کورونا وائرس: دنیا میں اب تک کیا ہوا؟

دنیا میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 9 لاکھ سے اور ہلاکتیں 45 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ صرف امریکہ میں مریضوں کی تعداد 2 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یورپ میں 30 ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں۔ غیر یقینی صورتحال کے پیشِ نظر سعودی عرب نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ بکنگ کروانے سے پہلے مزید انتظار کریں۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں ٹینس کا ٹورنامنٹ ومبلڈن بھی کینسل ہو گیا ہے۔

لائیو کوریج

  1. برطانیہ کا اپریل کے وسط تک روزانہ 25 ہزار ٹیسٹ کا عزم

    برطانیہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپریل کے وسط تک روزانہ 25 ہزار افراد کے کورونا ٹیسٹ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

    یہ بات اس اعلان کے بعد کہی گئی ہے کہ دنیا میں ان کیمیکلز کی کمی ہو گئی ہے جو مریضوں کا ٹیسٹ کرنے کے لیے درکار ہیں۔

  2. کورونا سے بچاؤ کے لیے نغموں کی مدد

    کورونا وائرس سے کیسے بچا جائے، اس کے بارے میں ہر جگہ حکومتیں اور صحت کے ادارے بیداری کے پیغامات دے رہے ہیں۔ لیکن انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سینیئر پولیس افسر نے اس کے لیے ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے۔ انھوں نے کورونا سے بچاؤ پر بالی ووڈ کی ایک دھن پر ایک نغمہ لکھا اور اسے وہ رہائشی علاقوں میں خود گاتے ہیں

    YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
    Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔ YouTube کے مواد میں اشتہارات ہو سکتے ہیں۔

    YouTube پوسٹ کا اختتام

  3. امریکی پابندیاں کورونا کے خلاف کوششوں کو نقصان نہیں پہنچا سکیں، حسن روحانی

    rouhani

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران پر عائد پابندیاں اٹھانے کا ایک تاریخی موقع گنوا دیا ہے مگر پابندیوں کے باوجود تہران کی وائرس کے خلاف مہم متاثر نہیں ہوئی ہے۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ‘یہ امریکیوں کے لیے ایران پر عائد غیر منصفانہ پابندیں اٹھانے اور ایران سے معافی مانگنے کا ایک زبردست موقع تھا۔ یہ پابندیاں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ہماری کوششوں کو نقصان نہیں پہنچا سکی ہیں۔’

    واشنگٹن اور تہران کے درمیان تناؤ میں 2018 سے اضافہ ہوا ہے جب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے اپنے ملک کو الگ کرتے ہوئے ایران پر سخت تر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس سے ایران کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

    منگل کو امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے امکان ظاہر کیا کہ امریکہ ایران اور دیگر اقوام پر عائد پابندیاں ہٹانے پر غور کر سکتا ہے لیکن انھوں نے کوئی ٹھوس منصوبہ پیش نہیں کیا۔

  4. انڈیا: 93 سالہ شخص اور ان کی 88 سالہ بیوی کورونا وائرس سے بچنے میں کامیاب

    elderly

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    انڈیا کی ریاست کیرلا میں ایک معمر جوڑا کورونا وائرس سے صحتیاب ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

    ایک 93 سالہ شخص اور ان کی 88 سالہ بیوی دونوں کے کورونا ٹیسٹ نیگیٹیو آئے ہیں اور حکام کے مطابق انھیں چند دنوں میں ہسپتال سے گھر بھیج دیا جائے گا۔

    ان دونوں کی صحتیابی کی وجہ سے ملک کے طبی کارکنوں میں خوشی کی لہر دوڑی ہے۔ چونکہ دونوں کو بڑی عمر سے جڑی دیگر بیماریاں بھی لاحق تھیں اس لیے ان کی صحتیابی کو وائرس کے خلاف لڑائی میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    93 سالہ مرد کورونا کے علاوہ ذیابیطس اور ہاپر ٹینشن کے بھی مریض ہیں۔

    ڈاکٹروں نے بی بی سی ہندی کے عمران قریشی کو بتایا کہ 93 سالہ مرد کی حالت تھوڑی دیر کے لیے بگڑی جس کی وجہ سے انھیں کچھ عرصہ وینٹی لیٹر پر رکھا گیا تاہم وہ جلد ہی مکمل طور پر صحتیاب ہوگئے۔

  5. چین میں اب وہ متاثرین بھی گنے جائیں گے جن میں علامات نہیں

    کورونا

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    چین نے بدھ سے کورونا وائرس کے اپنے سرکاری اعداد و شمار میں اُن وائرس متاثرین کو بھی شامل کرنا شروع کیا ہے جن میں وائرس کی علامات ظاہر نہیں ہو رہی ہیں۔

