملا تھا کورونا وائرس کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

    97 سالہ ہیرلڈ پیرسل میں جمعہ کو برمنگھم کے ہسپتال میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی اور اتوار کو ان کا انتقال ہو گیا۔

    ہیرلڈ پیرسل کو سن 2015 میں فرانس کا سب سے اعلیٰ فوجی اعزاز دیا گیا تھا۔

  18. فورڈ، جنرل الیکٹرک کا 100 دنوں میں 50 ہزار وینٹی لیٹرز بنانے کا منصوبہ

    فورڈ

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ کی گاڑیاں بنانے والے کمپنی فورڈ اور جنرل الیکٹرک اب مل کر صرف 100 دنوں میں 50 ہزار وینٹی لیٹرز بنائیں گی۔

    خیال رہے کہ امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث پوری دنیا میں اب تک سب سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ اموات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

    دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ وینٹی لیٹرز کا غیر پیچیدہ ڈیزائن بنائیں گی اور مشیگن میں فورڈ کے گاڑیاں بنانے والے پلانٹ کو وینٹی لیٹرز بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔

    تاہم یہ کام وہ 20 اپریل سے شروع کریں گے، اور اس آسان ڈیزائن کی بدولت وہ جلد از جلد زیادہ سے زیادہ وینٹی لیٹرز بنا سکیں گے۔

    خیال رہے کہ امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے دونوں کمپنیوں پر اس حوالے سے اپنی ٹویٹس میں تنقید کی تھی تاہم اب وہ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔

    فورڈ تین شفٹس کے ذریعے 24 گھنٹے کام کر کے وینٹی لیٹرز بنانے کی کوشش کرے گا تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں وینٹی لیٹرز کی سب سے زیادہ ضرورت اپریل 11 کو ہو گی اور کیسز کا عروج بھی انہی دنوں میں دیکھنے میں آئے گا۔

  19. یورپ میں ایک 12 سالہ لڑکی بھی کورونا کا شکار ہو گئی

    بلجیم

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    یورپ میں ایک 12 سالہ لڑکی کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ یہ یورپ میں اب تک اس بیماری کا شکار ہونے والی سب سے کم عمر انسان ہے۔

    منگل کو اس بچی کی ہلاکت کا اعلان کرتے ہوئے ورولوجسٹ ایمنویل آندرے نے کہا کہ ’آج ہم ایک مشکل اعلان کر رہے ہیں، جذباتی طور پر یہ بہت مشکلل ہے۔‘ ’یہ بہت غیر معمولی ہے اور ہم بہت دکھی ہیں۔‘

    بلجیم سے تعلق رکھنے والی اس لڑکی کو تین دن تک بخار رہا اور پھر اس کی حالت بگڑنا شروع ہو گئی۔ بچی کا نام ظاہر نہیں کیا گیا لیکن اس کا سکول اس کے والدین اور سکول کے دیگر بچوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

    بلجیم میں اطلاعات کے مطابق 705 لوگ کورونا سے ہلاک ہو چکے ہیں اور تقریباً 5000 ہسپتال میں ہیں۔

    اس سے پہلے پرتگال میں ایک 14 سالہ بچہ اور گزشتہ ہفتے فرانس میں یولی نامی ایک 16 سالہ لڑکی کورونا وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔

    کووڈ 19 سے اب تک زیادہ بڑی عمر کے لوگ شکار ہوئے ہیں لیکن بلجیم میں 12 سالہ بچی کی ہلاکت سے ثابت ہوتا ہے کہ اس بیماری سے کسی بھی عمر کے افراد کو رسک ہو سکتا ہے۔

  20. نیورک کے عالمی شہرت یافتہ نیوروسرجن کووڈ19 سے ہلاک

    تصویر

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکی شہر نیویارک کےعالمی شہرت یافتہ نیوروسرجن ڈاکٹر جیمز ٹی گڈرک آج کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئے ہیں۔

    وہ سنہ 2014 میں دو جڑواں بچوں کے پیدائشی طور پر جڑے ہوئے سر علیحدہ کرنے کے بعد خاصے مقبول ہوئے تھے جو اس وقت اپنی نوعیت کا پہلا ایسا آپریشن تھا۔

    ان کے ساتھیوں اور سابقہ مریضوں نے انھیں سوشل میڈیا کے ذریعے خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ان کی ہلاکت ایک گہرا صدمہ ہے۔

    ڈاکٹر گڈرک کی عمر 70 برس سے زیادہ تھی۔

    سنہ 2014 میں انھوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ایک 16 گھنٹوں طویل آپریشن میں دو نوزائیدہ بچوں جیڈن اور اینیئس مکڈونلڈ کے سر علیحدہ کیے تھے۔

    اسی برس ڈاکٹر گڈرک نے دو شامی جڑواں بچوں کے جسم بھی علیحدہ کیے تھے۔

    تاہم ان کی وجہ شہرت سنہ 2004 میں فلپائن کے کارل اور کارلینس ایگوائر کے جسم علیحدہ کرنا تھا۔