    حکام کا کہنا ہے کہ ایسے تمام افراد کو 14 دن کے لیے قرنطینے میں رکھا جائے گا۔ چین نے حالیہ دنوں میں کورونا وائرس کے بعد لگائی گئی پابندیوں میں نرمی کی تھی لیکن اس حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ بغیر علامات والے متاثرین دیگر علاقوں کے لوگوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ماہرین اس حوالے سے منقسم ہیں کہ وہ متاثرہ افراد جن میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر نہ ہوں، وہ یہ مرض کتنا پھیلا سکتے ہیں۔ چین میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران نئے متاثرین اور ہلاکتوں کی تعداد میں کمی آئی ہے۔

    اس کے تازہ ترین اعداد و شمار میں منگل کو 36 نئے متاثرین کی اطلاع دی گئی جو کہ اس سے پچھلے دن 48 تھی۔ ان تمام متاثرین میں سے ایک کے علاوہ تمام متاثرین بیرونِ ملک سے چین آئے تھے جس کے بعد ایسے متاثرین کی تعداد 806 ہوگئی ہے۔

    اس کے علاوہ 130 ایسے متاثرین بھی سامنے آئے جن میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے 1367 متاثرین کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

  6. کورونا وائرس: گھر سے کام پر پروفیسر رابرٹ کیلی کیا کہتے ہیں؟

  7. لاک ڈاؤن میں مقبول ایپ زوم کے حوالے سے خدشات

    UK cabinet

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    لاک ڈاؤن میں مقبولیت پانے والی زوم ویڈیو کانفرنس ایپ کے چرچے ہر جگہ ہیں اور برطانوی کابینہ کے اجلاس بھی اب اس کے ذریعے ہو رہے ہیں۔

    لیکن اس کی مقبولیت کے ساتھ ساتھ زوم کی کارکردگی کے حوالے سے خدشات بھی جنم لے رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر خدشات ڈیٹا کے تحفظ اور صارفین کی خفیہ معلومات کے تحفظ کے حوالے سے ہیں۔

    حال ہی میں امریکی ریاست نیو یارک کے اٹارنی جنرل نے زوم سے کمپنی کی صارفین کی بڑھتی ہوئی تعداد کو سنبھالنے کی صلاحیتوں کے حوالے سے جواب طلب کیا ہے۔

    اٹارنی جنرل کے دفتر سے جاری ہونے والے خط میں پوچھا گیا ہے کہ آیا زوم نے صارفین کی تعداد میں اضافے کے بعد اپنی ایپ کی سکیورٹی بڑھائی ہے۔ خط میں لکھا ہے کہ ماضی میں بھی کمپنی نے شکایات پر عمل درامد کرنے میں تاخیر کی ہے۔

    بی بی سی کے رابطہ کرنے پر زوم کے ایک ترجمان نے کہا: ’زوم اپنے صارفین کی پرائیویسی، سکیورٹی اور بھروسے کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے۔ کووڈ 19 کی وبا کے دوران ہم دن رات اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہسپتال، یونیورسٹی، سکول اور دنیا بھر کے دیگر بزنس ایک دوسرے سے رابطے میں رہیں اور چلتے رہیں۔‘

    ترجمان نے اپنے بیان میں اٹارنی جنرل سے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کروائی۔

  8. کورونا وائرس کے باعث سیاحت میں کمی، تھائی لینڈ کے ہاتھی بھوک کا شکار

    جانوروں کی بقا کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے سیاحت سے آمدنی میں کمی کے باعث تھائی لینڈ میں 1000 سے زائد ہاتھیوں کو بھوک کا سامنا ہے۔

    سیاحوں کی تقریباً عدم موجودگی کے باعث ہاتھیوں کے مالکان کے لیے تھائی لینڈ کے 4000 سے زائد ایسے ہاتھیوں کی خوراک کا انتظام کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

    ہاتھی ایک دن میں 200 کلو تک غذا کھا سکتے ہیں۔

    سیو ایلیفینٹ فاؤنڈیشن کے بانی لیک شیلرٹ نے بی بی سی کو بتایا: ‘اگر ان ہاتھیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کوئی مدد فراہم نہ کی گئی، تو یہ ہاتھی جن میں سے کچھ حاملہ بھی ہیں، بھوک سے مر جائیں گے۔’

    شاید کچھ ہاتھیوں کو چڑیا گھروں کو بیچ دیا جائے یا درختوں کی کٹائی کے کاروبار میں لگا دیا جائے جس میں ہاتھیوں کے استعمال پر 1989 سے پابندی ہے۔

    ہاتھی

    ،تصویر کا ذریعہALEX JOHNCOLA

  9. کورونا وائرس: اپریل فول نہ بنیں!

    آج یکم اپریل ہے اور جہاں ایک طرف دنیا کے زیادہ تر حصوں میں لوگ اپنے اپنے گھروں میں بند ہیں تو وہیں انھیں مستی بھی سوج رہی ہے۔ لیکن متعدد حکومتیں غیر مصدقہ خبروں کے حوالے سے اپنے قوانین سخت کر بیٹھے ہیں۔

    مثال کے طور پر تھائی لینڈ میں انٹرنیٹ پر افواہیں پھیلانے والے افراد کو کمپیوٹر کرائم ایکٹ کے تحت سزا ہو سکتی ہے۔ انڈیا میں مہاراشٹر کے وزیرِ داخلہ انیل دیش مکھ نے خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی افواہوں کو ہوا دینے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔

    جرمنی کی وزارتِ صحت نے انٹرنیٹ پر ایک پیغام میں کہا کہ: ’کورونا کوئی مذاق نہیں‘ جبکہ تائیوان کے صدر نے ایک بلّی کی تصویر لگائی اور اس کے نیچے لکھا ’یہ مذاق نہیں ہے۔‘

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

  10. پاکستان: تبلیغی جماعت کے ارکان کو کیوں اور کیسے روکا جا رہا ہے؟

  11. ’کورونا کی وبا دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑا امتحان‘

    انتونیو گوتیرس

    ،تصویر کا ذریعہReuters

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا ہے کہ دنیا کو کورونا کی شکل میں دوسری عالمی جنگ کے بعد سب سے بڑی امتحان کا سامنا ہے۔

    انھوں نے خبردار کیا ہے کہ اس کے نتیجے میں دنیا ایسی کساد بازاری کا شکار ہو سکتی ہے جس کی ماضی قریب میں کوئی مثال نہیں ملتی۔

    انتونیو گوتیرس نے یہ بات کورونا کے ممکنہ اقتصادی و سماجی اثرات کے بارے میں اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے اجرا کے موقع پر کہی۔

    دنیا میں کورونا کے متاثرین کی تعداد اب آٹھ لاکھ 60 ہزار سے بڑھ چکی ہے جبکہ 42 ہزار سے زیادہ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نیویارک میں سیکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ کورونا کی وبا سماج کے مرکز پر حملہ کر رہی ہے اور لوگوں کی جانیں اور ان کا روزگار چھین رہی ہے۔

    انھوں نے کہا ’کووڈ-19 وہ سب سے بڑا امتحان ہے جس کا ہمیں اقوامِ متحدہ کے قیام کے بعد سے سامنا ہے۔‘

    انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک کو چاہیے کہ وہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کی مدد کریں ورنہ اس وبا کے جنگل کی آگ کی طرح پھیلنے کا خدشہ ہے۔

    اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اندازہ ہے اس وبا کے اثرات کی وجہ سے دنیا میں ڈھائی کروڑ افراد بےروزگار ہو جائیں گے۔

  12. امریکہ میں کورونا وائرس سے ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں

    JHU

    ،تصویر کا ذریعہJohns Hopkins

    گذشتہ 24 گھنٹوں میں امریکہ میں کورونا وائرس سے 865 ہلاکتیں ہوئی ہیں جو کہ ایک دن میں پیش آنے والی اموات کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

    امریکہ کی جانز ہوپکنز یونیورسٹی کے اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں کورونا سے اب تک 3870 اموات ہو چکی ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اس وقت امریکہ چین سے آگے ہے لیکن یورپی ممالک اٹلی، سپین اور فرانس سے پیچھے ہے۔

    اس وقت امریکہ میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 188000 کے قریب ہے، جو دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

  13. امریکہ: ماہرین کی ’دو لاکھ تک اموات‘ کی تنبیہ

    trump

    ،تصویر کا ذریعہGetty Images

    امریکہ نے کہا ہے کہ اندازوں کے مطابق کورونا وائرس سے امریکہ میں ایک سے دو لاکھ اموات متوقع ہیں۔ اس وقت ملک میں وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 4000 سے کم ہے۔

    وائٹ ہاؤس کی کورونا وائرس ٹاس فورس کی سربراہ ڈیبرا بریکس کے مطابق یہ تعداد اتنی زیادہ اس لیے ہو سکتی ہے کیونکہ کچھ لوگ اب بھی وائرس سے بچاؤ کے تریقوں پر عمل نہیں کر رہے۔

    متعدی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی نے کہا کہ یہ تعداد بہت بڑی لگ رہی ہے لیکن امریکہ کو ایسی صورتحال کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

    انھوں نے کہا: ’کیا یہ تعداد اتنی ہی ہوگی؟ مجھے امید ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اور جتنی ہم احتیاط کریں گے، مریضوں کی تعداد گھٹتی جائے گی۔ لیکن ہمیں بُرے وقت کے لیے تیار رہنا چاہیے۔‘

  14. کورونا وائرس: انڈیا میں لاک ڈاؤن ایک انسانی بحران بن گیا

  15. جنوبی کوریا: کورونا پر قابو پانے کے باوجود نئے مریضوں میں وائرس کی تشخیص

    X پوسٹ نظرانداز کریں
    X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

    اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

    تنبیہ: بی بی سی دیگر ویب سائٹس کے مواد کی ذمہ دار نہیں ہے۔

    X پوسٹ کا اختتام

    جنوبی کوریا کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جو اپنے ہاں وائرس پر قابو پانے میں کامیاب ہوئے ہیں تاہم اب بھی روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 100 نئے مریضوں میں وائرس کی تشخیص ہو رہی ہے۔

    جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یون ہاپ کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں میں 101 نئے مریضوں کی تشخیص ہوئی ہے۔

    جنوبی کوریا میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹنگ کی بدولت اب تک 9800 سے زائد مصدقہ مریض سامنے آئے ہیں لیکن وہاں ہلاکتیوں کی شرح قدرے کم ہے اور وہاں اب تک کورونا سے 165 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

  16. کورونا وائرس : مشکل صورتحال میں کرکٹرز فٹ رہنے میں مصروف

  17. کورونا وائرس: غریب طبقے کو امدادی رقم کب اور کیسے ملے گی

  18. امریکی مشکل دنوں کے لیے تیار ہوں: ٹرمپ کا پیغام

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ 29 جنوری سے 25 ہزار سے زیادہ امریکی 50 سے زیادہ ملکوں سے واپس لوٹے ہیں۔

    انھوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہر امریکی آنے والے مشکل دنوں کے لیے تیار ہوں۔

    ان کا کہنا تھا کہ آنے والے دو ہفتے بہت مشکل ہوں گے اور امید ہے جیسا کہ ماہرین نے پیش گوئی کی ہے ۔۔۔ اس کے بعد آگے امید دیکھی جا رہی ہے۔ لیکن یہ دو ہفتے بہت زیادہ تکلیف دہ ہونے جا رہے ہیں۔

    امریکی صدر اپنی بریفنگ میں مختلد ریاستوں کو وفاق کی جانب سے بھجوائے جانے والے طبی سامان کی تفصیلات سے بھی آگاہ کر رہے ہیں جن میں وینٹی لیٹرز اور آرمی کی جانب سے بنائے جانے والے فیلڈ ہسپتال شامل ہیں۔

    • یونان: تارکین وطن کے کیمپوں میں کورونا وائرس کا پہلا کیس

      یونان میں تارکین وطن کے کیمپ میں موجود ایک خاتون میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ یہ یونان میں موجود کیمپوں کے اندر اس نوعیت کا پہلا کیس ہے۔

      دارالحکومت ایتنھنز میں خاتون کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی اور اس موقع پر ان کا کورونا وائرس کے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آیا ہے۔

      حکام دیکھ رہے ہیں کہ انھوں نے حالیہ عرصے میں کن لوگوں سے میل جول کیا جبکہ ہسپتال کا کہنا ہے کہ شاید یہ وائرس ہسپتال میں منتقل ہو چکا ہے۔

      نومولود بچے کے ٹیسٹ کا نتیجہ آنا ابھی باقی ہے۔

      مذکورہ خاتون 2500 تارکین وطن کے لیے مخصوص کیمپ میں رہ رہی تھیں۔

      تارکین وطن کے لیے لیے حکومتی وزارت کے حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ کیمپ میں کورونا سے متاثرہ اور کوئی کیس موجود نہیں اور ایسی صورتحال کے لیے لوگوں کو تنہائی میں رکھنے کا انتظام بھی موجود ہے۔

      یونان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1314 ہے جبکہ 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

      طبی امداد کے ادارے میڈیسن سان فرنٹیئرز نے یونان کے حکام سے کہا ہے کہ وہ تارکین وطن کے کیمپوں کو فی الفور خالی کروائے۔

      موریا نامی علاقے میں 3000 ہزار لوگوں کی رہائش کی گنجائش کے لیے ایک جگہ مختص ہے تاہم وہاں 18000 تارکین وطن کو رکھا گیا ہے۔

    • لندن میں کورونا وائرس سے متاثرہ بچے کی ہلاکت

      لندن کے کنگز کالج ہسپتال میں تیرہ سالہ بچے کی ہلاکت ہوئی ہے جس میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

      ہسپتال کے ترجمان کی جانب سے جاری پیغام میں بچے کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